कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

ٹرمپ ازم: طاقت کا جنون اور عالمی نظام کی اخلاقی شکست

تحریر:ڈاکٹر سید تابش امام
رابطہ۔9934933992

اکیسویں صدی کی عالمی سیاست پہلے ہی غیر یقینی، طاقت کے غیر متوازن استعمال اور بین الاقوامی اصولوں کی کمزور ہوتی گرفت سے دوچار تھی، مگر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے سیاسی ظہور نے اس بحران میں محض اضافہ ہی نہیں کیا بلکہ اسے ایک نئی، زیادہ جارحانہ اور غیر متوقع سمت دےدی۔ ٹرمپ اب صرف ایک فرد، ایک انتخابی کامیابی یا ایک سیاسی جماعت کا نام نہیں رہے، بلکہ وہ ایک مکمل سیاسی ذہنیت، مخصوص طرزِ حکمرانی اور ایک ایسے رویہ کی علامت بن چکے ہیں جسے عالمی مبصرین نے بجا طور پر “ٹرمپ ازم” کا نام دیا ہے۔ یہ طرزِ فکر شخصی انا، طاقت کے زعم، فوری سیاسی مفاد، داخلی سیاست کو خارجی تنازعات سے جوڑنے اور بین الاقوامی قانون سے تحقیر آمیز بے نیازی پر استوار ہے۔ یہی عناصر مل کر آج عالمی امن کے لیے ایک حقیقی، ہمہ جہت اور دیرپا خطرہ بنتے جا رہے ہیں۔
طاقت بطور اصول:
ٹرمپ ازم دراصل اس تصور کو فروغ دیتا ہے کہ دنیا کو قوانین، معاہدوں اور اداروں کے ذریعہ نہیں بلکہ خوف، دباؤ اور طاقت کے بل پر چلایا جا سکتا ہے۔ یہ سوچ دوسری عالمی جنگ کے بعد تشکیل پانے والے اس عالمی نظم کے عین برعکس ہے جس کی بنیاد اقوام متحدہ، بین الاقوامی قانون، کثیر فریقی سفارت کاری اور طاقت کے توازن پر رکھی گئی تھی۔ ٹرمپ کے بیانیہ میں یہ ادارے یا تو غیر مؤثر دکھائی دیتے ہیں یا امریکہ کے مفادات کی راہ میں رکاوٹ کے طور پر پیش کیے جاتے ہیں، اور یہی تصور عالمی سیاست کو ایک نہایت خطرناک موڑ پر لا کھڑا کرتا ہے۔
شخصیت پرستی کا سیاسی عروج:
ڈونالڈ ٹرمپ کی سیاست کی سب سے نمایاں خصوصیت ان کی شخصیت پرستی ہے۔ وہ خود کو محض امریکہ کا صدر نہیں بلکہ دنیا کا سب سے طاقتور، فیصلہ کن اور ناگزیر رہنما ثابت کرنے پر مصر نظر آتے ہیں۔ ان کے بیانات، ٹویٹس اور تقاریر میں خود ستائی، مبالغہ آرائی اور تاریخی کردار کے دعوے اس شدت سے موجود رہتے ہیں کہ امریکی جمہوری روایت، ادارہ جاتی توازن اور آئینی ضابطہ بھی ان کے سامنے ثانوی دکھائی دینے لگتے ہیں۔ نوبیل انعام برائے عالمی امن کی اعلانیہ خواہش، ہر بڑے تنازع میں خود کو مرکزی کردار کے طور پر پیش کرنا، اور بعض مواقع پر اپنی ہی حکومت کے فیصلوں کے برعکس عوامی دعوے کرنا، ان کی نفسیاتی اور سیاسی ذہنیت کی بھرپور عکاسی کرتا ہے۔ اس ذہنیت میں ریاست اور فرد کے درمیان فاصلہ سمٹ جاتا ہے، اور حکومت گویا ایک شخص کی انا کا عکس بن کر رہ جاتی ہے۔
سفارت کاری میں شخصی طرزِ حکمرانی:
ٹرمپ کی خارجہ پالیسی روایتی امریکی حکمتِ عملیوں سے بنیادی طور پر مختلف رہی۔ ماضی میں امریکہ خارجہ فیصلوں میں اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ، پینٹاگون، کانگریس اور اتحادی ممالک کی رائے کو وزن دیتا تھا، مگر ٹرمپ کے دور میں سفارتی فیصلے اکثر ذاتی تاثر، انتخابی دباؤ، سوشل میڈیا کے فوری ردِ عمل اور ریٹنگ کی سیاست کے تابع دکھائی دیے۔ اس طرزِ عمل نے امریکی پالیسی کے تسلسل میں شدید اضطراب پیدا کیا۔ ایک روز کسی ملک سے دوستی کے اعلانات، اور دوسرے ہی دن اسی ملک پر پابندیوں کی دھمکی — یہی تضاد امریکی خارجہ حکمتِ عملی کا عمومی رنگ بن گیا۔ ایسی غیر مستقل اور جذباتی پالیسیوں سے امریکہ کے اتحادیوں کا اعتماد متزلزل ہوا اور اس کے مخالفین کو مزید جارحانہ سیاست کے لیے اخلاقی اور عملی جواز ملا۔
بین الاقوامی اداروں کے خلاف رویہ:
ٹرمپ ازم کے تحت اقوام متحدہ، نیٹو، عالمی تجارتی تنظیم (WTO) اور ماحولیاتی معاہدے — سب کو “خسارے کامعاہدہ ” یا “امریکہ کے لیے نقصان دہ” قرار دیا گیا۔ اس بیانیے نے عالمی سطح پر وہ اخلاقی توازن توڑ دیا جو بڑی طاقتوں کی ذمہ داری کا بنیادی تقاضہ سمجھا جاتا تھا۔ چھوٹے اور درمیانے ممالک نے یہ محسوس کرنا شروع کیا کہ اصول اور معاہدے نہیں بلکہ محض طاقت ہی فیصلہ کن حقیقت ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ دنیا بھر میں عسکری اخراجات میں اضافہ ہوا، تیل اور معدنی وسائل پر قبضہ کی دوڑ تیز ہوئی، اور علاقائی اتحادوں میں باہمی بداعتمادی کاظہور ہوا۔
لاطینی امریکہ کی مثال:
لاطینی امریکہ میں وینزویلا کے خلاف امریکی رویہ ٹرمپ ازم کی واضح اور جارحانہ جھلک پیش کرتا ہے۔ نکولاس مادورو حکومت کا تختہ پلٹنے کے لیے معاشی پابندیوں، سفارتی دباؤ اور فوجی دھمکیوں کا ایسا ماحول تیار کیا گیا جس نے پورے خطے کو جنگ کے خدشات میں مبتلا کر دیا۔ امریکی بحری و فضائی طاقت کا مظاہرہ، سمندری جہازوں پر مبینہ منشیات مخالف کارروائیاں، اور تیل کے ٹینکروں کو روکنے جیسے اقدامات محض قانون نافذ کرنے کی کوششیں نہیں تھے بلکہ طاقت کے اظہار کا کھلا اور جارحانہ پیغام تھے۔
ٹرمپ انتظامیہ نے مادورو حکومت کو منظم جرائم اور منشیات کارٹلز سے جوڑ کر سخت اقدامات کا جواز پیش کر انہیں طاقت کااستعمال کر نہ صرف اقتدار سے دستبردار کیا بلکہ انہیں شریک حیات کے ہمراہ گرفتار کر امریکہ کی قید میں ڈال دیا۔ جبکہ خود امریکی خفیہ اداروں، اقوام متحدہ کے بعض ذیلی اداروں اور آزاد بین الاقوامی رپورٹس نے ٹرمپ کے دعوؤں کو مبالغہ آمیز اور شواہد سے عاری قرار دیا۔ اس صورتِ حال نے لاطینی امریکہ میں امریکہ مخالف بیانیہ کو مزید مضبوط کیا اور پورے خطہ کو ایک نئی سرد جنگ جیسے ماحول میں دھکیل دیا۔
جنوبی ایشیا اور بھارت:
جنوبی ایشیا میں روسی تیل کے معاملہ پر بھارت کے ساتھ امریکی کشیدگی بھی ٹرمپ ازم کی کلاسیکی مثال ہے۔ روس-یوکرین جنگ کے دوران امریکہ نے نئی دہلی پر بارہا دباؤ ڈالا کہ وہ روس سے تیل کی خریداری بند کرے، مگر بھارت نے واضح اور دو ٹوک الفاظ میں جواب دیا کہ توانائی پالیسی ایک خودمختار ریاستی فیصلہ ہے جسے کسی بیرونی دباؤ کے تحت تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ اس تنازع میں ٹرمپ انتظامیہ کا رویہ سفارتی احترام کے بجائے سودے بازی اور دھمکیوں پر مبنی رہا۔ بھارتی مصنوعات پر محصولات میں اضافہ، تجارتی رعایتوں کا خاتمہ، اور ذاتی سطح پر بھارتی قیادت پر تنقید نے یہ ثابت کر دیا کہ ٹرمپ ازم شراکت داری کے بجائے بالا دستی کا خواہاں ہے۔ یہی رجحان پورے جنوبی ایشیا کو عدم استحکام کی طرف دھکیلنے لگا، جہاں پاکستان، چین اور بھارت کے باہمی تعلقات پہلے ہی نازک توازن پر قائم تھے۔
یورپ اور نیٹو میں اضطراب:
یورپ میں گرین لینڈ خریدنے کی تجویز اور ڈنمارک پر طنزیہ بیانات نے امریکی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا۔ نیٹو کے اتحادی پہلی مرتبہ سنجیدگی سے یہ سوچنے پر مجبور ہوئے کہ آیا امریکہ اب بھی اجتماعی سلامتی کے معاہدے کا قابلِ اعتماد فریق رہا ہے یا نہیں۔ جرمنی، فرانس اور کینیڈا سمیت کئی ممالک نے اپنی خارجہ پالیسی میں امریکی اثر و رسوخ کم کرنے کے امکانات پر غور شروع کیا۔ یہی وہ لمحہ تھا جب “امریکی لیڈر شپ” کا تصور متزلزل ہوا اور یورپ نے کھلے عام یہ اعتراف کیا کہ امریکہ کے بغیر بھی عالمی توازن برقرار رکھنے کے نئے راستے تلاش کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ کی پالیسی:
روس، چین، ایران اور فلسطین کے حوالے سے ٹرمپ ازم کے اثرات سب سے زیادہ گہرے اور دور رس ثابت ہوئے۔ ایران کے جوہری معاہدے سے یکطرفہ امریکی دستبرداری نے مشرقِ وسطیٰ میں ایک نہایت خطرناک عسکری توازن کا ظہور ہوا۔ ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت اور ایران پر عائد سخت پابندیاں پوری دنیا کو کشیدگی کے دہانے تک لے آئیں۔ایران کی حکومت کو تحریک کاروں کے خلاف کارروائی سے متعلق ٹرمپ کا انتباہ بھی ان کی غیر یقینی کیفیت وآمرانہ مزاج کی عکاسی کرتا ہے۔
دوسری جانب فلسطین کے معاملہ میں امریکی پالیسی مکمل طور پر اسرائیل کے حق میں جھکی رہی۔ امریکی سفارت خانہ کی یروشلم منتقلی اور اقوام متحدہ میں فلسطینی قراردادوں پر ویٹو کا مسلسل استعمال اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ ٹرمپ ازم انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون کی جگہ سیاسی اتحادیوں کی خوشنودی کو ترجیح دیتا ہے۔اندنوں ایران میں جاری اس طرزِ عمل نے نہ صرف عرب دنیا بلکہ یورپ اور افریقہ میں بھی امریکہ کے اخلاقی وقار کو شدید نقصان پہنچایا۔
میڈیا، سچائی اور طاقت:
ٹرمپ ازم کا ایک اور خطرناک پہلو میڈیا کے خلاف منظم نفسیاتی جنگ ہے۔ مرکزی کردار کے میڈیا کو “فیک نیوز” قرار دینا اور سوشل میڈیا کے ذریعہ غلط معلومات پھیلانا ایک باقاعدہ حکمتِ عملی بن گئی۔ حیرت انگیز طور پر یہی طرزِ سیاست دنیا کے کئی دیگر ممالک میں بھی اپنایا گیا، جہاں ناپسندیدہ رپورٹنگ کو قومی دشمنی سے جوڑ دیا گیا۔ اس کے نتیجہ میں صحافت کا بنیادی فریضہ — یعنی طاقت کا محاسبہ اور سچ کی تلاش — شدید دباؤ کا شکار ہو گیا۔ فیک نیوز کے شور میں عوامی شعور کمزور پڑنے لگا، مگر یہی وہ مقام ہے جہاں آزاد صحافت کی ذمہ داری دو چند ہو جاتی ہے، کیونکہ میڈیا محض خبر رسانی کا ذریعہ نہیں بلکہ جمہوریت کی اجتماعی عقل ہے جو طاقت اور اخلاق کے درمیان توازن قائم رکھتی ہے۔ اگر یہ کردار تحلیل ہو جائے تو جمہوریت بھی طاقت کے شور میں اپنا جواز کھو دیتی ہے۔
ٹرمپ ازم بطور علامت:
حقیقت یہ ہے کہ ٹرمپ ازم محض ایک شخص یا چند پالیسیوں کا نام نہیں بلکہ ایک ذہنی کیفیت ہے — ایسی سوچ جو اداروں سے بالاتر ہو کر فرد کے ارادے کو قانون کا متبادل بنا دیتی ہے۔ یہ رجحان اب صرف امریکہ تک محدود نہیں رہا۔ برازیل، ہنگری، ترکی اور کئی دیگر ممالک میں بھی اسی نوع کا قومی بیانیہ پروان چڑھ رہا ہے جہاں عوامی غصہ، معاشی بے یقینی اور سیاسی انتشار کو ذاتی نجات دہندہ لیڈروں کے سپرد کر دیا جاتا ہے۔ یہی وہ نازک مقام ہے جہاں دنیا کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ جمہوریت کا مستقبل اصولوں پر استوار ہوگا یا شخصی طاقت کے سہارے۔
مستقبل کا عالمی منظرنامہ:
اگر ٹرمپ ازم یا اس سے مشابہ سیاست نے عالمی اداروں کو مزید کمزور کیا تو آنے والے دنوں میں معاشی جنگیں، سائبر حملہ، تجارتی بلیک میلنگ اور پراکسی تصادم معمول بن جائیں گے۔ دنیا پہلے ہی موسمیاتی بحران، مہاجرت، معاشی ناہمواری اور ٹیکنالوجی کی اجارہ داری جیسے پیچیدہ مسائل سے دوچار ہے۔ ان حالات میں طاقت پر مبنی سیاست عالمی امن کے لیے نہایت مہلک ثابت ہو سکتی ہے۔ قانون، انصاف اور بین الاقوامی تعاون ہی وہ ستون ہیں جن پر اکیسویں صدی کی دنیا کو قائم رہنا چاہیے۔ اگر یہ ستون منہدم ہو گئے تو طاقتور ممالک کے باہمی تصادم کا خطرہ بڑھ جائے گا اور چھوٹے ممالک ہمیشہ دباؤ کے شکنجہ میں جکڑے رہیں گے۔
الغرض ٹرمپ ازم ایک ایسی ذہنیت ہے جو اپنی طاقت کو قانون سے بلند اور اپنی انا کو اصول سے برتر سمجھتی ہے۔ یہ روش عالمی سیاست کو محض غیر متوازن ہی نہیں بلکہ غیر اخلاقی بھی بنا دیتی ہے۔ آج دنیا کے سامنے اصل آزمائش یہی ہے کہ طاقت کے اس شور میں قانون، انسانیت اور سچائی کی آواز کو کس طرح زندہ رکھا جائے — کیونکہ یہی آواز عالمی امن کی اساس بھی ہے اور انسانی تہذیب کے مستقبل کی ضمانت بھی۔

 

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے