कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

ٹیچر ،پیشہ یا پریشانی

تحریر: ایمن فردوس بنت عبدالقدیر
ہمارے بڑے بھائی کے سوال ، جاب (ٹیچر )کیسے جا رہی ہے ؟ کے جواب میں ایک مختصر سا مضمون

ہمیں اس وقت کا بڑی بے چینی سے انتظار رہتا تھا کہ ہمارا لقب دیدی سے تبدیل ہوکر ٹیچر کہلایا جائے ،کیونکہ ہم دیدی کے لقب میں بھی وہی ساری خدمات انجام دیتے ہیں جو ٹیچر دیتے ہیں ، اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہم نے ڈگری مکمل کی اور وہ لقب مل ہی گیا ، اب اسکول کے طلبہ ہمیں ایمن فردوس مِس کے نام سے جانتے ہیں ۔۔۔
جیسے ہی ہم اسکول گئے ، اسکول کے پرنسپل میم کو ہمارے علم پر بالکل بھروسہ تھا ، اور تو اور وہ ہمارے ڈگری اور امتحانات میں عمدہ درجات سے کامیابی پر خوش بھی تھیں ۔مگر ہماری خاموش مزاجی اور ہماری شکل پر چڑھی معصومیت کی چادر سے یہ اندازہ لگا رہے تھے کہ ہم شاید ہی کسی کام کے قابل ہوگی؟ اب ہم اجازت لے کر کمرہ جماعت میں چلے گئے ۔
سلام ، (اس س س س ل ل ل ل ا ا ا ا م م م م و و ع ع ع ل ل ل یکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ۔۔۔۔) گڈ مارننگ ،نائس ڈے ، ہاؤ آر یو
( Salam , good morning, have a nice day, how are you)
کے بعد ہم نے پڑھانا شروع کیا ، پہلے تو یوں محسوس ہوا کہ طلبہ واقعی بہت سمجھدار ، اور نظم و ضبط کے پابند ہیں! بہت اچھے ہیں ! علم کے شوقین اور اقبال کے شاہین لیکن یہ کیا ؟؟؟ یہ شاہین تو کچھ ہی دیر بعد شور مچانے لگے ، ہم نے طلبہ کو بہت سارے نئے نئے الفاظ سے مخاطب کر کے کہا لیکن اگلے پریڈ کی گھنٹی بج گئی مگر طلبہ خاموش نہ ہوئے ۔۔۔
ایسا نہیں تھا کہ وہ بدتمیز تھے اور نہ ہی پڑھائی سے بے رغبتی تھی ، بلکہ کمرہ جماعت میں شور مچانے سے جو لطف محسوس ہوتا ہے وہ خاموشی اور نظم و ضبط برقرار رکھنے میں ہر گز نہیں مل سکتا ۔۔۔
یوں تو طلبہ ہم سے بہت جلد مانوس ہوگئے اور انھیں ہم پر پورا بھروسہ ہوگیا کہ یہ مس اچھا پڑھاتے ہیں ان کے پاس علم کے خزانے ہیں ۔اور ، انھیں بہت کچھ آتا ہے !!! لیکن وہ کمرہ جماعت میں خاموش اختیار کرنے سے قاصر تھے ۔
اب ہم نے انھیں خاموش کرانے کےلئے مختلف طریقے استعمال کیے ،
سب سے پہلے ہم نے ،پیار اور محبت کا استعمال کیا ، بڑی میٹھی میٹھی باتیں کیں ، اور انھیں بیٹے کہہ کر پکارا ، بہت عزت دی ۔۔۔ہر بات کو پیار سے سمجھایا ، بالکل ڈانٹ ڈپٹ نہیں کی ۔لیکن وہ پھر بھی سمجھ نہیں پائے ، بلکہ یہ محبت بھرے انداز اور پیار بھری باتیں ،جن کی وجہ سے طلبہ کو نہ جانے ہمارے بارے میں جاننے میں کیوں اتنی دلچسپی ہوگئی کہ وہ پڑھنے لکھنے سے زیادہ ، ہر وقت ہماری باتوں اور ہمارے بارے میں زیادہ سے زیادہ معلومات اکھٹا کرنے میں دلچسپی لیتے ہوئے نظر آئے۔
ہم نے انھیں بارہا سمجھایا کہ ہم پہلے آپ کے استاد ہیں ، دوست بعد میں، اس لیے کچھ تو لحاظ کیجئے ، اس طرح کسی ٹیچر کے بارے میں پوچھنا اچھی بات نہیں ہوتی ، لیکن اسی وقت ایک کہاوت،
’’ ُلاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے ‘‘
یاد آگئی ، ہم نے سوچا اگر ایسا ہی چلتا رہا تو پرنسپل میم نہ جانے کمرہ جماعت میں آکر کسی دن طلبہ کی ان عادتوں اور شور و غل کے سبب ہماری اچھی خاصی عزت افزائی کریں گی !!!
لہٰذا ، ہم نے ہمارے بچپن میں ہمارے اسکول کے ان کے اساتذہ کو یاد کیا جن سے ہم بہت ڈرتے تھے، اور ان کے درس میں کوئی طالبِ علم ہوں بھی نہ کرتا تھا ۔۔۔ اب ہم نے ان کی ترکیبیں اختیار کرنے کی ٹھانی ۔۔۔
مثال کے طور پر ،
ہر وقت منہ لٹکارکھنا ۔
ہر وقت چہرے پر غضب اور غصہ
بالکل بات نہیں کرنا اور اگر زبان کو تکلیف دیں بھی تو منہ سے صرف اور صرف جھاگ نکالنا
طلبہ کو ہر چھوٹی چھوٹی غلطیوں کی سزا دینا
طلبہ کی ہر ضروری و غیر ضروری بات کو نظر انداز کر دینا
شریر اور مستیاں اور شوخیاں کرنے والے طلبہ سے گویا خاندانی دشمنی کا مظاہرہ کرنا وغیرہ ،
ہم نے ان تمام ترکیبوں پر عمل کرنے کی کوشش کی ،
اور شیشے کے سامنے پندرہ منٹ اپنے چہرے پر نقلی غصے کی شکل اختیار کرنے کی کوشش اور پریکٹس بھی کی ۔ اور کمرہ جماعت میں اسکول کے گراؤنڈ میں ہاتھ میں چھڑی( stick) لے کر جلاد بن کر پھر نے لگے ۔
لیکن اتنی کاوشوں کے باوجود کیا مجال کہ کوئی بچہ ہم سے ڈرے ؟؟؟ ڈرنا تو بہت دور وہ تو ہم سے ہی پوچھ رہے تھے کہ مس آپ پریشان کیوں لگتے ہیں ؟؟؟
نہ جانے ہمیں بچپن میں کس معصومیت کے کیڑے نے کاٹ لیا تھا ؟ جس کے زہرکا اثر اب تک جاری ہے؟ اور لاکھ کاوشوں بعد بھی ہماری شکل نہ جانے کیوں سادگی سے بھرپور ،وہی معصومیت، رحم دل اور ترس کھانے والی نظر آتی ہے ؟؟ ؟
اب دوسرا طریقہ اختیار کرنے کی کوشش ،
موٹیویشن ، ہم طلبہ کو موٹیویشن دینے لگے ،
علم کی اہمیت
والدین کی محنت
تعلیم کے فائدے
خواب کی حقیقت
خودی کے درس
استاد کی اہمیت
سائنس کی ترقی
احساس کی دولت
اسلامی تعلیمات
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جیسے عنوانات پر بول بول کر جذباتی حملے بھی کیے ،
لیکن ان سب سے کچھ تو افاقہ ہوا لیکن بہت زیادہ نہیں۔۔۔
اب ہم نے ہمارے ایک اور ٹیچر کو یاد کیا جو ہر بات پر طنز و طعنوں کی مدد سے طلبہ پر ذہنی حملے کرتے تھے ، ان کے طعنوں سے واقعی بہت فائدہ بھی ہوتا تھا۔
لیکن ان طریقہ کو اختیار کرنے کے لیے بارہا دل ودماغ پر جنگ چھڑ جاتی تھی ، آخر کار ہمارا دماغ خود پسندی اور سفاکی کا سہار ا لیتے ہوئے فتح یاب ہوگیا ، اور دل نے بھی مجبور ہو کر اجازت دے دی ،
لیکن ہم نے شرمندگی کے احساس کے ساتھ دلِ ناتواں سے وعدہ کیا کہ طعنوں کا سہارا صرف اسی وقت لیا جائے گا جب طلبہ ہمارے بارے میں ذاتی سوالات کریں گے !
ہم نے طعنوں کا استعمال شروع کیا،
مثال کے طور پر ،
سوال: مس آپ کہاں رہتے ؟؟
جواب: افریقہ کے جنگلات میں ، آپ سے مطلب ؟؟؟
سوال: مس آپ اتنے دبلے کیوں ہیں؟
جواب: ہم کھانا نہیں کھاتے ، ہم تو ہوا پانی کے سہارے ہی جیتے ہیں ۔
سوال: مس آپ کے بچپن میں کمپیوٹر تھا ؟
جواب : نہیں ہم تو محمد بن قاسم کے دور میں تھے ، سندھ کو ہم نے اپنی آنکھوں سے فتح ہوتے ہوئے دیکھا ہے۔۔۔
سوال : مس آپ ۔۔۔۔ برس کے ہیں ؟
جواب :نہیں نہیں ، آپ تو بہت قریب آگئے ، ہم تو گوتم بدھ کے دور کے ہیں ، اس نے ہم سے پوچھ کر بارہ سال تپسیا کی تھی ۔۔۔
سوال: مس آپ گھر کےکام بھی کرتے کیا ؟
جواب: نہیں نہیں ، ہمارے پاس تو الادین کا چراغ ہے نا ، یوں رگڑ لو جن حاضر ،
گھر کے سارے کام وہی تو کرتا ہے!
سوال: مس آپ کے مما بھی آپ کو ڈانٹتے کیا ؟
جواب:: نہیں نہیں ہمارے مما بابا نے ہمیں بڑے پیار سے پالا ہے ،پھولوں میں سجا رکھا ہے ؟؟
ڈانٹ کیا ہوتی ہے ؟ ہم اس لفظ سے بھی نا واقف ہیں ۔۔
سوال: مس آپ کو غصہ آتا ہے کیا ؟
جواب : نہیں نہیں ،ہم تو انسان ہی نہیں نا، کیوں کر غصہ آئے گا ؟
۔۔۔۔۔
۔۔۔۔
۔۔۔۔
اسکے علاوہ ، اور بھی باتیں ہوتی رہیں لیکن ہمارے طعنے زمین بوس ہوگئے ۔۔
ان طعنوں سے تو رتی برابر بھی فرق نہیں پڑا ، بلکہ طلبہ تو مزے لیتے ہوئے ہمارے طعنے سنتے رہے،
اور ہمیں اس شاعر کی یاد آگئی ، نہ جانے وہ کس الم سے گزر رہے تھے کہ یہ مصرع لکھ دیا ،
’’ہماری کشتی وہیں ڈوبی جہاں پانی کم تھا‘‘
ایک دفعہ تو حد ہوگئی ،ایک طالب علم نے بہت زیادہ پریشان کیا ،
ہم کیا کرتے ؟ تشدد پر اتر آئے ،پہلے لفظی حملے کیے ، اور بعد میں جلاد بن کر زوردار طمانچہ رسید کیا۔ اس بچے کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے ! کمرہ جماعت میں سناٹے چھا گئے ۔۔۔
اب ہماری ذہنی کیفیت ، اتنی خراب ہوگئی تھی کہ ایک طمانچہ نے ہم پر منفی خیالات کے ہزاروں بم گر ادیے ، اس معصوم کے بہتے اشکوں نے ہمارے ذہن کو یک لمحہ میں فلسطین پہنچا دیا ، اور وہ روتے بلکتے بچے ، ذہن میں گردش کرنے لگے ، ہمارے خیالات کہہ رہے تھے تم نے اس معصوم پر ظلم کیا ، ظلم ، ظلم ، ظلم، ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگلے دن ہم نے اس بچے سے بات چیت کی ، ہمیں شبہ تھا کہ وہ ناراض ہوگا ۔لیکن وہ تو اگلے لمحے ہی بھول چکا تھا ،کہ ہم نے اسے سزا بھی دی تھی؟ ؟
ہم نے اسے بہت پیار سے سمجھایا اور اسے چاکلیٹ کی لالچ دے کر وعدہ لیا کہ اس طرح کمرہ جماعت میں شور مچانے سے گریز کرے گا۔۔۔ اس کے بعد تمام طلبہ بھی زیادہ باتیں کرنے سے گریز کر رہے تھے ۔
اور پھر ہم
پھر آئے وہیں پہ چلے تھے جہاں سے
وہی پیار بھرے لہجے اور محبت بھرے انداز کا سہارا لے کر طلبہ کو درس دیے جارہے ہیں ۔۔۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے