कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

وقفیہ املاک کے تحفظ کے لئے پھر سرگرم ہونے کی ضرورت

تحریر: عارف عزیز(بھوپال)

ہندوستان کے مسلمانوں کو اِس حیثیت سے خوش قسمت مانا جاتا ہے کہ اُن کے صاحبِ حیثیت آباؤ و اجداد اور حکمرانوں نے اپنی بیش قیمت جائیدادیں قوم کی فلاح و بہبود کے لئے ملک کے طول و عرض میں وقف کر رکھی ہیں۔ سچرکمیٹی کی رپورٹ میں اِن وقفیہ املاک کی مجموعی تعداد کو پانچ لاکھ کے قریب بتایا گیا ہے، یہ چھ لاکھ ایکڑ آراضی پر ملک بھر میں پھیلی ہوئی ہیں۔ جن کا مناسب تحفظ کرکے واقفین کی منشا کے مطابق کارگر استعمال ہوتو مسلم قوم کے تعلیمی، سماجی، اور اقتصادی مسائل کا حل برآمد ہوسکتا ہے اور وہ ایک خود کفیل قوم بن کر اُبھر سکتی ہے، لیکن ہندوستانی مسلمان دوسرے معنوں میں بڑے بدنصیب ہیں کہ ایک لاکھ ۲۰ ہزار کروڑ روپے مالیت کی مذکورہ املاک میں سے بیشتر ناجائز قبضوں کی گرفت میں ہیں یا اُن سے ہونے والی آمدنی نہایت حقیر ہے، لہٰذا نہ تو ملت کے لئے اُن کا صحیح استعمال ہورہا ہے، نہ جتنی آمدنی اُن سے ہونا چاہئے، وہ ہو رہی ہے۔ ایسے معاملات بھی بڑی تعداد میں موجود ہیں کہ وقفیہ آراضی کا درست اندراج نہیں ہوا ہے، نہ اُن کی دیکھ بھال کا معقول بندوبست ہے۔
ریاستی وقف بورڈ جن کے ذمہ وقفیہ املاک کے انتظام و انصرام کا کام ہے، اُن میں بھی ایسے عناصر اثر و نفوذ پاجاتے ہیں جو خود بدعنوان ہوتے ہیں یا ذاتی مفادات کے لئے بدعنوانوں کی پشت پناہی کا کام انجام دیتے ہیں، وقف پراپرٹی کے بے جا استعمال سے خود مسلمان بھی مستثنیٰ نہیں بلکہ اغیار کے ساتھ وہ بھی اُنہیں تباہ و برباد کرنے میں پیش پیش ہیں، وقفیہ املاک کے سب سے زیادہ بے جا استعمال کی ایک صورت اُن پر سرکاری قبضے ہیں، جس میں ریاستی اور مرکزی حکومتیں دونوں مساوی طور پر شریک ہیں کہ اُنہوں نے مرے ہوؤں کا مال سمجھ کر ان پر اپنے دفاتر، عمارات اور سڑکیں تعمیر کر لی ہیں، اِس کے بعد جو اراضی باقی بچی اُسے اُونے پونے نجی کمپنیوں کو الاٹ کر دیا ہے، وقف کے ساتھ جس رفتار سے زمینوں کی قیمتوں کا نرخ بڑھ رہا ہے، اُسی تیزی کے ساتھ بیجا استعمال میں بھی اضافہ ہورہا ہے، ممبئی، حیدرآباد، جے پور، کلکتہ، بھوپال، لکھنؤ، بنگلور اور پنجاب و ہریانہ میں اِس نوع کے معاملات کافی بڑھ رہے ہیں، جن پر اعتراض بھی ہوئے اور احتجاج بھی لیکن تمام غیر مؤثر ثابت ہوچکے ہیں۔
دارالحکومت دہلی پر نظر ڈالیں تو یہاں کی وقفیہ جائیدادیں آزادی کے پہلے سے حکومت کے قبضے میں ہیں،مقبوضہ جائیدادوں کو جو اگر لوٹا دی جائیں تو ہندوستانی مسلمانوں کے لئے درجنوں اعلیٰ تعلیم کے ادارے قائم ہوسکتے ہیں، مسلم طلباء کے لئے بڑی تعداد میں ہوسٹل بن سکتے ہیں، کئی مسافر خانے تعمیر ہوسکتے ہیں، ٹیکنیکل اور پروفیشنل انسٹی ٹیوٹ شروع ہوسکتے ہیں اور مسلم نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی کے لئے ایک سے بڑھ کر ایک فیکٹریاں کھڑی ہوسکتی ہیں، ایک اندازہ کے مطابق صرف نئی دہلی کی ستر فیصد وقفیہ اراضی حکومت کے قبضہ میں ہے یہانتک کہ وزیر اعظم کی رہائش گاہ مسلم وقف بورڈ کی زمین پر بنی ہے، نیشنل میوزیم کی تعمیر وقف کی آراضی پر ہوئی ہے اور نہ جانے کتنی تاریخی عمارتیں پہلے مسلم وقف کے نام درج تھیں، نئی دہلی کی تاریخی سرائے کالے خاں کے قریب سابق وزیر اعلیٰ شیلا ڈکشت نے کئی سال پہلے شہر کا سب سے بڑا ملینیم پارک بنوایا تھا، وہ مسلم قبرستان پر بنا ہے، اِسی طرح دہلی میں اولیاء کرام کی درگاہوں کے ارد گرد متعدد زمینیں، درگاہوں سے وابستہ افراد کے زیرِ تصرف ہونے کی وجہ سے وقف تھیں لیکن آج اُن پر قبضے ہوچکے ہیں، ہندو اتنہا پسند تنظیموں ہندو مہاسبھا اور وشو ہندو پریشد نے بھی مسلم وقف کی اربوں روپے مالیت کی املاک پر ناجائز قبضے کر رکھے ہیں، دوسری طرف مسلمان بے چارگی اور بے بسی کے عالم میں زندگی گزار رہے ہیں، کیونکہ اُن کے اندر نہ تو حکومت سے لڑنے کی طاقت ہے، نہ فسطائی طاقتوں سے مقابلہ کی سکت ہے، صورتِ حال اِتنی سنگین ہوچکی ہے کہ دارالحکومت کے بیشتر مقامات پر مسلمانوں کی بڑی آبادی ہے لیکن اُن کے لئے اپنے مُردے دفنانے کی جگہ نہیں، شاہین باغ، ابوالفضل انکلیو اور مالویہ نگر کے مسلم علاقوں کے مسلمانوں کو مردوں کی تدفین کے لئے دور دور تک جانا پڑتا ہے۔
انگریزوں کو پورے ہندوستان کی طرح آغاز سے ہی دہلی میں سب سے زیادہ مسلمانوں کی طرف سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا تھا، اِس لئے انہوں نے ۱۸۵۷ء میں دہلی پر اپنا تسلط جمانے کے بعد سب سے پہلا کام یہ کیا کہ تمام وقفیہ آراضی کو اپنے قبضہ میں لے لیا۔ جب نئی دہلی کے نام سے دارالحکومت کے قیام کے لئے نیا شہر آباد کیا گیا تو انگریزی حکومت نے وقف جائیدادوں پر سرکاری عمارتیں، دفاتر اور کوٹھیاں بنادیں وقف کا جو حصہ باقی بچا آج اُس پر صرف مساجد، درگاہیں، مزار اور قبرستان باقی بچے ہیں۔
ملک کی آزادی کے بعد مسلمانوں نے بہت کوشش کی کہ مقبوضہ وقفیہ املاک وقف محکمہ کو واپس مل جائیں لیکن ناکام رہے، مولانا ابوالکلام آزاد کے ذریعہ وزیر اعظم جواہر لال نہرو کو اِس بارے میں توجہ دلائی گئی تو اُن کا مولانا کو ’’بڑا معصومانہ‘‘ جواب تھا کہ مولانا اگر جملہ وقف پراپرٹی سے حکومت دست بردار ہوجاتی ہے تو دارالحکومت میں اُس کے پاس کیا باقی بچے گا۔ وہ اپنے دفاتر کہاں لے جائے گی۔ اسی طرح وزیرا عظم اندرا گاندھی کے دور میں وقفیہ املاک کی واپسی کے لئے دوبارہ پہل ہوئی تو طویل جانچ پڑتال کے بعد۱۲۳ جائیدادوں کو واپس کرنے کے لئے حکومت تیار ہوئی لیکن انتظامیہ میں بیٹھے متعصب عملہ کی ریشہ دوانی سے یہ کام مؤخر ہوتا گیا۔ وہ مذکورہ جائیدادوں کو وقف محکمہ کو منتقل کرنے کے بجائے مستقل لیز پر دینا چاہتا تھا، جس کی رو سے املاک کی اصل مالک حکومت ہی رہتی، معاملہ ابھی گفت و شنید کے مرحلہ میں تھا کہ ۱۹۸۴ء میں حکومت کے اِس فیصلہ کے خلاف آر ایس ایس کی پروردہ تنظیم وشو ہندو پریشد نے دہلی ہائی کورٹ سے حکمِ امتناعی حاصل کر لیا، تب سے ستائیس سال تک یہ مقدمہ عدالت میں زیرِ سماعت رہا۔ جنوری ۲۰۱۱ء میں عدالت سے یہ فیصلہ ہوا کہ مرکزی حکومت چھ ماہ کے اندر اِس تنازعہ کو سلجھا دے۔ ججوں نے اپنے فیصلہ میں وقفیہ املاک کے بارے میں اسلام کے فقہی نظریہ کی توثیق کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ’’وقفیہ املاک کی حیثیت خدائی ملکیت کی ہوتی ہے، جس کی نوعیت کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا لہٰذا حکومت ایسی جائیدادوں پر نہ تو قابض رہ سکتی ہے، نہ انہیں مستقل لیز پرحکومت کو دیا جاسکتا ہے۔‘‘
عدالت کے اس واضح موقف کے باوجود حکومت اور انتظامیہ کے عہدوں کی رونق بڑھا رہے کَل پُرزے وقفیہ املاک کی واپسی کے لئے عدالت سے مہلت مانگتے رہے یہاں تک کہ حکمراں جماعت کانگریس کے سرپر۱۹۱۴ء الیکشن کا چیلنج آگیا اور پیروں تلے زمین کھسکنے لگی تو جاتے جاتے اس وقت کی منموہن سرکار نے وہ کام کرنے کی کوشش کی جو ۶۷ سال سے ٹالا جارہا تھا اس کے مطابق کابینہ نے فیصلہ کیا وقفیہ املاک کا اب تک حکومت نے استعمال کیا ہے، اس پر تو کسی طرح کا معاوضہ سرکار ادا نہیں کرے گی نہ کسی طرح کامعاوضہ طلب کرنے کا کسی کو حق ہوگا،یہ بھی شرط عائد کی گئی کہ دہلی وقف بورڈ کو مذکورہ جائیدادوں کے تعلق سے مقدمات واپس لینے ہونگے، لیکن حسب سابق یہ منموہن حکومت کا وقفیہ املاک واپس کرنے کے تعلق سے یہ فیصلہ بھی عملی جامہ نہیں پہن سکابلکہ موجودہ این ڈی اے کی حکومت اب ساری وقف املاک پر مختلف طریقوں سے قابض ہوکر ان کو مسلم اقلیت سے لینے کے لئے کام کررہی ہے، اس بارے میں قانون سازی کرنے کی کارروائی بھی زیر غور ہے لہذا جمعیۃ علماء وجماعت اسلامی جیسی جماعتیں اس کے سدباب کے لئے سرگرم ہوں تو کوئی بات بنے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے