कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

ہندوستان کی آزادی اور علماء کرام کی قربانیاں

از قلم: شیخ شفیق الرحمٰن شیخ احمد
محمد عبدالحفیظ پٹنی اردو پرائمری اسکول، نارےگاؤں، اورنگ آباد

تاریخی پس منظر:
15 اگست 1947 کو ہندوستان کو آزادی ملی، لیکن یہ آزادی یوں ہی حاصل نہیں ہوئی۔ اس کے پیچھے ایک طویل جدوجہد، بے شمار قربانیاں، قید و بند کی صعوبتیں، پھانسی کے پھندے اور شہادتوں کی تاریخ چھپی ہوئی ہے۔ عام طور پر ہمیں صرف چند بڑے رہنماؤں کے نام یاد دلائے جاتے ہیں، جیسے مہاتما گاندھی، جواہر لال نہرو اور سبھاش چندر بوس، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان کی آزادی کی بنیاد رکھنے والوں میں سب سے آگے اگر کوئی تھے تو وہ علماء کرام تھے، جنہوں نے نہ صرف انگریزوں کے خلاف فتویٰ جہاد جاری کیا بلکہ اپنی جانیں نچھاور کر دیں۔
علماء کی تحریکات کا آغاز:
ہندوستان میں انگریزوں کی آمد کے فوراً بعد علماء نے اس ناپاک سازش کو سمجھ لیا تھا۔ 1757 کی جنگِ پلاسی اور 1857 کی جنگِ آزادی میں علماء کا کردار نمایاں رہا۔
1. جنگِ آزادی 1857:
یہ پہلی باضابطہ کوشش تھی انگریزوں کے خلاف، جس میں علماء کرام نے قائدانہ کردار ادا کیا۔ حضرت شاہ عبدالعزیز دہلویؒ نے سب سے پہلے انگریزوں کے خلاف جہاد کا فتویٰ جاری کیا، اور فرمایا کہ "ہندوستان دارالحرب ہو چکا ہے”۔ ان کے شاگردوں نے پورے ملک میں مزاحمت کو منظم کیا۔
2. حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ، مولانا رشید احمد گنگوہیؒ، مولانا قاسم نانوتویؒ جیسے علماء نے میدانِ جنگ میں تلوار اٹھائی۔ یہ وہ وقت تھا جب علمائے کرام صرف مسجد یا مدرسے تک محدود نہیں تھے بلکہ عملی میدان میں بھی موجود تھے۔
شہداء علماء کی فہرست:
1857 کی جنگ آزادی کے بعد ہزاروں علماء کو گرفتار کیا گیا، جیلوں میں ڈالا گیا، اور کئی کو پھانسی پر چڑھایا گیا۔ ایک اندازے کے مطابق تقریباً 14 ہزار علماء کو انگریزوں نے شہید کیا۔
مولانا احمد اللہ شاہ مدراسیؒ، جو کہ ایک عظیم مجاہد تھے، انہیں انگریزوں نے دھوکے سے شہید کر دیا۔ مولانا فضل حق خیرآبادیؒ کو جزائر انڈمان (کالا پانی) بھیج دیا گیا جہاں وہ جلاوطنی میں وفات پا گئے۔
علماء کی تحریکی جدوجہد:
1. دارالعلوم دیوبند:
1866 میں قائم ہونے والا یہ ادارہ صرف تعلیمی مرکز نہیں بلکہ آزادی کی تحریک کا گہوارہ تھا۔ یہاں سے سیکڑوں علماء نے تحریک خلافت، تحریک ترکِ موالات، اور جمعیۃ علماء ہند کے ذریعہ انگریزوں کے خلاف جدوجہد کی۔
2. تحریک خلافت:
خلافتِ عثمانیہ کی حمایت میں شروع ہونے والی یہ تحریک بعد میں ہندوستان کی آزادی کی تحریک بن گئی۔ مولانا محمد علی جوہر، مولانا شوکت علی، مولانا حسین احمد مدنیؒ اس تحریک کے اہم رہنما تھے۔ مولانا محمد علی جوہر نے یہاں تک کہا:
میں انگریزوں کی غلامی میں مرنا پسند نہیں کروں گا۔”
3. جمعیۃ علماء ہند:
یہ تنظیم 1919 میں قائم ہوئی اور شروع ہی سے اس کا مقصد ہندوستان کی آزادی تھا۔ مولانا مفتی کفایت اللہ، مولانا حسین احمد مدنی، مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی جیسے رہنماؤں نے لاکھوں مسلمانوں کو تحریک آزادی سے جوڑا۔
قید و بند کی صعوبتیں:
ہزاروں علماء کو جیلوں میں ڈالا گیا۔ مولانا حسین احمد مدنی کو کل 18 سال جیل میں گزارنے پڑے۔ مولانا عبدالقادر رائے پوریؒ، مولانا عبدالرحیم ردولویؒ، مولانا عطاء اللہ شاہ بخاریؒ جیسے کئی علماء نے جیلوں کی تکالیف برداشت کیں
علماء اور گاندھی جی کا تعلق:
مہاتما گاندھی بھی علماء کی قربانیوں سے متاثر تھے۔ وہ مولانا محمود حسنؒ (شیخ الہند) سے بے حد عقیدت رکھتے تھے۔ جب شیخ الہند کو مالٹا جیل سے رہائی ملی تو گاندھی جی نے ان کے پاؤں چومے۔ یہ ہندوستان کی قومی یکجہتی کی بہترین مثال ہے۔
خواتین علماء کا کردار:
آزادی کی تحریک میں خواتین بھی پیچھے نہیں رہیں۔ بی اماں (مولانا محمد علی جوہر کی والدہ)، بیگم حسرت موہانی، اور کئی دیگر خواتین نے قربانیاں دیں، جلسوں میں شرکت کی، فنڈ جمع کیے اور قیدیوں کے گھر والوں کی مدد کی۔
15 اگست 1947 – ایک مکمل خواب کی تعبیر:
جب 15 اگست 1947 کو ہندوستان آزاد ہوا تو ہر آنکھ اشکبار تھی۔ یہ خوشی کا لمحہ تھا مگر اس میں شہداء کی یادیں بھی تازہ تھیں۔ علمائے کرام کا خواب تھا کہ یہ ملک آزاد ہو، سب کو برابری کا حق ملے، مذہبی آزادی ہو، اور ظلم و جبر کا خاتمہ ہو۔
آج کی نسل کے لیے پیغام:
ہماری نئی نسل کو صرف سیاست دانوں کے ناموں تک محدود نہ رکھا جائے، بلکہ انہیں علماء کرام کے کردار اور قربانیوں سے بھی روشناس کرایا جائے۔
ہمیں یہ سکھانا ہوگا کہ:
علمائے کرام نے صرف درس و تدریس کا کام نہیں کیا بلکہ میدانِ جنگ میں بھی اترے۔
قربانی صرف جسمانی نہیں، فکری، جذباتی اور مالی بھی ہوتی ہے۔
آزادی ایک تحفہ نہیں بلکہ قربانیوں کا صلہ ہے۔
نتیجہ:
ہندوستان کی آزادی کا اصل رنگ اس وقت مکمل ہوتا ہے جب ہم ہر طبقے کی قربانی کو یاد کریں، خاص طور پر علماء کرام کی۔ ان کی جدوجہد کو نظرانداز کرنا تاریخ سے ناانصافی ہے۔ آج جب ہم 15 اگست مناتے ہیں، تو ہمیں چاہیے کہ ان بزرگوں کے لیے دعا کریں، ان کی خدمات کو نئی نسل تک پہنچائیں، اور ان کے نقشِ قدم پر چلنے کا عہد کریں۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے