कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

پڑوسی اور ہمسایہ کے حقوق

بہتر سماج کی تشکیل کے لیے ایک مؤثر اور آفاقی تعلیم

تحریر: ڈاکٹر مولانا محمد عبد السمیع ندوی
اسسٹنٹ پروفیسر، مولانا آزاد کالج آف آرٹس، سائنس اینڈ کامرس، اورنگ آباد
موبائل نمبر 9325217306

معاشرے کی مضبوطی کا دارومدار صرف حکومتی اقدامات یا قانون سازی پر نہیں ہوتا، بلکہ اصل بنیاد انسانوں کے باہمی تعلقات، اخلاق اور کردار ہوتے ہیں۔ انہی اخلاقی بنیادوں میں سب سے اہم حق پڑوسی کا ہے۔ یہ ایسا رشتہ ہے جو مذہب، ذات، زبان اور برادری سے اوپر اٹھ کر انسانیت کے دائرے میں داخل ہوتا ہے۔ پڑوسی کا حق صرف سماجی ذمہ داری نہیں بلکہ دینی فریضہ بھی ہے۔ اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اس موضوع کو ایمان کے معیار سے جوڑ دیا۔
حدیث: "للجار حق”پڑوسی کا حق لازمی ہے
نبی کریم ﷺ کا مختصر مگر بہت گہرا ارشاد ہے:
“للجار حق”
یعنی "پڑوسی کا بھی حق ہوتا ہے۔”
یہ جملہ بظاہر چھوٹا ہے مگر اپنے معنی میں بہت وسیع ہے۔ اس کا مقصد صرف یہ بتانا نہیں کہ پڑوسی کا کوئی حق ہے، بلکہ رسول اکرم ﷺ نے اس کو ایک مستقل اور غیر مشروط حق قرار دیا۔ اس میں یہ بات صاف طور پر سمائی ہوئی ہے کہ انسان اپنے پڑوسی کے سامنے جواب دہ ہے، چاہے پڑوسی کا مذہب کچھ بھی ہو۔ قرآن و حدیث میں جگہ جگہ اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ پڑوسی کو تکلیف نہ پہنچائی جائے، اس کی عزت کی جائے، اس کے دکھ سکھ میں شریک رہا جائے اور اس کے ساتھ حسن اخلاق کو معمول بنایا جائے۔
علماء نے اس حدیث کی تشریح میں لکھا ہے کہ پڑوسی کے حقوق میں یہ سب شامل ہے:
اس کی عزت کا خیال، دکھ میں ساتھ دینا، پریشانی میں مدد کرنا، راستے میں تکلیف نہ دینا، اس کی جان و مال کی حفاظت کا احساس، حتیٰ کہ کھانے کی خوشبو بھی اس تک پہنچے تو اس کی رعایت رکھنے کا حکم موجود ہے۔
اس ایک جملے "للجار حق” نے پورے معاشرتی اخلاق کا خلاصہ پیش کر دیا۔
حدیث: "واللہ لا یؤمن…” ایمان کا معیار اور پڑوسی کی اذیت سے روک
نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
“واللہ لا یؤمن، واللہ لا یؤمن، واللہ لا یؤمن”
خدا کی قسم وہ شخص مومن نہیں ،خدا کی قسم وہ شخص مومن نہیں ،خدا کی قسم وہ شخص مومن نہیں
صحابہ کرام حیران ہو گئے اور عرض کیا:
“یا رسول اللہ! کون شخص؟”
آپ ﷺ نے فرمایا:
الذی لا یأمن جارُہ بوائقَہ”
یعنی “وہ شخص جس کی شرارتوں اور تکلیفوں سے اس کا پڑوسی محفوظ نہ ہو۔”
یہ ارشاد نبی کریم ﷺ کا انتہائی سخت اور غیر معمولی انتباہ ہے۔
اس میں کہا گیا کہ اگر کوئی شخص اپنے پڑوسی کو تکلیف پہنچاتا ہے، یا اس کے ہاتھ اور زبان کی اذیت سے پڑوسی محفوظ نہیں، تو ایسے شخص کے ایمان میں خرابی ہے۔
یہاں ایمان کی نفی سے مراد یہ نہیں کہ وہ شخص دائرہ اسلام سے نکل گیا، بلکہ یہ کہ اس کا ایمان ناقص، کمزور اور بے فائدہ ہے۔ دین کا اصل اثر اس کے کردار میں نظر نہیں آ رہا۔
اس حدیث کی تشریح میں علماء لکھتے ہیں:
جو شخص اپنے پڑوسی کو تکلیف دے، وہ دین کے بنیادی مقاصد کے خلاف چل رہا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے پڑوسی کا مقام اتنا بلند رکھا کہ اس کو تکلیف پہنچانا ایمان کی کمی قرار دیا۔
یہ تعلیم معاشرے میں امن، محبت اور اعتماد کی بنیاد رکھتی ہے۔
پڑوسی کا اطمینان اور امن، سماج کے امن کا پہلا زینہ ہے۔
جب انسان جان لے کہ اس کی ہر غلط حرکت سے نہ صرف معاشرہ متاثر ہوتا ہے بلکہ ایمان بھی خطرے میں پڑ جاتا ہے، تو وہ اپنے رویے کو بہتر بنانے کی کوشش کرتا ہے۔
بوڑھی عورت کا واقعہ: اخلاق کی قوت جو دلوں کو بدل دیتی ہے
نبی شریف ﷺ کے راستے میں روزانہ کچرا ڈالنے والی بوڑھی عورت کی کہانی اخلاق کی بلندی کا ایسا نمونہ ہے جس کی مثال دنیا کی تاریخ میں تلاش کرنا مشکل ہے۔ وہ عورت روزانہ آپ ﷺ کی ایذا رسانی کرتی تھی، مگر آپ ﷺ نے کبھی اس پر ناراضی ظاہر نہیں کی۔ آپ ﷺ کا صبر، حلم اور اعلیٰ اخلاق صرف ردِعمل نہیں بلکہ معاشرتی تربیت کی بنیاد تھے۔
جب وہ عورت بیمار ہوئی اور کچھ دن تک کچرا نہ پھینک سکی تو آپ ﷺ نے پوچھا، حال دریافت کیا اور اس کی عیادت کے لیے اس کے گھر تشریف لے گئے۔ اس اخلاق نے اس کے دل کو بدل دیا، اور اس نے خود اقرار کیا کہ ایسا کردار کسی عام انسان کا نہیں ہو سکتا۔
یہ واقعہ بتاتا ہے کہ پڑوسی کے حقوق کا تعلق صرف اچھے پڑوسی تک محدود نہیں، بلکہ برے پڑوسی کے ساتھ بھی حسن اخلاق کو کم نہیں ہونا چاہیے۔
یہودی پڑوسی کا واقعہ: دشمنی سے دوستی تک:
ایک یہودی جو حضور ﷺ کا کھلا دشمن تھا، آئے دن تکلیف پہنچاتا تھا، مگر جب وہ بیمار ہوا تو آپ ﷺ اس کی عیادت کے لیے اس کے گھر گئے۔ اس نے سوچا بھی نہ تھا کہ جس کے خلاف وہ سازشیں کرتا رہا، وہ شخص اس کی خیریت پوچھنے اس کے گھر آئے گا۔ آپ ﷺ کے اس طرز عمل نے اس کے دل کا نقشہ بدل دیا اور دشمنی دوستی میں تبدیل ہو گئی۔
یہ واقعہ رسول اکرم ﷺ کی عملی تعلیمات کا روشن نمونہ ہے کہ اخلاقی برتری صرف زبانی دعویٰ نہیں، بلکہ عملی رویوں سے ظاہر ہوتی ہے۔
پڑوسی کے حقوق: معاشرتی، اخلاقی اور روحانی اہمیت:
اسلامی تعلیمات کے مطابق پڑوسی کے حقوق کی اہمیت تین سطحوں پر ہے:
معاشرتی اہمیت:
اگر پڑوسی امن میں ہوں تو محلہ امن میں ہوتا ہے۔ محلہ محفوظ ہو تو شہر محفوظ ہوتا ہے۔ یہ وہ بنیادی اکائی ہے جو سماج کو پائیدار بناتی ہے۔
اخلاقی اہمیت:
پڑوسی کے ساتھ حسنِ سلوک انسان کے اخلاق کی حقیقت ثابت کرتا ہے۔
اخلاق گھر سے شروع ہو کر پڑوسی تک پہنچتے ہیں، پھر معاشرے کو روشن کرتے ہیں۔
روحانی اہمیت:
جو شخص پڑوسی کے حقوق ادا نہیں کرتا، اس کا ایمان خطرے میں ہے۔
اس کا دین صرف ظاہری نہیں بلکہ عملی ہونا چاہیے۔
پڑوسی کے ساتھ اچھا سلوک ایمان کا امتحان ہے۔
آج کے حالات میں ان احادیث کی ضرورت مزید بڑھ گئی ہے
آج کے معاشرے میں لوگوں نے اپنے دروازے تو کھلے رکھے ہیں مگر دل بند کر لیے ہیں۔
لوگ ایک ہی بلڈنگ میں رہتے ہیں مگر ایک دوسرے کو جانتے تک نہیں۔
کوئی بیمار ہو جائے تو خبر نہیں۔
کوئی پریشانی میں ہو تو فکر نہیں۔
یہ وہ بے حسی ہے جو معاشرے کو ٹکڑوں میں بانٹ دیتی ہے۔
اگر ہم ان احادیث کی روح کو سمجھ کر ان کو زندگی میں جگہ دے دیں تو:
• خاندان مضبوط ہوں گے
• محلے خوشحال ہوں گے
• نفرتیں کم ہوں گی
• دل قریب آئیں گے
• انسانیت پروان چڑھے گی
یہ وہی تعلیم ہے جو حضور ﷺ نے عملی نمونوں کے ذریعے ہمیں دکھائی۔
پڑوسی کا حق انسانیت کی بنیاد ہے۔ دین نے اسے اتنی اہمیت دی کہ ایمان کے ساتھ جوڑ دیا۔ نبی کریم ﷺ نے نہ صرف اس کی تعلیم دی بلکہ عملی نمونے چھوڑے جن کی روشنی میں معاشرہ آج بھی بہتر بن سکتا ہے۔
اگر ہم پڑوسی کے حقوق ادا کرنا شروع کر دیں تو گھر خوشگوار ہو جائیں گے، گلیاں روشن ہو جائیں گی، اور سماج امن کا گہوارہ بن جائے گا۔ انسانیت کا مستقبل انہی اخلاقی بنیادوں پر کھڑا ہے۔

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے