कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

ٹرمپ اور ممدانی کی ملاقات: تلخیوں کے دشت میں مصلحت کا نخلستان

ازقلم: ڈاکٹر محمد عظیم الدین

سیاست کے صحرا میں اکثر ایسے مناظر ابھرتے ہیں جہاں دشمنی کی تپتی ریت پر مصلحت کے نخلستان اچانک نمودار ہو جاتے ہیں، اور ایسا ہی ایک نادر و نایاب منظر 21 نومبر 2025 کو وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں اس وقت دیکھنے میں آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور نیویارک شہر کے نومنتخب میئر زوہران ممدانی ایک دوسرے کے روبرو ہوئے۔ یہ ملاقات اس اعتبار سے سیاسی تاریخ کا ایک انوکھا باب ہے کہ دونوں رہنماؤں نے ماضی قریب میں ایک دوسرے کے خلاف لفظی گولہ باری اور دشنام طرازی کی انتہا کر دی تھی، مگر اس نشست میں انہوں نے جس خوش اخلاقی اور باہمی یگانگت کا مظاہرہ کیا، اس نے سیاسی پنڈتوں کو انگشت بدنداں کر دیا۔ سیاسی عمل میں مصلحت کی کارفرمائی کس طرح اصولوں اور نظریات کے تضادات پر غالب آتی ہے، اس کی یہ ایک زندہ مثال ہے جہاں اقتدار کی مجبوریوں نے دشمنی کو عارضی دوستی کے قالب میں ڈھال دیا۔
اس ملاقات کے پس منظر میں باہمی رنجشوں اور مخاصمت کی ایک طویل داستان کارفرما تھی۔ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران ممدانی کو "سو فیصد کمیونسٹ دیوانہ” اور "جہادی” جیسے القابات سے نوازا تھا، حتیٰ کہ ان کی امریکی شہریت منسوخ کرنے تک کی دھمکی دی تھی۔ نیویارک شہر کو وفاقی امداد سے محروم کرنے کے اعلانات اور انتخابات کے آخری لمحات میں سابق گورنر اینڈریو کومو کی حمایت کا اعلان اس مخالفت کا منہ بولتا ثبوت تھا۔ دوسری جانب ممدانی نے بھی کوئی کسر نہ چھوڑی تھی اور اپنے انتخابی جلسوں میں ٹرمپ کو "جابر” ،”آمر”اور "فاسسٹ ” قرار دیتے ہوئے خود کو ٹرمپ کے لیے "بدترین خواب” گردانا تھا۔ یہ کشمکش محض شخصی نوعیت کی نہ تھی بلکہ اس کے ڈانڈے گہرے نظریاتی اختلافات سے جا ملتے تھے۔ ممدانی، جو ڈیموکریٹک سوشلسٹس آف امریکہ کے رکن ہیں اور 2021 سے نیویارک ریاستی اسمبلی میں عوامی نمائندگی کا حق ادا کر رہے ہیں، ان کی سیاست کا محور ترقی پسند عوامی فلاح اور معاشی مساوات ہے، جبکہ ٹرمپ کی سیاست قوم پرستی اور معاشی تحفظ پسندی کے گرد گھومتی ہے۔
تاہم، وائٹ ہاؤس کی اس نشست میں دونوں رہنماؤں نے باہمی رنجشوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ایک دوسرے کے لیے ایسے جذبات کا اظہار کیا گویا دیرینہ رفیق ہوں۔ ٹرمپ نے ممدانی کی انتخابی مہم کی ستائش کرتے ہوئے انہیں "انتہائی معقول شخصیت” قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک انتہائی بار آور ملاقات تھی جس میں دونوں کا مشترکہ نصب العین نیویارک شہر سے والہانہ محبت اور اس کی کامیابی کی خواہش تھا۔ ٹرمپ نے یہاں تک کہا کہ ممدانی کی کامیابی میں ہی ان کی خوشی مضمر ہے اور وہ ان کے عہد میں نیویارک میں قیام کو باعثِ اطمینان سمجھیں گے۔ ممدانی نے بھی سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے نظریاتی اختلافات کا اعتراف تو کیا مگر گفتگو کا رخ مشترکہ اہداف کی جانب موڑ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ صدر اور ان کے مابین مؤقف کا واضح تضاد موجود ہے، مگر یہ ملاقات نیویارک کے عوام کو مہنگائی کے شکنجے سے نکالنے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل پر مرکوز رہی، کیونکہ شہر کا ہر چوتھا شہری غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے۔
گفتگو کا محور نیویارک کا سنگین معاشی بحران تھا، جہاں افراطِ زر نے عام آدمی کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ شہر کے نصف محنت کش گھرانے اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہیں اور ان میں سے اکثر اپنی آمدنی کا بڑا حصہ محض رہائش پر خرچ کرنے پر مجبور ہیں۔ ممدانی نے اپنی انتخابی مہم میں "قوتِ خرید کے بحران” کو مرکزی نکتہ بنایا تھا اور اسی تناظر میں رہائش، خوراک اور ایندھن کی قیمتوں میں کمی کے موضوعات زیرِ بحث آئے۔ ٹرمپ نے بھی تسلیم کیا کہ قیمتوں میں کمی جیسے معاملات پر ان کے اور ممدانی کے درمیان حیرت انگیز اتفاق پایا جاتا ہے۔ ممدانی کا سیاسی سفر بھی اسی دردِ دل سے شروع ہوا تھا جب انہوں نے کوئنز میں کم آمدنی والے تارکین وطن کو بے گھر ہونے سے بچانے کے لیے خدمات سرانجام دی تھیں، اور یہی تجربہ انہیں ایوانِ اقتدار تک لے آیا۔
ممدانی کی شناخت امریکی سیاست میں کئی حوالوں سے اہمیت کی حامل ہے۔ وہ نیویارک کے پہلے مسلمان اور پہلے جنوبی ایشیائی میئر بننے کا اعزاز حاصل کر رہے ہیں اور 1889 کے بعد شہر کے سب سے کم عمر میئر بھی ہوں گے۔ کمپالا، یوگنڈا میں پیدا ہونے والے ممدانی، جن کے والدین محمود ممدانی اور میرا نائر علمی و ادبی دنیا کے درخشاں ستارے ہیں، سات برس کی عمر میں نیویارک منتقل ہوئے اور 2018 میں امریکی شہریت حاصل کی۔ ٹرمپ جیسے رہنما کا، جو مسلمانوں پر پابندیوں اور اسلام مخالف بیانات کے لیے جانے جاتے ہیں، ممدانی جیسے سوشلسٹ اور مسلمان رہنما کو "معقول” قرار دینا ایک علامتی تبدیلی کا پیش خیمہ ہے جو بدلتے ہوئے سیاسی حقائق کی غمازی کرتا ہے۔
اس غیر متوقع مصالحت کے اسباب کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ دونوں فریقین کے لیے اس میں سیاسی مفادات پنہاں تھے۔ ٹرمپ کے لیے، جنہیں منفی پروپیگنڈے کا سامنا تھا، یہ ملاقات اپنی امیج کو بہتر بنانے اور خود کو ایک تعمیری اور لچکدار رہنما کے طور پر پیش کرنے کا سنہری موقع تھا۔ دوسری جانب، نیویارک جیسے شہر کے میئر کے لیے، جہاں تارکین وطن کی بڑی تعداد آباد ہے اور جسے وفاقی امداد کی اشد ضرورت ہے، ٹرمپ انتظامیہ سے محاذ آرائی سود مند ثابت نہیں ہو سکتی تھی۔ ممدانی کا یہ بیان کہ وہ شہر کے مفاد میں کسی سے بھی گفتگو کے لیے تیار ہیں، اس بات کا ثبوت ہے کہ ترقی پسند سیاست دان بھی اقتدار کی مجبوریوں اور زمینی حقائق سے صرفِ نظر نہیں کر سکتے۔
اس بظاہر خوشگوار فضا کے باوجود، بنیادی تضادات اور اختلافات اپنی جگہ قائم ہیں۔ ممدانی نے ملاقات کے بعد بھی امریکی خارجہ پالیسی، بالخصوص اسرائیل کے حوالے سے، سخت نکتہ چینی جاری رکھی اور ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے فنڈز کی بندش کی تلوار بدستور نیویارک کے سر پر لٹک رہی ہے۔ ٹرمپ نے دورانِ گفتگو اپنے اس دعوے کا بھی اعادہ کیا کہ انہوں نے ماضی میں پاکستان اور ہندوستان کے مابین تنازعات حل کرائے تھے، جو کہ بین الاقوامی سطح پر متنازعہ دعویٰ ہے۔ یہ تضادات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ مفاہمت شاید وقتی ضرورت کے تحت کی گئی ہے اور اس کی بنیادیں زیادہ گہری نہیں۔
حاصلِ کلام یہ ہے کہ یہ ملاقات جدید امریکی سیاست میں عملیت پسندی اور نظریاتی لچک کی ایک بہترین مثال ہے۔ دونوں رہنماؤں نے اپنے حامیوں کو یہ پیغام دیا کہ عوامی فلاح اور معاشی مسائل کا حل جماعتی وابستگیوں سے بالاتر ہے۔ تاہم، یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ یہ تعاون کتنا پائیدار ثابت ہوگا۔ کیا مستقبل کے بحرانوں میں بھی یہ "مٹھاس” برقرار رہے گی یا تلخیاں دوبارہ سر اٹھائیں گی؟ تاریخ گواہ ہے کہ سیاسی مصلحتیں اکثر عارضی ہوتی ہیں اور نظریاتی تصادم بالآخر اپنی راہ نکال ہی لیتا ہے۔ بہرحال، یہ ملاقات سیاسی تاریخ میں ایک ایسا دلچسپ موڑ ہے جہاں ایک "آمر” اور ایک "کمیونسٹ” ایک ہی میز پر بیٹھ کر مشترکہ محبت کے گیت گاتے ہیں، اور یہی وہ سیاسی شاعری ہے جس کی تشریح آنے والا وقت ہی کرے گا۔

 

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے