कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

کجریوال بری‘ سیاسی انتقام کا خاتمہ، عدالتی فتح، یا انتخابی چال؟

تحریر:ڈاکٹر شیخ حاجی حسین

اروند کیجریوال کی زندگی ایک ایسے شخص کی کہانی ہے جو سرکاری نوکری کی چکاچوند سے نکل کر سیاست کی دلدل میں اترا، اور پھر اسے اپنے خلاف سازشوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک زمانہ تھا جب کیجریوال انڈین ریونیو سروس (آئی آر ایس) کے افسر تھے، ان کی تعلیم آئی آئی ٹی خراگپور سے تھی، جہاں سے وہ مکینیکل انجینئرنگ کی ڈگری لے کر نکلے۔ لیکن ان کی روح میں تبدیلی کا جذبہ تھا۔ 2011 میں انا ہزارے کی بدعنوانی مخالف تحریک میں وہ مرکزی کردار ادا کرتے نظر آئے، اور اسی تحریک سے جنم لیا عام آدمی پارٹی (آپ) کا۔ کیجریوال نے اس پارٹی کو 2012 میں قائم کیا، اور یہ پارٹی عام شہریوں کی آواز بن کر ابھری، جو بدعنوانی، شفافیت اور عوامی مسائل پر مبنی تھی۔ 2013 کے دہلی اسمبلی انتخابات میں آپ نے حیران کن کارکردگی دکھائی، اور کانگریس کی حمایت سے کیجریوال دہلی کے وزیر اعلیٰ بنے، اگرچہ یہ حکومت صرف 49 دن چلی۔ پھر 2015 میں آپ نے بھاری اکثریت سے جیت کر تاریخ رقم کی، اور 2020 میں دوبارہ اقتدار میں آئی۔ اس دوران کیجریوال کی قیادت میں دہلی میں صحت، تعلیم اور پانی کی فراہمی جیسے شعبوں میں اصلاحات آئیں، جنہوں نے پارٹی کو پنجاب اور گجرات جیسے صوبوں میں بھی توسیع دی۔ لیکن یہ کامیابیاں سیاسی دشمنوں کی آنکھ میں کانٹے کی طرح چبھتی رہیں، خاص طور پر مرکزی حکومت کی طرف سے، جو بی جے پی کی تھی۔
یہ پس منظر اس لیے ضروری ہے کہ اب جو کیس سامنے آیا ہے، وہ صرف قانونی نہیں بلکہ گہرے سیاسی رنگ کا ہے۔ دہلی کی 2021-22 کی آبکاری پالیسی، جسے عام زبان میں شراب پالیسی کہا جاتا ہے، اس کی بنیاد تھی۔ اس پالیسی کا مقصد تھا شراب کی فروخت کو منظم کرنا، ریونیو بڑھانا اور سمگلنگ روکنا۔ حکومت کا دعویٰ تھا کہ یہ پالیسی شفاف تھی، لیکن مخالفین نے الزام لگایا کہ اس میں ”ساؤتھ لابی” یعنی جنوبی بھارت کے شراب تاجروں کو فائدہ پہنچانے کے لیے غبن ہوا۔ مرکزی تحقیقاتی ایجنسیاں، جیسے سی بی آئی اور انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی)، میدان میں اتریں۔ 2022 میں تحقیقات شروع ہوئیں، اور الزام لگا کہ پالیسی میں کمیشن لیے گئے، سازش کی گئی۔ منیش سسودیا، جو اس وقت نائب وزیر اعلیٰ تھے، کو پہلے گرفتار کیا گیا۔ وہ 17 ماہ سے زیادہ جیل میں رہے۔ پھر کیجریوال کی باری آئی، جو تقریباً 5 ماہ تک ٹہار جیل میں بند رہے۔ اس دوران AAP کی قیادت کو شدید دھچکا لگا، پارٹی کے کئی رہنما گرفتار ہوئے، جیسے کے کویتھا اور دیگر 21 ملزمان۔ یہ کیس سیاسی انتقام کا نشانہ بنا، کیونکہ AAP نے اسے ”مرکزی حکومت کی سازش” قرار دیا، جبکہ بی جے پی نے اسے ”بڑا گھوٹالہ” کہا۔ عدالتوں میں بھی یہ معاملہ گھومتا رہا—سپریم کورٹ نے کیجریوال کو عبوری ضمانت دی، لیکن کیس جاری رہا۔
اب، 27 فروری 2026 کو دہلی کی راؤز ایونیو کورٹ نے ایک تاریخی فیصلہ سنایا۔ جج جتیندر سنگھ نے تمام 23 ملزمان کو بری کر دیا، کہتے ہوئے کہ ”کوئی overarching conspiracy یا criminal intent ثابت نہیں ہوا”۔ عدالت نے سی بی آئی کی چارج شیٹ کو مسترد کر دیا، اور یہ بھی کہا کہ بغیر ٹھوس ثبوت کے سنگین الزامات نہیں لگائے جا سکتے۔ مزید یہ کہ عدالت نے سی بی آئی کے تحقیقاتی افسر کے خلاف محکمہ جاتی جانچ کی سفارش کی، جو اس کیس کی تحقیقات کی شفافیت پر سوال اٹھاتی ہے۔ یہ فیصلہ discharge کی شکل میں آیا، یعنی ٹرائل شروع ہونے سے پہلے ہی کیس ختم ہو گیا، کیونکہ الزامات میں دم نہیں تھا۔ کیجریوال نے فیصلے کے بعد جذباتی ہو کر کہا: ”میں کرپٹ نہیں ہوں… عدالت نے ثابت کر دیا کہ ہم ایماندار ہیں۔” ان کی بیوی سنیترا کیجریوال نے بھی کہا کہ ”سچ ہمیشہ جیتتا ہے”۔ منیش سسودیا نے سی بی آئی کو تنقید کا نشانہ بنایا، کہتے ہوئے کہ پورا کیس جھوٹ پر مبنی تھا۔ AAP کی رہنما عاتیشی نے اسے ”سچ کی فتح” قرار دیا۔
لیکن یہ ختم نہیں ہوا۔ سی بی آئی نے فوری طور پر دہلی ہائی کورٹ میں اپیل کا اعلان کر دیا، کہتے ہوئے کہ عدالت نے کچھ اہم پہلوؤں کو نظر انداز کیا۔ بی جے پی کے رہنما منوج تیواری نے کہا کہ ”یہ لوئر کورٹ کا فیصلہ ہے، ہائی کورٹ دیکھے گی”۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ کیس مرکزی ایجنسیوں کے استعمال پر سوال اٹھاتا ہے—کیا یہ سیاسی مخالفوں کو دبانے کا ہتھیار بن گئی ہیں؟ AAP کے لیے یہ ایک بڑی کامیابی ہے، جو پارٹی کو نئی توانائی دے گی، خاص طور پر آنے والے انتخابات میں۔ کیجریوال کی تاریخ دیکھیں تو وہ ہمیشہ لڑاکا رہے ہیں—انا تحریک سے لے کر اب تک۔ یہ کیس ان کی جدوجہد کا ایک باب ہے، جو بتاتا ہے کہ سیاست میں ایمانداری کی لڑائی کتنی مشکل ہوتی ہے۔
اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ یہ فیصلہ اچانک کیوں آیا؟ کیا یہ کلین چٹ دینا محض اتفاق ہے، یا اس کے پیچھے کوئی بڑی سیاسی چال ہے؟ کئی ماہرین کا خیال ہے کہ یہ فیصلہ 2026 کے اسمبلی انتخابات کے تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے، جہاں کیجریوال کو AAP کی مہم کا چہرہ بنا کر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ 2026 میں بھارت میں کئی ریاستی انتخابات ہونے والے ہیں، جن میں آسام، مغربی بنگال، تمل ناڈو، کیرالہ اور پڈوچیری شامل ہیں۔ یہ انتخابات مارچ سے مئی تک متوقع ہیں، اور یہ بی جے پی کی قومی برتری اور اپوزیشن کی جدوجہد کے لیے اہم امتحان ہوں گے۔ دہلی سے قریب ترین ریاستوں میں آسام اور مغربی بنگال کو شمار کیا جا سکتا ہے، جہاں AAP کی توسیع کی کوششیں جاری ہیں۔ AAP پہلے ہی پنجاب میں حکمرانی کر رہی ہے، اور گجرات میں اپوزیشن کا کردار ادا کر رہی ہے، لیکن 2026 کے انتخابات میں کیجریوال کی بریت AAP کو نئی جوش دے سکتی ہے۔ کچھ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ یہ فیصلہ مرکزی ایجنسیوں پر دباؤ کا نتیجہ ہو سکتا ہے، جو انتخابات سے پہلے سیاسی ماحول کو تبدیل کرنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ مثال کے طور پر، اگر کیجریوال آزادانہ طور پر مہم چلائیں تو AAP مغربی بنگال یا آسام میں اتحادیوں کے ساتھ مل کر بی جے پی کو چیلنج کر سکتی ہے۔
ماہرین کی رائے اس معاملے کو مزید دلچسپ بناتی ہے۔ قانونی ماہر انس تنویر کا کہنا ہے کہ ”بریت سے پہلے discharge ہونا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ الزامات میں کوئی دم نہیں تھا، اور یہ مقدمہ شروع کرنے کے لائق بھی نہیں تھا۔ آزادی ایک بار چھین لی جائے تو بعد میں بری ہونے سے اسے واپس نہیں لایا جا سکتا، اور وقت اس نقصان کی تلافی نہیں کر سکتا”۔ سپریم کورٹ کے سابق ججز کی رائے پر مبنی، جیسا کہ ویجے مدن لال چودھری کیس میں، یہ واضح ہے کہ اگر بنیادی جرم (predicate offence) ختم ہو جائے تو ای ڈی کا منی لانڈرنگ کیس بھی برقرار نہیں رہ سکتا۔ پنجاب کے وزیر اعلیٰ بھگونت مان نے کہا کہ ”یہ سیاسی کیس تھا جس کی کوئی بنیاد نہیں تھی، اور یہ ثابت کرتا ہے کہ AAP شروع سے ایماندار تھی”۔ دوسری طرف، بی جے پی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ صرف لوئر کورٹ کا فیصلہ ہے، اور اپیل میں یہ پلٹ سکتا ہے۔ اکنامک ٹائمز کے تجزیہ کاروں کے مطابق، عدالت نے سازش کی تھیوری کو مکمل طور پر مسترد کر دیا، کہتے ہوئے کہ یہ قیاس آرائیوں پر مبنی تھی نہ کہ ٹھوس ثبوتوں پر۔ نیوز 18 کے مطابق، کیجریوال جذباتی ہو کر رو پڑے اور کہا کہ ”سچ کی جیت ہوئی ہے”۔ لائیو لا کے مطابق، عدالت نے کیجریوال کے خلاف رشوت یا quid pro quo کا کوئی ثبوت نہ پایا، اور کہا کہ صرف پالیسی کی منظوری سے مجرمانہ نیت ثابت نہیں ہوتی۔ ہندوستان ٹائمز کا کہنا ہے کہ discharge اور acquittal میں فرق ہےdischarge کا مطلب ہے الزامات ٹرائل کے لائق بھی نہیں تھے۔
اگر ہم کجریوال اور AAP کے قائدین کو بے قصور مانتے ہیں، جیسا کہ عدالت نے ثابت کیا ہے، تو یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ دہلی کی حکومت ایماندار ہاتھوں سے نکل گئی ۔یہ دہلی والوں کا بہت بڑا خسارہ ہے، کیونکہ تاریخ دیکھے گی کہ کیجریوال کی حکومت میں دہلی نے کتنی ترقی کی اور مثبت ماحول قائم کیا تھا۔ کیجریوال کی قیادت میں AAP کی حکومت نے دہلی کو ایک نئی سمت دی، جہاں عوامی فلاحی منصوبوں پر زور تھا۔ مثال کے طور پر، تعلیم کے شعبے میں انقلاب آیا—70 سالوں میں 17,000 کلاس رومز بنے تھے، لیکن AAP کی حکومت نے صرف پانچ سالوں میں 20,000 نئی کلاس رومز تعمیر کیں۔ اس کے نتیجے میں لاکھوں بچے پرائیویٹ سکولوں سے سرکاری سکولوں میں منتقل ہوئے، جہاں اب جدید سہولیات، ایئر کنڈیشنڈ کلاس رومز اور کھیلوں کی سہولیات دستیاب ہیں۔ صحت کے میدان میں موہلہ کلینک کا ماڈل ایک مثال ہے، جہاں 400 سے زیادہ کلینک کھولے گئے، جو فری ڈائیگنوسٹک ٹیسٹ، ادویات اور طبی مشورے فراہم کرتے ہیں۔ اس سے غریب خاندانوں کو بڑے ہسپتالوں کی لائنوں سے نجات ملی۔ پانی کی فراہمی کو ہر گھر تک پہنچانا بھی ایک بڑی کامیابی تھی، جہاں پائپڈ پانی کی رسائی میں اضافہ ہوا اور سمگلنگ کم ہوئی۔ خواتین کے لیے فری بس سفر کا پروگرام نہ صرف نقل و حمل کو سستا بناتا ہے بلکہ خواتین کی آزادی اور روزگار کے مواقع بڑھاتا ہے۔ بزرگ شہریوں کے لیے فری pilgrimage اور طبی علاج کے منصوبے بھی عوام میں مقبول ہوئے۔ حتیٰ کہ کورونا کی وبا کے دوران، اگرچہ تنقید بھی ہوئی، لیکن AAP کی حکومت نے آکسیجن کی فراہمی اور ویکسینیشن میں فعال کردار ادا کیا۔ یہ سب کچھ ایک مثبت ماحول پیدا کرتا تھا، جہاں دہلی ایک جدید اور عوام دوست شہر کی طرف بڑھ رہی تھی۔ تاریخ یہ دیکھے گی کہ کیجریوال کا دور دہلی کی ترقی کا سنہرا باب تھا، جہاں ایمانداری اور عوامی خدمت کو فوقیت دی گئی۔اب یہ حکومت ہاتھوں سے نکل گئی تو ترقی کی رفتار سست پڑ سکتی ہے، عوامی منصوبے متاثر ہو سکتے ہیں۔ دہلی والے اس خسارے کو ضرور محسوس کریں گے ۔ایک سنہرا دور ختم ہو گیا، جو واپس لانا مشکل ہے۔یہ واقعہ نہ صرف کیجریوال اور AAP کی فتح ہے، بلکہ جمہوریت اور عدلیہ کی طاقت کا ثبوت بھی ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ فیصلہ 2026 کے اسمبلی انتخابات میں کیجریوال کو استعمال کرنے کی چال ہے؟کیا مرکزی ایجنسیاں اب زیادہ احتیاط کریں گی؟ کیا 2026 کے انتخابات میں AAP نئی بلندیوں کو چھوئے گی؟ ان انتخابات میں آسام، مغربی بنگال، تمل ناڈو، کیرالہ اور پڈوچیری شامل ہیں، جو مارچ سے مئی تک متوقع ہیں۔ عام آدمی پارٹی کو نئی توانائی مل سکتی ہے، خاص طور پر پنجاب میں اس کی حکومت مضبوط ہے۔ کیا ہائی کورٹ یہ فیصلہ پلٹ دے گا؟ وقت بتائے گا، مگر آج سچ کی جیت ہوئی ہے۔ دہلی والوں کے لیے یہ سبق ہے کہ ایماندار حکمرانی کتنی قیمتی ہوتی ہے، اور اسے کھونے کا درد کتنا گہرا ہوتا ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے