कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

کامیابی ہم سے دور کیوں ؟

تحریر : مولانا میر ذاکر علی محمدی ، پربھنی 9881836729
بذریعہ ضلع نامہ نگار اعتبار نیوز محمد سرور شریف

سب سے پہلے ہمیں یہ معلوم ہونا چاہیے کہ خالق کائنات نے انسانوں سے یہ فرمایا ہے کہ جس کا مفہوم ہے ، بے شک ہم نے دنیا کو آپ ہی کے لیے پیدا کیا اور آپ کو آخرت کے لیے پیدا کیا گیا ہے ۔ اللہ نے مومنوں کے دلوں کو آخرت کے بدلہ خرید لیا ہے۔ اور ان کے لیے دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی رکھی ہے۔ قد افلح من تزکی ۔ قد افلح المومنون۔ لا تموتن الا و انتم مسلمون۔ اسلام اور کلام الہی میں مسلمانوں کی کامیابی کے لیے دستور کا ذخیرہ اور فلاح کا روشن باب موجود ہے۔ بلکہ ساری دنیا کے ہدایت کا سامان بھی ہے۔ لیکن ہم اولا امت مسلمہ جو ساری دنیا کے لیے رہنما اور خیر امت بناکر اللہ نے اس دنیا میں بھیجا ہے۔ اور یہی نہیں رب کریم نے خصوصا امت مسلمہ کو ہی اس کر ارض پر سلطنت بادشاہت اور خلیفہ بنایا ہے۔ یہی وہ قوم ہے جس میں ہزاروں انبیاء کرام مبعوث ہوے ہیں۔ یہی وہ قوم ہے جس کے بارے میں رب العزت نے فرمایا۔ انتم الاعلون ان کنتم مومنین۔ دنیا میں فتح اور جیت آپ کے ہی مقدر میں ہوگی، بشرطیکہ آپ مومنانہ اوصاف کے حامل اور مومنانہ اخلاق کے پاسدار ہو۔ تب ہی ہم سرخروئ اور کامیابی کی منازل طے کر سکتے ہیں۔ اب اگر ہم جائزہ لیں کہ ہم دنیا میں جس طرح کامیاب ہونا ہے،اسطرح کامیاب کیوں نہیں ہیں؟ جیسا کہ ہونا چاہیے تھا۔ ہم ایک اللہ اور اس کی ربوبیت کو مانتے ہیں۔ لیکن ہم کبھی ( unity) متحد نہیں ہوتے۔ ہم نبی اکرم صلی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی مانتے ہیں۔ لیکن ان کی لائ ہوئ شریعت پر عمل پیرا نہیں ہوتے۔ اللہ نے فرمایا ۔قد افلح من تزکی۔ دنیا و آخرت میں کامیابی اور کامرانی اسی کے لیے ہے، جو دل میں بسی کدورت کی صفائ کرتا ہے۔ دل میں دوسروں کے تئیں بسی عدوات ،بغض حسد کو دل میں جگہ نہیں دیتا، ۔جس کی صفائ ضروری ہے۔ جس طرح ہم بارش سے بچنے کے لیے کھلے میدان سے گھر کی طرف لپکتے ہیں۔ اور جس طرح زلزلہ سے بچنےکے لیے ،گھر سے کھلے میدان میں آتے ہیں۔ اسی طرح ہم گناہ سے بچنے کے لیے قلب کی طرف اور رجوع الی اللہ ہوں۔ اور مصائب و آلام درپیش ہوں تو تو صرف اللہ کی ہی مدد کے طالب ہوں۔ جس خدا نے یہ کائنات بنایا ہے۔ اس نے کامیانی اور کامرانی کا دستور بھی عطا کیا ہے۔ ایسا منفرد دستور جو کسی مذہب میں ممکن نہیں ہے۔ جب بادشاہت ہمارے لیے ہے۔ جب زمین پر خلیفہ مومن ہے۔ اور جب ( Empire) سلطنت ہمارے مقدر میں ہے۔ تو پھر ہم پیچھے اور کامیابی ہم سے دور کیوں ہورہی ہے ؟ کیوں اپنی ملی اور مذہبی ( Religious indentification) تشخص کے تحفظ میں دشواریاں ہورہی ہیں؟ اللہ نے جو کامیابی کی ( conditions) شرط رکھی ہے ،وہ اٹل ہے۔ اور فرمایا کہ اگر آپ اس کام سے رو گردانی کروگے تو میں دوسری قوم کو مسلط کرونگا۔ اور وہ کام انجام دیگی۔ ہماری قوم کا بیشتر حصہ قرآن اور اسلامی تعلیمات سے نا آشنا ہے۔ اور یہی نہیں عصری تعلیم سے بھی۔ جبکہ تعلیم و تعلم ہمارا ( Identification) طرہ امتیاز ہے۔ جبکہ مذہب اسلام نے سب سے پہلے تعلیم پر توجہ مرکوز کی ہے۔ جو ہمارے لیے ( Fundamental need) بنیادی ضرورت ہے، جو ( Back bone) ریڑھ کی ہڈی کے مانند ہے۔ اور کامیابی کا سبب۔ اور جہاں تک ( Modern knowledge) عصری تعلیم کی بات ہے۔ وہاں بھی ہمارا تعلیمی فیصد کمزور ہے۔ مادر وطن میں ہماری آبادی کا تناسب کم و بیش 25 سے 30فیصد ہے۔ اور ہماری قوم و ملت کا ( Educational ratios) تعلیمی تناسب صرف 4 یا 5 فیصد ہے۔ وہیں اگر ہم جائزہ لیں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ برہمن قوم کی آبادی کا ( Ratio) تناسب 4یا 5 فیصد ہے۔ لیکن ان کا تعلیمی فیصد 86 ہے۔ جو تعلیمی میدان میں ایک بڑا انقلاب ہے۔ اور وہیں ہمارے لیے افسوس کا مقام ہے۔ ہم نے وقت کا درست استعمال نہیں۔ 86 فیصد (Educational revolution) تعلیمی انقلاب رونما کرنے والی قوم نے وقت کا صحیح استعمال کیا ہے۔ اردو کے مشہور و معروف شاعر جاوید احمد خان نے بڑی ہی خوبصورتی سے ہماری سوچ اور فکر کی عکاسی کی ہے سوچ اور فکر سے مجبور ہیں معذور ہیں ہم۔ عقل و دانش سے بہت دور بہت دور ہیں ہم۔ گرچہ موقع ہی خوشی کا نہیں ہے کوئ مگر۔ اپنے بگڑے ہوے حالات پہ مسرور ہیں ہم۔ کیسے چھینی ہے فراست یہ بھی اب یاد نہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ( success ) کامیابی بھی ہم سے روٹھی ہوئ ہے۔ اور ہم سے دور ہے۔ کیونکہ اگر کوئ گہری نیند میں ہے ،تو ہم اس کو بآسانی جگا سکتے ہیں ،بیدار کر سکتے ہیں۔ لیکن جو سونے کا ناٹک کررہا ہے۔ اس کو جگانہ ممکن نہیں ۔ پھر کامیابی کیسے ممکن ہوسکتی ہے۔ بقول ہندوستان کی مشہور شخصیت حضرت مولانا وحید الدین خان نوراللہ مرقدی، جو کئ کتب کے ( Authors) مصنف ہیں۔ نے اپنے علم و عمل کی ضیاء پاشی سے لوگوں کو بیدار کیا۔ رقم طراز ہیں ،لوگوں میں نماز کا ظاہری ڈھانچہ تو موجود ہوگا، لیکن نمازیوں کے اندر خشوع کی کیفیت موجود نہیں ہوگی، جو کہ نماز کی اصل روح اور حقیقت ہے۔ اسی طرح بظاہر دین کے نام پر بہت سی سرگرمیاں جاری ہوں گی، اور کئ تنظیمیں بھی ہوں گی ، لیکن یہ سرگرمیاں، ( National cultural) قومی کلچرل کی ( Activities) سرگرمیاں ہوں گی، جس کا کوئ خاطرخواہ رزلٹ نہ ہوگا۔ جو قوم و ملت کی ترقی اور بہبود کے لیے درکار ہے۔ اور نہ ہی حقیقی معنوں میں دین خداوندی کی سرگرمیاں۔ یہی وجہ ہے کہ امت کمزور اور بے روح ہوکر رہ گئ ہے۔ چنانچہ سماج اور معاشرہ میں موثر انصاف اور شفافیت پرمبنی ایک اثرانداز نظام کا قیام ہو۔ جو قومی ملی مفادات کے حق میں ہو۔ وہیں انصاف اور مساوات کو فروغ دینے کے لیے کاوشیں ہوں۔ سماج اور معاشرہ روحانی ترقی اور ورثے کی قدر کرنا ، اور اس کے تحفظ کے لیے حتی الامکان کوشش کرنا ،جس سے خاطر خواہ نتائج بر آمد ہو,جو قوم و ملت کے لیے سود مند ثابت ہو۔ وہیں پائیدار سیا ست اور اصولوں پر مبنی سیاسی نظام کی بنیادیں قائم کرنا۔ اور سب سے اہم یہ کہ ہم اپنے دلوں کو پاک صاف اور بہتر نیتوں کے ساتھ کام کریں ، تو جیت اور فتح ہماری ہے۔

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے