कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

ہمارے ہر عمل کا ریکارڈ

از قلم : عارف محمد خان ، جلگاؤں

انسانی زندگی کا ہر لمحہ عمل سے عبارت ہے۔ ہم جو کچھ کرتے ہیں، وہ بظاہر وقتی معلوم ہوتا ہے، مگر اس کے اثرات اور نتائج دور رس ہوتے ہیں۔ قرآنِ مجید نے اس حقیقت کو نہایت جامع اور بلیغ انداز میں بیان کیا ہے، خاص طور پر سورۂ زلزال کی آیات 6 تا 8 میں، جہاں انسان کے ہر چھوٹے اور بڑے عمل کے حساب کی بات کی گئی ہے۔
قرآنی ارشاد
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
يَوْمَئِذٍ يَصْدُرُ النَّاسُ أَشْتَاتًا لِّيُرَوْا أَعْمَالَهُمْ
فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ
وَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ
ترجمہ:
“اس دن لوگ مختلف گروہوں میں لوٹیں گے تاکہ انہیں ان کے اعمال دکھائے جائیں۔ پس جس نے ذرہ برابر نیکی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا، اور جس نے ذرہ برابر برائی کی ہوگی وہ بھی اسے دیکھ لے گا۔”
قرآنی تصور: مکمل ریکارڈنگ کا نظام:
ان آیات میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ انسان کا ہر عمل، خواہ کتنا ہی معمولی کیوں نہ ہو، محفوظ کیا جا رہا ہے اور قیامت کے دن اسے پیش کیا جائے گا۔ قرآن کے دیگر مقامات پر “کراماً کاتبین” (اعمال لکھنے والے فرشتے) کا ذکر بھی اسی حقیقت کو مزید واضح کرتا ہے کہ ایک مکمل اور ناقابلِ خطا ریکارڈنگ سسٹم موجود ہے۔
سائنس کی روشنی میں عمل کا ریکارڈ:
اگر ہم جدید سائنس اور ٹیکنالوجی پر نظر ڈالیں تو حیرت انگیز طور پر ہمیں اس قرآنی تصور کی جھلک نظر آتی ہے۔
ڈیجیٹل ریکارڈنگ اور نگرانی (Surveillance Systems)
آج دنیا بھر میں CCTV کیمرے، سیٹلائٹ نگرانی اور ڈیجیٹل ٹریکنگ کے ذریعے انسان کے اعمال کا ریکارڈ رکھا جا رہا ہے۔ ہر حرکت، ہر لین دین، حتیٰ کہ آن لائن سرگرمیاں بھی محفوظ ہو رہی ہیں۔
ڈیٹا اسٹوریج اور کلاؤڈ ٹیکنالوجی
Cloud Computing ذریعے اربوں افراد کا ڈیٹا محفوظ کیا جا سکتا ہے۔ یہ نظام ہمیں سمجھاتا ہے کہ معلومات کو محفوظ رکھنا اب کوئی ناممکن بات نہیں رہی۔
مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence)
Artificial Intelligence کی مدد سے نہ صرف ڈیٹا محفوظ کیا جا رہا ہے بلکہ اس کا تجزیہ بھی کیا جا رہا ہے۔ چہرے کی پہچان (Face Recognition) اور رویوں کی پیش گوئی جیسی ٹیکنالوجیز انسان کے اعمال کو “دیکھنے” اور “سمجھنے” کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
کوانٹم فزکس اور توانائی کا اصول:
Law of Conservation of Energy کے مطابق توانائی نہ پیدا کی جا سکتی ہے اور نہ فنا، بلکہ صرف شکل بدلتی ہے۔ اسی طرح بعض سائنسدان یہ نظریہ پیش کرتے ہیں کہ کائنات میں ہونے والا ہر عمل کسی نہ کسی صورت میں محفوظ رہتا ہے۔
قرآن اور سائنس کا تقابلی جائزہ
قرآن نے چودہ سو سال پہلے جس حقیقت کو بیان کیا، آج سائنس اس کی مختلف جہات کو دریافت کر رہی ہے۔ اگر انسان اپنی محدود ٹیکنالوجی سے اتنا کچھ محفوظ کر سکتا ہے تو خالقِ کائنات کا نظام کس قدر مکمل اور جامع ہوگا، اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔
اخلاقی اور سماجی اثرات:
یہ تصور کہ ہمارا ہر عمل ریکارڈ ہو رہا ہے، انسان کی زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔
انسان ذمہ دار بن جاتا ہے۔
برائی سے بچنے کی کوشش کرتا ہے۔
نیکی کی طرف راغب ہوتا ہے۔
معاشرے میں انصاف اور دیانت داری فروغ پاتی ہے۔
سورۂ زلزال کی یہ آیات ہمیں ایک بنیادی حقیقت کی یاد دہانی کراتی ہیں کہ ہماری زندگی کا کوئی لمحہ بے مقصد یا بے حساب نہیں۔ قرآن کا یہ تصور نہ صرف روحانی اعتبار سے اہم ہے بلکہ جدید سائنس کی روشنی میں بھی قابلِ غور ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے