कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

نہ دیکھ رشک سے تہذیب کی نمائش کو

از قلم : صباء فردوس بنتِ نظیر چاؤس
(صدرِ جی آئی او و معلمہ نوبل سیمی انگلش اسکول ہنگولی)

بلا شبہ ہم اپنے آپ کو کلمہ گو کہتے ہیں اسلئے کے ہم مسلمان گھروں سے تعلق رکھتے ہیں مسلمان گھروں میں پیدا ہوئے ہے لیکِن افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ ہم ایک ریڈیمیڈ مسلمان بن گئے ہیں صرف قولی۔۔ قلبی مسلمان جس کا کردار بھی قرآن کے مطابق ہو کہیں کھو گیا ہے۔۔۔ آہ یہ ہم نے کون سارو یہ اپنا لیا ہے ، کون ساطرزِ عمل اختیار کیا ہے۔۔می اپنی اس تحریر میں خاص مسلمان لڑکیوں سے مخاطب ہوں ۔۔آج مسلم خواتیں نے اپنے دل و دماغ میں مغربی تہذیب کو بسا لیا ہے۔۔اسلامی تعلیمات کو فراموش کر رہی ہے جس اسلام نے اُسے چودہ سو سال قبل زندہ دفن ہونے سے بچایا ہے۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ مسلم لڑکیوں نے آج جن کو اپنا آئیڈیل بنایا ہے ، وہ فلمی کلا کار ہیں پاکستانی ڈراموں کی اداکارائیں ہے کھوکھلے اور فرسودہ بے اعتبار مغربی تہزیب کے نا مرد بی ٹی ایس کے گلو کار وغیرہ۔۔مسلمان خواتین اور لڑکیاں اسلام کی ممتاز اور برگزیدہ خواتین اور تاریخ اسلام کے جانباز صحابہ اکرام رضی اللہ عنہم کے اسوہ حسنہ کو چھوڑ کر گمراہ اور ذرائع ابلاغ کی زینت خواتین کو اپنے لیے آئیڈل سمجھ رہی ہیں۔۔ افسوس صد افسوس! ہم اس سرور کائنات حضرت محمد صلی الہ علیہ وآلہ وسلم کو بھول گئے ہیں جو ہمارے لئے راتوں کو اشک بہاتے رہتے تھے اور اللہ سے بار بار التجا کرتے رہتے "اللهم اغفر لي متى، اللهم اغفر لي امتی”۔ اپنے نبی رحمت کی تعلیمات اور احکامات سے منہ موڑ کر ہم اپنی زبان سے اپنے آپ کو کلمہ گو اور اُمتِ محمدی کہتے ہیں، اور ہر معاملے میں پشیمان اور ناکام و نامراد ہو جاتے ہیں۔۔یہ تحریر چونکہ معاشرے کی صنف کے لئے ہے جن کے بارے میں اگر کہا جائے کہ مرد سے بھی زیادہ اسی صنف کی وجہ سے معاشرے کی ترقی اور پسماندگی کا دارومدار ہوتا ہے تو کوئی بیہودہ بات نہیں کہی۔ جی ہاں یہ صنف خواتین ہے بقول امام خمینی : انسان عورت کی گود سے معراج پر فائز ہو جاتا ہے۔ یہ اس کائنات کی وہ بہترین مخلوق ہے جس کے وجود کے بغیر معاشرہ ناقص اور عیب دار ہے جس کی وجہ سے کائنات کا حسن، دلکشی اور رنگینیت برقرار ہے۔ بقول علاّمہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ :
وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ
اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوز دروں
قرآن حکیم نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو صاحبان ایمان کے لئے اسوہ حسنہ اور ماڈل قرار دیا ہے۔
لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِيْ رَسُوْلِ اﷲِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَنْ کَانَ يَرْجُو اﷲَ وَالْيَوْمَ الْاٰخِرَ.
(الاحزاب، 33 : 21)
‘تم لوگوں کے لیے اللہ کے رسول کی زندگی میں بہترین نمونہ عمل ہے ہر اُس شخص کے لئے جو بھی خدا اور آخرت سے امید لگائے ہوئے ہے
اسی طرح سے توحید اور وحدانیت کی حقیقت کو فروغ بخشنے والے حضرت ابراہیم اور آپکے ساتھیوں کو مسلمانوں کے واسطے نمونہ عمل اور ماڈل کی حیثیت سے پیش کیا گیا ہے۔
قَدْ كَانَتْ لَكُمْ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِي إِبْرَاهِيمَ وَالَّذِينَ مَعَهُ.
(الممتحنه، 60 : 4)

’’بیشک حضرت ابراہیم اور آپکے ساتھیوں کی زندگی میں تمہارے لئے نمونہ عمل ہے۔‘‘
عزیز ماؤں اور بہنوں آپ تمام سے بہت ہی مودبانہ گزارش کرتی ہوں کہ آپ اسلام کی اِن برگزیدہ خواتین کو صحابہ اکرام كو اپنا آئیڈیل بنائے آپ اِن اسلام کے جاں نثاروں سے محبت و انسیت رکھے نہ کے اِن فلمی اداکاروں ۔۔بی ٹی ایس کے گلوں کار اور مغربی تہذیب کے کلچر وغیرہ سے۔۔کیونکہ ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”آدمی اسی کے ساتھ ہو گا جس سے وہ محبت کرتا ہے“۔ عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ: یا رسول اللہ! آپ اس شخص کے بارے میں کیا فرماتے ہیں جو کچھ لوگوں سے محبت کرتا ہے لیکن ان جیسے عمل نہیں کر پاتا؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”آدمی اسی کے ساتھ ہو گا جس سے وہ محبت کرتا ہے“۔ یعنی انسان آخرت میں انہی لوگوں کے ساتھ ہو گا جن سے وہ دنیا میں محبت کرتا ہے۔ مذکورہ حدیث میں انبیاء ورسل اور نیک لوگوں سے بہت زیادہ محبت رکھنے اور حسب مراتب ان کی اتباع کرنے کی ترغیب ہے اور ان کے مخالفین سے محبت کرنے سے ڈرایا گیا ہے۔ اس لیے کہ محبت اس بات کی دلیل ہوتی ہے کہ محبت کرنے والا اپنے محبوب سے کس قدر تعلق رکھتا ہے، کس قدر اس کے اخلاق محبوب کے اخلاق سے مناسبت رکھتے ہیں اور کس حد تک وہ اس کی اقتدا کرتا ہے؟ چنانچہ محبت ان سب باتوں کے وجود کی دلیل ہے اوران پر آمادہ بھی کرتی ہے۔کسی تہذیب کی اساس خاندان ہے اور خاندان کا مرکزِ نگاہ عورت ہے۔ چنانچہ علامہ اقبالؒ نے مغربی تہذیب سے اجتناب کے سلسلے میں مسلمان عورت کو مخاطب کر کے اپنی اجتماعیت اور اپنے معاشرے کی حفاظت کا سبق دیا ہے۔علامہ اِقبال فرماتے ہے کہ ہمارے بچے نے جب اپنی زبان کھولنی شروع کی تو سب سے پہلے تجھ سے کلمہ لا الٰہ الا اللہ سیکھا۔ ہماری بجلی چمکی تو اُس نے صحرا اور فلک بوس پہاڑوں سب میں ہمارا پیغام پہنچا دیا۔ تہذیب ِ جدید ہمارے دین پر ڈاکا ڈالنے کے درپے ہے۔ یہ بے باک اور بے پروا تہذیب ہے جو کہ معصوم لوگوں کی گھات میں بیٹھی ہے۔ اِس پُرفریب تہذیب کے گرفتار لوگ اپنے آپ کو آزاد اور اِس کے مارے اور ڈسے ہوئے لوگ اپنے آپ کو زندہ و متحرک سمجھتے ہیں۔ ُتو شریعت ِ محمدیؐ جیسی نعمت کی امین ہے، اور ہماری بکھری ہوئی ملّت کو جمع کرنے والی ہے۔ اپنے آپ کو سود و زیاں سے آزاد کرکے اپنے آبا کے نقشِ قدم سے ایک گام بھی نہ ہٹنا۔ زمانے کے دست برد سے ہوشیار رہ کر اپنی نسل کو محفوظ کرلینا۔ نئی نسل کو جو اپنی تہذیب سے بیگانہ ہو رہی ہے اور اُن کے اندر اپنی اقدار راسخ نہیں ہوئیں، ایسے میں فاطمہؓ کی طرح بن جانااور اپنی نسلوں کی ایسی تربیت کرلینا کہ ہمارے گلزار کو پھر بہار کی نوید مل جائے اور پھر سے ہماری نسلوں میں ایک حسینؓ نمودار ہوجائے۔
پھر وہ مغربی تہذیب کی دلدادہ عورتوں اور اُمت کی مطلوب عورتوں کا فرق بیان کرتے ہوئے مثال پیش کرتے ہیں: وہ لڑکی جو کسی دہقان کی گنوار، جاہل اور بدصورت بیٹی ہے اور تہذیب ِ جدید کے آداب اور اس کی رنگینیوں سے ناواقف ہے، وہ کوتاہ نظر، کم زبان اور سادہ مزاج ہے مگر ممتا کی تکلیفوں سے اُس نے اپنا دل خون کیا ہے۔ ماں بننے کے دشوار گزار عمل سے اُس کی آنکھوں کے گرد نیلے حلقے پڑ چکے ہیں، مگر اُس کے وجود سے ملّت کو ایک حق پرست انسان میسر آجاتا ہے۔ لہٰذا ہماری ملّت کا وجود اُسی کے مرہونِ منت ہے۔ اُس کی شام کی وجہ سے ہماری سحر فروزاں ہے۔ اِس کے برعکس وہ نازک صورت پیکر جس کی آنکھیں اپنے حُسن کی وجہ سے حشر برپا کیے ہوئے ہیں مگر اس کی آغوش خالی ہے، اُس کی فکر مغربی تہذیب و دانش سے آراستہ ہے۔ ظاہراً وہ عورت ہے مگر دراصل اُس کا باطن نازن ہے۔ ملّت کے مسلمہ اصولوں اور بندھنوں کو اُس نے توڑا ہے اور اُس کی نازو انداز والی فتنہ گر آنکھوں نے اور اُس کی آزادی اور ڈھٹائی نے فتنے اُبھارے ہیں اور حیا سے ناآشنا آزادی نے اور اُس کے علم نے بارِ امومت کے گراں بار فریضے کو ادا کرنے سے باز رکھا ہے اور اُس کی شام پر ایک ستارہ بھی چمکنے نہ پایا۔ ہمارے ملّت کے باغ میں ایسی عورتوں کے پھول نہ ہی کھِلیں تو بہتر ہے۔ اِس کے وجود کے داغ سے ہماری ملّت کا دامن پاک رہے تو زیادہ بہتر ہے۔
اِن اشعار میں آج کی آزاد اور مغربی اقدار کی دل دادہ خواتین کو علامہ نے آئینہ دکھایا ہے۔ وہ حضرت فاطمہ زہراؓ کو مسلمان خواتین کے لیے نمونۂ کامل اور آئیڈیل راہنما خاتون سمجھتے ہیں۔
حافظ رمز اخوت مادران
قوت قرآن و ملّت مادران
(اخوت کے راز کی حفاظت مائیں کرتی ہیں۔ مائیں ہی قرآن اور ملّت کے لیے باعث ِ قوت ہیں۔)
سیدۃ النساء فاطمۃ الزہراؓ کو مسلم خواتین کو ایک نمونۂ کاملہ کے طور پر پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ حضرت مریمؑ ایک نسبت سے محترم ہیں، سیّدہ فاطمہؓ تین نسبتوں سے محترم ہیں.. سیّدہ فاطمہؓ تسلیم و رضا کی کھیتی کا حاصل اور مائوں کے لیے اسوئہ کاملہ ہیں۔۔۔وہ ہر اعتبار سے ایک مثالی عورت تھیں…
اپنے عظیم باپ کے حوالے سے۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک مثالی بیٹی۔
اپنے شوہر کے حوالے سے۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک مثالی بیوی
اپنے بچوں کے حوالے سے۔۔۔۔۔۔۔ ایک مثالی ماں۔
ایک مسکین کے لیے آپؓ کا دل اس طرح تڑپا کہ اپنی چادر یہودی کے پاس فروخت کر کے اس کی مدد کی۔ نوری اور آتشی سب آپؓ کے فرماں بردار تھے۔ آپؓ نے اپنی رضا کو شوہر کی رضا میں گم کر دیا تھا۔ آپؓ نے صبرورضا کی ادب گاہ میں پرورش پائی تھی۔ ہاتھ چکّی پیستے اور لبوں پر قرآنِ پاک کی تلاوت ہوتی تھی۔ آپؓ کے آنسو تکیے پر کبھی نہ گرے (آپؓ نے تنگیِ حالات پرکبھی آنسو نہ بہائے)۔
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ مسلمان خواتین اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہو جائیں کیونکہ ہماری پاک طینت ہی دین کی قوت اور ملّت کی بنیاد ہے۔ مسلم عورت کے لیے حضرت خدیجہؓ ، حضرت عائشہؓ اور حضرت فاطمہؓ رول ماڈل ہونے چاہیے جب کہ بطور ماں اسے حضرت فاطمہؓ کے اسوہ سے روشنی حاصل کرنی چاہئے ۔ بقولِ علّامہ اِقبال
بتولے باش و پنہاں شو ازیں عصر
کہ در آغوش شبیرےؓ بگیری
(حضرت فاطمہؓ کی تقلید اختیار کرو اور اس دورِ جدید کے فتنوں سے چھپ جائو تاکہ تمھاری گود حضرت شبیرؓ جیسے فرزند سے بھر جائے۔)
مزید فرماتے ہیں ۔۔۔
مزرعِ تسلیم را حاصل بتولؓ
مادراں را اسوئہ کامل بتولؓ
(حضرت فاطمہؓ تسلیم و رضا کی کھیتی کا حاصل اور مائوں کے لیے اسوئہ کامل ہیں۔)
آئیے ہم عہد کرے کہ امت کی ماؤں اور اللہ کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق اپنی زندگی کو گزاریگی اور پاکیزگی حاصل کرے گی۔۔انشاء اللہ
تری حیات ہے کردار رابعہ بصری
ترے فسانہ کا موضوع عصمت مریم
نہ دیکھ رشک سے تہذیب کی نمائش کو
کہ سارے پھول یہ کاغذ کے میں خدا کی قسم
وہی ہے راہ ترے عزم شوق کی منزل
جہاں میں عائشہ و فاطمہ کے نقش قدم

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے