कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

ہندوستان کے پہلے وزیرِ تعلیم: مولانا ابوالکلام آزاد

از قلم : رازق حُسین
موبائیل نمبر : 8149588808

مولانا ابوالکلام آزاد برصغیر ہند کے ایک عظیم عالمِ دین، مفکر، ادیب، مفسرِ قرآن، صحافی اور مجاہدِ آزادی تھے۔ وہ آزادیِ ہند کی تحریک کے نمایاں رہنماؤں میں سے ایک تھے جنہوں نے نہ صرف سیاست بلکہ تعلیم، اتحاد اور قوم کی فلاح میں بھی شاندار خدمات انجام دیں۔
مولانا ابوالکلام آزاد کا اصل نام مولانا محی الدین احمد تھا۔ وہ 11 نومبر 1888ء کو مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد مولانا خیرالدین ایک جید عالمِ دین تھے۔ ابتدائی تعلیم گھر پر ہی حاصل کی اور بعد میں عربی، فارسی، اردو، اور انگریزی زبانوں پر مکمل عبور حاصل کیا۔ بچپن ہی سے ان میں مطالعے، لکھنے اور بولنے کا غیر معمولی شوق تھا۔
مولانا آزاد نے نوجوانی میں ہی علمی و صحافتی میدان میں قدم رکھا۔ انہوں نے رسالہ “الہلال” جاری کیا جو آزادی کی تحریک میں عوامی شعور بیدار کرنے کا ذریعہ بنا۔ بعد میں انہوں نے “البلاغ” کے نام سے دوسرا رسالہ بھی شائع کیا۔
ان کی سب سے مشہور تصنیف “ترجمان القرآن” ہے، جو قرآنِ مجید کی ایک بلند پایہ اور سادہ زبان میں لکھی گئی تفسیر ہے۔ ان کی تحریروں میں دینی بصیرت، قومی جذبہ اور اصلاحی فکر نمایاں طور پر نظر آتی ہے۔
مولانا آزاد نے مہاتما گاندھی کے ساتھ مل کر آزادی کی تحریک میں بھرپور حصہ لیا۔ وہ انڈین نیشنل کانگریس کے صدر بھی رہے۔ ان کی سیاست کا بنیادی مقصد ہندو مسلم اتحاد کو مضبوط کرنا اور متحدہ ہندوستان کے خواب کو حقیقت بنانا تھا۔
انگریز حکومت نے ان کی آزادی کی جدوجہد کے سبب انہیں کئی بار قید کیا، مگر ان کا عزم و حوصلہ کبھی متزلزل نہ ہوا۔
آزادی کے بعد مولانا ابوالکلام آزاد کو ہندوستان کا پہلا وزیرِ تعلیم مقرر کیا گیا۔ انہوں نے تعلیم کو قوم کی ترقی کی بنیاد قرار دیا اور اپنی وزارت کے دوران کئی تاریخی اقدامات کیے۔
1. قومی تعلیمی پالیسی کی بنیاد:
انہوں نے ایک جامع قومی تعلیمی پالیسی تیار کی جس کا مقصد ہر شہری کے لیے تعلیم کو لازم اور قابلِ رسائی بنانا تھا۔
2. یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (UGC) کا قیام:
1948ء میں ان کی نگرانی میں UGC قائم کیا گیا تاکہ اعلیٰ تعلیم کے معیار کو بہتر بنایا جا سکے۔
3. IITs کا آغاز:
ان کے دور میں ملک کے پہلے Indian Institute of Technology (IIT) کا قیام عمل میں آیا، جو آج دنیا کے بہترین اداروں میں شمار ہوتے ہیں۔
4. سائنس و ٹیکنالوجی کی تعلیم:
انہوں نے سائنسی تعلیم پر زور دیا تاکہ ملک ترقی کی دوڑ میں پیچھے نہ رہے۔
5. ثقافت و زبانوں کا فروغ:
انہوں نے انڈین کونسل آف کلچرل ریلیشنز (ICCR)، ساہتیہ اکادمی، اور سینٹرل انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشن جیسے ادارے قائم کیے تاکہ زبان، ادب، اور ثقافت کو فروغ ملے۔
6. خواتین کی تعلیم:
انہوں نے خواتین کی تعلیم کو معاشرتی ترقی کے لیے ضروری قرار دیا اور اس مقصد کے لیے خصوصی اسکیمیں شروع کیں۔
7. طلبہ کے لیے اسکالرشپ:
مولانا آزادؒ نے غریب و محنتی طلبہ کے لیے وظائف (Scholarships) کا نظام متعارف کرایا تاکہ کوئی طالب علم تعلیم سے محروم نہ رہے۔
مولانا ابوالکلام آزاد نہ صرف ایک عظیم مجاہدِ آزادی تھے بلکہ ایک سچے عالم، مفکر اور مصلحِ قوم بھی تھے۔ ان کی تعلیمی خدمات نے ہندوستان میں علم و تحقیق کا دروازہ کھولا۔ ان کا وژن آج بھی قوم کے لیے مشعلِ راہ ہے۔
مولانا ابوالکلام آزاد کا ایک قول :
*”قومیں تعلیم کے بغیر ترقی نہیں کر سکتیں۔”* آج کے دور میں نوجوان نسلوں کے لئے ایک اہم پیغام ہے۔
ان کی وفات 22 فروری 1958ء کو ہوئی، مگر ان کی خدمات اور افکار ہمیشہ زندہ رہیں گے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے