कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

کیا ہے ہم نے متاعِ سکون کا سودا

تحریر: ر۔م۔ انعامدار

اللہ، جو شہِ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے، جس کے قبضۂ قدرت میں دلوں کے راز ہیں، جس کے نور سے کائنات روشن ہے، اور جس کے کرم کی شبنمی پھوار زمین کی ہر خشک مٹی کو زندگی عطا کرتی ہے، ہم اسی ذات کی بارگاہ میں سر جھکاتے ہیں، وہی رب، جو ماضی کے سادہ دنوں میں ہماری زندگیوں کو سکون کی دولت سے مالا مال کیے ہوئے تھا، اور وہی رب، جس نے اپنی کتاب کو ہمارے دلوں کی روشنی اور ہمارے اعمال کا آئینہ بنایا۔ ہم اس ذاتِ مقدس کا شکر ادا کرتے ہیں اور اسی کی حمد و ثناء کرتے ہیں، اور اپنے آقا، محسنِ انسانیت، حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر درود و سلام بھیجتے ہیں، جن کی تعلیمات نے ہر لمحے میں محبت، خلوص اور انسانیت کا درس دیا۔
اے ماضی کی خوشبو سے مہکتی یادو! تمہارے ذکر سے دل تڑپتا ہے، آنکھیں نم ہو جاتی ہیں، اور دل میں یہ احساس انگڑائی لیتا ہے کہ وہ وقت کتنا پاکیزہ، کتنا معصوم تھا، جب انسان کے پاس دنیا کی کمی تھی، مگر دل کے اندر سکون کا خزانہ تھا۔
وہ دور جو خلوص کا آئینہ تھا…وہ وقت کہ جب زمین پر گرا نمک بھی قیامت کا احساس دلا دیتا تھا۔ یہ وہ دور تھا جب انسان کا ہر عمل اس کے ایمان کا عکاس تھا۔ زمین پر اردو اخبارات بھی بچھانے سے گریز کیا جاتا کہ ان میں مقدس الفاظ ہوتے ہیں اور کہیں ان کی بے ادبی نہ ہوجائے۔ اور آج؟ آج یہ دنیا جدید ہو چکی ہے، مگر دل کی زمین ویران ہے۔
محلے کے گداگر، جو کبھی دلوں کی محبت کے آئینہ دار تھے، اب اجنبی بن چکے ہیں۔ گھر کے دروازے، جو کبھی ہر دستک کے لیے کھلے ہوتے تھے، آج حفاظتی تالوں کے پیچھے قید ہیں۔ ڈاکیے کا انتظار اب کوئی نہیں کرتا، وہ خط، جن کی خوشبو محبت کی ترجمانی کرتی تھی، وہ سوکھی روٹی اور چٹنی کی محبت بھری دعوتیں، آج سب خواب بن چکی ہیں۔
وہ دور، جب گلیوں میں چارپائیاں بچھتی تھیں، وہ وقت، جب گلیوں کے چوراہے زندگی کی رونق سے بھرپور ہوا کرتے تھے، جہاں بزرگوں کی محفلیں صرف وقت گزارنے کا ذریعہ نہیں تھیں، بلکہ وہ علم، تجربے اور محبت کے خزانے تھے۔ حقے کی دھیمی دھیمی مہک اور ان کے قہقہوں کی گونج گلیوں کو زندگی عطا کرتی تھی۔ وہ قہقہے، جن میں زندگی کی خوشبو ہوتی تھی، دل کے زخموں کو بھرنے کی طاقت ہوتی تھی۔ گھروں میں بوڑھی عورتیں بچوں کو کہانیاں سنایا کرتی تھیں، وہ کہانیاں جو جنوں، پریوں اور بہادری کے خوابوں سے زیادہ، محبت، خلوص اور انسانیت کے درس سے بھری ہوتی تھیں۔ ان قصوں میں ایسا جادو ہوتا تھا جو رات کی تاریکی میں بھی دلوں کو روشن کر دیتا تھا۔
وہ دور جب گھروں کے درمیان صرف دیواریں نہیں تھیں، بلکہ دلوں کے درمیان محبت کے پل تھے۔ ایک کی خوشی سب کی خوشی تھی، اور ایک کا دکھ سب کا دکھ۔ محلے میں شادی ہوتی تو ہر گلی جگمگا اٹھتی تھی، ہر دروازہ کھل جاتا تھا، اور ہر دل خوشیوں میں شریک ہوتا تھا۔ جنازہ اٹھتا تو ہر آنکھ نم ہو جاتی تھی، اور ہر دل سے سچی ہچکیوں کی گواہی سنائی دیتی تھی۔ وہ جنازے صرف کسی کی آخری رسومات نہیں تھے، وہ محبت اور رشتے کی آخری گواہی ہوتے تھے، جو ہر دل کو چھو جاتے تھے۔
آج ان گلیوں میں خاموشی چھا چکی ہے، چوراہوں کی رونقیں ماضی کا قصہ بن گئی ہیں۔ وہ بوڑھی عورتیں کہانیاں سنانے کے لیے نہیں رہیں، اور نہ وہ دل جو کہانیوں کی خوشبو کو محسوس کر سکیں۔ آج گھروں کے درمیان دیواریں اونچی ہو گئیں، اور دلوں کے درمیان فاصلے ناقابل عبور۔ محلے کی خوشیاں اجنبی بن گئیں، اور جنازے محض رسمی ذمہ داری بن کر رہ گئے ہیں۔ وہ وقت، جب انسان انسان کے قریب تھا، آج ایک خواب سا لگتا ہے، جسے یاد کر کے دل تڑپ اٹھتا ہے، اور آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔
ایسا ہی حال مسجدوں کا بھی ہوا۔ وہ پرانے دور کی مسجدیں، جو مٹی کی دیواروں اور کھجور کی چٹائیوں پر مشتمل تھیں، لیکن ان کے آنگن میں دلوں کی دھڑکنیں بستی تھیں۔ وہ مسجدیں جہاں اذان کی آواز روح کو تڑپا دیتی تھی، جہاں نمازی صفوں میں یوں جُڑے ہوتے تھے جیسے دل ایک دوسرے سے بندھے ہوں۔ وہ گلی محلوں کی مسجدیں، جہاں بچوں کی قرآنی لہریں، بزرگوں کی دعائیں، اور نوجوانوں کی عاجزی رب سے قربت کا منظر پیش کرتی تھی۔ یہ مسجدیں نہ صرف عبادت گاہیں تھیں بلکہ دلوں کو جوڑنے والے مراکز بھی تھیں۔
اور آج؟۔۔۔۔ آج کی مسجدیں سنگِ مرمر کے گنبدوں، شیشے کے جھاڑ فانوسوں اور قیمتی قالینوں سے آراستہ ہیں، جو دلہن کی طرح سجائی گئی ہیں، مگر اندر کا سناٹا چیخ چیخ کر کہتا ہے کہ ہم نے ان آسانیوں کے لیے متاعِ سکون کا سودا کرلیا۔ وہ صفیں جو کبھی محبتوں سے بھرپور ہوتی تھیں، اب خالی رہتی ہیں۔ ان بلند و بالا میناروں سے اٹھتی اذانیں گم سم دلوں کو جگانے کی بجائے دیواروں سے ٹکرا کر واپس آتی ہیں۔ یہ مسجدیں آج ویران کھڑی ہیں۔ ہماری آسانیوں نے ہمارے دل کے سکون کو دفن کر دیا۔ وہ ماضی کی معصومیت، خلوص اور محبت، جو زندگی کا اصل زیور تھے، آج ہماری ترقی کی قیمت پر قربان ہو چکے ہیں۔
ہم نے منجن سے ٹوتھ پیسٹ تک کا سفر کر لیا، ہم نے صراحی و مٹکوں کے ٹھنڈے پانی کو چھوڑ کر فریج کے پانی کو اپنا لیا، ہم نے خطوں کے جذبات کو ای میلز، واٹس اپ ، فیس بک، ٹیلی گرام وغیرہ کے رسمی پیغامات میں بدل دیا۔ لیکن اس ترقی کی دوڑ میں، ہم نے وہ سب کچھ کھو دیا جو ہمیں انسان بناتا تھا۔
آج ہمارے گھروں میں سہولتیں ہیں، لیکن دلوں میں سکون نہیں۔ آج ہمارے پاس جدید دوائیاں ہیں، لیکن شفا نہیں۔ ہمارے پاس وقت کے پیمانے ہیں، لیکن وقت نہیں۔ ہم نے اپنی زندگی کو اتنی سہولتوں سے بھر دیا ہے کہ ان کے نیچے ہماری خوشیاں اور سکون دب کر رہ گئے ہیں۔
ہمارے گھروں میں ایک ایسا ڈبہ موجود ہے، جو اس جدید دور کی سب سے بڑی ناکامی کا گواہ ہے۔ اس میں ڈپریشن، سردرد، بلڈ پریشر، نیند، وٹامنز وغیرہ کی گولیاں ہروقت موجود ہیں، یہ گولیاں ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ ہم نےسکون کے بدلے سہولتیں خرید لیں اور محبت کے بدلے تنہائی۔
یہ ترقی، یہ جدیدیت، یہ آسانیاں… کیا واقعی ہم نے سب کچھ پا لیا، یا ہر سہولت کے عوض اپنی معصومیت، اپنی محبت، اور اپنے رشتے داؤ پر لگا دیے؟ یہ کیسی روشنی ہے جو دلوں کو تاریکی میں دھکیل رہی ہے؟ یہ کیسی کامیابی ہے جو ہماری روح کے سکون کو چھین کر ہمیں ویرانیوں کا مسافر بنا گئی ہے؟
ہم نے وہ دن کھو دیے جب ایک مسکراہٹ دلوں کے زخموں کا مرہم بن جاتی تھی، جب ایک دعا زمانے کی مشکلات کو پار لگا دیتی تھی۔ آج، ہر آسانی کے باوجود، دل میں خلا ہے، روح بے چین ہے، اور رشتے سرد مہری کے برف تلے دبے ہوئے ہیں۔ وہ گلیاں، جو قہقہوں سے گونجتی تھیں، آج خاموش ہیں۔ وہ دسترخوان، جو محبت بانٹتے تھے، آج تنہائی کا منظر پیش کر رہے ہیں۔
کیا ہم پھر سے ان لمحوں کو جی سکتے ہیں؟ جو خوشبو کی طرح دلوں کو معطر کرتے تھے، جو محبت کی طرح رگوں میں خون بن کر دوڑتے تھے، اور جو زندگی کی اصل حقیقت کا آئینہ تھے۔
دعا ہے کہ اللہ ہمیں اس اندھیری دوڑ سے نکال کر، ماضی کے ان اجالوں کی طرف لے جائے، جہاں محبت زندگی کی دھڑکن تھی، اور خلوص ہر رشتے کا زیور۔ یا اللہ! ہمیں وہ سکون واپس عطا فرما دے، جو ہم نے اس چمکتی مگر خالی دنیا کی قیمت پر کھو دیا ہے۔
آمین۔

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے