कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

پہلے عشرے کے بعد محاسبہ اور حقیقی اصلاحِ نفس کی دعوت

تحریر:ڈاکٹر سید اقبال ہاشمی
صدر آل انڈیا محمدی مشن
رابطہ:9696387766

بلاشبہ ماہِ رمضان تزکیہ نفس، باطنی اصلاح اور روحانی ارتقا کے لیے اللہ تعالیٰ کا ایک عظیم الشان تحفہ ہے۔ یہ وہ مبارک مہینہ ہے جس میں بندہ اپنے رب کے قریب ہونے، اپنی کوتاہیوں کو پہچاننے اور اپنی شخصیت کو سنوارنے کا نادر موقع پاتا ہے۔ قرانِ حکیم میں ارشاد ہے کہ اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے تاکہ تم میں تقویٰ پیدا ہو۔ اس ارشادِ ربانی سے واضح ہوتا ہے کہ روزے کا اصل مقصد محض بھوک اور پیاس برداشت کرنا نہیں بلکہ تقویٰ، یعنی اللہ کا خوف اور اس کی رضا کا شعور پیدا کرنا ہے۔ یہی تقویٰ دراصل تزکیہ نفس کی بنیاد ہے۔
رمضان المبارک انسان کی عملی تربیت کا مہینہ ہے۔ یہ مہینہ نفسِ امّارہ پر قابو پانے کی مشق کراتا ہے۔ نفس انسان کو خواہشات، لذتوں اور وقتی فائدوں کی طرف مائل کرتا ہے۔ عام حالات میں انسان بہت سی خواہشات کا اسیر رہتا ہے، لیکن رمضان میں وہ حلال چیزیں بھی ایک مقررہ وقت تک اپنے اوپر حرام کر لیتا ہے۔ جب انسان اللہ کے حکم پر حلال کھانے پینے سے بھی رک جاتا ہے تو وہ اپنے اندر یہ قوت پیدا کرتا ہے کہ حرام اور ناجائز امور سے بھی بچ سکے۔ یہی ضبطِ نفس اور عملی مجاہدہ دراصل تزکیہ نفس کی بنیاد ہے۔
روزہ انسان کے اندر صبر، برداشت اور تحمل کی صفات پیدا کرتا ہے۔ بھوک اور پیاس کی شدت کے باوجود بندہ شکایت نہیں کرتا بلکہ رضا و تسلیم کے ساتھ وقت گزارتا ہے۔ یہ کیفیت انسان کو احساس دلاتی ہے کہ زندگی کی مشکلات بھی عارضی ہیں اور اللہ کی رضا سب سے بڑی نعمت ہے۔ صبر کی یہی تربیت بعد میں زندگی کے دیگر معاملات میں بھی انسان کے کام آتی ہے۔ وہ غصے پر قابو پانا سیکھتا ہے، جذبات میں بہنے کے بجائے سوچ سمجھ کر فیصلہ کرتا ہے اور دوسروں کے ساتھ نرمی کا برتاؤ اختیار کرتا ہے۔
یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ روزہ صرف معدے کا روزہ نہیں ہے بلکہ یہ آنکھ، کان، زبان اور دل کا بھی روزہ ہے۔ زبان کو جھوٹ، غیبت، چغلی اور بدکلامی سے بچانا روزے کی روح ہے۔ آنکھ کو گناہ سے، دل کو حسد، بغض اور ریاکاری سے محفوظ رکھنا ہی اصل روزہ ہے۔ اگر کوئی شخص بھوکا پیاسا رہنے کے باوجود جھوٹ بولتا رہے، دوسروں کی برائیاں کرتا رہے یا دل میں کینہ پالے رکھے تو اس نے روزے کی اصل روح کو نہیں پایا۔ رمضان ہمیں یہ شعور دیتا ہے کہ اخلاقی پاکیزگی ہی اصل کامیابی ہے۔
رمضان المبارک قران سے تعلق مضبوط کرنے کا مہینہ بھی ہے۔ اس مہینے میں قران کی تلاوت، اس کے معانی میں تدبر اور اس کی تعلیمات پر غور و فکر دل کی سختی کو ختم کرتا ہے۔ جب انسان روزانہ قران پڑھتا اور سمجھنے کی کوشش کرتا ہے تو اس کا دل نرم ہوتا ہے، اس کی سوچ میں سنجیدگی آتی ہے اور اس کے کردار میں سنوار پیدا ہوتا ہے۔ یہی عمل تزکیہ نفس کا اہم ذریعہ بنتا ہے۔ قیام اللیل، تراویح، تہجد اور دعا و استغفار کی کثرت بندے کے دل کو اللہ سے جوڑ دیتی ہے۔ حدیثِ نبوی کا مفہوم ہے کہ جو شخص ایمان اور احتساب کے ساتھ روزہ رکھے اس کے سابقہ گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔ اس بشارت سے بڑھ کر تزکیہ نفس کی کیا دلیل ہو سکتی ہے؟
رمضان سخاوت اور ایثار کا بھی مہینہ ہے۔ اس مہینے میں زکوٰ اور صدقات کی ادائیگی بڑھ جاتی ہے، محتاجوں اور ضرورت مندوں کا خیال رکھا جاتا ہے۔ جب انسان اپنا مال دوسروں پر خرچ کرتا ہے تو اس کے دل سے بخل اور حرص کم ہوتی ہے۔ دولت سے بے جا محبت نفس کی بڑی کمزوری ہے، لیکن صدقہ اس کمزوری کا علاج ہے۔ اس طرح رمضان نہ صرف فرد کی اصلاح کرتا ہے بلکہ معاشرے میں ہمدردی اور باہمی تعاون کا جذبہ بھی پیدا کرتا ہے۔
اگر ہم رمضان کو حقیقی معنوں میں اپنے لیے تحفہ بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں اس مہینے کے ہر لمحے کو قیمتی سمجھنا ہوگا۔ روزانہ کم از کم ایک پارہ قران کی تلاوت اور چند آیات کا ترجمہ و تشریح پڑھنے کا معمول بنائیں۔ زبان کی حفاظت کا خصوصی اہتمام کریں۔ سحری اور افطار میں اعتدال اختیار کریں تاکہ عبادت میں سستی نہ آئے۔ درودِ شریف کی کثرت کریں، روزانہ کچھ نہ کچھ صدقہ ضرور دیں اور تنہائی میں کم از کم دس سے پندرہ منٹ ذکر و دعا کے لیے مخصوص کریں۔ رمضان نفس کو کمزور اور روح کو مضبوط بناتا ہے، تقویٰ پیدا کرتا ہے اور دل کو پاکیزگی عطا کرتا ہے۔ اگر انسان اس تربیت کو رمضان کے بعد بھی جاری رکھے تو یہی حقیقی تزکیہ نفس ہے۔
یہاں یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ نفس کیا ہے، اس کی تعریف کیا ہے اور اس کی کتنی اقسام ہیں۔ قران و سنت اور اہلِ علم کی روشنی میں نفس انسان کی اندرونی شخصیت کا نام ہے جو اسے کسی کام کی طرف مائل کرتی ہے، چاہے وہ نیکی ہو یا بدی۔ یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ نفس انسان کی وہ باطنی حقیقت ہے جس میں خواہشات، جذبات، ارادے، میلانات اور اخلاقی رجحانات جمع ہوتے ہیں۔ قران میں نفس کا مفہوم مختلف معنوں میں آیا ہے۔ ایک جگہ یہ انسان کی ذات کے معنی میں استعمال ہوا ہے جہاں فرمایا گیا کہ ہر نفس کو موت کا مزہ چکھنا ہے۔ دوسری جگہ اسے اخلاقی کشمکش کے مرکز کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔
نفس کی پہلی کیفیت نفسِ امّارہ ہے، جو برائی کا حکم دیتا ہے اور انسان کو گناہوں کی طرف ابھارتا ہے۔ جب خواہشات غالب ہوں اور انسان اپنی نفسانی رغبتوں کا غلام بن جائے تو یہی کیفیت نمایاں ہوتی ہے۔ دوسری کیفیت نفسِ لوّامہ کی ہے، جو گناہ پر ملامت کرتا ہے۔ جب انسان سے غلطی ہو جائے اور اس کا ضمیر اسے جھنجھوڑے، وہ ندامت محسوس کرے اور اصلاح کا ارادہ کرے تو یہ نفسِ لوّامہ کی علامت ہے۔ تیسری کیفیت نفسِ مطمئنہ کی ہے، جو اللہ کی رضا پر راضی اور اس کے فیصلوں پر مطمئن ہوتا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں انسان کی خواہشات تقویٰ کے تابع ہو جاتی ہیں اور دل میں سکون اتر آتا ہے۔
اکثر لوگ نفس اور روح کو ایک ہی سمجھتے ہیں، حالانکہ دونوں میں فرق ہے۔ روح اللہ کی طرف سے پھونکی گئی وہ پاک حقیقت ہے جو زندگی کا سبب بنتی ہے اور بذاتِ خود پاک ہے، جبکہ نفس انسان کے اخلاقی اختیار اور آزمائش کا مرکز ہے۔ نفس نہ مکمل طور پر برا ہے اور نہ مکمل طور پر اچھا، بلکہ وہ انسان کی تربیت، ماحول اور اختیار کے مطابق بنتا یا بگڑتا ہے۔ اگر خواہشات غالب آ جائیں تو نفسِ امّارہ نمایاں ہوتا ہے۔ اگر ضمیر بیدار ہو تو نفسِ لوّامہ ظاہر ہوتا ہے، اور اگر تقویٰ غالب ہو جائے تو نفسِ مطمئنہ کی کیفیت نصیب ہوتی ہے۔
مثال کے طور پر اگر دل میں غصہ آئے اور بدلہ لینے کی خواہش پیدا ہو تو یہ نفسِ امّارہ کی علامت ہے۔ اگر اسی لمحے اندر سے آواز آئے کہ یہ غلط ہے اور انسان خود کو روک لے تو یہ نفسِ لوّامہ کی بیداری ہے۔ اور اگر وہ معاف کر دے اور دل میں سکون محسوس کرے تو یہ نفسِ مطمئنہ کی جھلک ہے۔ اسی جدوجہد کا نام جہاد بالنفس ہے، جو سب سے بڑا جہاد ہے۔
نفس انسانی خواہشات اور بری باتوں کا مخزن بن سکتا ہے۔ اس میں ایسے جذبات اور امنگیں ابھرتی ہیں جو انسان کو برائی کی طرف لے جاتی ہیں۔ اگر انسان ان خواہشات کے پھندے میں پھنس جائے تو وہ تباہی کے راستے پر چل پڑتا ہے۔ لیکن اگر وہ اپنے نفس کا محاسبہ کرے اور اسے قابو میں رکھے تو وہ بلندیوں تک پہنچ سکتا ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں احتسابِ نفس کی ضرورت سامنے آتی ہے۔ حضرت عمر فاروق کا قول ہے کہ اپنا محاسبہ خود کر لو قبل اس کے کہ تمہارا حساب لیا جائے۔ یہ جملہ دراصل پوری زندگی کا اصول ہے۔ انسان اگر روزانہ چند لمحے نکال کر اپنے اعمال کا جائزہ لے تو وہ بڑی تباہیوں سے بچ سکتا ہے۔ ہر رات سونے سے پہلے چند منٹ خود سے سوال کریں کہ کیا آج میرا اللہ پر توکل مضبوط ہوا؟ کیا میں نے نماز وقت پر ادا کی؟ کیا میری نماز میں خشوع و خضوع تھا؟ کیا میں نے کسی کی دل آزاری کی؟ کیا میں نے کسی کی غیبت کی یا کسی کے ساتھ ناانصافی کی؟ کیا میں نے اپنے وعدے پورے کیے؟
جو کمی نظر آئے اس پر فوراً استغفار کریں، توبہ کریں اور اصلاح کا پختہ ارادہ کریں۔ قران کی تعلیمات کی روشنی میں خود کو پرکھیں کہ کیا میرا کردار ایمانداری، دیانت اور تقویٰ کا آئینہ دار ہے یا نہیں۔ استغفار کی کثرت، غلطی پر فوری ندامت اور اگر کسی کا حق مارا ہو تو اس سے معافی مانگ لینا، یہی حقیقی احتساب ہے۔ اسی عمل سے نفسِ امّارہ بتدریج نفسِ لوّامہ میں اور پھر نفسِ مطمئنہ میں تبدیل ہوتا ہے۔
آج کے مادہ پرستانہ دور میں انسان باہر کی دنیا کو سنوارنے میں تو بہت مصروف ہے، مگر اپنے باطن کی اصلاح سے غافل ہے۔ رمضان ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اصل کامیابی دل کی پاکیزگی اور کردار کی سچائی میں ہے۔ اگر ہم نے اس مہینے میں اپنے نفس کو قابو کرنا سیکھ لیا، اپنی زبان کو پاک رکھا، اپنے دل کو صاف کیا اور اپنے اعمال کو درست کیا تو یہی ہماری دنیا و آخرت کی کامیابی ہے۔
ماہ صیام کایہی پیغام ہے کہ اس کو رسمی عبادات تک محدود نہ کریں بلکہ اسے اپنی زندگی کا نقط انقلاب بنائیں۔ اپنے اندر جھانکیں، اپنی کمزوریوں کو پہچانیں، اپنے رب سے تعلق مضبوط کریں اور اپنے نفس کو اس مقام تک لے جانے کی کوشش کریں جہاں دل مطمئن ہو، کردار پاکیزہ ہو اور نیت خالص ہو۔ یہی حقیقی تزکیہ نفس ہے، یہی تقویٰ کی منزل ہے اور یہی دنیا و آخرت کی دائمی کامیابی کا راستہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے نفس کا صحیح محاسبہ کرنے، اسے پاکیزہ بنانے اور نفسِ مطمئنہ کے مقام تک پہنچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

 

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے