कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

1900 تک اُردو اخبارات کا مطالعہ

تحریر:منجیت سنگھ
کروکشیترا یونیورسٹی کروکشیترا

برصغیر میں صحافت کی تاریخ نہایت قدیم اور دلچسپ ہے، لیکن اگر خاص طور پر اردو صحافت کی بات کی جائے تو اس کا آغاز انیسویں صدی میں ہوا۔ اس زمانے میں ہندوستان سیاسی، سماجی اور تہذیبی تبدیلیوں کے ایک بڑے دور سے گزر رہا تھا۔ انگریزوں کی حکومت قائم ہو چکی تھی اور مغربی تعلیم، پرنٹنگ پریس اور نئی انتظامی پالیسیوں کے اثرات پورے معاشرے میں محسوس کیے جا رہے تھے۔ اسی ماحول میں اردو زبان نے بھی ایک نئے اظہار کے وسیلے کے طور پر صحافت کے میدان میں قدم رکھا۔ اردو اخبارات نے نہ صرف خبریں پہنچانے کا کام کیا بلکہ انہوں نے عوام میں شعور، علم اور فکری بیداری پیدا کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔
اردو صحافت کا آغاز عام طور پر سن 1822 میں کلکتہ سے شائع ہونے والے اخبار "جامِ جہاں نما” سے مانا جاتا ہے۔ یہ اخبار ابتدائی طور پر فارسی میں شائع ہوتا تھا لیکن بعد میں اس میں اردو مواد بھی شامل کیا گیا۔ اس اخبار نے برصغیر میں اردو صحافت کی بنیاد رکھی اور یہ ثابت کیا کہ اردو زبان بھی خبروں اور معلومات کی ترسیل کا ایک مؤثر ذریعہ بن سکتی ہے۔ اس کے بعد مختلف شہروں میں اردو اخبارات شائع ہونے لگے جنہوں نے عوام میں سیاسی اور سماجی شعور پیدا کرنے میں مدد دی۔
انیسویں صدی کے وسط تک اردو اخبارات کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا۔ دہلی، لکھنؤ، لاہور، آگرہ اور کلکتہ جیسے بڑے شہروں میں اخبارات شائع ہونے لگے۔ ان اخبارات میں نہ صرف سیاسی خبریں بلکہ سماجی مسائل، تعلیم، تجارت اور ادب سے متعلق مضامین بھی شامل ہوتے تھے۔ اس دور کے اخبارات کا انداز آج کے اخبارات سے کافی مختلف تھا۔ ان میں اکثر خبریں مختصر ہوتی تھیں اور ان کے ساتھ ادبی مضامین، شاعری اور تنقیدی تحریریں بھی شائع ہوتی تھیں۔
اردو صحافت کے ابتدائی دور میں سب سے بڑا مقصد معاشرتی اصلاح تھا۔ اس زمانے میں ہندوستانی معاشرہ کئی سماجی مسائل کا شکار تھا جیسے جہالت، توہم پرستی، تعلیم کی کمی اور مختلف قسم کی سماجی برائیاں۔ اردو اخبارات نے ان مسائل پر کھل کر لکھا اور لوگوں کو تعلیم اور اصلاح کی طرف متوجہ کیا۔ اخبارات میں اکثر ایسے مضامین شائع ہوتے تھے جن میں تعلیم کی اہمیت، اخلاقی اقدار اور معاشرتی ترقی پر زور دیا جاتا تھا۔
اردو اخبارات نے سیاسی شعور پیدا کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ انگریز حکومت کی پالیسیوں، ٹیکس کے نظام اور انتظامی فیصلوں پر اخبارات میں بحث ہوتی تھی۔ اگرچہ برطانوی حکومت پریس پر سخت نگرانی رکھتی تھی لیکن اس کے باوجود صحافیوں نے اپنے خیالات مختلف انداز میں پیش کیے۔ بعض اوقات وہ علامتی زبان یا ادبی انداز اختیار کرتے تھے تاکہ براہ راست تنقید سے بچ سکیں۔
سن 1857 کی جنگ آزادی نے اردو صحافت پر گہرا اثر ڈالا۔ اس واقعے نے پورے ہندوستان میں سیاسی بیداری پیدا کی اور اخبارات میں بھی اس کے اثرات واضح نظر آئے۔ کئی اردو اخبارات نے اس بغاوت سے متعلق خبریں اور تبصرے شائع کیے۔ تاہم اس کے بعد برطانوی حکومت نے پریس پر سخت پابندیاں لگا دیں۔ بہت سے اخبارات بند کر دیے گئے اور بعض صحافیوں کو سزا بھی دی گئی۔ اس کے باوجود اردو صحافت مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی بلکہ اس نے نئے حالات کے مطابق خود کو ڈھال لیا۔
1857 کے بعد کے دور میں اردو صحافت زیادہ منظم انداز میں ترقی کرنے لگی۔ اس زمانے میں کئی نئے اخبارات شروع ہوئے اور ان میں سماجی اور ادبی موضوعات پر زیادہ توجہ دی جانے لگی۔ لکھنؤ، دہلی اور لاہور جیسے شہروں میں ادبی اور صحافتی سرگرمیاں بڑھنے لگیں۔ اس دور کے اخبارات نے اردو زبان و ادب کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کیا۔
اردو صحافت کی ایک نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ اس میں ادب اور صحافت کا حسین امتزاج نظر آتا تھا۔ اس زمانے کے بہت سے مشہور شاعر اور ادیب اخبارات سے وابستہ تھے۔ وہ اخبارات میں اپنے مضامین، تنقیدی تحریریں اور شاعری شائع کرتے تھے۔ اس طرح اخبارات نہ صرف معلومات کا ذریعہ تھے بلکہ ادبی سرگرمیوں کا مرکز بھی بن گئے تھے۔
اردو اخبارات کی زبان بھی خاص طور پر قابلِ ذکر تھی۔ اس میں سادگی اور دلکشی دونوں پائی جاتی تھیں۔ صحافی اس بات کا خیال رکھتے تھے کہ زبان ایسی ہو جو عام لوگوں کو آسانی سے سمجھ میں آ سکے۔ اس لیے وہ عام فہم الفاظ استعمال کرتے تھے اور مشکل اصطلاحات سے گریز کرتے تھے۔ ساتھ ہی عربی اور فارسی کے الفاظ زبان کو ایک خاص خوبصورتی بھی عطا کرتے تھے۔
انیسویں صدی کے آخری حصے میں اردو صحافت کا دائرہ مزید وسیع ہونے لگا۔ اس زمانے میں پرنٹنگ ٹیکنالوجی میں بہتری آئی جس سے اخبارات کی اشاعت آسان ہو گئی۔ ریلوے اور ڈاک کے نظام کی ترقی نے بھی اخبارات کی ترسیل کو تیز کر دیا۔ اب اخبارات دور دراز علاقوں تک بھی پہنچنے لگے تھے جس سے ان کے قارئین کی تعداد میں اضافہ ہوا۔
اس دور میں اردو اخبارات نے تعلیم کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ اخبارات میں اسکولوں اور کالجوں کے قیام، جدید تعلیم کی ضرورت اور سائنسی علوم کی اہمیت پر مضامین شائع ہوتے تھے۔ اس کے نتیجے میں عوام میں تعلیم حاصل کرنے کا رجحان بڑھنے لگا۔ کئی اصلاحی تحریکوں کو بھی اخبارات کی مدد سے تقویت ملی۔
اردو صحافت کو اس دوران کئی مشکلات کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ سب سے بڑی مشکل مالی وسائل کی کمی تھی۔ بہت سے اخبارات محدود سرمایہ کے ساتھ شائع ہوتے تھے اور اکثر کچھ عرصے بعد بند ہو جاتے تھے۔ اس کے علاوہ خواندگی کی شرح کم ہونے کی وجہ سے اخبارات کے قارئین بھی محدود تھے۔ اس کے باوجود صحافیوں نے اپنی محنت اور لگن کے ذریعے اس روایت کو زندہ رکھا۔
برطانوی حکومت کی سنسرشپ بھی ایک بڑی رکاوٹ تھی۔ حکومت کو خدشہ تھا کہ اخبارات عوام کو بغاوت پر اکسا سکتے ہیں، اس لیے پریس پر سخت قوانین نافذ کیے گئے۔ کئی مرتبہ اخبارات کو جرمانے کا سامنا کرنا پڑا یا ان کی اشاعت روک دی گئی۔ لیکن اس کے باوجود صحافیوں نے اپنے قلم کے ذریعے معاشرے کے مسائل کو اجاگر کرنے کا سلسلہ جاری رکھا۔
اردو اخبارات نے معاشرے کے مختلف طبقوں کو آپس میں جوڑنے کا بھی کام کیا۔ اردو زبان اس زمانے میں مختلف مذاہب اور ثقافتوں کے درمیان رابطے کی زبان بن چکی تھی۔ اس لیے اردو اخبارات کے قارئین میں صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ ہندو اور دیگر مذاہب کے لوگ بھی شامل تھے۔ اس طرح اردو صحافت نے ہندوستان کی مشترکہ تہذیب کو مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
1900 تک آتے آتے اردو صحافت برصغیر کے فکری اور سماجی زندگی کا اہم حصہ بن چکی تھی۔ اخبارات نہ صرف خبریں فراہم کرتے تھے بلکہ وہ عوامی رائے کی تشکیل میں بھی اہم کردار ادا کرتے تھے۔ انہوں نے لوگوں کو یہ احساس دلایا کہ معاشرے میں ہونے والے واقعات کے بارے میں آگاہ رہنا اور ان پر اپنی رائے دینا ہر فرد کا حق ہے۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو 1900 تک اردو اخبارات نے برصغیر کے معاشرے میں علم، شعور اور فکری بیداری پیدا کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ انہوں نے سماجی اصلاح، سیاسی آگاہی اور ادبی ترقی کو فروغ دیا۔ اگرچہ انہیں مالی مشکلات، حکومتی پابندیوں اور دیگر مسائل کا سامنا کرنا پڑا لیکن اس کے باوجود اردو صحافت نے اپنی اہمیت برقرار رکھی اور آنے والے دور کی صحافت کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کی۔
اس طرح اردو صحافت کی ابتدائی تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ اخبارات صرف خبریں پہنچانے کا ذریعہ نہیں ہوتے بلکہ وہ معاشرے کی فکری اور تہذیبی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اردو اخبارات نے اپنے قلم کے ذریعے معاشرے میں بیداری پیدا کی اور لوگوں کو علم و آگہی کی طرف متوجہ کیا۔ یہی وجہ ہے کہ اردو صحافت کو برصغیر کی علمی اور ادبی تاریخ میں ایک خاص مقام حاصل ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے