कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

پاک۔افغان کھلی جنگ،ڈیورنڈ لائن کے زخموں سے نئی تباہی تک

تحریر:ڈاکٹر شیخ حاجی حسین

جنوبی ایشیا کا یہ حصہ ہمیشہ سے ایک ایسا میدان رہا ہے جہاں تاریخ کے زخم کبھی مکمل طور پر بھرتے نہیں۔ 1893 میں جب برطانوی سفارت کار سر مورٹیمر ڈیورنڈ اور افغان امیر عبدالرحمٰن خان نے وہ لائن کھینچی جو آج ڈیورنڈ لائن کہلاتی ہے، تو شاید انہیں اندازہ بھی نہ تھا کہ یہ 2,640 کلومیٹر لمبی سرحد ایک دن پورے خطے کی تقدیر بدل دے گی۔ یہ لائن پشتون قبائل کو دو ملکوں میں تقسیم کر گئی، اور اس تقسیم نے آج تک نفرت، الزامات اور خونریزی کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔اس تقسیم کی کہانی بہت پرانی ہے۔ برطانوی راج کے دور میں یہ ’گریٹ گیم‘ کا حصہ تھی۔ روس اور برطانیہ کے درمیان افغانستان کو بفر زون بنانے کی چال رہی۔ 1947 میں جب برصغیر تقسیم ہوا اور پاکستان وجود میں آیا تو افغانستان نے اس لائن کو کبھی تسلیم نہیں کیا۔ اس نے’پشتونستان‘ کا مطالبہ کیا اور اقوام متحدہ میں پاکستان کے داخلے کے خلاف واحد ووٹ دیا۔ 1950 اور 60 کی دہائی میں بھی کئی بار سرحدی جھڑپیں ہوئیں۔ 1979 میں جب سوویت یونین نے افغانستان پر حملہ کیا تو پاکستان نے مجاہدین کی حمایت کی، لاکھوں افغان مہاجرین پاکستان آئے اور یہی مہاجرین بعد میں طالبان کی بنیاد بنے۔ 2001 میں امریکہ کے حملے کے بعد پاکستان نے دوبارہ امریکہ کا اتحادی بن کر طالبان کے خلاف جنگ لڑی، مگر 2021 میں جب امریکی فوج واپس گئی اور طالبان دوبارہ اقتدار میں آئے تو پاکستان نے سوچا کہ اب اسٹریٹجک ڈیپتھ مل جائے گی۔ مگر حقیقت بالکل الٹ نکل آئی۔ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے افغان سرزمین کو اپنا محفوظ ٹھکانہ بنا لیا اور پاکستان پر حملے تیز کر دیے۔
اب یہ دونوں ملک نہ صرف جغرافیائی طور پر ملحق ہیں بلکہ ثقافت، رسم و رواج، آبادی کی ساخت اور حتیٰ کہ انتظامی ڈھانچے میں بھی ایک دوسرے سے بہت مماثلت رکھتے ہیں۔ دونوں ملکوں کی آبادی میں پشتون عنصر غالب ہے۔ پاکستان کی تقریباً 15 سے 18 فیصد آبادی پشتون ہے (خاص طور پر خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں)، جبکہ افغانستان میں پشتون 40 سے 45 فیصد ہیں۔ دونوں جگہ پشتونوالی کا کوڈ راج کرتا ہے۔ مہمان نوازی (ملمستیا)، بدلہ (بدل)، اور جرگہ کا نظام۔ کابل اور پشاور کے بازاروں میں ایک جیسی خوشبو آتی ہے: کابلی پلاؤ، کباب، اور سبز چائے۔ عورتوں کے لباس، شادی بیاہ کی رسوم، موسیقی، شاعری (خوشحال خان خٹک سے لے کر رحمان بابا تک) سب ایک جیسے ہیں۔ حتیٰ کہ انتظامی سطح پر بھی مماثلتیں موجود ہیں۔ دونوں ملکوں میں قبائلی علاقے ہیں جہاں مرکزی حکومت کی گرفت کمزور رہتی ہے۔ پاکستان میں سابقہ فاٹا اب خیبر پختونخوا کا حصہ ہے مگر قبائلی جرگے اب بھی چلتے ہیں۔ افغانستان میں اسلامی امارت کے تحت بھی مقامی جرگے اور مذہبی علما کا اثر غالب ہے۔ دونوں جگہ مذہب اسلام مرکزی حیثیت رکھتا ہے، مگر قبائلی روایات مذہب سے اوپر چلتی ہیں۔یہی مماثلتیں ایک طرف رشتوں کا احساس پیدا کرتی ہیں تو دوسری طرف تنازع کو اور بھی تکلیف دہ بنا دیتی ہیں۔ جب ایک ہی خاندان کی ایک شاخ پاکستان میں اور دوسری افغانستان میں ہو تو سرحد پار گولی چلنا زیادہ دردناک ہو جاتا ہے۔
قدیم سیاسی مفکرین نے ایسے پڑوسی ممالک کے رشتوں اور جنگ کی صورتحال پر بہت گہرائی سے غور کیا تھا۔چانکیہ نے اپنے شاہکار ارتھ شاستر میں منڈل تھیوری پیش کی۔ اس کا کہنا تھا کہ ’’ہر پڑوسی مملکت دشمن ہے اور دشمن کا دشمن دوست‘‘ چانکیہ کے مطابق قریبی پڑوسی فطری طور پر دشمن ہوتا ہے کیونکہ زمین اور وسائل کی ہوس اسے مقابل بنا دیتی ہے، جبکہ پڑوسی کا پڑوسی اتحادی بن سکتا ہے۔ پاکستان اور افغانستان ایک دوسرے کے قریبی پڑوسی ہیں، اس لیے ان کا تنازع’ فطری‘ ہے ۔ مگر یہ دشمنی مستقل نہیں۔ چانکیہ نے خارجہ پالیسی کے چھ اصول وضع کئے تھے صلح، جنگ، فوج کی تعیناتی، فوج کی نقل و حرکت، اتحاد اور دوہری پالیسی۔ اس کے مطابق کمزور دشمن سے معاہدہ قبول کرنا سیاسی خودکشی ہے، مگر برابر کی طاقت والوں کے درمیان صلح سے دونوں فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ اسی طرح یونانی فلسفی ارسطو نے اپنی کتاب پولیٹکس میں لکھا ’’ جنگ میں کامیابی کے بعد امن کو منظم کرنا زیادہ اہم ہے‘‘۔ ارسطو کا ماننا تھا کہ مملکتوں کا مقصد صرف فتح نہیں بلکہ انصاف اور مشترکہ فلاح ہے۔ اس نے کہا تھا کہ انسان سماجی حیوان ہوتا ہے ، اس لیے پڑوسی مملکتوں کو بھی ایک دوسرے کے ساتھ ’دوستی‘ کا رشتہ قائم کرنا چاہیے ورنہ تباہی ناگزیر ہے۔اسی طرح افلاطون نے ری پبلک میں واضح کیا کہ جنگیں دولت کی ہوس، لالچ اور غیر ضروری خواہشات سے پیدا ہوتی ہیں۔جنگ صرف انصاف کے لیے ہونی چاہیے، نہ کہ غرور یا علاقائی تسلط کے لیے۔ اگر دو ریاستیں ایک ہی ثقافت اور تاریخ رکھتی ہوں تو ان کے درمیان جنگ لڑنا انصاف سے دور ہے۔
ان مفکرین کے خیالات آج بھی پاکستان اور افغانستان کے رشتے پر روشنی ڈالتے ہیں۔ دونوں ملک ایک ہی ثقافت اور تاریخ کے مالک ہیں، ایک ہی لوگ ہیں جن کی زندگیاں سرحد کی اس طرف اور اس طرف بٹی ہوئی ہیں۔ مگر منڈل تھیوری کی روشنی میں ان کی دشمنی فطری ہے ۔ پھر بھی چانکیا ، ارسطو اور افلاطون کے خیالات سے ہم یہ اندازہ لگاسکتے ہیں کہ عقلمندی، سفارت کاری اور انصاف سے یہ زخم بھرے جا سکتے ہیں۔
فروری 2026 میں یہ کشیدگی ’اوپن وار‘ کی شکل اختیار کر گئی۔ 21 فروری کو پاکستان ایئر فورس نے ننگرہار، پکتیکا اور خوست میں مبینہ ٹی ٹی پی کیمپوں پر فضائی حملے کیے۔ طالبان نے جوابی کارروائی میں 26 فروری کو سرحدی چھاؤنیوں پر حملہ کیا اور ڈرون استعمال کیے۔ پاکستان نے ’آپریشن غضب لل حق‘ شروع کر دیا، اور 27 فروری کو وزیر دفاع خواجہ آصف نے اعلان کر دیا کہ اب ہمارے اور آپ کے درمیان اوپن وار ہے۔ اس کے بعد پاکستان نے کابل، قندھار، پکتیا اور دیگر علاقوں پر بمباری کی۔ طالبان نے جواب میں پاکستان کے کوہاٹ، راولپنڈی کے قریب اور دیگر فوجی تنصیبات پر ڈرون حملے کیے۔ مارچ کے وسط تک یہ سلسلہ جاری ہے ۔ دونوں طرف فوجی اور عام شہری ہلاک ہو رہے ہیں، ہزاروں بے گھر۔ اقوام متحدہ کے مطابق اب تک 66 ہزار سے زائد افغان شہری بے گھر ہو چکے ہیں۔اس جنگ کے نقصانات دیکھ کر کوئی بھی سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے امریکہ۔اسرائیل اور ایران کی حالیہ جنگ نے پورے خطے کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ تہران میں ہزاروں شہری مارے گئے، میزائل ترکی، سعودی عرب، بحرین اور کویت تک پہنچے، تیل کی قیمتیں آسمان چھو گئیں، ہارمز آبنائے کا بحران پیدا ہوا، ہندوستان میں گیس اور پٹرول کی شدید قلت ہوئی، ریستوران اور فیکٹریاں بند ہونے لگیں، لاکھوں لوگ بے روزگار ہوئے اور معاشی زبوں حالی کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ اگر پاکستان اور افغانستان اسی راستے پر چلتے رہے تو نتیجہ اس سے بھی زیادہ خوفناک ہو سکتا ہے ۔ پورا جنوبی ایشیا مہنگائی، بے گھری، خوراک کا بحران اور انسانی تباہی کا شکار ہو جائے گا۔ یہ مثال ہمیں بتا رہی ہے کہ جنگ کوئی حل نہیں، بلکہ صرف تباہی کا ذریعہ ہے۔
اس تنازع میں ہندوستان کا کردار بھی اہم اور متنازع ہے۔ پاکستان کا الزام ہے کہ افغانستان اب ہندوستان کا’پراکسی‘ بن چکا ہے۔ خواجہ آصف نے کئی بار کہا کہ طالبان نے افغانستان کو ہندوستان کا کالونی بنا دیا ہے، اور ٹی ٹی پی کو ہندوستانی سپورٹ مل رہی ہے۔ پاکستان کا دعویٰ ہے کہ ہندوستان ٹی ٹی پی کو افغان سرزمین سے سپورٹ کر رہا ہے تاکہ پاکستان کو کمزور کیا جائے۔ مگر حقیقت مختلف ہے۔ ہندوستان نے 2021 میں طالبان کے اقتدار پر سفارت خانہ بند کیا تھا، کیونکہ وہ طالبان کو پاکستان کا پراکسی سمجھتا تھا۔ 2022 سے انسانی امداد شروع ہوئی، اور 2025۔26 میں سفارتی تعلقات بحال ہوئے۔ ہندوستان نے کابل میں ایمبیسی دوبارہ کھولی، افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی کا دورہ ہوا، اور امداد بڑھائی گئی – ہسپتال، آنکولوجی سینٹر، ماتھرنیٹی کلینک، زلزلہ متاثرین کی مدد، اور 2026 کے بجٹ میں افغانستان کے لیے 150 کروڑ روپے کی امداد۔ طالبان نے نئی دہلی میں پہلا چارج ڈی افیئرز بھی تعینات کیا۔ہندوستان کا موقف واضح ہے ہم افغان عوام کے ساتھ ہیں، دہشت گردی کے خلاف، اور علاقائی استحکام چاہتے ہیں۔ پاکستان کے حملوں کی مذمت کی، افغان خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی حمایت کی۔ ماہرین کہتے ہیں کہ ہندوستان کا کردار سفارتی اور انسانی ہے، فوجی پراکسی نہیں۔ یہ امداد اور سفارت کاری پاکستان کی مغربی سرحد پر توجہ مبذول کرنے اور مرکزی ایشیا تک رسائی کے لیے ہے، جہاں پاکستان کو بائی پاس کیا جا سکے۔ پاکستان کا الزام شاید اپنی اندرونی سیکورٹی ناکامیوں کو چھپانے کا حصہ ہو، مگر یہ الزامات علاقائی کشیدگی کو مزید بڑھا رہے ہیں۔
مگر یہ جنگ دونوں ملکوں کے لیے تباہ کن ہے۔ دونوں ایک ہی ثقافت اور تاریخ کے مالک ہیں، ایک ہی لوگ ہیں جن کی زندگیاں سرحد کی اس طرف اور اس طرف بٹی ہوئی ہیں۔ ماہرین Chatham House، Council on Foreign Relations، اقوام متحدہ – متفق ہیں کہ فوجی حل نہیں۔ فوری سیز فائر، تیسری پارٹی (چین، ترکی، قطر) کی ثالثی میں مذاکرات، درین لائن پر مشترکہ مینجمنٹ، ٹی ٹی پی کے خلاف مشترکہ انٹیلی جنس، اور تجارت بحال کرنا ضروری ہے۔ہندوستان کے لیے یہ موقع ہے کہ غیر جانبدار رہے، انسانی امداد جاری رکھے، اور دونوں کو بات چیت کی طرف لے جائے۔ پاکستان اور افغانستان دونوں کو تاریخ سے سبق لینا چاہیے – یہ زخم 133 سال پرانا ہے، مگر اگر مشترکہ دشمن پر توجہ دی جائے تو امن ممکن ہے۔ ورنہ یہ لڑائی پورے جنوبی ایشیا کو ہلا دے گی، مہنگائی، بے گھری اور دہشت گردی بڑھائے گی۔
امید ہے کہ عقل غالب آئے گی، کیونکہ جنگ سے کچھ نہیں ملتا ۔ کیونکہ جنگ خود ایک مسئلہ ہے اس کاکوئی حل نہیں بلکہ صرف مزید خون اور آنسو ہے۔ دونوں ملکوں کے لوگ ایک ہی زبان بولتے ہیں، ایک ہی رسم نبھاتے ہیں، ایک ہی تاریخ رکھتے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ یہ تاریخ کو الگ الگ کرنے کی بجائے اسے جوڑنے کا ذریعہ بنائیں۔ چانکیہ کی منڈل تھیوری، ارسطو کا امن اور افلاطون کا انصاف – یہ سب ہمیں ایک ہی پیغام دیتے ہیں پڑوسیوں کے درمیان جنگ فطری ہو سکتی ہے، مگر صلح اس سے زیادہ عظیم اور مستقل ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے