कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

کیا آپ کو پتہ ہے ؟ اُس روز مدینہ بھی بدک کر رو رہا تھا

خامہ فرسائی: ابو خالد

مدینہ… وہ شہرِ مقدس، جس کی فضا میں آج بھی رسولِ اکرم ﷺ کے قدموں کی خوشبو بسی ہوئی ہے۔ وہ شہر، جو کبھی اپنے مکینِ اوّل ﷺ کی مسکراہٹ سے روشن تھا،
اور کبھی اُن کی جدائی میں آنسو بہاتا تھا۔ اسی مدینے نے تاریخ میں ایک ایسا دن بھی دیکھا ہے جب اس کی ہوا بھاری ہو گئی، گلیاں آہ و بکا سے لرز اٹھیں، اور آنسوؤں سے بھیگی فضا یوں محسوس ہونے لگی جیسے مدینہ خود رو رہا ہو۔
یہ وہ دن تھا جب ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن کے متبرک حجرات ، وہ حجرے جن میں رسول اللہ ﷺ کی زندگی کے راز چھپے ہوئے تھے، مسجد نبوی ﷺ میں توسیع کی خاطر منہدم کیے جا رہے تھے۔
حجراتِ طاہرات سادگی کا وہ نقش جس نے دلوں کو موہ لیا۔ یہ وہی حجرے تھے جن کی چھتیں کھجور کی ٹہنیوں اور پتوں سے بنی تھیں، جن کی دیواریں مٹی اور لبن سے لپی ہوئی تھیں، جن کے دروازے ٹاٹ اور پردوں سے بنے تھے، جہاں سادگی، تقدس اور فقرِ نبوی ﷺ اپنی پوری عظمت کے ساتھ جلوہ گر تھے۔
یہ حجرے دراصل نبوی طرزِ زندگی کا عملی نمونہ تھے؛
وہی حجرے جن میں کبھی چولہا نہ جلتا تھا، جہاں مہینوں مہینوں گھر میں صرف پانی اور کھجوریں ہوتی تھیں،
جہاں رسولِ اکرم ﷺ اپنی ازواج کے ساتھ نہایت سادہ اور پاکیزہ زندگی بسر فرمایا کرتے تھے۔
ان کی مٹی، ان کا در و دیوار، ان کی سادگی… سب کچھ ایک ایسی داستان سناتا تھا جو کتابوں میں نہیں، بلکہ دلوں میں لکھی جاتی ہے۔
توسیعِ مسجدِ نبوی ﷺ کا فیصلہ جس نے دل ہلا دیے
زمانہ تھا 96 ہجری کا۔ اسلام کی سرحدیں وسیع ہو رہی تھیں، لوگ کثرت سے مدینہ آ رہے تھے، اور مسجد نبوی ﷺ موجودہ جماعت کے لیے تنگ پڑتی جا رہی تھی۔ خلیفۂ وقت ولید بن عبدالملک نے حکم بھیجا کہ: مسجد نبوی ﷺ کی توسیع کی جائے، اور اس کے ساتھ متصل ازواجِ مطہرات کے حجرات کو مسجد میں شامل کر دیا جائے۔ یہ حکم جب مدینہ کے گورنر حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کے پاس پہنچا، تو ان کے دل پر بھی ایک لرزہ طاری ہو گیا۔ یہ فیصلہ معمولی نہیں تھا۔ یہ مدینہ کے دل تک دسترس رکھنے والا فیصلہ تھا۔
اسی لیے انہوں نے اہلِ مدینہ کو جمع کیا علماء، مشائخ، صحابہ کے شاگرد، اور عام شہری۔
انہوں نے حکمِ خلافت پڑھ کر سنایا۔ جیسے ہی الفاظ ختم ہوئے، ایسا معلوم ہوا کہ مجمع پر بجلی سی گر گئی ہو۔ سننے والوں کی نظریں جھک گئیں۔
ہونٹ کپکپانے لگے۔ اور پھر ایک آہ بلند ہوئی ایسی آہ جس نے مسجد نبوی ﷺ کی فضاؤں کو ہلا کر رکھ دیا۔ لوگ روتے ہوئے کہنے لگے: اے امیر! یہ وہی حجرے ہیں جن میں دنیا کی سب سے عظیم ہستی ﷺ نے سادگی کے ساتھ زندگی گزاری۔
یہ وہ گھر ہیں جنہیں دیکھ کر لوگ عبرت پکڑتے ہیں۔ ان کو گرانا نہیں چاہیے۔ کچھ حضرات نے کہا: کاش! انہیں اسی حالت پر چھوڑ دیا جائے، تاکہ آنے والی نسلیں دیکھ سکیں کہ دنیا نے رسول اللہ ﷺ کو مختارِ کائنات بنا دیا تھا، مگر انہوں نے فقرِ اختیاری کو قبول فرمایا۔
اسی وقت بزرگ صحابی حضرت سَہل بن حُنَیفؓ کھڑے ہوئے۔ ان کی داڑھی آنسوؤں سے بھیگی ہوئی تھی۔ انہوں نے لرزتی ہوئی آواز میں کہا: کاش! ان حجروں کو اسی طرح چھوڑ دیا جاتا۔ لوگ جان لیتے کہ اللہ نے اپنے محبوب ﷺ کو دنیا کی چمک اور شان نہیں دی، بلکہ فقر، زہد اور سادگی عطا کی۔
یہ الفاظ سن کر مجمع میں پھر ایک ہچکیوں کا شور اٹھ گیا۔
حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ نے یہ ساری کیفیت اور اہلِ مدینہ کی آہ و فغاں خلیفہ کے نام لکھ بھیجی، لیکن فیصلہ برقرار رہا۔
اور پھر وہ لمحہ آ گیا… جب پہلی کدال چلائی گئی، پہلا جھٹکا لگا، پہلی اینٹ ہلی
تو مدینہ جیسے چیخ اٹھا۔
فضا آہ و بکا سے بھر گئی۔
بزرگوں کی سسکیاں، عورتوں کی رونے کی آوازیں، بچوں کی بے ساختہ چیخیں، سب مل کر ایسا منظر بنا رہی تھیں جیسے
مدینہ وہی درد محسوس کر رہا ہے جو اس نے رسول اللہ ﷺ کے وصال کے دن محسوس کیا تھا۔
تاریخ نگار لکھتے ہیں: اس دن مدینہ میں وہی رونا سنائی دیا جو رسول اللہ ﷺ کی وفات کے دن سنائی دیا تھا۔ وہ تاریخی لمحے مدینہ کی فضا میں ہمیشہ کے لیے رقم ہو گئے۔ توسیع مکمل ہوئی مگر دل ہمیشہ زخمی رہے ، حجرات منہدم ہو گئے، مسجد وسیع ہو گئی،
امت کے لیے یہ ایک ضرورت تھی، ایک مصلحت تھی۔
لیکن… جن لوگوں نے ان حجروں کو دیکھا تھا، جنہوں نے ان کی مٹی میں سادگی کا نور دیکھا تھا، ان کے دلوں میں ہمیشہ ایک خالی جگہ رہی۔
وہ جگہ جسے کبھی کوئی تعمیری اینٹ پُر نہ کر سکتی تھی۔
یوں مدینہ نے ایک دن پھر آنسو بہائے ایک دردناک دن، جس میں مٹی کی دیواریں تو گریں، مگر دلوں میں عشقِ رسول ﷺ کی عظمت اور بڑھ گئی۔
رضینا باللہ علی کل حال ۔

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے