कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

یا رب میرا بیٹا آخری شہید ہو،پھر کسی بے گناہ کا خون نہ گرے:غزہ کی ماں کی دعا

غزہ :9؍جنوری:غزہ کی مصیبت زدہ مائیں اپنے بیٹوں، بیٹیوں اور شہید ہونے والے عزیز و اقارب کو ایمان ، پختہ یقین اور پہاڑ جیسے صبرو استقلال کے ساتھ نصہیونی جرائم کے طوفان سے نہ ہلنے والے ٹھوس پہاڑوں کی طرح شہیدوں اور شہیدوں کو الوداع کرتے ہوئے کس صبر کا مظاہرہ کرتی ہیں۔ یہ فلسطینی ماں، بہنوں اور بیٹیوں کا جگر ہے کہ وہ مسلسل 460 دن سے جاری ننگی جارحیت کے دوران 150,000 سے زیادہ شہدا اور زخمیوں کو اٹھا چکی ہیں۔ صہیونی دشمن اپنی تمام تر رعونت اور سفاکی کے باوجود ان کے جذبہ حریت کو نقصان نہیں پہنچا سکا۔اپنے بچوں کی مسلسل شہادتوں اور اپنے جگر کوشوں کے جنازے اٹھاتی بہادر ماں کو صدمے کی حالت میں یہ دعا کرتے دیکھا اور سنا جاتا ہے کہ یا اللہ میرا شہید بیٹا اور وحشیانہ جارحیت میں شہید ہونے والا آخری بچہ ہو اور اس کی شہادت کے بعد کسی معصوم کے خون کا ایک قطرہ بھی غزہ میں نہ گرے۔درجنوں مسلمان اور عرب ممالک کی حکومتوں، عالمی اداروں اور انسانی حقوق کے علم برداروں کے باوجود غزہ کی مائیں تنہا ہیں۔ ان کا اللہ کے سوا کوئی سہارا نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ خدا کے سوا کسی سے بھی مدد کی فریاد نہیں کرتیں۔غزہ کی ماں بہنوں بیٹیوں کی واحد دعا یہ ہے کہ اے ہمارے رب، ہمارے زخمیوں کو شفا عطا فرما۔ اے رب ہمارے شہید بچوں، بھائیوں اور بزرگوں کو اعلی علیین میں مقام اور مرتبے عطا فرما، اللہ میرا شہید بیٹا یا بھائی اس ظلم وجبر کی مشین میں شہید ہونے والا آخری شہید ہو اور اس کی شہادت کے بعد غزہ کی سرزمین پر کسی اور بے گناہ اور معصوم بچے کے خون کا ایک قطرہ بھی نہ گے۔غزہ کی سوگوار مائیں خدا کی مدد اور نصرت سے مایوس نہیں۔ وہ بڑی سیبڑی مصیبت کے باوجود اور اپنی دعائیں جاری رکھتی ہیں۔ آنے والے دنوں میں خدا سیاس کا بہتر صلہ پانے کی طلب گارہیں۔دعائیں کرنے والی ماں میں ایک ایسی ماں بھی ہیں جن کے تمام کم سن بچے اسرائیلی دشمن کی جارحیت میں شہید ہوگئے۔ اس نے اپنے بچوں کی شہادت پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ کریم میرے بچوں کی شہادت کے بعد کسی اور ماں کو یہ دکھ نہ دینا۔ایک دوسری خاتون نے اپنی حاملہ جواں سال بیٹی کی شہادت پر بھی ایسی ہی دعا کی۔ایک اور ماں نے اپنے بیٹے کی شہادت پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں سوچتی تھی کہ میں غزہ شہر میں اپنے لخت جگر کے ساتھ لوٹوں گی دشمن نے مجھ سے میرا بچہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے چھین لیا۔اس نے آہ وفریاد کرتے ہوئے کہا کہکاش ہم ایک ساتھ غزہ واپس جاسکتے میں آپ کے بغیر نہیں رہ سکتی۔یوں غزہ میں غم، تکلیف اور درد کی داستانیں صہیونی جارحیت کے تسلسل سے ختم نہیں ہوتیں اور ہر گذرتے دن کے ساتھ تاریخ خون، قربانیوں اور عزیزوں کے آنسوں سے لکھی گئی افسانوی استقامت کی داستانوں سے لکھی جاتی ہے۔اس خونی نسل کشی کے دوران اب تک تقریبا 155,000 بے گناہ اور نہتے فلسطینی شہید اور زخمی ہوچکے۔ ان میں زیادہ تر بچے اور خواتین ہیں۔ 10,000 سے زیادہ لاپتہ ہیں۔ پوری پٹی کھنڈر میں تبدیل ہوچکی ہے اور اس کے باشندے منظم پالیسی کے تحت قحط سے دوچار ہیں۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے