किया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

ہمارے قوم کی یہ بے حسی کیوں ؟

تحریر: مولانا میر ذاکر علی محمدی
9881836729
بذریعہ ضلع نامہ نگار اعتبار نیوز محمد سرور شریف

اللہ رب العزت کا پوری انسانیت اور مومنوں کے لیے یہ فرمان کہ اللہ اور رسولﷺ کے احکام کی پاسداری کیجئے اور اللہ کا مطیع بن کر رہیں۔ اور اللہ نے خصوصا امت محمدیہ کو اس بات سے آگاہ کیا کہ آپس میں جھگڑا فساد اور ایک دوسرے سے بغض و عناد سے پرہیز کریں۔ اگر ہم اس کے منا فی کرتے ہیں۔ تو یقین جانیے آپ خود بخود کمزور اور یہاں تک کہ آپ کے صبر آزمودہ پلاننگ اور منصوبوں پر پانی پھر جائیگا۔ اور آپ کی ہوا اکھڑ جائیگی۔ پھر آپ پر وہ قوم مسلط ہوگی جو آپ سوچ بھی نہیں سکتے۔ یہ آیت اطیعواللہ و اطیعوالرسول الی آخر۔ ماضی کے جنگ اور دیگر امور پر نازل ہوئی ہے۔ لیکن یہ آیت دور جدید اور ہم پر صادق آتی ہے۔ ہماری مثال اس خرگوش جیسی ہے ، جو کمزور کچھوے کی شرط میں اس گھمنڈ اور غرور میں کچھوے کو کمزور سمجھ کر سوگیا۔ لیکن وہی کمزور کچھوا اپنی منزل مقصود تک پہونچ کر برق رفتار خرگوش کو شکست فاش دی۔ اور ہم حکمت عملی اور مصلحت (pragmatism ) کی تھیوری کو لیکر بیٹھے ہیں۔ کامیابی تومومن کےلیے ہے۔ لیکن ہم نے اپنا فرض منصبی کو فراموش کر رکھے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج کمزورلوگ اپنی خاموش پالیسی اور ایک منظم طریقہ سے ہم پر مسلط اور حاوی ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور ہم ہیں کہ ساری زندگی مصلحت کی چادر اوڑھے ہوے ہیں۔ اللہ نے روے زمین پر سب سے بہتر انسانوں کی تخلیق کی ہے۔ اور پھر ان میں مومنوں کی جو اللہ اور رسولﷺ کی پاسداری کرتے ہیں۔ لیکن آج اگر ہم جائزہ لیں تو ہمیں پتہ چلیگا کہ ہم دینا کی ہر فلڈ میں ناکام کیوں ہیں؟ جو قوم پوری دنیا کی رہنمائ اور مشعل راہ بنائ گئ ہے۔ آج وہ در بدر کیوں بھٹک رہی ہے؟ نہ ہمارا کوئی سیاسی رہنما ہے ۔اور نہ کوئ قوم کے مسقبل کا مسیحا۔ ایسا لگتا ہے کہ ہماری قوم یتیم ہوگئ ہے۔ ہماری سیاست رہنمائ قائدانہ صلاحیت بس اس شعر کے دو مصرعوں سمٹ کر رہ گئ ہے۔ یو ں نہ کہیے کہ مصلحتا بک گئے چند سکوں میں واعظ کے فن بک گئے ۔ ہمارے تعلیم کا فیصد بہت کم یعنی نہیں کہ برابر ہے۔ ہماری تہذیب و تمدن کو دیکھ کر غیر بھی عش عش کرتے تھے۔ آج اسکا فقدان ہے۔ ہمارے پاس جلسے جلوس پر کڑوڑوں بے فضول خرچ کیا جاتا ہے۔ لیکن اچھی تعلیم دینے اور بہترین یونیورسٹیز اور جامعات بنانے سے قاصر ہیں۔ جو آج ایک وقت کی اہم ترین اور مسلمانوں کے کامیابی کا جز ہے۔ ہیں۔ ہم اپنے آپ کو کب بدلینگے؟ کہ ہماری ہر اعتبار سے مستحکم حالت ہو ۔ ہم جب تک اپنے آ پ کو اور اپنی حالت کو نہیں بدلینگے۔ اللہ بھی ہماری حالت نہیں بدل سکتا۔ اور جب ہم یہ عزم مستحکم کرینگے ، تو اللہ بھی اپنے ایمان والے بندوں اوروں کے سامنے شرمسار نہیں کریگا۔ لیکن شرط ہے کہ ہم اپنی اور قوم و ملت کے تعمیر و ترقی اور بہتر تعلیم ، تہذیب و تمدن کو فروغ دینے میں لگ جاے۔ کیونکہ اسی کا فرمان ہے کہ ان اللہ لا یغیر ما بقوم حتی یغیروا ما بانفسہم۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ حالات پر صبر کرنا چاہیے۔ یقینا ” لیکن حد سے زیادہ صبر بھی بزدلی کے مترادف ہے ۔ کہ جس قوم نے ساری دنیا میں اپنی ایک منفرد شناخت بنائ تھی۔ وہ قوم جس نے پوری دنیا پر حکومت کی اور عدل و انصاف کو رائج کیا ۔ وہ قوم جو بادشاہت میں فقیری کی۔ وہ قوم جس نے انسانیت کو بام عروج پر پہونچایا۔ لیکن آج جائزہ لیں تو بہت افسوس ہوتا ہے کہ ہماری اس نادانی اور بے حسی اور حیرت انگیز خاموشی سے ۔ ہمارے تہذیب و تمدن کو برقرار نہ رکھنے سے۔ ہمارے املاک کی حفاظت نہ کرنے سے۔ ہماری مساجد اور خانقاہوں اور مدارس کی صحیح تحفظ نہ کرنے سے۔ اشرار کی طرف سے غاصبانہ کاروائ کہیں نہ کہیں دیکھنے ملتی ہے۔ اور ہماری بے حسی اور حیرت انگیز خاموشی کا یہ عالم ہے کہ کہیں کچھ ہوا ہی نہیں گویا کہ ہم کو سانپ سونگھ گیا ہے۔ ہمارے دشمن کو زیادہ محنت کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ ہم خود ایک دوسرے کو اتنا زک اور نقصان پہونچارہے شاید ہی دنیا میں کوئ فرقہ اس طرح کے عمل کا مرتکب ہو ۔ شیعہ اور سنی کلمہ گو ہیں لیکن ہم آپس میں ہی ایک دوسرے کو ختم کرنے کے در پہ ہیں۔ اس لیے اب دشمن کو ہم میں تفریق ڈالنے کے لیے زیادہ محنت کی ضرورت نہیں۔ ہم ہی ایک دوسرے کو ختم کرنے کی تاک میں ہیں۔ قرآن ہمیں یہ درس دیتا ہے کہ آپس میں اتحاد اور اتفاق کو بڑھاوا دیں ۔ اور اللہ کی رسی کو استحکام سے تھامیں رکھیں۔ اور آپس میں نا اتفاقی کا شکار نہ ہوں۔ اور یاد رکھو دنیا کو اور انسانیت کو دھمکیوں سے ڈرانے والوں کا انجام تاریخ بیان کرتی ہے۔ فرعون ہامان شداد اور نہ جانے کتنے انسانیت کے دشمنوں کو خاک میں ملادیا۔اور اللہ نے ساری دنیا کے لیے عبرت بنایا ہے۔ اور آج بھی اس دور میں لاکھوں کروڑوں فرعون شداد ہامان ہیں۔ جو انسانیت بھائ چارہ اور امن امان کو زک ہپونچانے کے در پر ہیں۔ جب تاریخ لکھی جائیگی موجودہ دور کے ہامان شداد اور فرعون ان ہی کے زمرہ میں شامل ہوں گے۔ قرون اولی میں بھی درندے صفات کے حامل حکمراں اور سیاست دان گذرے۔ جنہوں نے انسانیت کو تار تار کیا۔ یہاں تک کہ سیاست اور بادشاہت کے گھمنڈ اور جنون میں اپنے آپ کو خدا تک کہدیا۔ لیکن اللہ نے انہیں فنا و برباد کیا۔ اور قیامت تک لوگوں کو عبرت کے لیے باقی رکھا۔ اور یقیناساری کائینات میں اللہ کا دین ، دین اسلام ہی سچ اور حق ہے۔ جو ساری دنیا پر غالب ہو کر رہیگا۔ باطل کو ختم ہونا ہی ہے ، اور حق کو ظاہر ہونا ہے۔

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor aitebar news, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے