कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

ہم کہاں کھڑے ہیں۔۔۔؟ (لمحۂ فکریہ)

تحریر:صائمہ فیضان دانش

ذرا ٹھہریے۔۔۔! بس ایک لمحہ رک کر اپنے آپ کو اس دنیا کی رنگینیوں سے نکالیے، مکّہ کی تنگ و تاریک گلیوں میں لے جائیے، اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر خود کو نبی ﷺ کی تعلیمات پر پرکھیں اور سوال کریں۔۔۔کیا ہم حقیقتاً ویسے ہی ہیں جیسے آپ ﷺچاہتے تھے؟ اگر ہم اپنے اعمال کو سیرت النبی ﷺ کے معیار پر پرکھیں، تو کیا ہمارا جدید طرزِ زندگی، سوشل میڈیا کی چمک دمک اور مصنوعی تہذیب نبی ﷺ کی تعلیمات کے مطابق ہے؟ کیا ہماری زندگیوں میں پھیلتی ہوئی برائیاں اور اخلاقی زوال اس پیغامِ رسالت کی عکاسی کرتے ہیں جس کا مقصد انسان کو پاکیزگی اور تقویٰ کی راہ دکھانا تھا؟ کیا آج کے سودی نظام کو دیکھ کر یہ کہا جا سکتا ہے کہ ہم اسلامی معیشت پر قائم ہیں؟ کیا ہمارے معاشرتی رویے، خود غرضی، فرقہ واریت اور مسلکی تعصبات اس امتِ واحدہ کی علامت ہیں جس کی تعمیر کے لیے نبی ﷺ نے جدوجہد فرمائی تھی؟
نہیں! حقیقت یہ ہے کہ اگر ہم نبی کریم ﷺ کی تعلیمات کو سامنے رکھ کر اپنی موجودہ حالت کا جائزہ لیں، تو ان کے اصول ہمیں یہ سکھاتے ہیں کہ ایمان محض زبانی دعوے کا نام نہیں، بلکہ انکارِ طاغوت، عدل کے قیام اور اقامتِ دین کے عملی فریضے کا تقاضا کرتا ہے۔ یہی تعلیمات ہمیں یہ ہمت دیتی ہیں کہ ہم بازاروں میں پھیلتی بے راہ روی کا مقابلہ کرسکیں، اور مسجدوں کے میناروں سے صرف اذان ہی نہیں بلکہ حق، عدل اور انقلاب کی صدا بلند کرسکے۔اگر ہم اپنی موجودہ حالت پر غور کریں تو دل لرز اٹھتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں جھوٹ عام ہے، سود کا نظام مضبوطی سے جمی ہوئی جڑوں کی طرح پھیلا ہوا ہے، ظلم ہر سطح پر جاری ہے، عورتوں کے حقوق پامال کیے جا رہے ہیں، ایک دوسرے کا حق غصب کرنا معمول بن گیا ہے، وراثت کی امانت لوٹی جا رہی ہے، تعلیم تجارت میں بدل گئی ہے، میڈیا گمراہی پھیلا رہا ہے، اور نوجوان خواہشات و گمراہی کے طوفان میں بہہ رہے ہیں۔ایسے حالات کو دیکھ کر اگر ہم نبی کریم ﷺ کی سیرت کو یاد کریں تو محسوس ہوتا ہے کہ وہی غم اور تڑپ جو مکّہ کی گلیوں میں گمراہ انسانوں کو دیکھ کر ان کے چہرۂ مبارک پر نمایاں ہوئی تھی، آج بھی ان تعلیمات میں جھلکتی ہے۔ گویا وہ ہمیں پکار رہے ہوں:”یا ایہا الناس! قولوا لا إلہ إلا اللہ تفلحوا”
’’اے لوگو! کہہ دو اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، تم فلاح پا جاؤ گے۔‘‘یہ صدا آج بھی ہمارے دلوں کو جگانے کے لیے کافی ہے، اگر ہم سننے والے ہوں۔ لیکن آج کا وہ نوجوان جس سے علم و مجاہدہ، صدق اور حیاء کی امید تھی، وہ عشق و شہوت، ویڈیو گیمز اور فلمی دنیا میں گم ہے۔ آج کی بہن اور بیٹی جسے بی بی فاطمہ ؓ جیسی غیرت و حیاء کی وارث ہونا چاہیے تھا، وہ نمود و نمائش کا شکار ہو چکی ہے۔ آج کی مائیں، جو کبھی مجاہدین کی ماؤں کی طرح نسلوں کی تربیت کرتی تھیں، اپنے بچوں میں ایمان و یقین کا حوصلہ جگاتی تھیں، اب خودبھی مصروفیاتِ زندگی اور لغویات میں مگن ہیں اور اپنے بچوں کو بھی اسکرینوں کی غلامی سکھا رہی ہیں۔ آج کے باپ، جو کبھی سعید بن عامرؓ جیسے باکردار تھے، اب صرف دنیا کی دوڑ میں لگے ہیں؛ نہ نماز کا شعور، نہ قرآن کی فکر، نہ اخلاق کی بنیاد۔اگر ہم واقعی اپنے اعمال کو سیرت النبی ﷺ کے معیار پر پرکھیں تو شاید ہمیں اپنی حالت پر شرم سے نظریں جھکانی پڑیں۔ ہم اس قابل نہیں کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے سامنے کھڑے ہوسکیں، کیونکہ ہمارے لباس، ہمارے افعال، ہماری محفلیں، ہماری ترجیحات۔۔۔ ان سب میں نہ حیا باقی رہی ، نہ وفا اور نہ ہی ایثار و قربانی کا جذبہ۔ہم وہی امت ہیں جس کے لیے رسول اکرم ﷺ نے راتوں کو روتے ہوئے دعائیں کیں، جس کے لیے پتھروں کے زخم برداشت کیے، بھوک اور پیاس جھیلی، اور طائف کے بازاروں میں لہولہان ہوئے۔ لیکن آج ہم قرآن کو پسِ پشت ڈال کر خواہشات کے غلام بن گئے ہیں۔ ہم وہی امت ہیں جسے دنیا کی امامت سونپی گئی تھی۔ اگر واقعی ہم نبی ﷺ کی تعلیمات پر عمل پیرا ہوتے تو آج معاشرے میں سچ کی صدا گونجتی، مدرسے روشنی کے مینار بنتے اور میڈیا پر حیاء و صداقت کا پرچم لہرا رہا ہوتا۔قرآن ہمیں یاد دلاتا ہے:
’’اب دنیا میں وہ بہترین گروہ تم ہو جسے انسانوں کی ہدایت و اصلاح کے لیے میدان میں لایا گیا ہے۔ تم نیکی کا حکم دیتے ہو، بدی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔‘‘( آل عمران:110)
لیکن آج نیکی کے الفاظ تو ہیں، مگر عمل غائب ہے۔ ایمان کا دعویٰ ہے، مگر کردار کہیں نظر نہیں آتا۔ آج شہادت علی الناس کا فریضہ ہم سے پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ ہم اپنے اصل مشن کو بھول چکے ہیں۔ ہم نے سنت کے ان پہلوؤں کو تو بخوبی اپنایا جن میں ہمارا دنیاوی مفاد تھا، لیکن نبی ﷺ کی باقی تعلیمات کو نظر انداز کردیا۔ ہماری زبانوں پر حُبِّ رسولﷺ کا نعرہ تو ہے مگر عدل، رحم، تقویٰ اور خوفِ خدا ہمارے دلوں سے نداردہے۔ ہم آپس میں ایک دوسرے کے حقوق ایسے پامال کرتے ہیں کہ ہمیںاس جرم کا احساس تک نہیں ہوتا ،حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ کسی کی ذرا سی بھی حق تلفی ہماری دنیا و آخرت دونوں تباہ کردے گی۔مولانا اشرف علی تھانویؒ فرماتے ہیں: ’’اللہ تعالیٰ کے حقوق کی تلافی ممکن ہے، مگر بندوں کے حقوق صرف لوٹانے یا معافی سے ادا ہوں گے۔ اس لیے بندوں کے حقوق میں معمولی ظلم بھی قیامت کے دن بہت بڑا بن جائے گا۔‘‘ (ماخوذ)
آج اگر ہم اپنی حالت کا جائزہ لیں تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ امت اپنی اصل روح سے خالی ہو چکی ہے۔ ہمارے دل دنیا کی محبت اور غفلت میں سخت ہو گئے ہیں، علم کو تجارت کا ذریعہ بنا دیا گیا ہے، دین کو چند رسوم تک محدود کردیا گیا ہے اور دعوت و تبلیغ کو اخلاص کے بجائے نمائش بنا دیا گیا ہے۔ہم 12 ربیع الاول کو چراغاں اور نعت خوانی تو کرتے ہیں، مگر جس نبی کریم ﷺ کی ولادت کی خوشی مناتے ہیں، کیا ان کی تعلیمات ہمارے رویوں میں جھلکتی ہیں؟ وہ نبی ﷺ جنہوں نے راتوں کو امت کی ہدایت اور بخشش کے لیے دعائیں کیں، کیا ہماری موجودہ حالت اس قربانی اور دعا کے شایانِ شان ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ ہم دعویٰ تو ایمان کا کرتے ہیں لیکن اپنی زندگیوں میں نفس پرستی، فیشن پرستی، مغربی تقلید اور دین کی بے قدری کو عام کرچکے ہیں۔مولانا مودودیؒ فرماتے ہیں:”اسلام صرف چند عبادات کا نام نہیں، بلکہ ایک انقلابی تحریک ہے جو انسان کے فکر، مزاج اور نظامِ زندگی کو بدل کر رکھ دیتی ہے۔” (ماخوذ)جب اسلام ایک انقلابی نظام ہے تو ہماری زندگیاں کیوں جمود کا شکار ہیں؟ کیوں ہمارے نوجوان یوٹیوب کے فتنوں میں الجھے ہیں؟ کیوں ہماری بچیاں فیشن اور گلیمر کی دیوانی ہیں؟ نبی ﷺ نے جب مکہ میں دعوت کا آغاز کیا تو توحید، رسالت اور آخرت کے ساتھ اخلاق و کردار کی اصلاح پر بھی زور دیا تھا۔ اور آج کے نوجوان نبی ﷺ کے اسوۂ حسنہ سے غافل ہوکر فحش مواد، سوشل میڈیا افیئرز اور فلمی کلچر میں گم ہیں۔سید قطب شہیدؒ فرماتے ہیں:’’اسلام صرف نماز کا نہیں، شعورِ حیات کا نام ہے۔ جو اسلام کو صرف عبادات تک محدود کرتا ہے، وہ اس کے جوہر سے ناواقف ہے۔‘‘ (ماخوذ)یہ ہمارے لیے سوچنے کا مقام ہے کہ کیا ہم واقعی اسلام کو شعورِ حیات سمجھتے ہیں یا صرف مذہبی تقریبات کو کافی سمجھ بیٹھے ہیں؟ آج ہمارے بازار بددیانتی سے لبریز، زبانیں جھوٹ سے آلودہ، نظریں خیانت سے بوجھل اور دل نفاق سے مزیّن ہوچکے ہیں۔اسی حالت پر حسن البنا شہیدؒ نے کہا تھا:ــ’’اگر تم چاہتے ہو کہ تمہارا دین زندہ ہو، تو اپنے کردار کو زندہ کرو۔ کیونکہ کردار کے بغیر دین مردہ ہے۔‘‘(ماخوذ)نبی ﷺ کا پورا دین اخلاق پر قائم تھا۔۔۔ صدق، امانت، حیاء، نرم دلی اور انصاف۔ آپ ﷺ نے صرف کلمہ نہیں سکھایا بلکہ اس کے تقاضے بھی سکھائے۔ آپ ﷺ کی زندگی کا ہر لمحہ ہمیں یہ بتاتا ہے کہ اسلام صرف عبادات سے مکمل نہیں ہوتا بلکہ معاملات، اخلاق اور اجتماعی نظام کو درست کیے بغیر دین کی تکمیل نہیں۔ڈاکٹر اسرار احمدؒ فرماتے ہیں:’’اگر نبی ﷺ کی محبت تمہارے دل میں ہے تو اس کا ثبوت تمہاری زندگی میں نظر آنا چاہیے۔ ورنہ یہ صرف دعویٰ ہے، عشق نہیں۔‘‘ (ماخوذ) مشہو ر شاعر عامر عثمانی نے امت کی زبوں حالی کی عکاسی کچھ اس انداز میں کی ہے:
یہ ان سے کہنا کہ ہم نے آقا، وفا کا وعدہ نبھا دیا ہے تمہاری نعت و ثناء کا نغمہ ہزاروں طرزوں میں گا دیا ہے
نئے نئے فلسفے تراشے، نئے نئے زاویے نکالے عقیدتوں کو فروغ دے کر ، تمہیں خدا سے ملا دیا ہے
آج کا دن ہمارے لیے محض جشن کا نہیں بلکہ خود احتسابی کا دن ہے۔ ہمیں سوچنا ہوگا کہ ہم کہاں کھڑے ہیں۔ کیا ہماری زندگیاں اس کلمے کی گواہی دے رہی ہیں جس کا ہم اقرار کرتے ہیں؟ اسلام صرف چند رسومات کا نام نہیں بلکہ ایک مکمل نظامِ حیات ہے جو اللہ کی حاکمیت قائم کرنے کے لیے آیا ہے۔ لیکن ہم نے اسے رسموں اور تقریبات تک محدود کردیا ہے۔ہم وہ امت ہیں جسے ”خیر اُمۃ” کہا گیا تھا، مگر آج ہم دنیا کے پیچھے بھاگتے ہیں اور باطل کے نظاموں کے تابع ہیں۔ ہماری مسجدیں آباد ہیں مگر دل ویران ہیں۔ زبانوں پر ذکر ہے مگر اعمال میں تضاد ہے۔ یہی وہ وقت ہے جب قرآن ہمیں جھنجھوڑ کر پکار رہا ہے: اَفَلَا تَعْقِلُوْن؟” کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے؟”اگر ہم نے اب بھی اپنے نظامِ زندگی کو اسلام کے مطابق نہ بدلا تو کل قیامت کے دن ہم خالی ہاتھ ہوں گے۔ اس دن نہ چراغاں کام آئے گا، نہ تقریریں اور نہ نعرے۔ کامیاب وہی ہوگا جو اللہ کے دین کو اپنی زندگی اور معاشرے میں قائم کرے گا۔ہم امت مسلمہ ہیں، اور اگر واقعی سچے عاشقِ رسول ﷺ ہیں تو ہمیں ان کے دین کی اصل روح سے جُڑنا ہوگا۔ وہ نبی ﷺ جو اندھیری راتوں میں امت کے لیے روئے، وہ ہم سے صرف محبت نہیں بلکہ تبدیلی چاہتے ہیں۔ آج امت کا ہر فرد یا تو مغرب کی ذہنی غلامی میں ہے یا رسموں کی قید میں۔ ہمیں واپس پلٹنا ہوگا۔۔۔ قرآن کی طرف، سیرت کی طرف، اصل دعوتِ نبوی ﷺ کی طرف۔کیونکہ یہی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی رضا اور ہماری فلاح و نجات کا واحد راستہ ہے۔ ورنہ ایسا نہ ہو کہ روزِ محشر ہماری آنکھیں زمین میںگڑھی ہوں اور دل یہ حسرت لیے ٹوٹ رہے ہوں کہ:
”کاش! ہم نے دنیا میں حقیقتاً خیر اُمۃ ہونے کا حق ادا کیا ہوتا۔۔۔” لمحہ ء فکریہ

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے