कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

نفسیاتی جنگ

تحریر: وصف ابراہیم

وہ کسی گہری سوچ میں غرق تھا۔ اسکی ٹانگیں اضطراری کیفیت میں مسلسل متحرک تھیں۔ دوسرے پیاک کے آخری سگرٹ کا کش لیتے ہوئے وہ اُٹھ کھڑا ہوا، اُسکو اپنا سر اپنے کاندھوں پر بوجھ کی طرح محسوس ہوا، اُسکو جانا تھا، اس دفتر میں وہ اس سے زیادہ وقت کے لیے نہیں رک سکتا تھا مگر مسئلہ یہ تھا کہ وہ گھر جانا ہی نہیں چاہتا تھا۔ گھر میں دم گھٹنے لگا تھا وحشت سی سینے میں بھر جاتی گھر میں داخل ہوتے ہوئے ماں باپ بیوی بچوں کی آنکھیں کسی آسیب کی طرح بدن سے چمٹ جاتی ایسا آسیب جس سے چھٹکارا ممکن نہیں۔
اس نے دفتر کی ٹائمنگ ایکسٹینڈ کردی تھی چھٹی کے دن بھی کسی نا کسی کام میں مصروف رہتا ، وہ کام میں ڈوب کر خود کو سن کرنا چاہتا تھا کوئی احساس باقی نہ رہے، سورج کے ڈھلتے ڈھلتے دل و دماغ کے منڈیروں پر توقعات اور ملال کے ناگ سر اٹھانے نہ پائے اس کوشش میں وہ رہتا، اُس کو بھاگنا تھا اپنوں سے اپنے خونی رشتوں سے اپنے شریکِ سفر سے اپنے بچوں سے یا پھر اپنے آپ سے۔۔۔
اُسکے اندر بہرنے والے خالی پن کو، اُسکی آنکھوں میں اُترنے والی ویرانیوں کو، اس کی چیختی ہوئی خاموشی کو، اس کے وجود پر لکھے سوالوں کو، اس کے ادھورے جملوں کو کوئی سمجھ ہی نہیں پا رہا تھا کسی کو محسوس بھی نہیں ہو رہا تھا کہ وہ ان سے دور بہت دور جا رہا ہے اتنا دور کے شاید یہ فاصلے کبھی ختم نہ ہو۔
"روداد سفر نہ پوچھ اے چارہ گر
آبلہ پائی تواب یقین اور حوصلوں تک جائے ہے”
اس کو لگتا وہ صرف ایک اے ٹی ایم مشین ہے، ایک یو پی آئی(upi) آئی ڈی ہے بس، گھر والوں کی ناختم ہونے والی خواہشوں اور غیر ضروری ضروریات کو پورا کرنے والا الادین کا جن ہے جس کے سینے میں دل نہیں جزبات واحساسات نہیں بس ایک کیو آر کوڈ QR code ہے۔
اُسکی آنکھیں کسی ایسے فرد کو تلاشنے میں لگی تھیں جو اُسکو سمجھ سکے، اُسکو زندہ درگور ہونے سے محفوظ رکھ سکے، کوئی ہاتھ پکڑ کر ڈوبنے سے بچا لے، کوئی ایسا کاندھا بہی ہو جس پر سر رکھ کر وہ بےفکر ہوجاے۔ وہ زندگی کے سفر کی چلچلاتی دھوپ سے خوفزدہ نہیں تھا بس ایک ساتھی کی ضرورت تھی جسکا ساتھ گھنے سائے کی طرح محسوس ہو۔
اُسکے ہمسفر کو اسکی زہنی تشنگی، اُسکا اضطراب،اُسکے خالی پن کا ادراک نہیں تھا۔
اور وہ خود بھی اپنی بیوی کو اپنی زہنی الجھن،اپنی نفسیاتی جنگ، اپنی سوچ کے بہنور کبھی بتا ہی نہی پایا ۔۔۔
اگر وہ اُسکو بتا دیتا اپنی سائیکالوجیکل وار psychological war دکھادیتا تو شاید وہ سمجھ بہی جاتی اچھا کھانا، کلف لگے کپڑے اور فیزیکل کمفرٹ physical comfort سے زیادہ اُسکی زہنی جنگ کی سپہ سالار ہوتی، سائیکلوجیکل کمفرٹ psychological comfort مہیا کرتی، اُسکی ڈھال ہوتی، گھنا سایہ بن جاتی۔۔
وہ خود سے لڑ رہا تھا، چار آ ٹھ گیٹہیاں جو اپنوں کی بے وقوفیوں اور ناقدریوں سے پڑی ہوئی تھیں اُسکو اپنی بےوقوفی اور نا اہلی سے بڑھا رہا تھا اُلجھا رہا تھا۔
یہ انسان بھی نا اگر مسئلہ کو سمجھ جائے پروبلم کی وجہ اُسکی جڑ کا پتہ لگالے اُسکا آدھا مسئلہ تو تبہی حل ہو جائے گا،باقی کا آدھا اُس مسئلہ کے حل کے لیئے اٹھائے جانے والے اقدامات سے حل ہوجاے۔۔
مگر ہم ان مسائل کے حل کے لیے ناجائز، حرام اور گناہ کے راستے پر چل پڑتے ہیں۔ کولیگ، کلاس میٹ، دوست، نامحرم اور غیروں کے کاندھے تلاشتے ہیں۔ ہم غیر متعلق لوگوں کے سامنے اور "انسانوں” کے سامنے اپنے جذبات، آنسوں اور وقت ضائع کرتے ہیں۔
اور بدلے میں ندامت، شرمندگی، احساسِ جرم کا شکار ہوتے ہیں باقی کی زندگی اس حادثاتی نقصان collateral damage کو پورا کرنے میں نکل جاتی ہے۔۔
وہ یہی کچھ سوچ رہا تھا کے اُسکے لیاپ ٹوپ میں فیس بُک پر ایک حدیث کا نوٹیفکیشن آیا اُسنے دیکھا اور دیکھتا رہ گیا وہ حدیث تہی:-
اللہم حبب الیناالا ایمان وزینہ فی قلوبنا وکرہ الیناالکفروالفسوق والعصیان واجعلنا من الراشدین۔
ترجمہ:-اے اللہ ہمارے لیے ایمان کو محبوب بنا اسے ہمارے دلوں میں مزین آراستہ کر اور کفر، بدکاری،فسق و گناہ کو ہمارے لیے قابلِ نفرت بنا اور ہمیں ہدایت یافتہ لوگوں میں شامل کر۔
اس حدیث نے حرام راستے کی طرف اسکے بڑھتے ہوئے قدم جکڑ لیے
اُسکو ایسا لگا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے خود اسکا ہاتھ تھام کر کہ رہے ہوں "کیا تو اللہ سبحانہ و تعالٰی کے دامنِ رحمت سے مایوس ہے؟
کیا تو سمجھتا ہے کے قرآن تیرے مسائل کے حل تیرے سوالات کے جوابات دینے سے قاصر ہے؟ کیا میرا سفر تیری نگاہوں سے اوجھل ہے؟
کیا تو نے کبھی اپنے مسائل کوجاننے سمجھنے کی ایماندارانہ کوشش کی ہے؟؟
"کوئی قابل ہو تو ہم شان کئی دیتے ہیں
ڈھونڈنے والوں کو دنیا بھی نئی دیتے ہیں”
آج اس حدیث نے ان سارے سوال جواب نے اسکی بجھی ہوئی سحر پر پُرنور سورج رکھ دیا تھا۔
اُسکو لگا آج اسکی اپنے آپ سے پہلی ملاقات ہے۔ خود کی تلاش میں اٹھے ہوئے معلق قدم کو زمین کا احساس ملا ہو۔
وہ پرنم آنکھوں سے سوچنے لگا سچ ہے حضور رحمت اللعالمین ہیں اُن کا کہا گیا ہر لفظ اُنکا ہر عمل ہمارے لیے مشعل راہ ہے، صراط مستقیم ہے۔
رسول اللہ صلی کا دست رحمت تھام کر مہینوں سے جاری اس جنگ کو وہ فتح کرنے کی راہ پر گامزن ہوا تھا۔ وہ اضطراب سے فلاح کی راہ کا مسافر بن گیا تھا ۔۔۔۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے