कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

چند سوالات اور جوابات

از قلم: ظفر ھاشمی ندوی
بذریعہ ضلع نامہ نگار اعتبار نیوز محمد سرور شریف پربھنی

میں نے اپنے تصور میں صدیوں کے مسلمانوں کو جمع کیا اور زندہ مسلمانوں سے چند سوالات پوچھے – ان سوالات اور ان کے جوابات پیش خدمت ہیں:
س: اس سال کا رمضان کیسے گذر رہا ہے؟
جواب: جس طرح پچھلا ہر رمضان گذرا-
س: کیا ہر گذرا ہوا رمضان آپ لوگوں کی اصلاح کا سبب بنا –
جواب: سچی بات یہ ہےکہ ہم رمضان میں کسی قدر سدھر جاتے ہیں-اور اس کے بعد پھر بگڑ جاتے ہیں-
س: اس کی وجہ کیا ہے؟
ج: وجہ صرف یہ ہے کہ ہم ھر رمضان میں غیر رمضان سے کہیں زیادہ کھانے پینے وغیرہ کا اہتمام کرتے ہیں- ہمارے معاشرہ میں سحری کی ایک سے بڑھ کر ایک ڈش بنتی ہے اور افطاری کی ڈشوں کاتو شمار ہی نہیں ہے- اب جو رمضان ان عادتوں کو توڑنے کے لیئے آتا ہے وہ ایک طرف رہ جاتا ہے اور ہماری زندگی کے طور طریقے دوسری طرف- پھر اصلاح کہاں سے ہو؟
س: اچھا یہ بتائیے کہ رمضان میں مسلمان کیا کیا عبادت کرتے ہیں-
ج: نماز پڑھتے ہیں روزہ رکھتے ہیں زکوۂ دیتے ہیں عمرہ کرتے ہیں اور قرآن پڑھتے ہیں-
س: دیکھیے نماز تو ہر مسلمان کو رمضان و غیر رمضان دونوں میں پڑھنی ہے روزہ ایک ماہ کا صرف رمضان میں فرض ہے – زکوۂ ہر سال لازمی دینی ہے اور عمرہ صرف رمضان کے ساتھ خاص نہیں ہے- قرآن بھی اسی طرح روز پڑھنا چاہیئے- تو پھر رمضان کے نام سے جیسے نئی نئی مزیدار کھانے کی ڈشیں بن سکتی ہیں اسی طرح عبادت بھی نئی نئی کرنا چاہیئے-
س: بات تو بالکل صحیح ہے مگر جب ہماری اکثریت تراویح کی نماز کو بوجھ سمجھتی ہے تو دوسری عبادت کیسے کرے گی- ویسے دوسری عبادتیں کیا ہیں؟
ج: مثلاًسحری کے وقت تہجد پڑھی جائے – سورج نکلنے کے بعد اشراق کی نماز جسے چاشت کی نماز بھی کہتے ہیں- پانچوں نمازورں کو اس سے متعلق ہر سنت اور نفل نماز پڑھی جائے- تراویح کی تمام رکعتوں کو دل و دھیان سے ادا کی جائے- اس کے علاوہ گناہوں کی معافی کے لئے روزانہ دو رکعت نماز توبہ پڑھی جائے- اس کے علاوہ سوتے جاگتے اور چلتے پھرتے اللہ کا ذکر کیا جائے- رمضان بھر ٹی وی نہ دیکھا جائے – واٹس اپ پر صرف دینی پروگرام پڑھا جائے اور دیکھا جائے- بندوں سے متعلق جو غلطیاں ہوئی ہیں سوچ سوچ کر ان سے معافی مانگی جائے- جھوٹ گالی گلوچ اور دھوکا دینے سے پرہیز کیا جائے- اگر ایسا مہینہ بھر کیا جائے گا تو امید ہے کہ مہینہ بھر کی یہ ٹریننگ سال بھر کام دے گی اور مسلم معاشرہ دھیرے دھیرے سدھر جائے گا-
س: اچھا یہ بتائیے کہ عرب و عجم کے سارے مسلمان رمضان یا غیر رمضان میں قرآن کس طرح پڑھتے ہیں؟
ج: ہر شخص کوشش کرتا ہے کہ کم از کم ایک قرآن پورا پڑھ لے- ہمت والے دو تین یا اس سے بھی زیادہ مرتبہ قرآن ختم کرتے ہیں-
س: کیا ایک مسلمان زندگی بھر قرآن کے صرف الفاظ پڑھتا رہتا ہے یا سمجھنے کی کوشش بھی کرتا ہے؟
جواب: چونکہ قرآن عربی زبان میں ہے اور عام طور پر عجم کے مسلمانوں کو عربی نہیں آتی ہے اس لئیے وہ قرآن کو بغیر سمجھے ہی زندگی بھر پڑھتے رہتے ہیں-
س: کیا قرآن کا ترجمہ ہر زبان میں نہیں ہوا ہے؟
ج: جی ہوا تو ہے مگر مگر مگر
( اس لفظ کے بعد تقریبا ہر مسلمان کی زبان بند ہو گئی)-
س: کیا اللہ تعالیٰ نے بغیر سمجھے قرآن پڑھنے کا حکم دیا ہے؟
ج: جی نہیں مگر (پھر وہی لا جوابی کی کیفیت)-
س: اب موجودہ رمضان کیسے گزر رہا ہے؟
ج: وہی رفتار بے ڈھنگی جو پہلے تھی سو اب بھی ہے-
اچانک مختلف ملکوں کے کچھ مسلمانوں کی آوازیں سنائی دینے لگیں- جی نہیں جناب ہم لوگوں نے ہر رمضان میں اپنے آپ کو سدھارنے اور رمضان سے صحیح فائدہ اٹھانے کی بھر پور کوشش کی ہے- ہم نے ہر طرح کی عبادت کی ہے بلکہ صلوۃ تسبیح بھی پڑھی ہے- پچھلے رمضانوں کی برکت سے ہم نے جھوٹ گالی گلوچ جھگڑا دھوکا دینا وغیرہ سب چھوڑ دیا ہے- اور ہم مزید کوشش کر رہے ہیں کے وہ تقویٰ حاصل ہو جائے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن میں روزہ کے ساتھ کیا ہے-
ان مسلمانوں کا اتنا کہنا تھا کہ آسمان سے فرشوں کی آوازیں سنائی دینے لگیں:
مبارک ہو مبارک ہو باب ریان قیامت میں تم جیسے مسلمانوں کو ملےگا- مغفرت تمہاری ہی ہوگی نہ کہ ان جیسے ڈھونگی مسلمانوں کی-
اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی-

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے