कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

کیا آپ نے کبھی سوچا!

از قلم( آفرین شیخ، شو لا پور مہاراشٹر)

کاغذی رویے موت سے زیادہ اذیت ترین ہوتے ہیں،
کیا آپ کو کبھی یہ احساس ہوا ہے کہ جب ایک عورت کی زندگی میں شادی کا خواب ٹوٹتا ہے تو اس کی دنیا یکسر بدل جاتی ہے؟ وہ رشتہ جسے وہ اپنے مستقبل کی بنیاد سمجھ کر قبول کرتی ہے، جب وہ ختم ہو جاتا ہے، تو وہ صرف ایک بندھن سے نہیں، بلکہ اپنے خوابوں، اپنی عزت اور اپنی خوشیوں سے بھی محروم ہو جاتی ہے۔ طلاق ایک ایسا درد ہے جس کا اثر اس کی ذات پر ہی نہیں، بلکہ اس کی توقعات، اس کے جذبات اور اس کے آئندہ کے تمام منصوبوں پر بھی گہرا ہوتا ہے۔ کیا آپ نے کبھی اس کی حالت پر غور کیا؟”
طلاق یافتہ عورت کی زندگی ایک ایسے راستے کی مانند ہے جو کانٹوں سے بھرا ہوا ہو۔ وہ رشتہ جسے اس نے اپنی پوری زندگی کا محور بنایا تھا، جب ٹوٹتا ہے، تو اس کے ساتھ ہی اس کا وقار، اس کے خواب، اور اس کی خوشیاں بھی بکھر جاتی ہیں۔
اگر وہ کم عمر ہو، تو اس کی معصومیت پر سوالات اٹھتے ہیں۔اگر وہ بچوں کی ماں ہو، تو اسے اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے تنہا جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔اور اگر وہ کسی حد تک خوشحال ہو، تو بھی سماج اسے شک کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔
وہ لڑکیاں جو کم عمری میں شادی کے بندھن میں بندھ جاتی ہیں، اپنی زندگی کو محبت اور خوشیوں کے خوابوں سے سجانے لگتی ہیں۔ لیکن جب یہ خواب طلاق کے ایک لفظ سے ٹوٹتے ہیں، تو ان کے لیے زندگی جینا ایک سزا بن جاتا ہے۔
18 سال کی مریم، جس نے اپنی تعلیم کو شادی کے بعد مکمل کرنے کا خواب دیکھا تھا، صرف چھ ماہ بعد اپنے والدین کے گھر واپس آ گئی۔ آج مریم نہ اپنی تعلیم مکمل کر پائی اور نہ ہی سماج کے سوالات سے خود کو بچا پائی۔”
ایک طلاق یافتہ ماں کے لیے زندگی کی جدوجہد دوگنی ہو جاتی ہے۔وہ اپنے بچوں کے لیے جیتی ہے، مگر سماج کے لیے وہ ایک ‘ناکام عورت بن جاتی ہے۔
اس کے بچے، جو اپنی عمر سے پہلے بڑے ہو جاتے ہیں، اپنی ماں کی تکلیف کو دیکھتے ہوئے خود بھی اندر سے ٹوٹنے لگتے ہیں۔
میرے ہی محلے کی ایک طلاق یافتہ، "فاطمہ، جو تین بچوں کی ماں ہے، ہر روز سلائی کا کام کرتی ہے تاکہ اپنے بچوں کے اسکول کے اخراجات پورے کر سکے۔ ایک دن اس کا بیٹا اس سے پوچھا کہ : ‘امی، ہم کیوں سب سے الگ ہیں؟ اس سوال نے فاطمہ کے دل کو چیر دیا، مگر اس کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔”
طلاق یافتہ عورت صرف اپنے رشتے کے خاتمے کا صدمہ نہیں جھیلتی، بلکہ وہ سماج کے زہریلے رویوں کا بھی شکار ہوتی ہے۔
رشتے دار اور محلے والے اس کی کردار کشی کرتے ہیں۔
دوبارہ شادی کی بات آئے، تو اسے بوجھ سمجھا جاتا ہے۔
ایسی ایک بچی ہے جسے میں جانتی ہوں، "عائشہ، جسے طلاق کے بعد اپنے والدین کے گھر میں رہنا پڑا، ہر روز لوگوں کے طعنے سنتی ہے: ‘کوئی تم سے دوبارہ شادی کیوں کرے گا؟’ عائشہ کی زندگی ان زخموں کے ساتھ چل رہی ہے جو صرف وقت نہیں، بلکہ سماج کے زہر سے بھرتے ہیں۔
اسلام نے طلاق کو ایک ضرورت کے طور پر رکھا ہے، نہ کہ عورت کو سزا دینے کا ذریعہ۔ قرآن مجید میں مطلقہ عورتوں کے لیے واضح ہدایات موجود ہیں:
اور مطلقہ عورتوں کو مناسب طور پر خرچ دیا جائے۔ یہ پرہیزگاروں پر واجب ہے۔” (سورہ البقرہ: 241)
حضور اکرم ﷺ نے فرمایا:
سب سے بہترین انسان وہ ہے جو اپنی بیوی کے ساتھ بہترین سلوک کرے۔
لیکن ہمارا معاشرہ ان تعلیمات کو بھول چکا ہے۔ ہم عورت کو عزت دینے کے بجائے اس کے کردار پر انگلی اٹھاتے ہیں، جو اسلامی اصولوں کے خلاف ہے۔
طلاق یافتہ عورت کے لیے دوسری شادی کا تصور ایک مشکل خواب بن جاتا ہے۔
مرد، جو خود کو کامل سمجھتے ہیں، عورت کی زندگی کے ماضی کو اس کے حال پر ترجیح دیتے ہیں۔
خاندان اپنی بہن یا بیٹی کو دوبارہ ایک موقع دینے سے ہچکچاتے ہیں۔
یہ رویے اس عورت کی زندگی کو مزید تاریک کر دیتے ہیں۔
ہم سب کو اپنے رویے بدلنے ہوں گے تاکہ طلاق یافتہ عورتوں کے لیے زندگی آسان ہو سکے۔
ان کے لیے تعلیمی اور روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں۔
ان کی عزت اور وقار کو سماج میں بحال کیا جائے۔
خاندان اور دوست ان کی مدد کے لیے آگے آئیں، بجائے ان پر تنقید کرنے کے۔
اگر ہر محلے میں ایک ہنر سکھانے کا مرکز ہو اور طلاق یافتہ عورتوں کو مالی مدد دی جائے، تو وہ خود اپنی زندگی سنوار سکتی ہیں۔
ہمہں اپنی سوچ کو بدلنے اور طلاق یافتہ عورتوں کے لیے انصاف، عزت، اور محبت کا ماحول پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ عورتیں ناکام نہیں ہیں، بلکہ وہ بہادری کی مثال ہیں۔ ہمیں ان کے لیے امید کی شمع جلانی ہے، کیونکہ اللہ کی رضا اسی میں ہے کہ ہم انسانوں کے دکھوں کو بانٹیں اور ان کے لیے آسانیاں پیدا کریں۔
اللہ نے واحد ذریعہ یہی نہیں رکھا طلاق بہُت برا فعل اللہ کی نظر میں ہے لیکن راستہ بھی اسی لیے بتایا گیا ہے تاکہ زندگیاں مزید خراب نا ہو۔۔۔
یہ وہ درد ہے یہ وہ الفاظ ہے یہ وہ قصے بیانیاں ہے جسکو تحریر کرتے وقت میرا جسم لرزتا رہا ،
کم عمری میں ملا غم انسان کو دو راستے بتاتا ہے یا تو برباد کرو یا اسی کو آباد کرو ایک نئے سرے سے اور قرآن یہ بات بھی کہتا ہے ایسی لوگوں پر اللّٰہ کی خاص رحمت و عنایت ہوتی ہیں اس لیے اپنا نظریہ بدلے تم ہم وہ نہیں جانتے جس نے اس کو برداشت کیا ہے ہمارا پڑھا لکھا معاشرہ آج بھی طلاق یافتہ خواتین کی ایسی مثالوں سے بھرا پڑا ہے جنہوں نے ایک بہترین زندگی جی کر ایک عمدہ مثال قائم کی۔
اور آپ ایسی بنے جسکو نا ہو حاصل وہ بھی تمنّا کریں
اپنا کردار سوچ عادت فطرت اتنا با وقار اور صاف بنائے کہ کردار کے عظیم و شفاف آئینے سے لوگ آپکا درد سمجھے آپکی معصومیت پر کیا گیا ظلم اُنہیں یہ احساس دلائے کہ ہمت سے دنیا کی ہر جنگ جیتی جا سکتی ہیں بلکہ ایسی خواتین بہُت زیادہ مضبوط بن جاتی ہیں
اور یہ فیصلہ رب کا ہے وہی بہترین راہیں ہمارے لیے کھو لے گا اس بات کا عقیدہ و ایمان اپنے اندر پیدا کریں
یہ وقت آپکے ایمان و نفس کی اصل آزمائش کا ہیں ۔
ثابت قدم رہے پر مسرت رہے فتنوں سے دور رہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے