कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

نکاح کا اسلامی تصور: ایک جامع مطالعہ

تحریر:شمیم اکرم رحمانی
(معاون قاضی شریعت مرکزی دارالقضا امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ)

خالقِ کائنات نے دیگر جانداروں کی طرح انسان کو بھی نر اور مادہ میں تقسیم فرمایا ہے، اور دونوں کے درمیان ایک دوسرے کے لیے فطری کشش رکھی ہے جس کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ مرد عورت کی طرف اور عورت مرد کی طرف مائل ہو، اور دونوں ایک دوسرے کے قریب آنا چاہیں۔ چنانچہ یہ ایک طے شدہ حقیقت بھی ہے کہ مرد و عورت کے درمیان یہ میلان انسانی فطرت کا حصہ ہے۔البتہ اگر اس فطری میلان کو بے محابا اور بے لگام چھوڑ دیا جاتا تو دنیا سے امن و سکون غارت ہو جاتا۔ لہٰذا ضروری تھا کہ اس فطری تقاضے کی تکمیل کے لیے کوئی ایسی راہ متعین کی جائے جو انسانی تقدس اور شرافت کے شایانِ شان ہو۔ چنانچہ خالقِ کائنات نے اس مقصد کی تکمیل کے لیے نکاح کے ذریعے ایک مقدس اور باوقار رشتہ قائم فرمایا، جس کے تحت مرد اور عورت ایک ذمہ دارانہ تعلق میں بندھ کر شوہر اور بیوی بننے کا اعزاز حاصل کرتے ہیں۔
نکاح محض فطری خواہشات کی تکمیل کا ذریعہ نہیں، بلکہ انسانی معاشرے کی بقا، استحکام اور اخلاقی پاکیزگی کی ضمانت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے تقریباً تمام مذاہب میں نکاح یا ازدواجی رشتے کا کوئی نہ کوئی تصور موجود ہے۔ تاہم مذہبِ اسلام کا امتیاز یہ ہے کہ اس نے نکاح کو عبادت کا درجہ دیا ہے جو فی الواقع راہبوں اور جوگیوں کے اس نظریے کے خلاف ہے جو انسان کو اس بات کا پابند بناتا ہے کہ وہ فطری جذبات کو کچل کر ہی خدا کا قرب حاصل کرسکتے ہیں۔ اسی طرح اسلام کا پیش کردہ تصورِ نکاح دورِ حاضر کی جدید فکر سے بھی متصادم ہے جو مرد و عورت کے درمیان جنسی تعلقات کے قیام کے لیے آپسی رضامندی کے علاوہ کوئی اور شرط عائد کرنا ضروری نہیں سمجھتا۔ اسلام ان دونوں انتہاؤں کے برعکس ایک متوازن، فطری اور باوقار راستہ پیش کرتا ہے، جس میں فطرت کی تسکین بھی ہے اور انسانی شرافت کا مکمل پاس و لحاظ بھی ہے۔
اسلامی تعلیمات کے مطابق مرد و عورت کے درمیان تعلق کے لیے نکاح ضروری ہے جو فی الواقع ایک سوشل اگریمنٹ ہے یہی وجہ ہے کہ انعقاد نکاح کے لئے ایجاب و قبول لازم ہے ساتھ ہی ایجاب و قبول کی مجلس میں دو عاقل بالغ مرد یا ایک مرد اور دو عورتوں کا گواہ کی حیثیت سے موجود رہنا بھی شرط ہے۔تاہم یہ اگریمنٹ چونکہ عام اگریمنٹ کی طرح نہیں ہے بلکہ اس کی حیثیت عبادت کی بھی ہے اسی لیے اس میں خطبہ نکاح کا پڑھنا مسنون قرار دیا گیا ہے، اہل علم نے واضح کیا ہے کہ نکاح کے بعد مہر کی ادائیگی واجب ہے، اور شوہر کی ذمہ داری ہے کہ وہ طے شدہ مہر بیوی کو دے۔ مہر ادائیگی صحیح معنوں میں عورت کے احترام اور اس کی دلجوئی کے لئے واجب قرار دیا گیا ہے،اگرچہ مہر کو معجل اور مؤجل کے خانوں میں تقسیم کیا گیا ہے، لیکن معجل (فوراً ادائیگی) مستحسن ہے ۔ ا سی طرح شبِ زفاف کے بعد ولیمہ بھی مسنون ہے۔ رسالت مآب ﷺ نے ولیمہ کرنے کی ترغیب دی ہے، اس لیے کہ ولیمہ کی وجہ سے جہاں نکاح کی تشہیر ہوتی ہے، وہیں متعدد افراد ایک جگہ جمع ہوکر کھاتے ہیں جس سے معاشرے میں محبت کی فضا پروان چڑھتی ہے؛ تاہم ولیمہ بھی اپنی حیثیت کے مطابق ہی کرنا چاہیے، اسراف اور فضول خرچی یہاں بھی شرعاً پسندیدہ عمل نہیں ہے۔
نکاح کرنا صرف سنت نہیں ہے بلکہ نکاح کی شرعی حیثیت افراد کے احوال کے پیش نظر بدلتی رہتی ہے۔ اہل علم کی وضاحت کے مطابق بعض صورتوں میں نکاح مباح ہے، بعض میں مستحب و سنت ہے، بعض میں واجب ہے، اسی طرح بعض حالتوں میں نکاح مکروہ ہے اور بعض میں حرام ہے۔ البتہ فقہاء کرام نے صراحت کی ہے کہ ایک معمول کی حالت (حالتِ اعتدال) میں نکاح کرنا سنت ہے، جس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے رسالت مآب ﷺ نے ایک موقع پر نوجوانوں کو مخاطب کرکے ارشاد فرمایا کہ: ”تم میں سے جو لوگ نکاح کرنے کی استطاعت رکھتے ہوں، انہیں ضرور نکاح کرنا چاہیے، اس لیے کہ نکاح بدنظریوں سے حفاظت کا ذریعہ اور خواہشات کو لگام دینے کا وسیلہ ہے”۔
رشتہ نکاح میں پائیداری مقصود ہے، اسی لیے نکاح میں کسی متعینہ وقت کی شرط لگانا جائز نہیں ہے۔ بعض مصالح کے پیش نظر گرچہ اسلام کے ابتدائی عہد میں متعینہ وقت تک کے لیے نکاح کرنے کی گنجائش تھی، تاہم بعد میں اس گنجائش کو ختم کر دی گئی ہے اور اب قیامت تک کے لیے نکاحِ متعہ اور نکاحِ موقت ممنوع ہے۔ اسی طرح دورِ حاضر میں رائج نکاح مسیار بھی درست نہیں ہے۔ نکاح میں پائیداری اتنی اہم شے ہے کہ اس کے لیے اسلام نے کفائت کا تصور پیش کیا ہے،جس کے تحت اسلام چاہتا ہے کہ زوجین میں ایک حد تک مساوات ہویہ بات صحیح ہے کہ اصل کفائت دینداری ہی میں ہے، اور اسی وجہ سے بعض علماء نے لکھا ہے کہ کفو کا ترک کرنا ہی مستحب ہے، تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ لاکھ جتن کے باوجود عام انسانوں میں دین کی وہ اسپرٹ پیدا ہونا مشکل ہے جو تمام فرق کو مٹا دے، اسی لیے وہ تمام امور جو معاشرتی زندگی میں اثر انداز ہوتے ہیں ان میں کفائت کا خیال کرنا چاہیے۔ ماضی قریب کے نامور فقیہ قاضی مجاہد الاسلام قاسمیؒ کفائت کا مفہوم سمجھانے کے لیے ”میچنگ” (Matching) کا لفظ استعمال کرتے تھے، جو میرے خیال میں اسلام کے پیش کردہ تصورِ کفائت کا سب سے اچھا ترجمہ ہے۔ اسلام نے نکاح کو پائیدار ہی بنانے کی غرض سے شوہر اور بیوی کے حقوق متعین کیے ہیں، جن کی تفصیلات سے واقف ہونا زوجین کے لیے نہایت ضروری ہے۔ تاہم اگر بات اختصار کے ساتھ کی جائے تو یہ ایک مسلم حقیقت ہے کہ قرآنِ مجید نے مرد کو قوام قرار دیا ہے اور نان و نفقہ کی ذمہ داری کے ساتھ بیوی کی حفاظت اور اس کے ساتھ حسنِ سلوک کو شوہر کے فرائض میں شامل کیا ہے۔ دوسری جانب بیوی کی ذمہ داری متعین کرتے ہوئے اسے شوہر کی اطاعت، گھر کی حفاظت اور شوہر کے ساتھ وفادار رہنے کا پابند بنایا ہے۔ اس طرح سے اسلام نے زوجین کو یہ احساس دلایا ہے کہ حقوق کی ادائیگی زوجین کے رشتے کو ، مودّت اور رحمت کا گہوارہ بنا سکتی ہے۔
بعض لوگ بہت آسانی سے چار شادیوں کی بات کرتے ہیں، بلکہ پڑوسی ملک کے ایک مشہور عالم دین تعددِ ازدواج کی خوب ترغیب دیتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ اس کے نتیجے میں بہت سی برائیوں پر قابو پایا جا سکتا ہے، لیکن وہ بھول جاتے ہیں کہ اگر عام لوگ ان کے اس فلسفے پر عمل کرنا شروع کریں گے تو برائیوں پر قدغن لگے یا نہ لگے، لیکن تعددِ ازدواج پر عمل کرنے والوں کا اپنا گھر جہنم ضرور بنے گا۔ یہی وجہ ہے کہ تعددِ ازدواج کو اسلام نے واجب، سنت اور مستحب نہیں قرار دیا بلکہ صرف جائز قرار دیا ہے جس کی بہت سی مصلحتیں ہیں، اہل علم اچھی طرح جانتے ہیں کہ قرآن مجید میں جہاں تعددِ ازدواج کی اجازت موجود ہے، وہاں وضاحت کے ساتھ اس اجازت کو عدل کی شرط کے ساتھ مشروط قرار دیا گیا ہے، جس پر عمل کرنا عام انسان کے بس کی بات قطعاً نہیں ہے۔ لہذا عام حالت میں لوگوں کو ایک پر ہی اکتفا کرنا چاہیے، اور اچھی بات یہ ہے کہ اسی پر عمل بھی ہے۔
اسلام کے پیش کردہ تصورِ نکاح میں ہلدی، بارات، جہیز جیسی کسی رسم کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ حضرت فاطمہؓ کو بقدر ضرورت جہیز کا سامان رسالت مآب ﷺ نے دیا تھا، انہیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ جو بھی سامان دیا تھا وہ حضرت علیؓ ہی کی زرہ کو فروخت کرکے دیا تھا، وہ بھی اس لیے کہ آپ ﷺ جس طرح حضرت فاطمہؓ کے سرپرست تھے، اسی طرح حضرت علیؓ کے بھی سرپرست تھے۔ اگر جہیز دینا مقصود ہوتا تو دیگر صاحبزادیوں کو بھے ضرور دیتے۔یہ حقیقت ہے کہ اسلام کے پیش کردہ تصورِ نکاح میں لڑکی اور اس کے سرپرست پر کسی خرچ کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے، اور نہ فریقین میں سے کسی کے لیے کوئی فضول خرچی کی گنجائش ہے۔ یہ بات بلاشبہ صحیح ہے کہ نکاح کا موقع خوشی کا موقع ہے، لیکن یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ اسلام خوشی کے دائرے کو مباحات کے حدود میں ہی انجام دینے کی تعلیم دیتا ہے، لہذا نکاح کی تقریب میں بھی خوشی کے نام پر ایسے کسی عمل کو جائز نہیں قرار دیا جا سکتا جو اسراف کا یا عام انسانوں کو پریشانیوں میں مبتلا کرنے کا ذریعہ بنے، اس کے معنی یہ ہوئے کہ شادی کے موقع پر بھی پٹاخے پھوڑنا اور ڈی جے بجانا او سڑک پر ر ہلر بازی کرنا اسلامی اقدار کے یکسر خلاف ہے۔
لہذا اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا معاشرہ اخلاقی انتشار سے بچے، تو ہمیں نکاح کی تقریبات کو مسجد کی سادگی، مہر کی ادائیگی اور مسنون ولیمہ تک محدود کرنا ہوگا۔ یہ نہ صرف وقت کا تقاضا ہے، بلکہ ہماری دینی ذمہ داری ہے کہ ہم جہیز اور نام نہاد بارات جیسی فرسودہ رسومات کو خیرباد کہہ کر اس نبوی سنت کو اتنا آسان بنا دیں کہ ہر نوجوان لڑکے اور لڑکی کے لیے پاکیزہ زندگی گزارنا ممکن ہو سکے۔ اگر خرچ کرنا ہی ہو تو شادی کے بجائے ان امور میں اپنے پیسے خرچ کریں جہاں خرچ کرنے کی ترغیب اسلام دیتا ہے۔ یہ انتہائی تکلیف دہ المیہ ہے کہ مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد شادی کے موقع پر حرام اور ناجائز کاموں کی انجام دہی کے لیے کروڑوں روپے اڑا دیتی ہے، لیکن دین، مذہب، تعلیم اور سماجی فلاح و بہبود کے نام پر اگر خرچ کی بات آتی ہے تو انہیں سانپ سونگھ جاتا ہے، بلکہ زکوۃ کی ادائیگی جو فرض ہے وہ بھی حساب کرکے ادا نہیں کرتی، لہذا صورتحال کا تقاضہ ہے کہ سماجی خدمت گار، علماء، ملی تنظیموں کی ذمہ داران آسان، مسنون اور شرعی نکاح کی مہم وقفے وقفے سے چلاتے رہیں تاکہ نکاح کا اسلامی تصور دنیا میں نظر آئے۔

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے