कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

ووٹ کی حرمت اور قوم کا مستقبل: فیصلہ کن لمحہ اور ہماری اجتماعی ذمہ داری

از قلم: ڈاکٹر سید تابش امام
رابطہ۔9934933992

ملک کی جمہوری فضا اس وقت ایک نہایت اہم اور نازک مرحلے سے گزر رہی ہے۔ آسام، مغربی بنگال، تمل ناڈو، کیرالہ اور پڈوچیری جیسی پانچ کلیدی ریاستوں میں اسمبلی انتخابات کی سرگرمیاں اپنےعروج پر ہیں۔ ہر طرف جلسے، جلوس، ریلیاں، وعدے، دعوے اور نعروں کی گونج سنائی دے رہی ہے۔ بظاہر یہ منظر جمہوریت کے حسن اور اس کی فعالیت کی عکاسی کرتا ہے، لیکن اگر اس پورے عمل کا سنجیدہ اور غیر جانب دارانہ جائزہ لیا جائے تو اس کے اندر کئی ایسے پہلو بھی پوشیدہ ہیں جو نہ صرف تشویش کا باعث ہیں بلکہ ملک کے جمہوری مستقبل کے لیے سوالیہ نشان بھی کھڑے کرتے ہیں۔ یہی وہ موقع ہے جب ایک باشعور شہری کی ذمہ داری محض ووٹ ڈالنے تک محدود نہیں رہتی بلکہ اسے حالات و واقعات کا گہرائی سے تجزیہ کرتے ہوئے اپنے فیصلے کی سمت متعین کرنی ہوتی ہے۔
پانچ ریاستوں میں ہو رہے اسمبلی انتخابات مرحلہ وار منعقد ہو رہے ہیں۔ مغربی بنگال اور آسام میں دو مراحل میں ووٹنگ ہوگی، جب کہ تمل ناڈو، کیرالہ اور پڈوچیری میں ایک ہی مرحلے میں رائے دہی عمل میں آئے گی۔ الیکشن کمیشن کے اعلان کے مطابق ووٹنگ کا عمل اپریل کے اوائل سے شروع ہو کر ماہ کے اواخر تک جاری رہے گا اور نتائج کا اعلان مئی کے ابتدائی ہفتہ میں کیا جائے گا۔ بظاہر یہ مرحلہ وار نظام انتظامی سہولت اور سکیورٹی کے نقطۂ نظر سے اختیار کیا جاتا ہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ اس سے سیاسی جماعتوں کو طویل انتخابی مہم چلانے اور رائے عامہ کو متاثر کرنے کے لیے زیادہ وقت اور مواقع میسر آ جاتے ہیں، جس کے مثبت و منفی دونوں اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
یہ حقیقت اب کسی سے پوشیدہ نہیں رہی کہ ملک کی انتخابی سیاست گزشتہ چند برسوں میں ایک نمایاں تبدیلی سے گزری ہے۔ ماضی میں جہاں ترقیاتی منصوبے، عوامی بہبود، تعلیم، صحت، روزگار اور بنیادی سہولیات جیسے مسائل انتخابی مہم کا مرکزی محور ہوتے تھے، وہیں اب مذہب، شناخت، جذباتی نعروں اور فرقہ وارانہ خطوط پر مبنی بیانیہ زیادہ حاوی نظر آتا ہے۔ اس تبدیلی نے نہ صرف سیاسی گفتگو کے معیار کو متاثر کیا ہے بلکہ سماجی ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کے لیے بھی خطرات پیدا کر دیے ہیں۔
اس انتخابات میں بھی یہی رجحان پوری شدت کے ساتھ محسوس کیا جا رہا ہے۔ حکمراں جماعت اور اس کی حلیف قوتیں اقتدار کے حصول کے لیے ہر ممکن حکمت عملی اختیار کر رہی ہیں۔ ان حکمت عملیوں میں ایک اہم عنصر وہ بیانیہ ہے جو سماج کو مذہبی بنیادوں پر تقسیم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ نفرت انگیز تقاریر، اشتعال انگیز بیانات، اور مخصوص طبقات کے خلاف شکوک و شبہات پیدا کرنے کی منظم مہم اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ یہ طرزِ سیاست نہ صرف جمہوری اقدار کے منافی ہے بلکہ ملک کے سماجی تانے بانے کو بھی کمزور کرنے کا باعث بن رہی ہے۔
خاص طور پر مسلم ووٹ کو منتشر کرنے کی منظم کوششیں ایک طویل عرصے سے جاری ہیں اور اس بار بھی اس میں کوئی کمی دیکھنے کو نہیں ملتی۔ اس مقصد کے لیے مختلف حربے اپنائے جاتے ہیں۔ کہیں نئی سیاسی جماعتیں میدان میں اتاری جاتی ہیں، کہیں آزاد امیدواروں کو کھڑا کیا جاتا ہے، اور کہیں مذہبی جذبات کو بھڑکا کر ووٹروں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ان تمام اقدامات کا بنیادی مقصد ایک ہی ہوتا ہے کہ ایک منظم اور مؤثر ووٹ بینک کو تقسیم کر کے اسے غیر مؤثر بنا دیا جائے تاکہ انتخابی نتائج پر اثر انداز ہوا جا سکے۔
یہاں یہ سوال بھی اہم ہے کہ وہ جماعتیں جو خود کو کسی مخصوص طبقے، بالخصوص مسلمانوں کی نمائندہ اور ہمدرد ظاہر کرتی ہیں، ان کا حقیقی کردار کیا ہے؟ تجربہ بتاتا ہے کہ ایسی کئی جماعتیں محض جذباتی نعروں اور بلند و بانگ دعوؤں کے ذریعے عوام کو متاثر کرنے کی کوشش کرتی ہیں، مگر عملی طور پر ان کی موجودگی ووٹوں کی تقسیم کا سبب بنتی ہے۔ اس طرح وہ براہ راست یا بالواسطہ طور پر ان قوتوں کو فائدہ پہنچاتی ہیں جو فرقہ وارانہ سیاست کو فروغ دینا چاہتی ہیں۔
ایسے حالات میں سب سے بڑی ذمہ داری عوام، خصوصاً سیکولر ووٹرز پر عائد ہوتی ہے کہ وہ جذبات کے بجائے عقل و شعور سے کام لیں۔ وقتی نعروں، مذہبی جذبات اور کھوکھلے وعدوں کے زیر اثر آ کر ووٹ دینا دراصل اپنے مستقبل کو داؤ پر لگانے کے مترادف ہے۔ ایک باشعور ووٹر وہی ہوتا ہے جو زمینی حقائق، امیدوار کی ساکھ، پارٹی کی پالیسیوں اور ماضی کی کارکردگی کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنا فیصلہ کرے۔
یہ بھی ضروری ہے کہ ہم جمہوریت کی اصل روح کو سمجھیں۔ جمہوریت صرف ووٹ ڈالنے کا نام نہیں بلکہ یہ ایک مسلسل عمل ہے جس میں عوام کی بیداری، شمولیت، نگرانی اور احتساب شامل ہوتا ہے۔ اگر عوام بیدار نہ ہوں تو جمہوریت محض ایک رسمی عمل بن کر رہ جاتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم نہ صرف خود بیدار رہیں بلکہ اپنے اطراف کے لوگوں کو بھی بیدار کریں اور انہیں ان کے حقوق و فرائض کا شعور دلائیں۔
ہندوستان کی شناخت اس کی گنگا جمنی تہذیب، کثرت میں وحدت اور مختلف مذاہب و ثقافتوں کے درمیان ہم آہنگی سے عبارت ہے۔ یہ وہ قیمتی ورثہ ہے جسے ہمارے اسلاف نے بے شمار قربانیوں کے بعد محفوظ رکھا ہے۔ اگر ہم اس ورثے کو کھو دیتے ہیں تو نہ صرف ہماری تہذیبی شناخت متاثر ہوگی بلکہ ہمارا قومی وجود بھی کمزور پڑ جائے گا۔ اس لیے یہ ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے کہ ہم ہر حال میں نفرت، تعصب اور تقسیم کی سیاست کو مسترد کریں اور محبت، رواداری اور بھائی چارے کو فروغ دیں۔
سوشل میڈیا کے اس دور میں ایک اور بڑا چیلنج غلط معلومات اور افواہوں کا تیزی سے پھیلاؤ ہے۔ انتخابات کے دوران اس کا استعمال اور بھی بڑھ جاتا ہے۔ جھوٹی خبریں، من گھڑت ویڈیوز اور اشتعال انگیز پیغامات بڑی تیزی سے وائرل کیے جاتے ہیں تاکہ ووٹروں کو گمراہ کیا جا سکے۔ ایسے میں ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ہر خبر کو بغیر تحقیق کے قبول نہ کریں اور نہ ہی اسے آگے بڑھائیں۔ سچائی کی تصدیق کرنا اور ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
تعلیم یافتہ طبقے پر اس سلسلے میں خاص ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ اگر باشعور افراد خاموش رہیں گے تو جھوٹ اور نفرت کا بیانیہ مزید مضبوط ہوگا۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم سچائی کا ساتھ دیں، غلط معلومات کی تردید کریں اور سماج میں مثبت اور تعمیری سوچ کو فروغ دیں۔
ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ ہم اپنے ووٹ کی طاقت کو پہچانیں۔ جمہوریت میں ووٹ ہی وہ بنیادی ذریعہ ہے جس کے ذریعے عوام اپنی آواز بلند کرتے ہیں اور اقتدار کے ایوانوں تک اپنی ترجیحات پہنچاتے ہیں۔ اگر ہم اپنے ووٹ کا صحیح استعمال کریں تو ہم نہ صرف اپنی حالت بدل سکتے ہیں بلکہ ملک کی سمت بھی متعین کر سکتے ہیں۔ لیکن اگر ہم نے اس میں کوتاہی برتی یا اسے ضائع ہونے دیا تو اس کے منفی اثرات ہمیں ہی برداشت کرنے پڑیں گے۔
انتخابات کے اس مرحلے پر یہ بھی ضروری ہے کہ ہم اپنے ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر اجتماعی مفاد کے بارے میں سوچیں۔ ایک ایسا فیصلہ کریں جو نہ صرف ہمارے لیے بلکہ پورے سماج اور آنے والی نسلوں کے لیے بہتر ہو۔ یہی وہ شعور ہے جو ایک مضبوط، مستحکم اور ترقی یافتہ قوم کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔
یہ امر بھی ذہن نشین رہے کہ جمہوری اور سیکولر قوتیں ہی وہ بنیاد فراہم کرتی ہیں جو مختلف طبقات کو ایک ساتھ لے کر چلنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ یہ قوتیں آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی، سماجی انصاف اور تمام شہریوں کے مساوی حقوق پر یقین رکھتی ہیں۔ اگر ہم واقعی ایک پرامن، مستحکم اور ترقی یافتہ ہندوستان کا خواب دیکھتے ہیں تو ہمیں ان قوتوں کو مضبوط کرنا ہوگا اور ان کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا۔
انتخابات کا یہ مرحلہ محض اقتدار کی تبدیلی کا ذریعہ نہیں بلکہ یہ ہمارے اجتماعی شعور، سیاسی بصیرت اور جمہوری وابستگی کا امتحان بھی ہے۔ یہ وہ موقع ہے جب ہمیں یہ طے کرنا ہے کہ ہم کس سمت میں جانا چاہتے ہیں۔ کیا ہم نفرت، تقسیم اور تعصب کی سیاست کو قبول کریں گے یا پھر اتحاد، ترقی اور ہم آہنگی کے راستے کو اختیار کریں گے؟ اس سوال کا جواب ہمارے ووٹ میں پوشیدہ ہے۔
ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ تاریخ ہمیشہ ان قوموں کو عزت دیتی ہے جو مشکل حالات میں صحیح فیصلہ کرتی ہیں۔ آج ہم ایک ایسے ہی نازک موڑ پر کھڑے ہیں جہاں ہمارے فیصلے آنے والی نسلوں کی تقدیر کا تعین کریں گے۔ اگر ہم نے ہوش مندی، بصیرت اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا تو ہم ایک روشن اور مستحکم مستقبل کی بنیاد رکھ سکتے ہیں، بصورت دیگر اس کے منفی نتائج طویل عرصے تک ہمیں متاثر کرتے رہیں گے۔
لہٰذا وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اپنے ووٹ کی قدر کریں، اسے منتشر ہونے سے بچائیں اور ایسی قیادت کا انتخاب کریں جو واقعی عوامی مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ، مخلص اور جواب دہ ہو۔ ہمیں جذبات کے بجائے عقل و شعور سے کام لینا ہوگا، نفرت کے بجائے محبت کو فروغ دینا ہوگا اور تقسیم کے بجائے اتحاد کو مضبوط کرنا ہوگا۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ جمہوریت کی مضبوطی کا دار و مدار عوام کی بیداری، شعور اور ذمہ داری کے احساس پر ہوتا ہے۔ اگر عوام بیدار ہوں، باشعور ہوں اور اپنی ذمہ داری کو سمجھتے ہوں تو کوئی بھی طاقت جمہوریت کو کمزور نہیں کر سکتی۔ اس لیے ہمیں اپنے فرض کو پہچاننا ہوگا اور ایک ذمہ دار شہری کی حیثیت سے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
یہی ہماری ذمہ داری ہے، یہی ہماری اصل طاقت ہے اور یہی ایک مضبوط، متحد اور خوشحال ہندوستان کی ضمانت بھی ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے