कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

ویلنٹائن ڈے:فحاشی کا دن یا تہذیبی یلغار؟

از:محمد رضوان الدین حسینی
فاضل دارالعلوم وقف دیوبند

کسی بھی قوم کی اصل پہچان اس کے افکار، اعمال اور اخلاقی اقدار سے ہوتی ہے۔ جب کوئی قوم اپنی تہذیبی بنیادوں کو فراموش کر کے غیر اقوام کی اندھی تقلید میں مبتلا ہو جائے تو اس کا انجام فکری زوال اور اخلاقی پستی کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ آج مسلم معاشرہ جس نازک دور سے گزر رہا ہے، اس میں سب سے بڑا فتنہ اخلاقی انحطاط اور فحاشی کا فروغ ہے، جو بظاہر خوشنما نعروں اور تہذیبی تقریبات کے پردے میں ہم پر مسلط کیا جا رہا ہے۔
انہی فتنوں میں سے ایک 14 فروری کو منایا جانے والا نام نہاد ویلنٹائن ڈے ہے، جسے محبت، اظہارِ جذبات اور آزادیٔ تعلقات کے نام پر عام کیا جاتا ہے، مگر حقیقت میں یہ دن اسلامی اقدار، مشرقی تہذیب اور انسانی حیا کے سراسر خلاف ہے۔
اسلام محبت کا دشمن نہیں، بلکہ اسلام نے محبت کو پاکیزگی، حیا اور ذمہ داری کے دائرے میں رکھا ہے۔ ماں باپ سے محبت، اولاد سے شفقت، میاں بیوی کے درمیان محبت اور اللہ و رسول ﷺ سے تعلق یہ سب اسلام کے حسین ترین تصورات ہیں۔ لیکن اسلام ایسی محبت کو ہرگز جائز قرار نہیں دیتا جو شریعت کی حدود کو پامال کرے اور انسان کو گناہ کی دلدل میں دھکیل دے۔
قرآن مجید میں صاف اور دو ٹوک انداز میں فرمایا گیا:
وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنٰی ۚ اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةً وَّسَآءَ سَبِيْلًا
(سورۃ الإسراء: 32)
“زنا کے قریب بھی مت جاؤ، بے شک وہ بے حیائی ہے اور بہت ہی برا راستہ ہے۔”
غور کیجیے! قرآن نے صرف زنا سے منع نہیں کیا بلکہ اس کے قریب جانے سے بھی روک دیا، اور ویلنٹائن ڈے جیسے مواقع تو زنا کے قریب جانے کا نہیں بلکہ اس کی تمہید بن چکے ہیں۔
آج کے اس نام نہاد تہذیبی دن میں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں جس بے باکی کے ساتھ اختلاط، بے حیائی اور غیر شرعی تعلقات میں مبتلا ہو رہے ہیں، وہ فحاشی کے زمرے میں آتا ہے۔ قرآن مجید ایسے لوگوں کے بارے میں سخت وعید سناتا ہے:
اِنَّ الَّذِيْنَ يُحِبُّوْنَ اَنْ تَشِيْعَ الْفَاحِشَةُ فِي الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ
(سورۃ النور: 19)
“جو لوگ چاہتے ہیں کہ ایمان والوں میں بے حیائی پھیلے، ان کے لیے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہے۔”
یہ آیت ان تمام افراد، اداروں اور رجحانات پر ایک زوردار چوٹ ہے جو فحاشی کو تہذیب اور آزادی کا نام دے کر معاشرے میں عام کرنا چاہتے ہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے امت کو نہایت واضح الفاظ میں حیا اور پاکدامنی کی تعلیم دی۔ آپ ﷺ کا ارشاد ہے:
الْحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِّنَ الْإِيْمَانِ
(صحیح بخاری)
“حیا ایمان کا ایک حصہ ہے۔”
اور ایک موقع پر فرمایا:
إِذَا لَمْ تَسْتَحْيِ فَاصْنَعْ مَا شِئْتَ
(صحیح بخاری)
“جب تم میں حیا نہ رہے تو پھر جو چاہو کرو۔”
آج ویلنٹائن ڈے کے نام پر جو کچھ ہو رہا ہے، وہ دراصل حیا کے جنازے کے مترادف ہے، اور جب حیا ختم ہو جائے تو ایمان کمزور پڑ جاتا ہے۔
یہ بات ناقابلِ انکار ہے کہ مغربی کلچر کی اندھی نقالی نے ہماری نئی نسل کی فکری اور اخلاقی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ تعلیم کے نام پر، ترقی کے نام پر اور آزادی کے نام پر نوجوانوں کو ایسی راہوں پر ڈالا جا رہا ہے جن کا انجام صرف روحانی بربادی ہے۔
قرآن ہمیں غیر اقوام کی اندھی تقلید سے خبردار کرتا ہے:
وَلَنْ تَرْضٰى عَنْكَ الْيَهُوْدُ وَلَا النَّصٰرٰى حَتّٰى تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمْ
(سورۃ البقرہ: 120)
یہود و نصاریٰ تم سے ہرگز راضی نہیں ہوں گے جب تک تم ان کے طریقے کی پیروی نہ کرو۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے نوجوانوں، بچوں اور بچیوں کو قرآن و سنت کی تعلیمات سے جوڑیں، انہیں حیا، عفت اور نکاح کی اہمیت سمجھائیں، اور ایسے تمام غیر اسلامی تہواروں اور دنوں سے دور رکھیں جو فحاشی اور گناہ کا ذریعہ بن رہے ہیں۔
یہ صرف علما یا والدین کی ذمہ داری نہیں بلکہ پورے معاشرے کی اجتماعی ذمہ داری ہے کہ ہم اپنی تہذیب، ایمان اور اقدار کی حفاظت کریں۔
ویلنٹائن ڈے ایک فکری یلغار ہے، جو ہماری نئی نسل کے ایمان، اخلاق اور کردار کو کھوکھلا کر رہی ہے۔ اگر ہم نے آج ہوش کے ناخن نہ لیے تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں فحاشی، بدعات اور خرافات سے محفوظ رکھے، ہمارے نوجوانوں کی حفاظت فرمائے، اور ہمیں قرآن و سنت کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے