कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

ڈاکٹر ضیا الحسن:بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی

از قلم محمود علی لیکچرر

ڈاکٹر ضیا الحسن بی اے ایم ایس کرکے پیشہ طب سے وابستہ رہے اور کچھ عرصہ کے بعد انھوں نے عدم دلچسپی کی وجہ سے ڈاکٹری کے پیشے کو ترک کردیا ، ان کی دلچسپی اردو زبان سے تھی ،وہ بچپن سے ان کو مضامین لکھنے کا شوق تھا ، ہندوستان کے کئی ادبی رسالوں اور اخبارات میں مضامین لکھے، سائنس کی دنیا ،امنگ ،بچوں کے ادبی میگزین ، دعوت ،انقلاب میں ان کے مضامین چھپتے رہے ۔ انہوں نے اردو میں ماسٹر کرکے NET کا امتحان پاس کیا ، ناندیڑ کے پرتیبھانیکیتن کالج میں پندرہ سال تدریس کے فرائض انجام دئیے۔
انکی تحریروں میں انسانی احساسات، تجربات اور خیالات کا فنکارانہ اظہار اور اپنے فکر جذبات اور تجربات کو اس طرح ڈھالتے کہ وہ ایک فن پارہ بن جاتی ،زندگی سے گہرا تعلق رکھتی اور وہ زبان کے ذریعے زندگی کے مختلف پہلوؤں خوشی، غم مزاح کا احاطہ کرتی ۔ وہ ایک اچھے مزاح نگار بھی تھے مزاح نگاری (Humour Writing)ادب کی وہ صنف ہے جس کا مقصد لوگوں کو ہنسانا خوش کرنا اور زندگی کے تلخ اور نئے حقائق کو انتہائی نرمی اور سنجیدگی سے مزاح پیدا کرنا جس میں فرد اور معاشرے کی خامیوں پر لطف اندوز ہو کر نشاندہی کی جاتی ہے، تاکہ اصلاح کا پہلو بھی نکل سکے، اور یہ صرف قہقہہ لگانے کے بجائے سوچنے اور سمجھنے پر بھی مجبور کرے ، ان کے مزاحیہ خاکوں میں سماجی پس منظر میں مزاح اور رحم اور محبت کا جذبہ ہوتا ہے۔میرے مرحوم دوست ڈاکٹر ضیا حسن روحانیت کے قائل تھے۔ مادیت پرستی ،نفسانی خواہشات ،غرور، حسد،دنیاوی آسائشوں اور خواہشات سے ان کا دور تک واسطہ نا تھا ، میں ان کو زندہ ولی کہتا تھا تو وہ اکثر مسکرا دیا کرتے ، ان کا تعلق ایک مذہبی اور دینی گھرانے سے ہونے کے ساتھ وہ وہ متولی سجادہ نشین درگاہ یتیم شاہ ولی ؒبھی تھے ۔
یہ وہ ناندیڑ کی پہلی شخصیت تھی جنہوں نے مراٹھی ادب کو اردو کےقالب میں ڈھا لنے کی کوشیش کی ، روزنامہ دعوت میں ان کے مضامین اکثر چھپتے رہتے ہیں۔
پرندے جھیل پر اک ربط روحانی میں آئے ہیں
کسی بچھڑے ہوئے موسم کی حیرانی میں آئے ہیں

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے