कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

کاش ایک دیا جلے محبت کے نام کا!!

تحریر: جاوید بھارتی

ہر سال دیوالی کا تہوار آتا ہے منایا جاتا اور گذر جاتا ہے سجاوٹ بھی ہوتی ہے مختلف قسم کے پروگرام ہوتے ہیں اور سب سے خاص بات یہ کہ چراغ جلایا جاتا ہے دیا روشن کیا کیا جاتا ہے کیوں: اس لئے کہ اندھیرا ختم ہو اور اجالے کا بول بالا ہو ،، دیا روشن کرکے یہ اعلان کیا جاتا ہے کہ ہر کالی رات کو صبح کی سفیدی کا سامنا کرنا ، چڑھتے ہوئے سورج کو ڈھلنا بھی ہے ۔
اندھیرا سے مراد صرف وہ اندھیرا نہیں ہے کہ کچھ دکھائی نہ دے اور راستہ چلنا مشکل ہوجائے یاد رکھیں کسی تعلیم گاہ کی بنیاد رکھی جاتی ہے تو کہا جاتا ہے کہ یہاں علم کا چراغ روشن ہوگا مطلب صاف ہے کہ جس کے اندر حرام و حلال کی تمیز آگئی تو اسے روشنی مل گئی ، کمزوروں اور بے سہارا لوگوں کو سہارا دینا روشنی ہے ، حق بولنا حق سننا ، حق سنانا اور حق پر عمل کرنا روشنی ہے ، امانت کی راہ پر لگنے والا مشورہ دینا روشنی ہے اور انصاف کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑنا روشنی ہے یعنی ہر اچھی چیز اچھا کام اور اچھی بات روشنی ہے معلوم ہوا کہ ،، خیر ،، روشنی ہے اور ،، شر،، اندھیرا ہے صلح روشنی ہے اور فتنہ اندھیرا ہے ، محبت روشنی ہے اور نفرت اندھیرا ہے ، بھائی چارگی روشنی ہے اور دشمنی اندھیرا ہے ، ملک کی تعمیر وترقی روشنی ہے اور فرقہ پرستی اندھیرا ہے ۔
روشنی میں امن و امان قائم ہوتا ہے اور جب امن و امان قائم ہوتا ہے تو خوشحالی آتی ہے ۔
اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہم نے دئیے میں تیل ڈالا بتی لگائی اور جلایا اسی کو کہا جاتا ہے کہ دیا روشن کیا ،، اب یہاں قابل غور بات یہ ہے کہ کیا ہم نے گنگا جمنی تہذیب کے فروغ کے نام دیا جلایا، فرقہ پرستی کے خاتمے کے نام کا دیا جلایا، حق و انصاف کے لئے دیا جلایا، انسانوں کی فلاح و بہبود کے لیے دیا جلایا یہ تمام سوالات،، جواب چاہ رہے ہیں ۔
ایک دیا فروخت کرنے والا کندھے پر جھولی اور تھیلے ٹانگ کر صدا لگاتا ہے کہ سستے داموں میں دئیے لے لو صدا لگاتے لگاتے امیروں کی بستی میں پہنچ جاتا ہے ایک عالیشان بنگلے کا دروازہ کھلتا ہے ایک صاحب باہر نکلتے ہیں اتنے میں دیا فروخت کرنے والے نے نے صدا لگادی اور صاحب بنگلہ نے دیا خریدنا چاہا کہ اتنے میں مکان مالکن بھی آجاتی ہے اور کہتی ہے کہ ہم بڑے اسٹینڈر لوگ ہیں ہمارے پاس بنگلہ ہے کار ہے ایر کنڈشن روم ہمارے پاس دولت کی کمی نہیں پھر ہم تمہارے جیسے غریبوں سے دیا خرید کر اپنی بے عزتی نہیں کرا سکتے تم سے دیا خریدنا ہماری توہین ہے تم شکل سے چور بھی لگتے ہو جاؤ یہاں سے ہم بڑی بڑی دکانوں سے دئیے خرید لیں گے ،، صاحب بھی بیوی کو خوش کرنے کی غرض سے کہا کہ فوراً ہماری نظروں سے دور ہوجاؤ ورنہ پولیس کے حوالے کردیں گے ،، اسی اکڑ، گھمنڈ اور تکبر کو اندھیرا کہا جاتا ہے ۔
اب آئیے روشنی کی طرف دیا بیچنے والا مایوس ہو کر دھیرے دھیرے واپس ہوا بازار میں پہنچ کر دکان لگانی چاہی تو لوگوں نے دکان نہیں لگانے دیا ایک بڑا صحن دیکھ کر اس میں اپنا جھولا تھیلا رکھا اور دیا پھیلایا تھوڑی ہی دیر میں ایک شخص اتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ ہمارا صحن ہے جتنی جلدی ہو سکے یہاں سے اپنی دکان ہٹا لو وہ بیچارہ وہاں سے بھی اپنا تھیلا اپنے کاندھے میں لٹکائے ہوئے اور انکھوں سے انسو بہاتے ہوئے چل دیتا ہے اتنے میں سورج بھی غروب ہو گیا اور اندھیرا ہونے لگا سامنے سے ایک کار اتی ہوئی دکھائی دیا فروخت کرنے والے کے نزدیک ا کر رکی کھڑکی سے شیشہ ہٹا کار مالک نے اس دیے والے کو دیکھا تو اسے ٹھہرنے کو کہا اور اس سے پوچھتا ہے کہ تمہارے پاس مخصوص قسم کا دیا ہے کہ نہیں تو اس نے جواب دیا میرے پاس ہے اس نے قیمت پوچھی اب پھر پوچھتا ہے کہ کیا تمہارا دیا ابھی تک بکا نہیں تو اس نے جواب دیا کہ نہیں صاحب کار مالک نے کہا تو پھر ان دیوں کا کیا کرو گے تو اس نے جواب دیا کہ صاحب اب اگلے سال بیچیں گے اس سال کوئی دکان لگانے کے لیے جگہ نہیں دے رہا ہے اتنا سننے کے بعد کہتا ہےکہ کل صبح میرے مکان کے پاس ا جانا اور گھر ا کر اس نے اپنی بیوی سے کہا کہ ہم نے اسے ڈانٹ ڈپٹ پٹ کر واپس کر دیا لیکن وہ چور نہیں ہے وہ ایک غریب ادمی ہے پتہ نہیں اس کے گھر کے چولہے میں اگ جلے گی یا نہیں تو اس کی بیوی نے بھی کہا کہ ہمیں اس کی مدد کرنی چاہیے غرضیکہ اس نے اپنے تمام پڑوسیوں سے کہا کہ کل ایک دیا فروخت کرنے والا ائے گا سبھی لوگ اسی سے دیا خریدیں تاکہ اس غریب کی مدد ہو جائے چنانچہ دوسرے دن صبح کو کو دیا فروخت کرنے کے لیے اسی بستی میں پہنچتا ہے جس بستی سے وہ واپس ایا تھا لیکن اج اسی بنگلے سے صاحب نکلتے ہیں اور اس کے بعد اپنے بنگلے میں واپس جاتے ہیں کہ چاروں طرف سے لوگ دیا خریدنے کے لیے اتے ہیں اور اس کا سارا دیا فروخت ہو جاتا ہے اس طریقے سے اس دیا بیچنے والے کی مدد بھی ہو گئی اور لوگوں کی ضرورت بھی پوری ہو گئی اسی کو روشنی کہا جاتا ہے یعنی غریبوں کی مدد کرنا روشنی ہے اور غریبوں کو جھڑکنا انہیں جھٹکارنا اور ان سے نفرت کرنا یہ اندھیرا ہے۔
مضمون لکھنے کا اصل مقصد یہ ہے کہ کاش اس دئیے کی روشنی میں ہر ہندوستانی کے دل میں ہر ہندوستانی کی محبت ہو جائے ہمدردی ہو ہوجائے اور ایسا جذبہ پیدا ہوجائے کہ سماجواد کا نعرہ صرف دیواروں پر لکھا ہوا نظر نہ آئے ، صرف بینرروں پر چھپا ہوا نظر نہ آئے ، صرف اسٹیجوں سے چیختا چلاتا ہوا نظر نہ آئے بلکہ ہر میدان ہر شعبے میں ہندو مسلم سکھ عیسائی آپس میں بھائی بھائی نظر آئیں اس کے لئے ضروری ہے کہ صرف گھروں کی صفائی نہیں بلکہ دلوں کی صفائی کی جائے اور صرف گلی کوچوں کو روشن نہ کیا جائے بلکہ دلوں کو بھی روشن کیا جائے تاکہ کسی کے ساتھ کسی قسم کا بھید بھاؤ نہ ہو سکے ، کسی کا حق نہ مارا جاسکے اور سب ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک ہو سکیں ۔
javedbharti508@gmail.com
++++++++++++++++++++++++++
جاوید اختر (بھارتی سابق سکریٹری یوپی بنکر یونین) محمدآباد گوہنہ ضلع مئو یو پی

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے