कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

کثیر منزلہ عمارت چند سیکنڈوں میں راکھ کا ڈھیر ، یہ "اسپائس بم” کیا ہے ؟

بیروت:24؍اکتوبر:منگل کے روز بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے الضاحیہ بالخصوص الطیونہ الغبیری کے علاقے میں سامنے آنے والا منظر کسی ہالی وڈ کی فلم کے سین جیسا تھا۔ایک عمارت پر اسرائیلی حملے کے نتیجے میں محض پانچ سیکنڈ میں پوری عمارت زمین بوس ہو گئی جب کہ اس کے نزدیک واقع دیگر عمارتیں اپنی حالت پر رہیں۔ اس دوران دھول، دھوئیں اور راکھ کا گہرا بادل اٹھتا دکھائی دیا۔ ایسا معلوم ہو رہا تھا جیسے مذکورہ عمارت کاغذ کی بنی ہوئی تھی۔ اس منظر کی تصدیق بہت سے لبنانیوں کے موبائل فون میں بنی وڈیوز نے کی۔
اسرائیل نے کس نوعیت کے بموں کا استعمال کیا ؟
ایسا لگتا ہے کہ اس عمارت پر برسایا جانے والا بم "Spice 2000” تھا۔ اسرائیل عموما حماس اور حزب اللہ کے خلاف اسی بم پر اعتماد کرتا ہے۔ یہ بات دو ماہرین نے بتائی۔ماہرین کے مطابق "اسپائس” کے آلات اسرائیلی فوجی صنعت کی کمپنی رفائیل تیار کرتی ہے۔ ان آلات کو 2003 سے خدمت میں شامل کیا گیا۔ان آلات میں 125 کلو گرام وزنی (اسپائس 250)، 450 لو گرام وزنی (اسپائس 1000) اور 900 لو گرام وزنی (اسپائس 2000) شامل ہے۔ رفائیل کمپنی کے مطابق یہ بم اپنے ہدف سے تین میٹر سے بھی کم فاصلے پر گرتے ہیں۔طیارے کا ہواباز ایک محفوظ فاصلے سے جو ماڈل کے مطابق 125 کلو میٹر تک ہو سکتا ہے، میزائل چھوڑتا ہے اور اس کے ساتھ لگے چھوٹے پروں کی بدولت یہ تیرتے بموں میں تبدیل ہو جاتا ہے۔اسی طرح اسپائس بم کو سیٹلائٹ کے ذریعے بھی ہدایات دی جاتی ہیں اور یہ خود کار نیوی گیشن نظام سے لیس ہوتا ہے۔یہ بم ‘الیکٹرو آپٹیکل ہدف’ تلاش کرنے کے نظام سے بھی لیس ہے، جو اس کے سامنے والے سرے پر نصب ایک قسم کا کیمرا ہے۔ ہدف کے قریب آنے پر یہ نظام ہدف کی تصویر کا اپنے پروگرام میں موجود تصویر سے موازنہ کرتا ہے۔ اس کے بعد یہ ہدف کا رخ کرتا ہے۔اس بم کو جتنی اونچائی سے چھوڑا جائے گا یہ اتنا ہی زیادہ مثر ہو گا۔ یہ بات فرنچ انسٹی ٹیوٹ فار انٹرنیشنل ریلیشنز کے معاون محقق جان کرسٹوف نویل نے بتائی۔ادھر ڈیفنس اینڈ سیکورٹی انفارمیشن کی ایک کمپنی "JANES” میں ہتھیاروں کے ایک ماہر گریمی بینی نے بتایا کہ اسرائیلی حملے کے دوران میں لی گئی تصاویر "اسپائس 2000 ” کی ہیں۔ بینی کے مطابق یہ کیمرہ ہی ہے جو اسے امریکی JDAM گائیڈنس کٹ سے ممتاز بناتا ہے، جو سیٹلائٹ سگنل اور اس کے نیوی گیشن سسٹم کا استعمال کرتی ہے۔یاد رہے کہ اسپائس گائیڈنس آلات بھارت، کولمبیا اور جنوبی کوریا برآمد کیے گئے۔ یہ بات انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار اسٹریٹجک اسٹڈیز سے جاری ایک رپورٹ میں بتائی گئی۔اسی طرح امریکا میں اس کی تیاری 2019 سے شروع کی گئی۔ یہ پیش رفت امریکی کمپنی لوک ہیڈ مارٹن اور اسرائیلی کمپنی رفائیل کے درمیان معاہدے کے بعد سامنے آئی۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے