कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

پریس کی آزادی، عدالتی فیصلے اور ریاستی اختیار:یو این آئی دفتر سیل معاملہ ، ایک آئینی و جمہوری جائزہ

از قلم:ڈاکٹر سید تابش امام
رابطہ:9934933992

ملک کے جمہوری ڈھانچے میں اگر کسی ایک ستون کو سب سے زیادہ حساس، بااثر اور فیصلہ کن مانا جائے تو وہ یقیناً آزاد صحافت ہے۔ یہی وہ ستون ہے جو اقتدار کے ایوانوں کی نگرانی کرتا ہے، پالیسی سازی کے عمل کو عوامی کسوٹی پر پرکھتا ہے اور سماج میں فکری بیداری کی فضا قائم کرتا ہے۔ ایک صحت مند جمہوریت کی پہچان ہی یہ ہے کہ وہاں میڈیا نہ صرف آزاد ہو بلکہ اس کی آزادی کو ریاستی ادارے عملاً تسلیم بھی کریں۔ ایسے میں جب کسی قدیم اور معتبر خبر رساں ادارے کے دفتر کو اچانک سیل کیے جانے سے متعلق خبر منظر عام پر آتی ہے تو یہ محض ایک انتظامی کارروائی نہیں رہتی بلکہ اس کے اثرات جمہوریت کے بنیادی اصولوں اور آئینی قدروں تک پھیل جاتے ہیں۔
گزشتہ دنوں نئی دہلی میں واقع یونائیٹڈ نیوز آف انڈیا (یو این آئی) کے دفتر کو دہلی پولیس کے ذریعہ سیل کیے جانے کا واقعہ اسی نوعیت کا ایک اہم اور تشویشناک معاملہ بن کر سامنے آیا ہے۔ اس کارروائی کو جہاں پولیس نے دہلی ہائی کورٹ کے حکم کی تعمیل قرار دیا ہے، وہیں خود یو این آئی نے اسے “پریس کی آزادی پر حملہ” سے تعبیر کرتے ہوئے نہ صرف سخت اعتراض درج کیا بلکہ پولیس پر بدسلوکی اور طاقت کے بے جا استعمال جیسے سنگین الزامات بھی عائد کیے ہیں۔ اس طرح یہ معاملہ محض ایک قانونی تنازع نہیں رہا بلکہ اس دائرے سے نکل کر ایک بڑے آئینی اور جمہوری مباحثے کا حصہ بن گیا ہے۔
اس پورے قضیے کو سمجھنے کے لیے اس کی قانونی بنیاد کا جائزہ لینا ناگزیر ہے۔ دہلی ہائی کورٹ نے اپنے حالیہ فیصلے میں مرکزی حکومت کے اس اقدام کو برقرار رکھا، جس کے تحت 9، رفیع مارگ پر واقع یو این آئی کو الاٹ کی گئی سرکاری زمین کا حقِ استعمال منسوخ کر دیا گیا تھا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں بلکل واضح طور پر کہا کہ یو این آئی طویل مدت کے گزرنے کے باوجود اس زمین کے الاٹمنٹ سے وابستہ بنیادی شرائط کو پورا کرنے میں ناکام رہی۔ عدالت کے مطابق 1979 میں یہ زمین اس واضح شرط کے ساتھ دی گئی تھی کہ دو برس کے اندر ایک مشترکہ میڈیا کمپلیکس تعمیر کیا جائے گا، جہاں مختلف میڈیا ادارے اپنی سرگرمیاں انجام دے سکیں گے، مگر کئی دہائیوں کے طویل عرصے گزر جانے کے باوجود ایسا کوئی منصوبہ حقیقی شکل اختیار نہ کرسکا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں اس امر پر بھی زور دیا کہ قیمتی عوامی زمین کو ایک ایسے لائسنس یافتہ ادارے کے قبضے میں چھوڑ دینا جو اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں مسلسل ناکام رہا ہو، نہ صرف قانونی طور پر ناقابلِ قبول ہے بلکہ یہ عوامی مفاد کے بھی خلاف ہے۔ اسی بنیاد پر عدالت نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ وہ فوری طور پر اس جائیداد کا قبضہ حاصل کریں اور اسے قانون کے مطابق استعمال میں لائیں۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو عدالت کا فیصلہ اصولی طور پر ریاستی وسائل کے تحفظ اور قانون کی عملداری کے عین مطابق محسوس ہوتا ہے۔
تاہم، اصل تنازع اس فیصلے کے نفاذ کے طریقۂ کار کو لے کر پیدا ہوا۔ یو این آئی اور اس کے ملازمین نے الزام عائد کیا کہ پولیس نے دفتر خالی کرانے کے دوران نہ صرف غیر ضروری سختی برتی بلکہ بعض مواقع پر انسانی وقار کو بھی پامال کیا گیا۔ میڈیا میں گردش کرنے والی ویڈیوز اور بیانات کے مطابق ملازمین، خصوصاً خواتین، کو زبردستی اپنی نشستوں سے اٹھایا گیا، انہیں دھکے دیے گئے اور ذاتی سامان سمیٹنے کا بھی مناسب موقع فراہم نہیں کیا گیا۔ اگر یہ الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ محض ایک انتظامی کارروائی نہیں بلکہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی شمار ہوگی۔
دوسری جانب دہلی پولیس کے افسران نے ان تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پوری کارروائی قانون کے دائرے میں رہ کر انجام دی گئی اور اس کی ویڈیو ریکارڈنگ بھی موجود ہے۔ ان کے مطابق عدالت کے واضح احکامات کی روشنی میں جائیداد کو خالی کرانا ایک لازمی قانونی تقاضہ تھا، جس میں کسی بھی قسم کی زیادتی کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔ یہاں سوال یہ نہیں کہ عدالتی حکم پر عمل درآمد کیوں کیا گیا، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا اس عمل درآمد کا طریقہ جمہوری اقدار اور انسانی وقار کے مطابق تھا؟
یہاں یہ حقیقت بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ یونائیٹڈ نیوز آف انڈیا محض ایک عام ادارہ نہیں بلکہ ہندوستان کی صحافتی تاریخ کا ایک اہم باب ہے۔ دہائیوں تک اس ادارے نے قومی اور بین الاقوامی سطح پر خبروں کی فراہمی میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ ایسے ادارے کے ساتھ پیش آنے والا کوئی بھی واقعہ لازماً صحافتی برادری میں بے چینی پیدا کرے گا اور یہ سوال اٹھے گا کہ آیا میڈیا ادارے ریاستی دباؤ سے محفوظ ہیں یا نہیں۔
یہی وہ مقام ہے جہاں “پریس کی آزادی” کا مسئلہ پوری شدت کے ساتھ سامنے آتا ہے۔ آئینِ ہند کے آرٹیکل 19(1)(a) کے تحت اظہارِ رائے کی آزادی ایک بنیادی حق ہے، جس میں آزاد صحافت بھی شامل ہے۔ اگرچہ اس آزادی پر معقول پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں، مگر کسی بھی ریاستی اقدام کو اس کسوٹی پر ضرور پرکھا جانا چاہیے کہ آیا وہ اس آزادی کو غیر ضروری طور پر محدود تو نہیں کر رہا۔ یو این آئی کا یہ دعویٰ کہ اس کے دفتر کو سیل کرنا “پریس کی آزادی پر حملہ” ہے، اپنی نوعیت کا ایک سنجیدہ الزام ہے، جسے محض رسمی وضاحتوں سے رد نہیں کیا جا سکتا۔
تاہم، اس معاملے کا دوسرا رخ بھی اتنا ہی اہم ہے۔ عدالت کا فیصلہ کسی ادارتی پالیسی یا صحافتی مواد کے خلاف نہیں بلکہ ایک زمین کے الاٹمنٹ اور اس کے استعمال سے متعلق قانونی تنازع پر مبنی تھا۔ اس لیے اس کارروائی کو براہِ راست صحافتی آزادی کے خلاف اقدام قرار دینا بھی ایک حد تک مبالغہ ہو سکتا ہے۔ اصل مسئلہ اس توازن کا ہے جہاں ریاستی اختیار اور صحافتی آزادی ایک دوسرے سے متصادم نہ ہوں بلکہ ہم آہنگی کے ساتھ چلیں۔
اس قضیے میں پریس کونسل آف انڈیا کا کردار بھی قابلِ ذکر ہے، جسے 2000 میں اس زمین کا شریک الاٹی بنایا گیا تھا۔ عدالت کے مطابق اس ادارے کا محض رسمی قبضہ تھا جبکہ حقیقی کنٹرول یو این آئی کے پاس رہا۔ یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اس پورے معاملے میں انتظامی شفافیت کا فقدان اور طویل مدتی غفلت کارفرما رہی ہے۔
اسی طرح دی اسٹیٹس مین گروپ کی جانب سے یو این آئی کے حصول کے بعد ادارے کے انتظامی ڈھانچے میں جو تبدیلیاں آئیں، وہ بھی اس تنازع کو مزید پیچیدہ بناتی ہیں۔ اس پس منظر میں یہ سوال بھی اہم ہو جاتا ہے کہ آیا زمین کے استعمال سے متعلق شرائط کی خلاف ورزی محض ادارہ جاتی کمزوری کا نتیجہ تھی یا اس کے پیچھے اقتصادی، انتظامی یا پالیسی سطح کی دیگر وجوہات بھی شامل تھیں۔
جمہوری نظام میں ریاستی اداروں کا کردار ہمیشہ توازن کا متقاضی ہوتا ہے۔ پولیس اور انتظامیہ کو جہاں قانون کی عملداری یقینی بنانی ہوتی ہے، وہیں انہیں شہریوں کے بنیادی حقوق اور وقار کا بھی تحفظ کرنا ہوتا ہے۔ اگر کسی کارروائی کے دوران طاقت کا غیر متناسب استعمال ہوتا ہے تو اس سے نہ صرف قانونی بلکہ اخلاقی سوالات کا بھی ظہور ہوتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ یو این آئی کی جانب سے عائد کیے گئے الزامات کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں تاکہ حقیقت سامنے آ سکے۔
ساتھ ہی یہ بھی حقیقت ہے کہ سرکاری وسائل، خصوصاً زمین جیسے قیمتی اثاثوں کے استعمال میں شفافیت اور جوابدہی کو یقینی بنانا ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ اگر کوئی ادارہ دہائیوں تک الاٹمنٹ کی شرائط پر عمل نہیں کرتا تو اس کے خلاف کارروائی ناگزیر ہو جاتی ہے۔ لیکن اس کارروائی کا طریقہ ایسا ہونا چاہیے جو نہ صرف قانونی تقاضوں کو پورا کرے بلکہ جمہوری اقدار اور انسانی وقار کا بھی پاس رکھے۔
یہ واقعہ ہمیں ایک بڑے سوال کی طرف بھی متوجہ کرتا ہے کہ کیا ہمارے ادارے تنازعات کو حل کرنے کے لیے مکالمے اور مفاہمت کے راستے اختیار کرنے کے بجائے ٹکراؤ کی راہ پر گامزن ہوتے جا رہے ہیں؟ اگر یو این آئی اور حکومت کے درمیان اس مسئلے کو پہلے ہی مرحلے میں سنجیدگی اور شفافیت کے ساتھ حل کرلیا جاتا تو شاید یہ صورتحال پیدا نہ ہوتی۔
انصاف کے نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو یہ معاملہ محض ایک قانونی یا انتظامی تنازع نہیں بلکہ جمہوری توازن کا امتحان ہے۔ ایک طرف عدالت کا وقار اور قانون کی بالادستی ہے، تو دوسری طرف آزاد صحافت اور انسانی وقار کا تحفظ بھی اتنا ہی اہم ہے۔ کسی ایک پہلو کو نظرانداز کر کے دوسرے کو فوقیت دینا جمہوری اصولوں کے منافی ہوگا۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت، عدلیہ اور میڈیا تینوں اپنے اپنے دائرۂ اختیار میں رہتے ہوئے ایک ایسا ماحول قائم کریں جہاں اختلافات کے باوجود آئینی قدروں کا احترام برقرار رہے۔ میڈیا اداروں کو بھی چاہیے کہ وہ اپنی داخلی شفافیت، قانونی ذمہ داریوں اور پیشہ ورانہ اصولوں پر سختی سے کاربند رہیں تاکہ ان کی ساکھ مزید مضبوط ہو۔
المختصر، یو این آئی دفتر سیل کا معاملہ محض ایک خبر نہیں بلکہ ایک آئینہ ہے جس میں ہمارے جمہوری نظام کی طاقت اور کمزوریاں دونوں واضح طور پر دکھائی دیتی ہیں۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ آزادیٔ صحافت، عدالتی وقار اور ریاستی اختیار کے درمیان توازن قائم رکھنا ہی ایک بالغ، مضبوط اور باوقار جمہوریت کی اصل پہچان ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے