कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

کونسی عید

از قلم: ظفر ھاشمی ندوی
بذریعہ نامہ نگار اعتبار نیوز محمد سرور شریف پربھنی

ہم میں سے ہر شخص بچپن سے عید منا رہا ہے۔ مگر جوانی اور بڑھاپے کی عید محض بے شعوری کی عید نہیں ہے بلکہ عید گھریلو حالات اور معاشرہ کے مختلف اتار چڑھاؤ سے جڑی ہوئی ہے۔ مثال کے طور پر اگر اللہ نہ کرے کسی گھر میں عید سے قریب یا کچھ پہلے گھر کے کسی فرد کا انتقال ہو جائے تو اس کے غم میں عید نہیں منائی جاتی ہے۔
عید کی کئی قسمیں ہیں – غریبوں کی عید ( ان کے لئے اللہ تعالیٰ نے فطرہ کا انتظام کر رکھا ہے) امیروں کی عید، روزہ نہ رکھنے والوں کی عید ( ایسے مسلمان انتہائی بے غیرت بے شرم بلکہ بے دین ہیں) روزہ رکھنے والوں کی عید ، قومی عید یعنی دنیا کے تمام مسلمانوں کی خوشی و غم کے شعور اور احساس کی عید وغیرہ وغیرہ-
اس وقت خود انڈیا میں بے شمار مسلمان جیلوں میں کئی مہینوں سے جھوٹے الزامات میں بند ہیں اور وہ اور ان کے گھر والے عید کی خوشیوں سے محروم ہیں- عالمی سطح پر غزہ ، سوڈان ، میانمار ، اور اب ایران کے مسلمان عید کی خوشیوں سے نہیں بلکہ زندگی کی عام سہولتوں تک سے محروم ہیں- دوسری طرف تمام کافرانہ طاقتیں متحد ہو کر دنیا کے تمام مسلمانوں کو مٹا دینا چاھتی ہیں۔
ایسے حالات میں آپ کونسی عید منانا چاھتے ہیں؟ خود غرضی کی عید بس میں اور میرے گھر والوں کی خوشی اور عید یا ایک باشعور اور ایمانی غیرت رکھنے والے کی عید؟ جو صرف اپنے لئے نہیں بلکہ اسلام اور مسلمانوں کے لئے جیتا اور مرتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ( المؤمن للمؤمن كالبنيان المرصوص يشد بعضه بعضا اذا اشتكى منه عضو تداعى له سائر الجسد بالسهر والحمى) ایک مومن مسلمان دوسرے مومن کے لئے مضبوط عمارت کی طرح ہوتا ہے -دوسری روایت میں ایک جسم کے اعضاء کی طرح ہوتا ہے کہ اگر جسم کے ایک حصہ کو تکلیف ہو جائے تو جسم کے دوسرے سارے حصوں کو نیند نہیں آتی ہے اور بخار آجاتا ہے۔
کہاں ہیں ایسے مسلمان ۔ اسلام کتابوں میں لکھا ہوا ہے اور سچے مسلمان قبرمیں۔ ہم سب تو صرف ( یا شیخ اپنی اپنی دیکھ ) پر عمل کرتے ہیں-
چند مشورے:
۱ – اس سال کی عید پر آپ نے جیسے نئے کپڑے اپنے اور بیوی بچوں اور ماں باپ کے لئے خریدے ہیں ویسے ہی کسی غریب مسلم خاندان کے تمام افراد کے لئے خریدیں-
٢- جس طرح اپنے گھر والوں کے لئے عید کی بریانی اور شیر قورمہ وغیرہ بنایا ہے بالکل ویسا ہی اور اتنی مقدار کا، کسی غریب مسلم خاندان کے تمام افراد کے لئے بنوائیں اور وہ سارا کا سارہ اس غریب خاندان کو دے آئیں۔
٣- اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا ہے( اے ایمان والوں ، کسی بھی خبیث اور خراب چیزوں کو اللہ کے نام پر مت دو کیونکہ تم خود ویسی خراب چیزیں اپنے لئے نہیں لوگے سوائے اس کے کہ کوئی تمہیں دھوکا دے دے)-
4- اپنی ہر خوشی اور غم کو پاس پڑوس کے مسلمان اور دنیا بھر کے مسلمانوں کی خوشی اور غم کے لحاظ سے مناؤ –
5- نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے(جبرئیل علیہ السلام مجھے پڑوسیوں کے حقوق کے بارہ میں اتنی ہدایات دیتے رہے کہ مجھے لگا شاید انتقال کے بعد مرنے والے کے وراثت میں ان کا بھی حصہ ہوگا۔ اس لئے ہر مسلمان کا فرض ہے کہ وہ ہر پڑوسی کا وہ غیر مسلم بھی ہو ، تو اس کے تمام حقوق کا ہمیشہ خیال رکھیں-
شاید کہ تیرے دل میں اتر جائے میری بات
اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کو ہر نیک عمل کی توفیق عطا فرمائے-

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے