कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

یہ دل کے زخم تھے، جو رب کی عدالت میں محفوظ رہے

تحریر: خان اجمیری(عرف خان میڈیم)
زوجہ ڈاکٹر خان خرم زبیر
B.sc [Cs & C.B.Z ] B.Ed MCA
ڈائریکٹر اسٹڈی اسمارٹ کوچنگ کلاسیس اردھاپور
ضلع ناندیڑ مہاراشٹر

اسلام ایک ایسا دین ہے جو انسان کو نہ صرف عبادت سکھاتا ہے بلکہ اخلاق، کردار، اور حسنِ سلوک کا بھی پیغام دیتا ہے۔ مگر آج کے دور میں ایسے مسلمان بھی نظر آتے ہیں جنہیں دیکھ کر انسان حیرت میں پڑ جاتا ہے کہ کیا یہی وہ لوگ ہیں جو دین کا پرچار کرتے ہیں؟ کیا یہی وہ چہرے ہیں جن سے دین کی روشنی پھوٹنی چاہیے تھی؟ یہ سب کچھ ایک ذاتی مگر نہایت تکلیف دہ واقعے کے بعد میرے دل سے تحریر بن کر نکلا ہے۔
میری والدہ ایک باعزت، خوددار، اور صابر خاتون تھیں۔ ان کی عمر کا بیشتر حصہ بچوں کی پرورش، شوہر کی خدمت اور دین کی پابندی میں گزرا۔ میری شادی کے بعد چونکہ میرے شوہر گاؤں سے باہر ملازمت کرتے ہیں، میں اپنے بچوں کے ساتھ اکیلی رہتی ہوں۔ والدہ نے یہ بات محسوس کی کہ رمضان کے مہینے میں، خاص طور پر رات کے اوقات میں، میری مدد کے لیے میرے ساتھ رہنا بہتر ہوگا۔ وہ کچھ دن میرے پاس آ جاتیں تاکہ میں تنہا نہ رہوں۔ والدہ جب بھی میرے گھر آتیں، اپنے کھانے پینے کا بندوبست خود کرتیں، کبھی کسی پر بوجھ نہ بنتیں۔ میرے شوہر خود اس بات کے گواہ ہیں کہ ان کی ساس نے کبھی ان کے گھر کو بوجھ نہ سمجھا۔ وہ ہمیشہ اپنی عزتِ نفس کا خیال رکھتیں، خاموشی سے آئیں، خاموشی سے جائیں، اور محبت کے چند بول چھوڑ کر دعاؤں کے ساتھ رخصت ہوں۔
اللہ تعالیٰ قرآن میں ارشاد فرماتا ہے:
اور مؤمنوں سے کہو کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں۔ یہ ان کے لیے زیادہ پاکیزگی ہے۔ بے شک اللہ خوب خبردار ہے جو کچھ وہ کرتے ہیں۔” (سورۃ النور، 24:30)
یہ آیت ہمیں نہ صرف اپنی نظر کی حفاظت کا حکم دیتی ہے بلکہ یہ بھی سکھاتی ہے کہ انسان کو خود پر قابو رکھنا چاہیے تاکہ معاشرتی تعلقات میں احترام اور پاکیزگی قائم رہے۔
لیکن ایک واقعہ ایسا پیش آیا جس نے ان کے دل کو ایسا زخمی کر دیا کہ وہ دل زندگی بھر کے لیے ٹوٹ کر رہ گیا۔
یہ 2024 کا رمضان تھا، تاریخ تھی 25 مارچ۔ میرے بچوں کا معمولی سا جھگڑا ہمارے ہمسایہ امام صاحب کے بچوں سے ہو گیا۔ وہ امام صاحب جو پیشے سے مذہبی رہنما ہیں، جنہیں لوگ احترام سے سنتے ہیں، جن کی باتوں کو دین کی روشنی سمجھا جاتا ہے۔ میرے بچوں کے اس جھگڑے کے بعد، والدہ نے فیصلہ کیا کہ وہ براہ راست بات کر کے مسئلہ سلجھا لیں۔ وہ نہایت نرمی سے امام صاحب کے گھر گئیں۔
مگر جو کچھ وہاں پیش آیا، وہ ہماری توقعات کے بالکل برعکس تھا۔ امام صاحب کی اہلیہ نے میری والدہ سے ایسی زبان میں بات کی، جسے بیان کرنا بھی دشوار ہے۔ ان کے الفاظ کچھ یوں تھے: "یہ یہاں کیا کرنے آتی ہیں؟ داماد کی نوکرانی، چپراسی بن کر یہاں رہتی ہیں۔” ان جملوں نے میری والدہ کے دل پر وہ زخم لگایا جو ساری زندگی نہیں بھرا۔ ان الفاظ کی تلخی، ان کی تحقیر، اور ان کا اندازِ گفتگو میری والدہ کی خودداری کے لیے ناقابلِ برداشت تھا۔
ایسا لگا جیسے عزت کے لبادے میں چھپے کچھ چہرے اصل میں بے حسی، غرور، اور دل آزاری کی تصویر بن چکے ہوں۔ یہ وہی خاتون تھیں جنہیں لوگ نمازی، پرہیزگار اور دین دار کہتے تھے۔ مگر ان کی زبان سے نکلے ہوئے الفاظ سن کر شاید کوئی غیر مسلم بھی شرمندہ ہو جائے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا:
اور جو لوگ اپنی زبانوں سے بدزبانی کرتے ہیں اور لوگوں کے درمیان فساد پھیلاتے ہیں ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔” (سورۃ الفرقان، 25:171)
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ زبان کی ناپسندیدہ حرکتیں اور دوسروں کے درمیان فساد پھیلانا دین کے سخت خلاف ہے۔
میری والدہ کے دل میں ان باتوں کا ایسا اثر ہوا کہ انہوں نے میرے گھر آنا بند کر دیا۔ نہ صرف یہ بلکہ میرے بھائیوں کو بھی جیسے ایک جواز مل گیا۔ انہوں نے والدہ کو طعنے دیے کہ "کیا تمہیں اپنے گھر میں آرام اور سکون نہیں ملتا؟ داماد کے گھر کیوں رہتی ہو؟” یہ سب کچھ والدہ کے لیے ناقابلِ برداشت تھا۔ ان کی آنکھوں میں خاموش آنسو تھے، ان کا دل ٹوٹ چکا تھا، اور ان کا وقار پامال ہو چکا تھا۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن میں مومنین کے لیے نرمی اور معافی کا درس دیا ہے:
"بے شک تمہارا رب جانتا ہے کہ تم میں کچھ لوگ بیماری کے ساتھ مبتلا ہیں۔ پس جو لوگ ندامت اور کمزوری میں مبتلا ہیں، ان سے درگزر کر دو۔ بے شک تمہارا رب بڑا بخشنے والا، رحم کرنے والا ہے۔” (سورۃ الممتحنة، 60:12)
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ کمزوری اور غلطیوں کا اعتراف کرنے والوں سے درگزر کرنا ہی مومن کی شان ہے۔
میرے بھائیوں اور والدہ کے درمیان اختلافات معاملات بھی تلخی آگئی۔
ان کا کہنا تھا، "کیا تمہیں اپنے گھر میں آرام اور سکون نہیں ملتا؟ داماد کے گھر کیوں رہتی ہو؟” یہ باتیں والدہ کے دل کو بہت گہرا لگا کر دکھ پہنچاتی تھیں۔ گھر کی محبت اور احترام کی جگہ نفرت اور بے اعتمادی نے لے لی تھی۔
میں نے بہت کوشش کی کہ والدہ واپس آئیں، بچوں نے بھی نرمی سے بات کی، مگر وہ اپنے دکھ کے بوجھ تلے دب کر ہمارے قریب نہ آ سکیں۔ ایک دن میں اتنی پریشان اور غصے میں آ گئی کہ میں نے بلا وجہ اپنی معصوم بچی کو پیٹ دیا، جو روتی ہوئی اپنی نانی کے گھر چلی گئی۔ اس واقعے نے میرے دل کو اور بھی زیادہ توڑا اور شرمندگی سے بھر دیا۔
یہ سب واقعات میرے لیے ناقابل فراموش صدمے کا باعث بنے۔ مگر دل کی گہرائیوں میں مجھے یہ احساس بھی تھا کہ ہمارے گھر کے مسائل میں سب کی اپنی ذمے داری ہے، اور محبت اور صبر ہی وہ واحد راستہ ہے جس سے ہم اس اندھیرے کو ختم کر سکتے ہیں۔
قرآن میں ارشاد ہے:
اور جو لوگ اپنے زبان اور ہاتھ سے دوسروں کو نقصان پہنچاتے ہیں، اور لوگوں کے درمیان فساد پیدا کرتے ہیں، ان کے لیے دردناک سزا ہے۔” (سورۃ الفرقان، 25:171)
اسی لیے ہمیں چاہیے کہ اپنے الفاظ پر قابو رکھیں اور دوسروں کا حق پامال نہ کریں۔
یہ بات صرف میری والدہ ہی نہیں، بلکہ میرے شوہر بھی گواہ ہیں کہ والدہ جب بھی میرے گھر آتی تھیں، اپنے کھانے پینے کا بندوبست خود کر کے آتیں، کبھی کسی سے کچھ نہ مانگتیں۔ یہ بات نہ صرف میرے شوہر کے لیے واضح ہے بلکہ اللہ تعالیٰ بھی اس کا سب سے بڑا گواہ ہے۔
وہ صاحب آج بھی مسجد میں خطبے دیتے ہیں، لوگوں کو دین کی باتیں سکھاتے ہیں، ہمسایوں کے حقوق، ماں باپ کی عزت، اور زبان کی حفاظت کا وعظ کرتے ہیں۔ مگر ان کا اپنا گھر، ان کی اپنی تربیت، ان کے اپنے رویے ان خطبوں سے میل نہیں کھاتے۔ کیا یہ کردار اسلام کی اصل روح سے میل کھاتا ہے؟ اگر ایسے لوگ دین کے نمائندے ہیں، تو دین کی اصل تعلیمات کا حق کون ادا کرے گا؟
قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
اور اگر تم میں سے کوئی اپنی زبان کی حفاظت کرے اور اپنے نفس کو گناہوں سے بچائے تو یہی سب سے بہترین کام ہے۔” (سورۃ فاطر، 35:18)
اور حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
بہترین مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے محفوظ رہیں۔”
میری والدہ کا یہ واقعہ میرے لیے ایک گہرا سبق ہے، اور شاید آپ کے لیے بھی۔ اگر کوئی ہمیں عزت دے رہا ہے، تو ہمیں اسے بدلے میں عزت لوٹانی چاہیے۔ اگر کوئی ماں اپنی بیٹی کے پاس اس لیے آ رہی ہے کہ اس کی بیٹی تنہا ہے، تو یہ ماں کی محبت ہے، نہ کہ شرمندگی۔ ہم میں سے ہر ایک کو اپنے الفاظ، اپنے رویے، اور اپنے کردار پر نظرثانی کرنی چاہیے۔ ورنہ کہیں ایسا نہ ہو کہ روزِ محشر ہمیں ان لفظوں کا حساب دینا پڑے جنہوں نے کسی مظلوم کا دل توڑا تھا۔
میں اللہ سے دعا کرتی ہوں کہ وہ میری والدہ کی مغفرت فرمائے، ان کے دل کے زخموں کا مداوا کرے، اور وہ دن ضرور آئے گا جب ہر زبان اور ہر دل کا حساب اللہ لے گا۔ اس دن کوئی زبان جھوٹ نہ بول سکے گی، اور کوئی کردار چھپ نہ سکے گا۔
✨ وہ چلی گئیں خاموشی سے، مگر ان کے دل پہ لکھے الفاظ آج بھی میری راتوں کا سناٹا بنتے ہیں، میری آنکھوں کی نمی میں بستے ہیں۔ وہ ماں بن کر گئیں تھیں، مگر لفظوں سے دل تار تار کیا گیا
، اب نہ وہ ماں رہی، نہ وہ صحن باقی ہے تو بس اک وعدہ— روزِ محشر جب پردے اُٹھیں گے، تو صرف اللہ کی گواہی بولے گی، اور میری ماں کی آنکھوں کے آنسو… اُس دن خاموش نہ ہوں گے۔
میں اور میری فیملی اس واقعے کو کبھی بھول نہیں سکتے اور بروز محشر خدا کے حضور اس بات کو ضرور با ضرور پیش کرے گے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے