कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

یوم جمہوریہ تنفیذ دستور کادن: صحیح نفاذ کے انتظار میں

ڈاکٹرسعیداللہ ندوی

آزاد ہند کی تاریخ میں دودن نہایت اہم ہیں ایک 15 اگست جس دن وطن عزیز کو برٹش حکومت کے پنجے استبداد سے آزادی نصیب ہوئی اور وطن عزیز کے باشندوں نے طویل انتظار کے بعد آزادی کی فضا میں سانس لی اور دوسرا مبارک دن26 جنوری ہے جس دن وطن عزیز میں اپنے ملک کے دستور کا نفاذ ہوا، ملکی دستور کو وضع کرنے کی ذمہ داری ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر صاحب کی قیادت میں 29 اگست1947 کو سات افراد پر مشتمل کمیٹی کے سپرد کی گئی اور اس کمیٹی نے دو سال گیارہ ماہ اور 18 روز کے عرصے میں ملکی دستور بنا کر پیش کیا اور 26 جنوری 1949کو اس دستور کو قبول کرلیا گیا اور 24 جنوری 1950کو ایک اجلاس میں تمام اراکین نے اس نے دستور کی منظوری پر دستخط ثبت کر دیے اور 26 جنوری 1950 کو یہ نیا دستور پورے ملک میں نافذ کر دیا گیا اور اسی سال پہلاں یوم مہوریہ منایا گیا اسی طرح 15 اگست 1947 کو ملک آزاد ہوا اور 26 جنوری 1950 کو ملک جمہوری ہوگیا اور یہ دونوں دن ملک کی تاریخ کے یادگار دن قرار پائے اور دستور ہند کے ابتدائی حصے میں لکھا گیا کہ ہم ہندوستانی عوام یہ تجویز کرتے ہیں کہ ہندوستان آزاد سماجوادی جمہوریہ ہندوستان کی حیثیت سے وجود میں لایا جائے جس میں تمام شہریوں کے لیے سماجی معاشی سیاسی انصاف آزادی خیال اور اظہار رائے کی آزادی عقیدہ و مذہب اور عبادات، انفرادی تشخص اور احترام کو یقینی بنایا جائے گا اور ملک کی سالمیت اور یکجہتی کو قائم دائم رکھا جائے گا پھر 1971 میں اندرا گاندھی نے دستور کے اس ابتدائیہ میں لفظ سیکولر کا اضافہ کر دیا 26جنوری کو اسی دستور کی حمایت میں یوم جمہوریت منا کر شہیدان وطن اور دستور کو نافذ کرنے والوں کو گلہائے عقیدت پیش کیا جاتا ہے لیکن موجودہ وقت میں کچھ فرقہ پرست عناصر ملک کے دستور سے چھیڑ چھاڑ کی کوشش کر رہے ہیں اور اقلیتی فرقے کو کھلے عام قتل کی دھمکی دے کر دستور ہند کا مذاق اڑا رہے ہیں عدلیہ اور پولیس کو کھلے عام چیلنج کر رہے ہیں ان کا مقصد صرف اور صرف ملک کے پرامن ماحول کو خراب کرنا اور اقلیتی اکثریتی فرقوں کے درمیان نفرت کی دیوار حائل کر کے سیاسی مفاد کو حاصل کرنا ہے وہ اپنے مفاد کو ملک کے دستور سے زیادہ مقدم سمجھتے ہیں لیکن اس ملک کی اکثریت آج بھی امن پسند ہے گنگا جمنی تہذیب کی حامل ہے اور ملک کے دستور پر مکمل اعتماد کرتی ہے اور ان فرقہ پرستوں کے منصوبوں سے اچھی طرح واقفیت رکھتی ہے ۔لہٰذا اس ملک کی بقا کے لیے ضروری ہے کہ بلا تفریق مذہب و ملت ہم متحد ہوکر دستور ہند کی حفاظت کریں اور ان فرقہ پرست ذہنیت کے حاملین سے ملک کو بچائیں۔
ہمارے ملک کے سیکولر دستور میں ہر ایک کا خیال رکھا گیا ہے۔ جمہوری قانون کے اعتبار سے اس ملک کے قانون کا مطالعہ کیا جائے تو ہمارے ملک کا قانون بہت مرتب اور متنوع ہے اور اس میں ہر طبقہ کا بھر پور خیال رکھا گیا ہے اور کسی طرح کی تفریق سے صاف رکھا گیا ہے۔ اگر ہندوستانی عوام یہاں کی حکومت اور عدلیہ سب کے سب یہاں کے قانون کی مکمل طور پر پاسداری اور رعایت کرنے لگیں تو یہ ملک حقیقی معنی میں بے مثال جمہوری ملک بن جائے گا اور پھر کسی طبقہ کوکسی سے شکایت نہیں رہ جائے گی۔ ہمیں اس پہلو پر بھی غور کرنا ہے کہ یہ آزادی اور بی جشن ہمیں ایک یا دوانگلی کٹا کر اور ایک دوسال کے احتجاج کے نتیجہ میں حاصل نہیں ہوئی ہے ، بلکہ اس کے لئے ہمارے اسلاف نے اپنی جان و مال کا نذرانہ پیش کیا ہے اور مسلسل 90 سال تک عظیم قربانیاں دی ہیں تب کہیں جاکے ہمیں یہ آزادی کی نعمت حاصل ہوئی ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ ہمارے ملک کو سونے کی چڑیا کے لقب سے نوازا جا تا تھا اور جس کو قدرت نے ہر طرح سے مالا مال کیا تھا انگریزوں کے قبضے میں تھا۔ پھر ایک طویل جد و جہد اور کوشش کے بعد جس میں لاکھوں ہندوؤں اور مسلمانوں کی جانیں گئیں اور لاکھوں کو قید و بند کی زندگی گزارنی پڑی اور اپنی جان و مال کا نقصان کرنا پڑا جب کہیں ہمارا ملک آزاد ہوا۔ اور ہم کو آزادی نصیب ہوئی۔ اس ملک کو آزاد کرانے میں ہندومسلم اور سکھ عیسائی سب ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ کا ندھے سے کاندھاملائے تھے۔اور ان سب کی کوششوں سے ہم سب کو آزادی نصیب ہوئی۔ ملک کو آزاد کرانے میں مہاتما گاندھی ،مولا نا محد علی جوہر ،رام پرشادسل ، جواہر لال نہرو،مولانا ابوالکلام آزاد،سردار ولبھ بھائی پٹیل ، سروجنی نائیڈ و ، خان عبد الغفار مولانا محمود الحسن سہارنپوری ، مولا نا حیسن احمد مدنی ، مولا نا حفظ الرحمن سیوہاروی ،حسرت موہانی ،شوکت علی ، سبھاش چندر بوس اور بہت سے لوگ آگے تھے اور ان کے پیچھے لاکھوں ہندوستانی تھے جوان کے اشارے پر کھڑے تھے۔ آزادی کے بیوہ ہیرو اور سور ما ہیں جن کی قربانیوں کو ہم کبھی بھلا نہیں سکتے۔ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے کہ ہندوستانی جد و جہد آزادی میں مسلمانوں نے سب سے بڑھ چڑھ کر دلیری ،ایثار اور جواں مردی کا ثبوت دیا۔
لیکن اب کچھ مخصوص طبقات کے ذریعہ سب کچھ بھلا دینے کی کوششیں ہورہی ہیں ، کچھ فرقہ پرست عناصر ملک کے دستور سے چھیڑ چھاڑ کی کوشش کر رہے ہیں اور اقلیتی فرقے کو کھلے عام قتل کی دھمکی دے کر دستور ہند کا مذاق اڑار ہے ہیں عدلیہ اور پولیس کو کھلے عام چیلنج کر رہے ہیں ان کا مقصد صرف اور صرف ملک کے پرامن ماحول کو خراب کر نا اور اقلیتی اکثریتی فرقوں کے درمیان نفرت کی دیوار حائل کر کے سیاسی مفادکو حاصل کرنا ہے وہ اپنے مفادکو ملک کے دستور سے زیادہ مقدم سمجھتے ہیں لیکن اس ملک کی اکثریت آج بھی امن پسند ہے گنگا جمنی تہذیب کی حامل ہے اور ملک کے دستور پر کمل اعتماد کرتی ہے اور ان فرقہ پرستوں کے منصوبوں سے اچھی طرح واقفیت رکھتی ہے۔ لہٰذا اس ملک کی بقا کیلئے ضروری ہے کہ بلا تفریق مذہب وملت ہم متحد ہوکر دستور ہند کی حفاظت کر میں اور ان فرقہ پرست ذہنیت کے حاملین سے ملک کو بچائیں۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے