कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

واجد اختر صدیقی کی” نقش ِتحریر“ادبی سرمایہ

ڈاکٹر تبسم آراء
اسسٹنٹ پروفیسر ۔اورینٹل لینگویجس کالج
حیدر آباد، تلنگانہ
7780300889

مبصر : ڈاکٹر تبسم آراء
اسسٹنٹ پروفیسر ۔اورینٹل لینگویجس کالج حیدرآباد‘ تلنگانہ۔ 7780300889
مصنف ناشر : واجد اختر صدےقی
سن اشاعت : 2023
مطبع : روشان پرنٹرس ‘ دہلی
قیمت : 400 روپئے
صفحات : 312
ملنے کا پتہ : مکان نمبر50A/4/1041-11 ‘ غالب کالونی‘
جیلان آباد‘ گلبرگہ۔585103 کرناٹک۔
سیل نمبر : 9739501549

شہر گلبرگہ ہندوستان کی ر یاست کرناٹک میں واقع ہے۔ ہے علاقہ تاریخی ثقافتی اور ادبی سرگرمیوں کا مرکز رہا ہے۔ اور خاص طور پر اُردو شاعری‘ صوفی ادب اور علمی نثر کے حوالے سے جانا جاتا ہے۔ علمائے اکرام‘ ممتاز شعراءکی سرزمین کہا جاتا ہے۔ اور صوفی بزرگ حضرت خواجہ بندہ نواز گیسو دراز ؒکی مزار یہیں پر واقع ہے۔ یہاں کی ادبی سرگرمیاں افسانوی و غیرافسانوی ادب پر ہوتی ہیں۔ جن میں شاعری‘ افسانہ نگاری‘ تنقید و تحقیق‘ تبصرے و تجزیے ‘ انشائیہ نگاری‘ مزاح نگاری اور خاکہ نگاری وغیرہ ہیں۔
معروف یونانی فلسفی و سائنسداں ارسطو نے کہاتھا کہ ” انسان فطری طور پر سماجی جانور ہے“۔ جس کا گذارا سماج و معاشرے کے بغیر ناممکن ہے۔ اور جس معاشرے میں انسان رہتا ہے۔ اس کے کچھ فرائض و ذمہ داریاں ہیں۔ مثلاً سماج کی اصلاح ، فکر، سوچ اور بھائی چارہ وغیرہ
ایسے ہی کئی سماجی و ادبی جہد کاروں میں سے ایک مشہور و معروف شاعر و نقاد متحرک شخص واجد اختر صدےقی ہیں جو سرزمین گلبرگہ کے سماجی کارکن ہیں۔جو اپنی ادبی تحریروں کے ذریعے سماجی اصلاح انجام دے رہے ہیں۔
ڈاکٹر غضنفراقبال ‘ واجد اختر صدیقی کی کتاب ”نقش تحریر“ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ”واجد اختر صدےقی ارض دکن کے ایسے سپوت ہیں ‘ جنھوں نے تحریرو تصنیف میں دیار دکن کا خاص خیال رکھا۔ اور کئی ادیبوں اور شاعروں پر مضامین لکھے۔“
مصنف واجد اختر صدیقی نے اپنی کتاب ”نقش تحریر‘ مجھے کہنا ہے کچھ“ میں مولانا الطاف حسین حالی کے خوبصورت شعر سے تحریر کا آغاز کیا۔
ملاحظہ ہو
کوئی محرم نہےں ملتا جہاں میں
مجھے کچھ کہنا ہے اپنی زبان میں
واجد اختر صدیقی بنیادی طور پر شاعر اور نثر نگار بھی ہیں اور معتبرپیشہ درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔ نقش تحریر ان کی پانچویں کتاب ہے۔ انھوں نے اپنی کتاب نقش تحریر میں مختلف شاعروں اور ادیبوں کا تعارف اور ان کے فن اور تصانیف پر تبصرہ کرتے ہوئے کتاب کو آٹھ ابواب میں منقسم کیا ہے اور دلکش عنوانات سے سجایا ہے۔ جس سے قاری متاثر ہو کر مطالعہ کی طرف راغب ہوتا ہے۔ عنوانات حسب ذیل ہیں:
باب ِزماں۔ بابِ سخن ۔ بابِ ایوان۔ بابِ فن۔ بابِ جہاں۔ بابِ چمن۔ بابِ مےزمان۔ بابِ گمان ہیں۔
بابِ زماں میں’ گلبرگہ کی نثری تصانیف ایک جائزہ ‘ میں گلبرگہ کی دکنی ادب کے آغاز سے لے کر تا حال جو بھی نثری ادب اس سرزمین سے ظہور پذیر ہوا اس کا اجمالی جائزہ لیا گیا ہے۔ مضمون جہاں مکمل طور پر سنجیدگی کے ساتھ فنی خدو خال بیان کرتا ہے وہیں نثر کی تمام خصوصیات بھی پائی جاتی ہیں۔پیرائے پش کش نہایت عمدہ اور پرکشش ہے اور معلومات کا خزانہ لٹاتے ہوئے گویاسمندر کو کوزے میں سمویا گیا ہے۔ بلاشبہ یہ مضمون تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔ جسے پڑھ کر ہم مستفیدہوسکتے ہیں۔
بابِ سخن میں رنگ رنگ کے شاعروں کی عظمت‘ انفرادیت‘ فکریات‘ قومی یکجہتی‘ حب الوطنی کا جذبہ‘ خیالا ت و تصورات پرشگفتہ انداز میں تبصرہ کیا گیا ہے۔ اسی طرح دوسرے ابواب مین بھی مختلف ادیبوں کا تعارف‘ ادبی خدمات‘ افسانے ‘ افسانچے‘ خاکے‘ حیات و خدمات ‘طنز و مزاح ‘ انشاءپردازی‘ تصانیف پر تبصرے و مختصر مگر جامع انداز میں تبصرے شامل ہیں۔”نقشِ تحریر“ میں شامل مضامین محض سوانحی معلومات نہیں بلکہ ہر مضمون میں متعلقہ شخصیت کے علمی ادبی اور فکری پہلوﺅں پر سیر حاصل گفتگو کی گئی ہے ۔واجد اختر صدیقی کی تحریریں تنقیدی شعور،اعتدال،تحقیق اور خلوص ومحبت سے معمور ہیں ۔وہ اپنے مضامین میں شخصیات کے کام کو صرف سراہتے ہی نہیں ہیں بلکہ تنقیدی نگاہ سے پرکھتے بھی ہیں جو ان کے علمی لیاقت پر دلالت ہے۔ کتاب میں شامل مضامین گلبرگہ کے ادبی مزاج ،روایات اور تخلیقی رجحانات کی جھلک پیش کرتے ہیں ۔مصنف نے مقامی قلمکاروں کے کارناموں کو محفوظ کرکے اردو ادب کی تاریخ میں ایک اہم اضافہ کیا ہے جو آنے والی نسلوں کے لیے ایک دستاویزی سرمایہ ثابت ہوگا۔
بقول شاعر:
نقش تحریر میں محفوظ ہےں صدیوں کے اصول
الفاظ جیسے ہوں سچے‘ خیالات میں ہو پھول
بہر کیف‘ واجد اختر صدیقی کی تصنیف ’نقش تحریر‘ معروف قلم کاروں پر تحریروں کا مجموعہ ہے۔ جس میں انھوں نے ادب کے مختلف (زمرات) اصناف شعر و سخن پر گہرائی و گیرائی اور سلیقہ مندی سے روشنی ڈالی ہے۔ جس کی افادیت سے انکار نہہیں کیا جاسکتا ہے۔ماہرین ادب نے بھی اس مجموعہ پرسیر حاصل تبصرہ کیا ہے۔ میں واجد اختر صدیقی صاحب کی پانچویں تصنیف نقش تحریر‘ پرانہیں صمیم قلب سے مبارک باد پیش کرتی ہوں۔
جہاں میں لفظوں کا اک انقلاب آیا
واجد اختر کا جب ذکرِ کتاب آیا

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے