कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

یہ تنہائیوں کا گھر

از قلم: خان افراء تسکین
9545857089

دور حاضر نے نئی کروٹ لی, ہم ترقی کر رہے ہیں، جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کر رہے ہیں، اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں، تبدیلی قبول کر رہے ہے۔
اسی ترقی کے بیچ آج کل معاشرے میں ایک نیا رجحان ابھر رہا ہے,
ایک تلخ حقیقت ہمارے کانوں میں اکثر گونجتی رہتی ہے۔ کبھی کسی بیٹے نے باپ کا سہارا بننے کے بجائے سڑک پر تنہا چھوڑ دیا، تو کبھی کسی بہو نے اپنے ساس سسر کو گھر سے نکال دیا، اور کبھی جائیداد کے جھگڑوں نے والدین کو اپنے ہی گھر سے بے دخل کر دیا۔
یہ وہ سبق نہیں جو ہمیں اسکول نے دیا، نہ ہی کوئی مذہب ہمیں ایسا کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔ پھر بھی ہم اپنے والدین کو اس عمر میں بے سہارا چھوڑ دیتے ہیں، جب انہیں ہماری سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔
شاید یہی وہ لمحہ ہے جہاں ہمیں رک کر خود سے ایک سوال کرنا چاہیے… کہ آخر ہم کہاں کھو گئے ہیں؟
زندگی ایک سفر ہے۔۔ جس میں بچپن کی شرارتیں، جوانی کی مستیاں، اور بڑھاپے کی خاموشیاں سب شامل ہیں۔ مگر افسوس! یہ سفر اکثر ایک ایسے مقام پر آ کر ٹھہر جاتا ہے جہاں صرف جسم باقی رہ جاتا ہے، مگر دل نہیں۔
اور یہی وہ مقام ہے، جہاں انسان کی اصل تنہائی شروع ہوتی ہے…
یہاں نہ کوئی امیر ہوتا ہے نہ غریب، نہ تعلیم یافتہ کی پہچان رہتی ہے نہ جاہل کی۔ یہاں ہر وہ شخص موجود ہوتا ہے جسے وقت ,حالات یا اپنوں نے تنہا کر دیا ہو۔ یہ ایک ایسا بے سہارا مسکن ہے جہاں اپنوں سےملا ہی درد ہوتا ہے … اور یہ جگہ “اولڈ ایج ہوم” کہلاتی ہے۔
لیکن کیا واقعی یہ صرف ایک جگہ ہے؟ یا اس کے پیچھے کوئی گہری کہانی چھپی ہوئی ہے…؟
اولڈ ایج ہوم بظاہر ایک محفوظ جگہ لگتی ہے، جہاں بےسہارہ بزرگوں کو رہنے، کھانے اور علاج کی سہولت دی جاتی ہے۔ لیکن اگر ہم دل کی آنکھ سے دیکھیں تو یہ صرف ایک عمارت نہیں… بلکہ یہ تنہائیوں کا گھر ہے، جہاں کا ہر کمرہ ایک ادھوری کہانی سناتا ہے، اور ہر چہرہ ایک خاموش درد چھپائے ہوتا ہے۔
یہاں وہ لوگ بھی رہتے ہیں جنہوں نے اپنی زندگی دوسروں کے لیے وقف کر دی۔اور وہ بھی جنہوں نے بچوں کی پرورش میں اپنی خواہشیں قربان کر دیں، راتوں کی نیندیں قربان کر دیں، اور اپنی خوشیوں کو بچوں کی مسکراہٹوں میں قید کر دیا۔ مگر آج وہی ہاتھ، جو کبھی سہارا دیتے تھے، خود سہارے کے لیے بے تاب ہیں… اور وہی آنکھیں، جو کبھی بچوں کے خوابوں سے چمکتی تھیں، اب کسی اپنے کے انتظار میں نم ہیں۔
یہ وہی ہاتھ ہیں جن کی انگلی تھام کر آپ نے چلنا سیکھا… جنہوں نے آپ کو لکھنا پڑھنا سکھایا… اور ایک ایسا مقام دلایا جس کا آپ نے خواب دیکھا تھا۔ یہ وہی سایہ ہے جس کی شفقت میں آپ اتنے قابل بنے کہ اپنے فیصلے خود کر سکیں… مگر افسوس، اسی قابلیت کے بعد آپ نے اپنے ہی والدین کا فیصلہ سنا دیا… اور انہیں بے سہارا کر دیا۔
اور پھر تنہائی کےاس باب کا آغاز ہوتا ہے جسے کوئی زبان بیان نہیں کر سکتی۔
کبھی کبھی شام کے وقت، ایک باپ کھڑکی کے پاس بیٹھا باہر کی دنیا کو دیکھتا ہے… پرندوں کا اڑنا اسے اپنی جوانی یاد دلاتا ہے، جب اس کے بچوں کے قدم گھر کے صحن میں گونجتے تھے۔ مگر آج وہی قدم اس کے دل میں ایک خالی پن چھوڑ گئے ہیں، اور اس کی امیدیں، جو کبھی آسمان کو چھوتی تھیں، اب آہستہ آہستہ دم توڑ رہی ہیں,
اسی تنہائی کے ایک کونے میں ایک اور کہانی سانس لیتی ہے…
کسی کونے میں بیٹھی ایک ماں اپنے پرانے البم کو سینے سے لگائے بیٹھی ہوتی ہے… ہر تصویر کو یوں چھوتی ہے جیسے اپنے بچوں کو چھو رہی ہو۔ اس کی آنکھوں میں ایک خاموش سوال ہوتا ہے:
“کیا میں واقعی بوجھ بن گئی تھی؟”
اور شاید وہ جواب بھی جانتی ہے… مگر دل اسے ماننے سے انکار کر دیتا ہے۔
کیا ہم اپنے والدین کے ساتھ اتنی ذمہ داری نہیں اٹھا سکتے، جنہوں نے اپنی پوری زندگی ہمارے لیے وقف کر دی؟ کیا ہم اپنی مصروف زندگی میں سے تھوڑا سا وقت ان کے لیے نہیں نکال سکتے؟ جنہوں نے اپنی ہر خوشی، ہر لمحہ ہم پر قربان کر دیا… کیا ہم اتنے خودغرض ہو گئے ہیں؟
بڑھتی عمر کے ساتھ چڑچڑاپن، جلد غصہ آنا، یا بات بات پر ناراض ہونا فطری ہے۔ مگر ہمیں چاہیے کہ ہم ان کے ساتھ وہی صبر اور محبت رکھیں، جو انہوں نے ہمارے بچپن میں ہمارے ساتھ رکھی تھی۔
کاش… جس طرح یتیم خانوں سے بچے اپنائے جاتے ہیں، اسی طرح اولڈ ایج ہوم سے والدین کو بھی اپنایا جائے… تاکہ وہ لوگ بھی اس نعمت کو محسوس کر سکیں، جو اس محبت سے محروم ہیں۔
یہ جگہ صرف جسموں کی نہیں، بلکہ یادوں کی پناہ گاہ ہے۔ یہاں ہر شخص اپنی گزری ہوئی زندگی کو دہراتا ہے… اور ہر کوئی اپنی تنہائی کو چھپانے کی ایک خاموش کوشش کرتا ہے۔
اولڈ ایج ہوم ہمیں یہ احساس دلاتا ہے کہ ہم ترقی تو کر رہے ہیں… مگر رشتوں میں کہیں پیچھے رہ گئے ہیں۔ ہم نے سہولتیں تو اپنا لی ہیں، مگر اپنوں کو راستے میں چھوڑ دیا۔
ماں باپ صرف ذمہ داری نہیں ہوتے, وہ گھر کی برکت ہوتے ہیں۔ ان کی دعائیں، ان کا تجربہ، اور ان کی موجودگی گھر کو گھر بناتی ہے۔
اگر ہم اپنے بزرگوں کے ساتھ وقت گزارنے کی عادت ڈال لیں، ان کی بات سنیں، ان کے ساتھ ہنسیں، اور کبھی صرف ایک “کیسے ہیں آپ؟” کہہ دیں… تو یہی لمحے ان کی زندگی کا سب سے قیمتی خزانہ بن جاتے ہیں۔
بچوں کو یہ سکھانا کہ والدین کی عزت کرنا عبادت ہے، اور ان کے ساتھ وقت گزارنا سب سے بڑی خوشی ہے… ہم سب کی ذمہ داری ہے۔
یاد رکھیں، بزرگ بوجھ نہیں ہوتے… وہ ہماری زندگی کی سب سے خوبصورت دعا ہوتے ہیں۔
آئیں ہم عہد کریں کہ ہم اپنے بزرگوں کو صرف ضرورت کے وقت نہیں، بلکہ ہر دن محبت، عزت اور وقت دیں گے۔
کیونکہ ایک دن… ہم بھی اسی مقام پر ہوں گے۔
اور جو کہانی ہم آج اپنے والدین کے لیے لکھ رہے ہیں…
کل وہی کہانی ہماری اپنی زندگی کا مقدر بنے گی۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے