कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

یوم اساتذہ : استاد کی نصیحت کامیاب زندگی کی طرف پہلا قدم

از قلم:- فرح ناز عبدالرب فاروقی ، ناندیڑ
Bca,Msc(Se)

استاد یہ قوموں کے ہیں معمار ہمارے
انہی سے ہیں زندگی میں کامیابی ہمارے
انہی سے معطر ہوئے افکار ہمارے
استاد یہ قوموں کے ہیں معمار ہمارے

ٹیچرز ڈے یعنی استاد کا دن ،اس دن کو طالب علم جشن کے طور پر اپنے استاد کی عزت کو ظاہر کرتے ہیں، ٹیچرز ڈے کوڈاکٹر سروپلی رادھا کرشن کی پیدائش کے دن پر5 ستمبر 1965 ءسے منایا جاتا ہے، ٹیچرز ڈے کا جشن ان کی یاد میں ہی منایا جاتا ہے اور تمام شاگردوں کو ان کی قابلیت کا احساس کرایا جاتا ہے، اس دن اسکولوں میں بچے اس کو بہت جوش کے ساتھ خوشی سے مناتے ہیں۔
استاد کا مرتبہ بڑا ہے ،والدین کی بعد استاد کا درجہ دوسرے نمبر پر ہے، استاد وہ عظیم انسان ہے جو ہم جیسے پتھر کو علم کے ذریعے تراش کر ہیرا بناتا ہے، آج ہم جو یہ پڑھ رہے ہیں وہ استاد کی ہی بدولت ہے ورنہ ہمیں
تو نہ قلم پکڑنا آتا تھا نہ پڑھنا آتا تھا، ہمارے استاد نے ہمیں تعلیم سے آشنا کرایا اور آج ہم اس قابل بنے ہیں کہ ان کے شکر گزار ہیں۔ استاد شاگردوں پر بہت محنت کرتے ہیں جب جا کر ایک عام سا بچہ ہونہار طالب علم سے ہوتے ہوئے ایک بہترین تعلیم یافتہ انسان بن جاتا ہے۔

قلم تھی ہاتھ میں لکھنا استاد نے سکھایا
منزل تھی سامنے چلنے کا راستہ استاد نے دکھایا
ہم تو بس پتلے تھے پتھر کے
تراش کر ہیرا استاد نے بنایا”

[تمام اساتذہ کرام کو سلام]

استاد اللہ سبحانہ و تعالی کی طرف سے ایک نایاب تحفہ ہے اور جو انسان ان کی دی گئی نصیحت اور تعلیم کو دل سے سمجھے وہ زندگی میں ناکام ہو ہی نہیں سکتا۔ استاد بنا کسی لالچ کے بچوں کو صحیح غلط کی پہچان کرواتے ہیں انہیں زندگی کے جینے کا سلیقہ سکھاتے ہیں ،والدین کے بعد جو انسان بچوں کو سکھاتا ہے وہ استاد ہے، والدین جس طرح اپنے بچوں کی ہر خواہش اور ضروریات پوری کرتے ہیں، اسی طرح استاد اپنے شاگردوں کا حوصلہ بڑھاتا ہے اور ان کے آنے والے کل کو بہتر بنانے میں ان کی مدد کرتا ہے۔ دنیا کا سب سے بڑا سچ ہے کہ کوئی انسان استاد کے بنا تعلیم حاصل نہیں کر سکتا ،ہر اس کامیاب شخص کے پیچھے استاد کا ہاتھ ہوتا ہے، جب کبھی ہم پڑھائی کے معاملے میں کہیں پھنس جائیں تو ہمیں استاد کی سخت ضرورت محسوس ہوتی ہے، زندگی میں ہمیشہ اس بات کو مدنظر رکھنا چاہیے کہ جب کبھی استاد ہمیں کوئی نصیحت کرے یا کوئی مشورہ دے تو اس کو بڑے غور و فکر سے سننا چاہیے کیونکہ زندگی میں ایک کامیاب انسان بننے کے لیے استاد کی نصیحتوں کو بڑے غور سے سننا بہت ضروری ہے۔
استاد بننا اور بچوں کو صحیح تعلیم دینا یہ کوئی آسان کام نہیں ہے، استاد کو بچوں کے پیچھے بے حد محنت اور جدوجہد کرنا پڑتا ہے جب جا کر ایک بہترین انسان سماج کو ملتا ہے، استاد کی ہمیشہ عزت کرنا چاہیے۔ اور وہ جو کچھ کہے اس پر بڑے غور سے عمل کرنا چاہیے، اگر وہ غصے میں کچھ کہہ دے تو اس پر صبر و تحمل سے کام لینا چاہیے ،ان کو پلٹ کر جواب دینا بدتمیزی ہے، ان کی عزت کرنا چاہیے اور ان سے بڑے ادب کے ساتھ پیش آنا چاہیے۔ کہتے ہیں استاد روحانی باپ ہوتا ہے اور یہ پیشہ اپنانا دراصل سنت نبوی کی پیروی کے مترادف ہے کیونکہ ہمارے پیارے نبی ﷺکا فرمان ہے”اور میں معلم بنا کر بھیجا گیا ہوں”۔

عزیز قارئین!
اساتذہ کے لیے 5 ستمبر ہی ایک دن مختص نہیں کرنا چاہیے بلکہ سارا سال اور ساری زندگی ان کی عزت اور خدمت کرنی چاہیے۔ اکثر اسکول میں جب استاد نصیحت کرتے ہیں وہ ہمیں اس وقت غیر ضروری لگتی ہے ، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ہمیں ان کی نصیحتوں اور دیگر باتوں کا اندازہ ہونے لگتا ہے کہ ہمارے استاد محترم صحیح کہتے تھے۔
عزیز قارئین ! میرے حساب سے دنیا میں یہ دو ہی عظیم ہستیاں ہیں جو ہمیں اپنے سے آگے بڑھتے ہوئے دیکھ کر خوش ہوتے ہیں، پہلی عظیم ہستی ہمارے والدین اور دوسرا ہمارے استاد ۔ جب اسکول میں طالب علم امتیازی کامیابی حاصل کرتے ہیں تب استاد کو بہت خوشی ہوتی ہے وہ اسے اپنی ہی کامیابی سمجھتے ہیں۔
حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا”جس نے مجھے ایک لفظ بھی سکھایا میں اس کا غلام ہوں”۔

حضرت علیؓ کے اس قول سے ہم اساتذہ کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے حضرت علی ؓنے چھ شکایت کرنے سے منع فرمایا ہے ، ان میں سے ایک شکایت ”استاد کی شکایت ہے”۔
استاد اگر طالب علم کو کسی بات پر غصہ کرے یا مار بھی دیں تو والدین کو گھبرا کر ان سے شکایت کرنے کے بجائے اپنے بچے کی غلطی بھی دیکھنی چاہیے۔
اورجس طرح والدین ہماری جسمانی پرورش کرتے ہیں اسی طرح اساتذہ ہماری روحانی پرورش کرتے ہیں۔
عزیز قارئین کچھ مشہور واقعات پیش کرتی ہوں۔انگریز کے دور میں انگریز قوم نے علامہ اقبال ؒ کو سر کا خطاب دینا چاہا تو انہوں نے انکار کر دیا اور خطاب قبول کرنے کی یہ شرط ظاہر کی کہ ان کے استاد کو بھی خطاب سے نوازا جائے۔ اس واقعے سے ہمیں استاد کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے ۔دوسرا واقعہ یہ ہے کہ کسی ملک میں وکیل ،ڈاکٹر اور انجینئرزنے احتجاج کر کے مطالبہ کیا کہ ہماری تنخواہیں اساتذہ کی تنخواہ سے کم کیوں ہیں تو ایک بہت خوبصورت جواب دیا گیا’’ "تمہیں ان اساتذہ جتنی تنخواہ کیسے دی جا سکتی ہے جن سے پڑھ کر تم اس مقام پر پہنچے ہو”۔‘‘
کہا جاتا ہے کہ بہت سے ممالک میں استاد کہیں پڑھانے جا رہے ہوں تو سب انہیں راستے دیتے ہیں کہ پہلے آپ گزر جائیے۔ افسوس ہے کہ ہم ایسے وطن میں رہتے ہیں جہاں والدین کے ساتھ ہی حسن سلوک نہیں کیا جاتا تو استاد کے ساتھ اچھا برتاؤ کیسے کیا جا سکتا ہے۔ اب ہمارے وطن میں ایسے استاد بھی ہیں جو اپنی اس خدمت کو پیسوں میں تولنے لگے ہیں لیکن اب بھی ایسے ایماندار اساتذہ اور طلبہ آج بھی موجود ہیں جو اپنے فرائض کو بخوبی انجام دیتے ہیں اور بے شک وہی لوگ کامیابی کی منزلیں بھی طے کرتے ہیں۔
میرے اسکول کے وقت میں بھی بہت سے ایسے اساتذہ موجود ہیں جو بڑی لگن اور محنت سے ہمیں پڑھایا کرتے تھے اور ہمیں آنے والی زندگی سے روشناس کرایا کرتے تھے ۔آج میں جس مقام پر ہوں یہ سب انہی اساتذہ کرام کی بدولت ہے۔ جب میرا داخلہ اسکول میں کروایا گیا تھا وہاں کے اساتذہ کرام بڑے محنت کش تھے ،وہ ہمیں بڑی محنت اور شفقت سے پڑھایا کرتے تھے اور کبھی ہماری غلطیوں پر ہمیں بہت ڈانٹ اور مار بھی پڑتی تھی۔
"جو بچہ استاد کے ادب میں سر جھکا لیتا ہے پھر وہ دنیا میں سر اٹھا کر جیتا ہے۔‘‘
’’استاد بادشاہ تو نہیں ہوتا لیکن شاگردوں کو بادشاہ بنا دیتا ہے۔‘‘
’’جو شاگرد استاد کا تھپڑ برداشت نہیں کرتا پھر اسے زمانے کے تھپڑ برداشت کرنے پڑتے ہیں۔‘‘
اسکول کے وہ دن اساتذہ کی ڈانٹ اور شفقت بس اب ایک یاد ہی بن کر رہ گئی ۔ خیر وقت کے ساتھ ساتھ ہر انسان آگے بڑھتا ہے اور الحمدللہ آج میں اپنے اساتذہ کرام کی بدولت بہترین تعلیم حاصل کر چکی ہوں اور میں ان سب کی شکر گزار ہوں کیونکہ اساتذہ نہ ہوتے تو میں آج کبھی کامیاب نہ ہو پاتی ،اسی لیے میں اپنے اسکول کے اور دیگر غیر مسلم تعلیمی اداروں کے جہاں سے میں نے اپنی گریجویشن اور پوسٹ گریجویشن کی ڈگریاں حاصل کی ہیں ان سب غیر مسلم اساتذہ کرام کا بھی دل سے شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں جن کی بدولت آج مجھے یہ مقام حاصل ہوا ہے۔
گمنامی کے اندھیرے میں تھا ایک پہچان بنا دیا
ایک پتھر کو تراش کر استاد نے ہمیں ہیرا بنا دیا
—————————

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے