कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

یہ وقت نہ کھو جائے

تحریر:سعدیہ فاطمہ عبدالخالق
( ناندیڑ ، مہاراشٹر)
8485884176

تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں اور ساری نعمتیں اسی کی دی ہوئی ہیں ،
ہم گریگورین کیلنڈر کے نئے سال میں داخل ہوئے ہیں ، نئے سال میں داخل ہونا یعنی کہ ہماری عمر کا ایک سال کم ہو جانا ، ہم قیامت سے قریب ترین پہنچ رہے ہیں ، خدا کے بنائے گئے نظام کی ہر چیز اپنے انداز میں مقرر ہے ، کائنات کی ہر چیز مسلسل ایک راہ پر گامزن ہے ، زمین ، چاند ، سورج ، سیارے ، ستارے ، اس واحد ذات کے اشارے پر متحرک ہیں ، جس کے قبضے میں ہماری جان ہے ، اللّٰہ تعالیٰ نے آفتاب و ماہتاب کے طلوع و غروب اور ان کی رفتار کو ایک خاص حساب سے رکھا ہے ، جس کے ذریعے انسان سالوں ، مہینوں ، دنوں اور گھنٹوں کا بلکہ منٹوں اور سیکنڈوں کا حساب بآسانی لگا سکتا ہے ، یہ اللّٰہ جل شانہ کی قدرت شاہانہ کا عمل ہے کہ ان عظیم الشان نورانی کروں اور ان کی حرکات کو ایسے مستحکم اور مضبوط انداز سے رکھا کہ ہزاروں سال گذر جانے پر بھی ان میں کبھی ایک منٹ یا ایک سکنڈ کا بھی فرق نہیں ہوتا ، یہ دونوں نور کے کرے اپنے اپنے دائرے میں معین رفتار کے ساتھ چل رہے ہیں ، سالوں اور مہینوں کا حساب شمسی بھی ہوسکتا ہے اور قمری بھی ، دونوں ہی اللّٰہ تعالیٰ کے انعامات ہیں ،
گردش لیل و نہار یہ بتا رہی ہے کہ ہم قیامت سے قریب سے قریب تر ہوتے جارہے ہیں ، گھڑی کی سوئیوں کے ساتھ ہماری عمر کا گراف گھٹ رہا ہے ، بدلتے موسم کی رتیں چیخ چیخ کراحساس دلارہی ہیں کہ ہم ہیں جو تمھیں حکم الٰہی سے یاد دلا رہے ہیں کہ تمھارا وقت کم ہو رہا ہے ، ایک ایک لمحہ ہم آگے بڑھ رہے ہیں ، گذرے ہوئے وقت کا احساس باقی تک نہیں رہا کہ کیا صحیح کیا ہے اور کیا غلط کر رہے ہیں ، کیا کھویا ہے کیا پایا ہے ، ، انسان کو خود اپنا احتساب کرنا چاہئیے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ آدمی کے اسلام کی خوبی یہ ہے کہ فضول چیزوں سے بچے ، ( ترمذی 2/ 58 قدیمی )
حضرت عبداللہ ابن مسعود فرماتے ہیں کہ میں کسی چیز پر اتنا نادم اور شرمندہ نہیں ہوا جتنا کہ ایسے دن کے گذرنے پر ، جس کا سورج غروب ہو گیا جس میں میرا ایک دن کم ہو گیا اور اس میں میرے عمل میں اضافہ نہ ہوسکا ، ( قیمتی الزمن عند العلماء ص : 27 ،
ہمیں ہر میدان میں اپنا محاسبہ کرکے دیکھنا چاہئیے ، حقوق اللّٰہ اور حقوق العباد کی ادائیگی میں ہم نے کیا ، کیا ہے ، عبادات ومعاملات میں ہم نے کس حد تک بھر پائی کی ہے ، حرام و حلال میں کتنی تمیز کی ہے ، عمل و اعمال میں پورے اترے یا نہیں ، خلوص و ہمدردی میں کیا کچھ کیا ہے ، یہ سارا محاسبہ کریں ، اور دیکھیں کہ ہم نے غلطیاں کہاں کہاں پر کی ہیں ، انسان دوسروں کی نظروں سے تو اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں کو چھپا سکتا ہے، لیکن خود کی نظروں سے نہیں بچا سکتا ، اسی لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ۔۔۔۔۔۔ ,, تم خود اپنا محاسبہ کرو قبل اس کے کہ تمھارا حساب کیا جائے ، ( ترمذی 4/742 ابواب الزھد بیروت) ،
ہمیں اپنے نئی نسلوں کے ایمان بچائے کی کوشش کا وقت ہے ،
ہم نئی تکنالوجی کے گھیراؤ میں ہیں ، مغربیت کے جال میں الجھ چکے ہیں ، ڈیجیٹل دور کی دوڑ اور کانے دجال کے استقبال کی تیاریاں ( نعوذباللہ ) ، اس میں ہم اپنی پہچان کو کھو رہے ہیں ، مغربیت کے لبادے کو فیشن کا نام دے رہے ہیں ، بیہودگی کو ماڈرن زندگی کا نام دے رہے ہیں ، وقت کی کمی کے نام پر رشتوں سے دوری کو اپنایا جا رہا ہے ، نئی ٹکنالوجی کے نام پر ، پرورش کو دین سے دور کیا جا رہا ہے ، ہم نے اخلاقیات کے فریضہ کو بند کر رکھا ہے ، رشتوں کی اہمیت کو ختم کیا جا رہا ہے ، تعلیم نسواں کے نام پر بیہودگی اور فحاشی اور بد چلنی کو بڑھاوا دیا جا رہا ہے ، دوستی اور محبت کے نام پر ارتداد کے مرتکب ہو رہے ہیں ، رشتوں کی پاسبانی نہیں رہی ، ظلم کے نام پر خیریت منانے خوش ہورہے ہیں ، غلط فیصلوں کی مہر پر تکلیف کا شائبہ تک نظر نہیں آرہا ، اگلے ظلم کے لئے گردن جھکائی جارہی ہے ، مال کے ہڑپ کرنے کو ضروری قرار دیا جارہا ہے ،
ماڈرن زندگی کے طور پر ہم نے ہر دن کوئی نہ کوئی مغربی تہذیب کے دن منانے شروع کئے ہیں ، کبھی مدر ڈے ، کبھی فادر ڈے ، کبھی چلڈرنس ڈے ، کبھی ویلنٹائن ڈے ، کبھی ٹیچرس ڈے وغیرہ ، یہ مختلف قسم کے جشن یہود ونصاریٰ اور دوسری قوموں کے لوگ مناتے ہیں ، کیونکہ ان کے پاس رشتوں میں دکھاوا ہوتا ہے ، ماں باپ کو الگ رکھتے ہیں اور اولاد کو بالغ ہوتے ہی گھر سے نکال باہر کر دیا جاتا ہے ، ان کے پاس کوئی خاندانی نظام نہیں ہوتا ہے ، اس لئے یہ لوگ دکھاوے کے لئے الگ الگ دن متعین کر رکھے ہیں ، مگر اسلام میں سب کے حقوق مقرر کر دیئے گئے ہیں اور پورا ایک خاندانی نظام موجود ہے ، اس لئے ہمیں نہ دکھاوے کی ضرورت ہے نہ کوئی ڈے منانے کی بلکہ مسلمانوں کو اس سے بچنے کی سخت ضرورت ہے ، تاکہ دوسری قوموں کی مشابہت سے بچا جا سکے ، اس کے لئے ہمارے آقا و مولا صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو غیروں کی اتباع اور اس کی مشابہت اختیار کرنے سے بچنے کا حکم دیا ہے ،
یہ عمر اور زندگی جو ہم کو عطا ہوئی ہے وہ صرف آخرت کی ابدی زندگی کی تیاری کی خاطر عطا ہوئی ہے کہ ہم اس کے ذریعے آنے والی زندگی کو بہتر بنا سکیں اور اپنے اعمال کو اچھا بنا سکیں ، آنکھ دنیا کی ہر چیز کو دیکھ سکتی ہے مگر جب آنکھ کے اندر کچھ چلا جائے تو اسے دیکھ نہیں پاتی ، بالکل انسان بھی اسی طرح دوسروں کے عیب تو دیکھتا ہے پر اسے اپنے عیب نظر نہیں آتے ،
کبھی سوچا ہے ، ایسا کیوں ہے ، ۔۔۔۔۔۔ سب سے بڑا مسئلہ قرآن کو نہ سمجھنے کی وجہہ ہے ، حرام و حلال کو نہ سمجھنے کی وجہہ ہے ، ہمدردی کا دور کابھی واسطہ نہیں رہا ، تعلیم میں اخلاقیات سے دور ہونے کی وجہہ ہے ، اور سب سے بڑی بات تعلیمی پیشہ ، ذریعہ معاش کی حد تک ہی درست سمجھا جارہا ہے ، تعلیمی میدان میں سبقت کے نام پر رنگینیوں کو ترجیح دی جا رہی ہے ، یہ سب بہت آگے تک معاملہ نکل چکا ہے ، مگر ارادہ مصمم ہو ، جواں عزم ہو تو لگے وقت کے ہاتھوں بازی پلٹ کر راہ راست پر لاکر ہم 2026 کو ایک نئی امید کی کرن سے صراط مستقیم پر سنوار سکتے ہیں ، اللّٰہ کو راضی کرتے ہوئے زندگی اور آخرت کو بہتر بنانے کا عزم کر سکتے ہیں ،
وقت رہتے ہم اپنی زندگی کو صحیح راستے پر گامزن کر سکتے ہیں ، اپنی صحت کوبیماری سے پہلے غنیمت جان کر سنبھل جائیں ، اپنی جوانی کو بڑھاپے سے پہلے غنیمت جان لیں ، اپنی زندگی کو موت سے پہلے سنوار لیں ، خدمت سب کی کریں مگر امید کسی سے بھی نہ رکھیں کیونکہ خدمات کا اجر صرف اللہ تعالیٰ ہی دے سکتا ہے ہیں انسان نہیں ،
آخرت کی زندگی کی کامیابی اور ناکامی کا دارومدار اسی دنیا کے اعمال پر منحصر ہے ،
انسان کے لالچ کا پیالہ کبھی نہیں بھرتا کیوں کہ اس میں حرص اور نا شکری کے سوراخ ہوتے ہیں جو اس کو بھرنے نہیں دیتے ، انسان کو خود کو مضبوط ہونا چاہئے ، خود کو اندر سے مضبوط کریں اور اندر تبھی مضبوط ہوتا ہے جب اللّٰہ سے رشتہ مضبوط ہوتا ہے ، جتنا تعلق مضبوط ہوگا ، انسان اتنا ہی مضبوط ہوگا ،
انسان جب خود کو اللّٰہ کی حفاظت میں نہیں دیتا ہے تو شیطان کی چالوں کا شکار ہو جاتا ہے ، اس لئے تعلق باللہ مضبوط کیجے ، خود کو اللّٰہ کی حفاظت میں دیجئے ، تاکہ شیطان کے حملوں سے محفوظ رہ سکیں ، اللّٰہ تعالیٰ ہر ہمیں غلطی سے بچائے ، ہمیں غیروں کی مشابہت سے بچائے ، اور آقائے نامدار آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی اتباع کی توفیق عطاء فرمائے اللّٰہ ہمارے ارادوں میں کامیابی عطاء فرمائے، ہمیں دین و دنیا میں سرخروئی عطاء فرمائے، ہماری نئی نسل کی حفاظت فرمائے اور نئی نسل کو دین پر قائم رکھے ، آمین ۔

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے