कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

نشہ خوری کا سد باب — حیات و تہذیب کی پاسبانی

تحریر:مولانا فضیل اختر قاسمی بھیروی

جہاں حیاتِ انسانی کا سفینہ بحرِ زماں کے پر آشوب تھپیڑوں میں متزلزل ہو، جہاں اخلاقی فضائل کی جڑیں مادّی لذتوں کی زہریلی باد میں کمزور پڑ جائیں، اور جہاں انسان اپنی فطری بصیرت و وجدان کو خود اپنے ہی ہاتھوں زہرِ تدریج سے مسموم کر دے، وہاں ایک ایسی مفسد و مہلک بلا سر اٹھاتی ہے جسے اہلِ عقل و دانش "نشہ” کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ یہ وہ شیطانی رَس ہے جو بظاہر لذتِ لمحاتی کا فریب دیتا ہے مگر درپردہ عقل کو معطل، ارادہ کو منجمد، اور روح کو مسخ کر دیتا ہے۔ یہ ایک ایسا زنگ ہے جو قلب کی آئینہ صفت صفائی کو ماند کر دیتا ہے، اور ایک ایسا سرطان ہے جو معاشرت کی رگ و پے میں سرایت کر کے پوری تہذیب کو کھوکھلا کر دیتا ہے۔ تاریخ کے اوراق میں جن اقوام نے اس لعنت کو گلے لگایا، وہ محض جسمانی بگاڑ سے نہیں بلکہ فکری افلاس، روحانی انحطاط اور اجتماعی سقوط کے گرداب میں ڈوب گئیں۔ آج بھی اگر یہ زہر ہمارے معاشرے میں پنپتا رہا تو نہ نسل باقی رہے گی، نہ غیرت، نہ ایمان، نہ تمدّن۔
نشہ خوری انسانیت کے دامن پر ایک ایسا بدنما داغ ہے جو نہ صرف فرد کی شرافت اور وقار کو مسخ کرتا ہے بلکہ پورے معاشرے کی جڑوں کو کھوکھلا کر دیتا ہے۔ یہ ایک ہمہ گیر لعنت ہے جو عقل کی روشنی کو سلب کر کے انسان کو حیوانیت کے اندھیروں میں دھکیل دیتی ہے۔ جب انسان اپنی فطری صلاحیتوں اور اخلاقی اقدار سے منہ موڑ کر اس زہراب کا اسیر ہو جاتا ہے تو اس کا شعور پژمردہ اور ارادہ مفلوج ہو جاتا ہے۔ وہ جو کبھی عزت و شرف کی بلند چوٹیوں پر گامزن تھا، لمحہ بھر میں ذلت و رسوائی کے دلدل میں جا اترتا ہے۔ یہ لعنت محض فرد کی زندگی میں زہر نہیں گھولتی بلکہ پورے معاشرے کے رگ و پے میں جرم، جھوٹ، دھوکہ دہی، چوری، بے راہ روی اور تشدد کے جراثیم پھیلا دیتی ہے۔
نشہ خوری محض ایک ذاتی کمزوری یا وقتی غفلت نہیں بلکہ ایک مہلک وبا ہے جو انسانی تمدّن کے خیمے کی ہر رسی کو چبا چبا کر اسے ڈھیر کر دیتی ہے۔ یہ وہ سیاہ بادل ہے جو عقل کے افق کو اندھیروں میں لپیٹ دیتا ہے، وہ زہریلی بیل ہے جو رگ و پے میں سرایت کر کے نہ صرف جسمانی قوت کو کھا جاتی ہے بلکہ قلب و روح کی طہارت کو بھی مسموم کر دیتی ہے۔ نشہ خور کی آنکھوں سے حیا کی چمک اور پیشانی سے غیرت کی ضیا رخصت ہو جاتی ہے، ضمیر کے مینار پر غفلت کی کائی جم جاتی ہے، اور حرص و ہوس کا طوفان ہر اخلاقی بندھن کو توڑ کر لے جاتا ہے۔ اس کے وجود سے اٹھنے والی بدبو محض جسمانی عفونت نہیں بلکہ اخلاقی سڑانڈ و متعفن بُو کی غماز ہوتی ہے، اور اس کے الفاظ میں لہجہ نہیں، زہر ٹپکتا ہے۔ ایسے افراد معاشرت کے گلشن میں خارِ ابلیس کی طرح ہوتے ہیں، جو پھولوں کی خوشبو تک کو آلودہ کر دیتے ہیں۔ اگر اس زہراب کو وقت رہتے نہ روکا جائے تو یہ ایک فرد سے دوسرے، اور ایک گلی سے پوری بستی میں یوں پھیلتا ہے جیسے خشک جنگل میں شعلۂ آتش، جو لمحوں میں ہر شجر و شاخ کو خاکستر کر دیتا ہے۔
اس لعنت کے سدباب کے لیے محض قانونی اقدامات کافی نہیں، بلکہ معاشرتی شعور کی بیداری اور اخلاقی تربیت کی سخت ضرورت ہے۔ سب سے پہلے والدین کو گھر کی فصیل میں ایسی مضبوط بنیاد رکھنی ہوگی جہاں کردار سازی، ایمانی حرارت اور خودداری کا چراغ روشن ہو۔ تعلیمی اداروں کو محض نصاب کی تدریس پر اکتفا نہیں کرنا چاہیے بلکہ طلبہ کی ذہنی و روحانی آبیاری کے ذریعے ان میں برائی سے نفرت اور اچھائی سے محبت پیدا کرنی چاہیے۔ دینی مراکز اور مساجد کو بھی اپنے خطبات و بیانات میں نشہ آور اشیاء کی تباہ کاریوں کو اجاگر کرنا ہوگا، تاکہ عوام الناس اس کے مکروہ انجام سے واقف ہوں۔
حکومتی سطح پر بھی سخت گیر اقدامات ناگزیر ہیں۔ نشہ فروشوں کے لیے عبرتناک سزائیں، ممنوعہ اشیاء کی خرید و فروخت پر کڑی نگرانی، اور علاج و بحالی کے مراکز کا قیام اس سلسلے میں اہم ستون کی حیثیت رکھتے ہیں۔ میڈیا کو اپنی روش بدل کر ایسے مواد کی اشاعت کرنی چاہیے جو معاشرے کو بیدار کرے، نہ کہ اخلاقی پستی کی طرف دھکیل دے۔
اگر ہم نے اس لعنت کے خلاف اجتماعی جہاد نہ کیا تو آنے والی نسلیں ایک ایسی تاریک وادی میں جا گریں گی جہاں سے واپسی ممکن نہ ہوگی۔ نشہ خوری کے خاتمے کے لیے ایمان کی مضبوطی، قانون کی سختی، اور معاشرتی بیداری تینوں پہلوؤں کا یکجا ہونا لازمی ہے۔ یہی وہ نسخۂ کیمیا ہے جو اس تباہ کن بلا کو جڑ سے اکھاڑ سکتا ہے، اور فرد و معاشرہ دونوں کو ایک پاکیزہ، مہذب اور روشن مستقبل عطا کر سکتا ہے۔
یاد رکھیے! نشہ خوری صرف جسمانی موت کا پیش خیمہ نہیں بلکہ یہ روح کی قبریں کھودتی ہے، ضمیر کے چراغ بجھا دیتی ہے، اور انسان کو اس درندے میں بدل دیتی ہے جو اپنے ہی گھر کو آگ لگا بیٹھتا ہے۔ اگر آج ہم نے اس لعنت کے خلاف عزم و استقامت کے ساتھ عملی اقدام نہ کیا تو کل تاریخ ہمیں بزدلی، غفلت اور مجرمانہ خاموشی کے الزام میں کٹہرے میں کھڑا کرے گی۔ لازم ہے کہ ہم اپنے ایمان، تہذیب اور آئندہ نسلوں کی بقا کے لیے اس عفریت کا قلع قمع کر دیں، تاکہ آنے والی صبح ہماری آنکھوں کے سامنے ایک ایسا معاشرہ لے کر آئے جہاں روشنی کا غلبہ ہو، اور ہر دل میں سکون، امن اور شرافت کے چراغ فروزاں ہوں۔
پس لازم ہے کہ اہلِ بصیرت و غیرت، دانشورانِ ملت، اور اربابِ اقتدار یک زبان ہو کر اس مہلک و مسموم لعنت کے استیصال کے لیے میدانِ عمل میں اتریں۔ نشہ محض ایک شخص کی بربادی کا نہیں بلکہ پوری نسل کی تباہی کا پیش خیمہ ہے؛ یہ ایک ایسا خاموش قاتل ہے جو آنچ کے بغیر جلا دیتا ہے اور آواز کے بغیر کاٹ دیتا ہے۔ معاشرے کے ہر ذی شعور فرد پر فرض ہے کہ وہ اس قبیح لت کے خلاف فکری بغاوت برپا کرے، اپنے گھروں کو اس آتشِ خموش سے محفوظ رکھے، اور نسلِ نو کے دل و دماغ کو ایمان، علم اور عمل کے آبِ حیات سے سیراب کرے۔ اگر ہم نے آج اپنی قوم کو اس تباہ کن عفریت کے پنجۂ خونیں سے نہ چھڑایا تو آنے والی تاریخ ہمیں اس جرمِ تغافل پر کبھی معاف نہ کرے گی۔
یاد رکھو! قوموں کا عروج تلوار یا زر سے نہیں بلکہ کردار کی پاکیزگی اور ارادے کی قوت سے ہوتا ہے، اور کردار کو سب سے بڑا زہر یہی نشہ ہے۔ پس آؤ! ہم سب مل کر عہد کریں کہ اس فتنۂ شب آشام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں اور ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیں جہاں ہوائے بہار میں پاکیزگی کی خوشبو اور فضا میں ایمان و عزیمت کی مہکار ہو۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے