कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

ٹھاکرے برادران کا اتحاد: خاندانی مفاہمت یا سیاسی ضرورت؟

تحریر: ڈاکٹر سید تابش امام

مہاراشٹر کی سیاست ہمیشہ سے غیر متوقع موڑ لینے کے لیے جانی جاتی ہے، مگر بعض واقعات ایسے ہوتے ہیں جو محض ایک سیاسی خبر نہیں رہتے بلکہ ایک پورے سیاسی عہد کے اختتام اور نئے بیانیہ کے آغاز کا اعلان بن جاتے ہیں۔گزشتہ دنوں ( بدھ کے روز )ممبئی میں ادھو ٹھاکرے اور راج ٹھاکرے کی مشترکہ پریس کانفرنس بھی کچھ اسی نوعیت کا واقعہ تھی۔ برسوں کی تلخی، نظریاتی فاصلوں اور ذاتی کشمکش کے بعد دونوں بھائیوں کا ایک ہی اسٹیج پر آنا محض خاندانی مفاہمت نہیں، بلکہ مہاراشٹر کی سیاست میں طاقت کے توازن کو ازسرِنو متعین کرنے کی ایک سنجیدہ سیاسی کوشش ہے۔
یہ اتحاد ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ممبئی میونسپل کارپوریشن جیسے باوقار اور بااثر ادارے کے انتخابات سر پر ہیں، اور ریاست پہلے ہی سیاسی عدم استحکام، اتحادوں کی کش مکش اور وفاداریوں کی تبدیلی کے مرحلہ سے گزر رہی ہے۔ شیوسینا (ادھو بالا صاحب ٹھاکرے) اور مہاراشٹر نونرمان سینا (ایم این ایس) کا یہ اشتراک بظاہر ایک انتخابی معاہدہ ضرور دکھائی دیتا ہے، مگر درحقیقت یہ مراٹھی سیاست کے اس بنیادی دھارے کو زندہ کرنے کی سعی ہے جس کی بنیاد کبھی بال ٹھاکرے نے رکھی تھی، اور جسے وقت کے ساتھ اقتدار کی سیاست نے کمزور کر دیا تھا۔
ممبئی کے انتخابی منظرنامہ پر اب مقابلہ دو قطبی نہیں رہا۔ ایک طرف مہاوکاس اگھاڑی ہے، جس میں کانگریس اور این سی پی شامل ہیں، دوسری جانب بی جے پی کی قیادت میں مہایوتی کھڑی ہے، اور اب تیسری قوت کے طور پر ٹھاکرے برادران کا اتحاد ابھر کر سامنے آیا ہے۔ یہ سہ رخی صورتحال نہ صرف انتخابی حکمتِ عملیوں کو پیچیدہ بنائے گی بلکہ ووٹر کے ذہن میں بھی نئے سوالات پیدا کرے گی۔ سوال یہ نہیں کہ ووٹ کس کے حق میں جائے گا، بلکہ یہ ہے کہ کون سا بیانیہ شہری زندگی کے حقیقی مسائل کو بہتر طور پر مخاطب کرتا ہے۔
راج اور ادھو ٹھاکرے کے درمیان یہ مفاہمت ایک طویل اور تلخ سیاسی فاصلے کے خاتمہ کی علامت ہے۔ ایک وقت تھا جب راج ٹھاکرے نے نہ صرف ادھو کی قیادت پر شدید تنقید کی تھی بلکہ شیوسینا کی داخلی ساخت کو بھی نشانہ بنایا تھا۔ دوسری جانب ادھو ٹھاکرے نے ایم این ایس کو وقتی اشتعال اور احتجاجی سیاست کا نمائندہ قرار دے کر مسترد کر دیا تھا۔ مگر سیاست میں مستقل دشمنیاں کم ہی پائیدار ہوتی ہیں؛ جب بقا، شناخت اور وجود کا سوال درپیش ہو تو نظریاتی اختلافات پسِ منظر میں چلے جاتے ہیں، اور مفاہمت ناگزیر ہو جاتی ہے۔
بی جے پی کی قیادت نے اس اتحاد کو ابتداء ہی سے شک و طنز کی نگاہ سے دیکھا ہے۔ وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس کا یہ کہنا کہ یہ اتحاد “غیر فطری اور وقتی” ہے، اور اسے “روس-یوکرین اتحاد” سے تشبیہ دینا، محض ایک سیاسی جملہ نہیں بلکہ اس خدشہ کا اظہار ہے کہ مراٹھی شناخت کے اس بیانیہ کی واپسی بی جے پی کے لیے طویل مدتی چیلنج بن سکتی ہے۔ نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کی جانب سے اسے “سیاسی بقا کی کوشش” قرار دینا بھی دراصل ایک دفاعی ردعمل ہے، کیونکہ شندے خود اسی سیاست کے ذریعہ اقتدار میں آئے ہیں جسے وہ آج دوسروں کے لیے قابلِ اعتراض قرار دے رہے ہیں۔
اپوزیشن جماعتوں کا ردعمل نسبتاً محتاط اور مخلوط ہے۔ کانگریس کے وجے وڈیٹیوار نے خاندانی اتحاد پر مسرت کا اظہار ضرور کیا، مگر انتخابی اشتراک کے حوالے سے فاصلہ برقرار رکھا۔ این سی پی کی سپریہ سُلے نے اسے جمہوری سیاست میں ایک مثبت پیش رفت قرار دیا، مگر عملی سیاست میں اس کے اثرات پر لب کشائی سے گریز کیا۔ اس کے برعکس، بی جے پی نے حسبِ روایت ماضی کی تلخیوں، باہمی تضادات اور ذاتی اختلافات کو نمایاں کر کے اس اتحاد کو غیر معتبر ثابت کرنے کی کوشش کی ہے، اور یہ تاثر دیا ہے کہ یہ مفاہمت نظریاتی ہم آہنگی نہیں بلکہ سیاسی مجبوری کا نتیجہ ہے۔
اصل سوال مگر یہی ہے کہ کیا یہ اتحاد محض انتخابی ریاضی کا حصہ ہے، یا اس کے پس پردہ کوئی دیرپا سیاسی وژن بھی کارفرما ہے؟ ادھو اور راج کا ایک ساتھ آنا اس شیوسینا کی یاد دلاتا ہے جس کی بنیاد مراٹھی اسمتا، مقامی روزگار، اور ممبئی پر “مراٹھی مانوس” کے حق پر رکھی گئی تھی۔ مگر بدلتے وقت میں ووٹر صرف شناختی سیاست سے مطمئن نہیں۔ آج کا شہری ووٹر کارکردگی، شفافیت، انتظامی صلاحیت اور بہتر طرزِ حکمرانی کا مطالبہ کرتا ہے۔
ممبئی جیسے کاسموپولیٹن شہر میں صرف مراٹھی شناخت کا نعرہ کافی نہیں۔ یہاں روزگار کے مواقع، رہائش کا بحران، ٹرانسپورٹ کا دباؤ، بنیادی شہری سہولتوں کی خستہ حالی اور بڑھتی ہوئی مہنگائی جیسے مسائل زیادہ اہم ہیں۔ اگر ٹھاکرے برادران ان سوالات پر محض جذباتی تقریروں کے بجائے ایک واضح، عملی اور قابلِ عمل ایجنڈا پیش کرتے ہیں تو یہ اتحاد واقعی ایک سیاسی موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ بصورتِ دیگر، یہ مفاہمت بھی ماضی کے کئی عارضی اتحادوں کی طرح محض انتخابی حکمتِ عملی بن کر رہ جائے گی۔
مہاراشٹر کی سیاست اب ایک ایسے دور میں داخل ہو چکی ہے جہاں خاندان سے زیادہ کارکردگی، نعرے بازی سے زیادہ نیت، اور اتحاد سے زیادہ عوامی اعتماد کی اہمیت ہے۔ ووٹر اب صرف جذباتی اپیل پر فیصلہ نہیں کرتا، بلکہ وہ روزمرہ زندگی سے جڑے سوالات کاواضح جواب چاہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فی الحال یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ ٹھاکرے برادران کا اتحاد کامیابی کا ضامن ہے یا ناکامی کی تمہید۔
بی جے پی کی حکمتِ عملی بہرحال واضح دکھائی دیتی ہے: اس اتحاد کو ماضی کی تلخیوں اور داخلی تضادات کے آئینے میں پیش کر کے کمزور دکھانا، اور ساتھ ہی اپنی حکومت کو “ترقی، استحکام اور ڈبل انجن سرکار” کے بیانیہ سے جوڑے رکھنا۔ اگر ووٹر مراٹھی شناخت کے نعرے پر متحد نہیں ہوتے، تو سہ رخی مقابلہ کا سب سے بڑا فائدہ ممکنہ طور پر بی جے پی ہی کو پہنچے گا۔
بالآخر فیصلہ عوام کے ہاتھ میں ہے۔ آج کا ووٹر نعروں سے زیادہ اپنی روزمرہ زندگی کے مسائل—مہنگائی، روزگار، صحت، تعلیم اور شہری سہولتوں—کے بارے میں جواب چاہتا ہے۔ اگر ٹھاکرے برادران کا اتحاد ان حقیقی سوالات کے ٹھوس اور قابلِ عمل حل پیش کرنے میں کامیاب ہوتا ہے، تو یہ اتحاد محض سیاسی شراکت نہیں رہے گا بلکہ ایک نئے سیاسی عہد کی بنیاد بھی بن سکتا ہے۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ ٹھاکرے برادران کا اتحاد مہاراشٹر کی سیاست کے لیے ایک آئینہ ہے—جو یہ دکھاتا ہے کہ سیاست میں مستقل کچھ نہیں، سوائے مفاد اور ضرورت کے۔ کل کے مخالف آج کے حلیف بن سکتے ہیں، اور آج کے حلیف کل کے ناقد۔ یہی جمہوریت کی اصل روح اور اس کی خوبصورتی بھی ہے۔ یہ اتحاد فی الوقت ایک سوال بھی ہے اور ایک امکان بھی—سوال یہ کہ یہ اتحاد کتنی دیرپا ثابت ہوگا، اور امکان یہ کہ شاید یہی اتحاد مہاراشٹر کی سیاست کو ایک نئی صورت عطا کر جائے۔
رابطہ۔۔۔۔9934933992

 

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے