कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

وہ لمحے جو دل میں آج بھی روشنی بکھیرتے ہیں: استادوں کی محنت اور دعا کی داستان

تحریر: خان اجمیری(عرف خان میڈیم) زوجہ ڈاکٹر خان خرم زبیر
B.sc [Cs & C.B.Z ] B.Ed MCA
ڈائریکٹر اسٹڈی اسمارٹ کوچنگ کلاسیس اردھاپور ضلع ناندیڑ مہاراشٹر

استاد کا تعلق انسانی زندگی کے ہر شعبے سے جڑا ہوا ہے۔ اگر ہم ذرا سا غور کریں تو معلوم ہوگا کہ انسان ماں کی گود سے نکل کر سب سے پہلے استاد کی گود میں ہی پلتا ہے۔ استاد نہ صرف الفاظ اور اعداد کی پہچان کراتا ہے بلکہ زندگی کے اصول، اچھائی اور برائی کی تمیز، انسانیت کی پہچان اور سب سے بڑھ کر اپنے خالق کو جاننے کا ذریعہ بنتا ہے۔ اسلام نے استاد کو انبیاء کا وارث قرار دیا ہے اور یہ دراصل اس بات کی دلیل ہے کہ استاد محض دنیاوی رہنما نہیں بلکہ روحانی اور دینی وراثت کا حامل ہے۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ علما انبیاء کے وارث ہیں۔ یعنی جو لوگ علم سکھاتے ہیں وہ دراصل انبیاء کے مشن کو آگے بڑھاتے ہیں۔ اس سے یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ استاد کا مقام محض ایک پڑھانے والے کا نہیں بلکہ وہ نبوت کے راستے کا امین ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اور موقع پر فرمایا کہ جو کسی کو علم سکھاتا ہے، جب تک وہ علم اس پر عمل کرتا رہے گا، استاد کو بھی اس عمل کا برابر اجر ملتا رہے گا۔ یہ تصور استاد کو قیامت تک کے لیے صدقہ جاریہ بناتا ہے۔
استاد کی مثال اس چراغ جیسی ہے جو دوسروں کو روشنی دیتا ہے اور خود جلتا رہتا ہے۔ یہ قربانی کا وہ جذبہ ہے جس کی بنیاد پر طلبہ علم حاصل کرکے اپنے مستقبل کو روشن کرتے ہیں۔ استاد اپنی راحت اور وقت قربان کرتا ہے تاکہ طلبہ کامیاب زندگی گزار سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ استاد کی عزت اور احترام کو اسلام میں والدین کے احترام کے بعد قریب ترین درجے پر رکھا گیا ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ جس نے مجھے ایک لفظ بھی سکھایا میں اس کا غلام ہوں۔ یہ قول طلبہ کے لیے پیغام ہے کہ استاد کی عزت محض اخلاقی فریضہ نہیں بلکہ ایک ایمانی ذمہ داری ہے۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ وہ میری امت میں سے نہیں جو بڑوں کی عزت نہ کرے، چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور عالم کے حق کو نہ پہچانے۔ اس فرمان میں استاد کے مقام کو ایک معیار ایمان قرار دیا گیا ہے۔ جو شاگرد استاد کا احترام نہیں کرتا وہ دراصل اپنے ایمان کے کمال سے بھی محروم رہتا ہے۔
اسلام میں استاد اور شاگرد کا رشتہ صرف ایک معاہدہ یا دنیاوی تعلق نہیں بلکہ ایک دینی اور روحانی تعلق ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو قرآن سیکھے اور دوسروں کو سکھائے۔ یہ فرمان استاد اور شاگرد دونوں کو اعلیٰ درجہ عطا کرتا ہے۔ ایک طرف طالب علم کو قرآن سیکھنے کا مقام حاصل ہوتا ہے اور دوسری طرف استاد کو قرآن سکھانے کا شرف ملتا ہے۔
آج کے دور میں جب فتنوں کا غلبہ ہے، ٹیکنالوجی نے انسان کی سوچ کو بدل دیا ہے اور نظریات کی دنیا نے سچ اور جھوٹ میں تمیز مشکل کردی ہے، وہاں استاد کا کردار اور بھی بڑھ جاتا ہے۔ استاد کو چاہیے کہ وہ محض کتابی علم نہ دے بلکہ طلبہ کے دلوں میں ایمان کی روشنی پیدا کرے، ان کے اخلاق سنوارے، کردار مضبوط کرے اور انہیں دین و دنیا دونوں میں کامیابی کی راہیں دکھائے۔ اسی طرح طلبہ پر لازم ہے کہ وہ استاد کا احترام کریں، ان کی نصیحت کو زندگی میں جگہ دیں اور ان کے علم پر عمل کریں۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نیکی یہ نہیں کہ تم اپنے اساتذہ کی نافرمانی کرو۔ یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ استاد کا ادب اور اطاعت نیکی کے دائرے میں شامل ہے۔ طلبہ اگر استاد کی نافرمانی کریں تو دراصل وہ علم کی برکت سے محروم ہوجاتے ہیں۔ استاد کی دعا شاگرد کے لیے دنیا و آخرت میں کامیابی کا ذریعہ بنتی ہے۔ والد کی دعا، روزے دار کی دعا اور مظلوم کی دعا رد نہیں ہوتی، اسی طرح استاد کی دعا بھی اپنی اخلاص کی وجہ سے اللہ کے ہاں قبولیت کا درجہ رکھتی ہے۔
آج کے استاد پر بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ وہ محض ایک مضمون یا ایک سبق کا معلم نہیں بلکہ ایک کردار ساز، ایک رہبر اور ایک رہنما ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا ہے۔ یہ اعلان اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ تعلیم کا اصل مقصد تربیت ہے۔ استاد کو چاہیے کہ وہ طلبہ کو صرف اچھا ڈاکٹر، انجینئر یا پروفیسر نہ بنائے بلکہ ایک اچھا مسلمان، نیک انسان اور سچا شہری بھی بنائے۔
موجودہ طلبہ کے لیے سب سے بڑا پیغام یہی ہے کہ وہ استاد کو اپنی کامیابی کی بنیاد سمجھیں۔ علم حاصل کرنا صرف ڈگری کے لیے نہ ہو بلکہ کردار کی تعمیر کے لیے ہو۔ استاد کی نصیحت پر عمل کریں، ان کے ساتھ ادب اور عاجزی سے پیش آئیں۔ یاد رکھیں کہ استاد کی بددعا انسان کی زندگی کو اندھیروں میں ڈال سکتی ہے اور استاد کی دعا انسان کو بلندیوں پر پہنچا سکتی ہے۔
آخر میں یہ حقیقت تسلیم کرنا پڑتی ہے کہ استاد وہ چراغ ہے جو جل کر دوسروں کو روشنی دیتا ہے، استاد وہ رہبر ہے جو شاگرد کو منزل تک پہنچاتا ہے، اور استاد وہ محسن ہے جس کے قدموں میں کامیابی کی تمام راہیں پوشیدہ ہیں۔ اگر طلبہ اپنے استاد کا ادب کریں اور استاد اپنی ذمہ داریاں اخلاص کے ساتھ نبھائیں تو ایک ایسی نسل تیار ہوگی جو نہ صرف اپنے والدین اور معاشرے کے لیے باعث فخر ہوگی بلکہ دین اسلام کی سربلندی کا ذریعہ بھی بنے گی۔
زندگی میں علم ایک ایسا چراغ ہے جو انسان کے دل و دماغ کو منور کرتا ہے اور اندھیروں میں روشنی پھیلاتا ہے۔ استاد وہ رہنما ہے جو محض معلومات نہیں دیتا بلکہ شخصیت، کردار اور اخلاق کی تربیت بھی فراہم کرتا ہے۔ والدین جسمانی پرورش کرتے ہیں، لیکن استاد ذہن و روح کو سنوار کر انسان کو کامیابی کی راہوں پر لے جاتے ہیں۔ میں نے اپنی دسویں جماعت تک کی تعلیم 2006 ڈاکٹر اقبال اردو ماڈل ہائی سکول، اردھاپور، ضلع ناندیڈ سے مکمل کی۔
اور اس دوران میرے استاد میرے لیے مشعل راہ اور زندگی کے رہنما بنے۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: “کیا وہ لوگ جو جانتے ہیں اور وہ جو نہیں جانتے برابر ہوسکتے ہیں؟” (الزمر: 9)۔
مرحوم یوسف سر، ہمارے ہیڈ ماسٹر، علم، وقار اور محبت کے نمونہ تھے۔ وہ محنت کی قدر اور وقت کی اہمیت سکھاتے۔ ان کے اندازِ تدریس سے سبق یہ ملتا کہ علم محض کتابی نہیں بلکہ عمل اور اخلاق کے ساتھ جڑا ہونا چاہیے۔ قرآن کی آیت: “اور یہ کہ انسان کو وہی ملتا ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے۔” (النجم: 39)۔ یوسف سر نہ صرف مضمون پڑھاتے بلکہ شاگردوں کے مسائل کو بھی صبر اور محبت کے ساتھ سنتے، اور ہر شاگرد کو حوصلہ دیتے۔ وہ طلبہ کے لیے ایک روحانی رہنما بھی تھے۔
ساجد سر ہمارے اردو کے استاد تھے، اور ان کی تعلیم نے ہمارے دلوں میں علم اور ادب کی محبت جگائی۔ وہ ہر سبق اتنی محنت اور لگن سے پڑھاتے کہ ہر لفظ ہمارے ذہن اور دل میں اتر جاتا تھا۔ ساجد سر نہ صرف ہمیں درست اور خوبصورت لکھنا سکھاتے بلکہ ہماری تحریر میں چھپی غلطیوں کو صبر اور محبت سے درست کرتے، تاکہ ہم اپنی صلاحیتوں کو پہچان سکیں۔ ان کی رہنمائی میں ہم صرف زبان نہیں بلکہ اچھے اخلاق، تحمل اور خوداعتمادی بھی سیکھتے تھے۔ ہر لمحہ ان کے ساتھ ہمیں یہ احساس دلاتا تھا کہ علم صرف کتابوں تک محدود نہیں بلکہ زندگی میں کامیابی کا سب سے مضبوط راستہ ہے۔ ساجد سر کی محبت اور محنت آج بھی ہمارے دلوں میں زندہ ہے اور ہمیں زندگی میں آگے بڑھنے کی ترغیب دیتی ہے۔
وہ اردو کو اسی چاشنی کے ساتھ پڑھاتے تھے جسکی وہ حقدار ہیں ۔
وہ طلبہ کے سوالات کو صبر اور محبت کے ساتھ جواب دیتے تھے
۔ ساجد سر نہ صرف علم بلکہ صبر، محنت اور اخلاق کی اہمیت بھی سکھاتے ہیں، اور آج ان کے شاگرد دنیا کے مختلف حصوں میں علم اور محنت کے ذریعے روشنی پھیلا رہے ہیں
۔قرآن کی آیت: “اور یہ کہ انسان کو وہی ملتا ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے۔” (النجم: 39)
آمنہ میڈم نے مراٹھی میں ہمیں نرمی اور محبت سے پڑھایا۔ وہ ہر طالب علم کی صلاحیت کو بڑھانے کے لیے صبر اور وقت لگاتی تھیں۔
قرآن فرماتا ہے: “بیشک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔” (البقرہ: 153)۔
اویس سر نے انگریزی میں اپنی مہارت سے مشکل قواعد کو دلچسپ اور آسان مثالوں کے ذریعے واضح کیا۔ ان کی کلاس میں ہر سبق نہ صرف معلوماتی بلکہ اثر انگیز ہوتا تھا۔ وہ زبان سکھانے کے ساتھ اخلاق، محنت اور عملی زندگی کے اسباق بھی دیتے۔ قرآن فرماتا ہے: “اور ہم نے تمہیں مختلف قوموں اور قبیلوں میں پیدا کیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو۔” (الحجرات: 13)۔
عائشہ میڈم الجبرا پڑھاتے ہیں اور ہر مشکل مسئلہ کو آسان اور دلچسپ بنا دیتی ہیں۔
خاص طور سے ٹگنومینٹری آج بھی یاد ہیں۔
قرآن فرماتا ہے: “بیشک مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔” (الشرح: 6)۔
مشیر سر سائنس میں تجربات کے ذریعے طلبہ کو غور و فکر کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔
قرآن فرماتا ہے: “بیشک آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور رات دن کی گردش میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔” (آل عمران: 190)۔
اسماء میڈم کی تاریخ اور شہریت کی کلاس نے ہمیں ماضی سے جڑنے اور معاشرتی شعور حاصل کرنے کا موقع دیا۔ قرآن فرماتا ہے: “پس عبرت حاصل کرو اے دیدۂ عبرت رکھنے والو۔” (الحشر: 2)۔
مجاہد سر جغرافیہ پڑھاتے تھے اور ان کے سبق میں دنیا کے نقشے اور جغرافیائی حقائق ہمیں کائنات کی تخلیق اور اللہ کی قدرت سمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔ قرآن فرماتا ہے: “کیا تم زمین میں چل پھر کر نہیں دیکھتے تاکہ سمجھ سکو؟” (یوسف: 109)۔
رزاق سر نے جیومیٹری میں محنت اور سمجھ بوجھ کی اہمیت دکھائی، جبکہ سر کے جیسا جیومیٹری شاید ہی کوئی مہاراشٹرا میں پڑھا تا ہو۔
رؤف سر نے مراٹھی میں سبق محبت اور دلچسپی کے ساتھ پڑھایا۔
یہ تینوں استاد اب ریٹائر ہو چکے ہیں، لیکن ان کی محنت آج بھی ہمارے دلوں میں زندہ ہے۔
سراج سر ساتویں جماعت میں ریاضی کے مشکل تصورات کو دلچسپ انداز میں سمجھاتے، اور جلیل سر کی شفقت اور رہنمائی ہمیشہ یاد رہتی ہے۔
نون ٹیچنگ اسٹاف میں شکیل سر اور اظہر بھائی، تنویر بھائی کی خدمت نے ہمیں یہ سبق دیا کہ ہر فرد کا کردار معاشرے میں اہم ہے۔ قرآن فرماتا ہے: “اور نیکی اور پرہیزگاری میں ایک دوسرے کی مدد کرو۔” (المائدہ: 2)۔
آج جو کچھ بھی میں ہوں، یہ سب انہی اساتذہ کی بدولت ہے۔ یہ وہی استاد ہیں جنہوں نے ہمارا تعلیمی بنیاد مضبوط کیا۔ آج ان کے ذریعہ تعلیم حاصل کرنے والے بچے دنیا کے مختلف حصوں میں اپنی محنت اور علم کے ذریعے روشنی پھیلا رہے ہیں۔ اگر میں ان کی محنت کو صرف الفاظ میں محدود کر دوں تو یہ نانصافی ہوگی۔ قرآن فرماتا ہے: “اور جو شخص اللہ کی راہ میں نیکی کرے، وہ اس کے حق میں ہے۔” (المائدہ: 9)۔
استاد صرف علم نہیں دیتے بلکہ صبر، اخلاق، محنت اور صحیح راستے کا شعور بھی دیتے ہیں۔ آج کے معاشرے میں استاد کی عزت اور مقام میں کمی دیکھ کر دکھ ہوتا ہے۔ والدین، طلبہ اور حکومت کو مل کر استاد کی اہمیت کو دوبارہ بحال کرنا ضروری ہے۔
آخر میں دعا ہے: اے اللہ! ہمارے استادوں کی محنت کو قبول فرما، ان کے علم کو باقی نسلوں کے لیے روشنی کا ذریعہ بنا، ان پر اپنی رحمت نازل فرما اور ان کی زندگی میں سکون اور خوشی عطا فرما۔ آمین۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے