कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

ویلنٹائن ڈے: محبت کے نام پر تہذیبی استحصال

رشحات قلم:مفتی محمد تسلیم الدین المحمودی

لفظِ محبت اپنی ماہیت میں ایک نہایت مقدس، پاکیزہ اور رفعتِ انسانی کا مظہر مفہوم رکھتا ہے جو اخلاقی اقدار کی آبیاری اور انسانی عظمت کی تشکیل کا ذریعہ بنتا ہے، مگر ازل سے شیطانِ لعین نے بنی نوع انسان کو ہر موڑ پر تلبیس و تغلیط کے جال میں الجھایا، کبھی فریب کے پردے میں اور کبھی جعل سازی کے حسین عنوان کے تحت، حتیٰ کہ انسانی روابط اور تعلقات کی دنیا میں بھی اس نے صداقت کی جگہ تصنع اور اخلاص کی جگہ نمود و نمائش کو رواج دے دیا۔ حالانکہ حقیقی محبت کا مستحق بالذات صرف اللہ تعالیٰ اور اس کے محبوبِ مکرم ﷺ ہیں، اور یہی ایک مؤمن کی امتیازی شان اور روحانی شناخت ہے کہ وہ اپنی پوری حیاتِ مستعار کے ہر لمحے کو اسی حقیقی محبت کے سانچے میں ڈھال دے۔
دینِ اسلام وہ جامع اور ہمہ گیر نظامِ حیات ہے جس نے انسان کو چوبیس گھنٹوں کی زندگی اور سال کے تین سو پینسٹھ دنوں کے معمولات کے لیے مکمل رہنمائی عطا فرمائی، اسے کسی لمحے بھی بے سمت اور تنہا نہیں چھوڑا، بلکہ اس کی مسرت و الم، راحت و رنج، صحت و مرض، خوشی و غم اور ہر کیفیتِ زیست کے لیے واضح اور بامقصد ہدایات فراہم کیں۔ اسلام کی عطا کردہ مسرتیں وقتی اور فانی نہیں بلکہ دائمی اور پائیدار ہیں، اسی طرح اس نے انسانی تعلقات کو بھی مضبوط بنیادیں فراہم کیں تاکہ انسان معاشرے میں باوقار اور سربلند ہوکر زندگی گزار سکے۔
کسی مخصوص دن کو بنیاد بنا کر ناجائز اور غیر مشروع روابط کی تشکیل نہ صرف تعلقات کے انہدام کا باعث بنتی ہے بلکہ معاشرتی اخلاقیات کے زوال اور تہذیبی انحطاط کا پیش خیمہ بھی ثابت ہوتی ہے، اسی لیے شریعتِ مطہرہ نے عارضی اور جذباتی وابستگیوں کے بجائے مضبوط، دائمی اور مشروع رشتوں کو قدر و منزلت عطا کی ہے۔ عصرِ حاضر میں جسے "یومِ محبت” کے خوشنما عنوان سے موسوم کیا جا رہا ہے، درحقیقت وہ ایک دل فریب سراب اور حسین فریب ہے جس کے پردے میں اخلاقی اقدار کو مجروح کیا جا رہا ہے اور معاشرے میں دھوکہ دہی، بے راہ روی اور فکری انتشار جیسے مہلک امراض جنم لے رہے ہیں۔
چنانچہ ایک مسلمان ہونے کے ناتے ہماری محبت کا اصل محور اور مرکز اللہ تعالیٰ اور اس کے محبوبِ معظم ﷺ کی ذاتِ اقدس ہونی چاہیے۔ قرآنِ حکیم اور احادیثِ نبویہ میں اللہ تعالیٰ سے محبت کو ایمان کا لازمی جزو قرار دیا گیا ہے اور اللہ کے صالح بندوں کی اسی صفت کو بطورِ خاص ذکر کیا گیا ہے کہ وہ محبتِ الٰہی میں سبقت لے جانے والے ہیں۔ چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَشَدُّ حُبًّا لِلّٰهِ(القرآن )
(اور جو لوگ ایمان والے ہیں وہ سب سے زیادہ اللہ سے محبت رکھتے ہیں)
اسی طرح سورۃ التوبہ میں تمام اہلِ ایمان کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے محبوب رسول ﷺ کی محبت اس درجہ غالب اور ہمہ گیر ہو کہ کوئی دوسرا رشتہ اور کوئی دوسری محبت اس پر فوقیت نہ پا سکے، اور جس نے اس معیارِ محبت کو حاصل نہ کیا وہ عذابِ الٰہی کا مستحق اور بازپرسِ آخرت کا سزاوار ہوگا۔ ایمان کی حقیقت اسی وقت مکمل اور معتبر قرار پاتی ہے جب اللہ تعالیٰ اور اس کے محبوب رسول ﷺ کی محبت دنیا اور جان سے بھی بڑھ کر ہو۔
خود سرورِ دو عالم حضرت محمد مصطفی ﷺ کا فرمانِ مبارک ہے:
کوئی آدمی اس وقت تک مؤمن نہیں ہوسکتا جب تک کہ میں اس کے نزدیک اس کے باپ، اولاد اور دنیا کے تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں
اس سے واضح ہوتا ہے کہ ایمان کی تکمیل اسی محبت پر موقوف ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کو تمام محبتوں پر غالب کر دے۔ (معارف القرآن)
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کسی نے استفسار کیا کہ آپ کو حضور اکرم ﷺ سے کس درجہ محبت تھی؟ تو آپ نے ارشاد فرمایا:
"خدائے پاک کی قسم! حضور اکرم ﷺ ہمیں اپنے اموال، اپنی اولاد، اپنی ماؤں بلکہ شدتِ پیاس کے عالم میں ٹھنڈے پانی سے بھی زیادہ محبوب تھے۔”(شفاء)
اسی طرح حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا:
"یارسولَ اللہ! آپ مجھے اپنی جان کے علاوہ ہر چیز سے زیادہ محبوب ہیں”
تو حضور اکرم ﷺ نے فرمایا:
"کوئی شخص اس وقت تک مؤمن نہیں ہوسکتا جب تک کہ وہ مجھے اپنی جان سے بھی زیادہ محبوب نہ رکھے”
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا:
"یارسولَ اللہ! اب آپ مجھے اپنی جان سے بھی زیادہ محبوب ہیں”
تو حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:اَلْاٰنَ یَاعُمَرَ!
یعنی اب تمہارا ایمان کامل ہوا۔ (اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ یہ کیفیت پہلے ہی ہونی چاہیے تھی)
مزید برآں حضور اکرم ﷺ کا ارشاد ہے:
"میرے ساتھ محبت رکھنے والے بعض ایسے لوگ ہوں گے جو میرے بعد پیدا ہوں گے اور ان کی یہ تمنا ہوگی کہ کاش وہ اپنے اہل و عیال اور مال کے بدلے میں مجھے دیکھ لیتے۔”(فضائل اعمال)
ہمارے معاشرے میں اغیار کی اندھی تقلید نے محبت کے حقیقی مفہوم کو مسخ کر دیا ہے اور محبت کے نام پر ایسی لغویات اور بے ہودہ رسوم کو فروغ دیا جا رہا ہے جو اخلاقی اقدار اور انسانی وقار کے سراسر منافی ہیں، جنہیں کوئی صاحبِ عقل و بصیرت شخص قبول نہیں کرسکتا۔
لہٰذا خدارا! اپنی محبت کو اللہ تعالیٰ اور اس کے محبوب رسول ﷺ کے ساتھ وابستہ کیجیے، کیونکہ حقیقتِ محبت دراصل اللہ اور رسول ﷺ کی پاکیزہ تعلیمات میں مضمر ہے۔ محبت کے نام پر اخلاقی حدود کو پامال کرنا کسی مؤمن کی شان نہیں، بلکہ یہ یاد رکھنا چاہیے کہ رسولِ اکرم ﷺ کی محبت کا تقاضا یہ ہے کہ آپ ﷺ کی کامل اتباع کی جائے، آپ ﷺ کے اسوۂ حسنہ کو اختیار کیا جائے، آپ ﷺ کے اقوال و افعال کی پیروی کی جائے، آپ ﷺ کے اوامر کی تعمیل کی جائے اور جن امور سے آپ ﷺ نے منع فرمایا ہے ان سے اجتناب کیا جائے، خوشی ہو یا غم، تنگی ہو یا فراخی، ہر حال میں آپ ﷺ کے طریقے کو معیارِ زندگی بنایا جائے۔
پھر اس کے صلے میں کیا ملے گا؟ تو محبوبِ کائنات ﷺ کا یہ فرمانِ نورانی سن لیجیے:
المرء مع من أحب
یعنی انسان قیامت کے دن اسی کے ساتھ ہوگا جس سے وہ محبت کرتا ہے۔ جب رسول اللہ ﷺ جنت کے اعلیٰ ترین درجات میں جلوہ افروز ہوں گے تو یہ عاشقانِ رسول ﷺ بھی اپنے محبوب کے گرد حلقہ زن ہوں گے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں بھی یہی حقیقی، صادق اور دائمی محبت عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے