किया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

یوم عیدالفطر سب سے بڑی خوشی کا تہوار

تحریر:افروز روشن ،موتالہ ،بلڈھانہ ،مہاراشٹر

عید کا چاند نظر آتے ہی رمضان المبارک کا مہینہ اپنے اختتام کو پہنچتا ہے جبکہ ہر ایک مسلمان کی زبان سے بے اختیار اللہ کی عظمت اور شان کے الفاظ جاری ہو جاتے ہیں۔
دنیا میں مسلمانوں کے دو سب سے بڑے تہوار ہے ۔ عیدالفطر اور عیدالاضحٰی ہے جس میں عیدالاضحٰی حج کے مہینے میں حج ادا ہونے کے بعد مناتے ہیں۔
اور عيد الفطر رمضان المبارک کے ۲۹ یا ۳۰ روزے رکھنے کے بعد مناتے ہیں( چاند کے مطابق)
عید الفطر ؛ عالم اسلام کا ایک مذہبی تہوار ہے جو ماہ رمضان المبارک کے اختتام کی نشان دہی کرتا ہے اور ہر سال بڑی عقیدت و جوش و خروش سے یکم شوال کو منایا جاتا ہے۔
عيد الفطر عربی زبان کا لفظ ہے۔اسے اہل مسلمان مناتے ہیں۔ مسلمان قوم کا یہ سب سے بڑا تہوار ہے ۔ اس کی قسم – اسلامی تعطیلات ہے۔
اس کی اہمیت – رمضان کے روزوں کے اختتام پر منائی جاتی ہے۔
عید الفطر تقریبات – نماز عید، دوستوں اور عزیزوں کے گھروں میں خصوصی میل ملاپ، سیر و تفریح، روایتی میٹھے پکوان، عطریات کا استعمال، نئے ملبوسات، عیدی اور دیگر تحائف کا تبادلۂ وغیرہ۔ خوشیاں مناتے ہیں۔
آداب و سنت میں نماز عید کے لیے جانے سے قبل غسل کرنا۔ عید الفطر کی نماز سے قبل کچھ نہ کچھ کھا کر جانا۔ عید کے روز تکبیریں کہنا۔ عید کی مبارکباد دینا۔ عید کے لیے خوبصورت اور اچھا لباس پہننا۔ نماز عید کے لیے آنے جانے میں راستہ بدلنا۔
عید کی رسموں میں مسلمانوں کا آپس میں "عید مبارک” کہنا اور گرم جوشی سے ایک دوسرے سے نہ صرف ملنا بلکہ مرد حضرات کا آپس میں بغل گیر ہونا، رشتہ داروں اور دوستوں کی آؤ بھگت کرنا شامل ہیں۔ علاوہ ازیں بڑے بوڑھے بچے اور جوان نت نئے کپڑے زیب تن کرتے ہیں اور خوشی کا اظہار کرتے ہیں، ایک دوسرے کی دعوت کرتے ہیں، مختلف قسم کے کھانے پکائے جاتے ہیں۔
صدقہ فطر:
صدقہ فطر واجب ہے۔ صدقہ فطر نمازِ عید سے پہلے ادا کرنا چاہیے ورنہ عام صدقہ شمار ہو گا۔
صدقہ فطر ہر صاحب نصاب مسلمان مرد، عورت، آزاد، عاقل، بالغ پر واجب ہے۔
رسول اللہ صلی علیہ و آلہ و سلم کے ارشاد کے مطابق ؛جب مسلمانوں کی عید یعنی عید الفطر کا دن آتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرشتوں کے سامنے اپنے بندوں پر فخر فرماتا ہے، اے میرے فرشتو ! اس مزدور کی کیا جزاء ہے جو اپنا کام مکمل کر دے؟ فرشتے عرض کرتے ہیں: اس کی جزاء یہ ہے کہ اس کو پورا اجر و ثواب عطا کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: اے فرشتو ! میرے بندوں اور بندیوں نے اپنا فرض ادا کیا پھر وہ (نماز عید کی صورت میں) دعا کے لیے چلاتے ہوئے نکل آئے ہیں، مجھے میری عزت و جلال، میرے کرم اور میرے بلند مرتبہ کی قسم! میں اِن کی دعاؤں کو ضرو ر قبول کروں گا۔ پھر فرماتا ہے: بندو! تم گھروں کو لوٹ جاؤ میں نے تمھیں بخش دیا اور تمھارے گناہوں کو نیکیوں میں بد ل دیا۔ نبی پاک صلی علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: پھر وہ بندے (عید کی نماز سے ) لوٹتے ہیں حالانکہ ان کے گناہ معاف ہو چکے ہوتے ہیں۔

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor aitebar news, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے