कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

نتیش کمار کا حجاب تنازع: آئینی حدود، اخلاقیات اور اقتدار کی بے حسی

تحریر: ڈاکٹر سید تابش امام
رابطہ ۔۔۔9934933992

بہار کی سیاست اس وقت محض کسی وائرل ویڈیو یا ایک لمحاتی واقعہ کے تجزیہ سے آگے بڑھ کر ایک گہرے اخلاقی، آئینی اور تہذیبی بحران کے دہانے پر کھڑی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ پٹنہ میں پیش آنے والا واقعہ کس زاویہ سے دیکھا جائے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ جب ریاست کے سب سے اعلیٰ آئینی منصب پر فائز شخص خود انسانی وقار، مذہبی آزادی اور شخصی حدود کو پامال کرتا نظر آئے تو پھر جمہوری نظام کی روح کہاں پناہ لے گی؟
پٹنہ میں آیوش ڈاکٹروں کو تقرری نامے تقسیم کرنے کی ایک سرکاری تقریب کے دوران وزیرِ اعلیٰ نتیش کمار کا ایک نو منتخب مسلم خاتون ڈاکٹر کے حجاب کو سرعام چھونا، اس پر سوال اٹھانا اور پھر بغیر اجازت اسے نیچے کھینچ دینا کوئی معمولی لغزش یا غیر ارادی حرکت نہیں تھی۔ یہ ایک ایسا لمحہ تھا جس نے اقتدار کے اخلاقی زوال، طاقت کے نشے اور آئینی بے حسی کو ایک ہی فریم میں بے نقاب کر دیا۔
وہ اسٹیج، جہاں ریاستی وقار اور آئینی شائستگی کی علامت ہونی چاہیے تھی، لمحوں میں ایک ایسی جگہ میں تبدیل ہو گیا جہاں ایک عورت کی مذہبی شناخت، ذاتی آزادی اور وقار کو مجمع عام میں مجروح کیا گیا۔ وزیرِ اعلیٰ کا یہ سوال کہ ’’یہ کیا ہے؟‘‘ اور جواب میں ’’یہ حجاب ہے‘‘ سننے کے بعد بھی اس پر ہاتھ ڈال دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ مسئلہ لاعلمی کا نہیں، بلکہ اختیار کے غرور کا تھا۔
یہ واقعہ اس لیے بھی زیادہ سنگین ہے کہ یہ کسی نجی محفل یا غیر رسمی موقع پر نہیں، بلکہ ایک سرکاری تقریب میں پیش آیا، جہاں ریاست اپنے شہریوں کے ساتھ آئینی مساوات، احترام اور تحفظ کا وعدہ کرتی ہے۔ جب خود ریاست کا نمائندہ ان وعدوں کو توڑتا دکھائی دے، تو پھر شہریوں کے دل میں قانون، حکومت اور جمہوریت کے تئیں اعتماد کیسے باقی رہ سکتا ہے؟
اس منظر کے دوران موجود لوگوں کے چہروں پر ثبت حیرت، خاموشی اور بعض کے لبوں پر ابھرتی مسکراہٹیں اس اجتماعی بے حسی کی علامت تھیں جو اقتدار کے سامنے سر جھکا لینے کی عادت بن چکی ہے۔ نائب وزیرِ اعلیٰ کی جانب سے روکنے کی ناکام کوشش اس بات کا ثبوت تھی کہ اقتدار جب بے لگام ہو جائے تو خیرخواہی بھی کمزور پڑ جاتی ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ نتیش کمار کے طرزِ عمل پر سوالات اٹھے ہوں۔ گزشتہ چند برسوں میں متعدد سرکاری تقریبات اور عوامی اجتماعات میں ان کے غیر محتاط، غیر شائستہ اور بعض اوقات نامناسب رویوں پر تنقید ہوتی رہی ہے۔ مگر ہر بار سیاسی مصلحتوں، اتحادی مجبوریوں اور اقتدار کی ضرورت نے ان سوالات کو دبا دیا۔ اب یہ واقعات محض اتفاق نہیں رہے، بلکہ ایک ایسے تسلسل کی شکل اختیار کر چکے ہیں جو گہری تشویش کا باعث ہے۔
یہ واقعہ ہمیں مجبور کرتا ہے کہ ہم اقتدار اور اخلاقیات کے تعلق پر سنجیدگی سے غور کریں۔ اقتدار بذاتِ خود نہ اچھا ہوتا ہے نہ برا، مگر جب وہ اخلاقی احتساب سے آزاد ہو جائے تو ظلم کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ نتیش کمار، جو خود کو برسوں سے ’گڈ گورننس‘ اور ’سیکولرزم‘ کا علمبردار قرار دیتے رہے ہیں، آج اسی معیار پر پورا اترتے دکھائی نہیں دیتے جس کا وہ دعویٰ کرتے رہے۔
حجاب محض ایک لباس نہیں، بلکہ کروڑوں مسلم خواتین کے لیے ایمان، شناخت، خودمختاری اور وقار کی علامت ہے۔ ہندوستان کا آئین، بالخصوص آرٹیکل 25، ہر شہری کو مذہبی آزادی اور اس کے اظہار کا مکمل حق دیتا ہے۔ اسی طرح آرٹیکل 21 ہر فرد کو عزت اور وقار کے ساتھ جینے کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔ اس آئینی پس منظر میں دیکھا جائے تو ایک خاتون کے حجاب کو سرعام چھیڑنا محض غیر اخلاقی نہیں، بلکہ آئینی روح کے منافی بھی ہے۔
یہاں مسئلہ صرف ایک مذہبی علامت کا نہیں، بلکہ ایک عورت کے اختیار، اس کی شخصی آزادی اور اس کے جسمانی و روحانی دائرے کے احترام کا ہے۔ اگر وزیرِ اعلیٰ جیسے عہدے پر فائز شخص کو یہ احساس نہ ہو کہ کسی عورت کے لباس یا مذہبی شناخت پر ہاتھ ڈالنا کس قدر توہین آمیز ہے، تو پھر یہ محض ایک فرد کی غلطی نہیں، بلکہ ریاستی اخلاقیات کی شکست ہے۔
افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اس سنگین واقعہ پر وہ ادارے بھی خاموش دکھائی دے رہے ہیں جن کا کام ہی ایسے معاملات میں آواز اٹھانا ہے۔ ریاستی خواتین کمیشن، انسانی حقوق کمیشن اقلیتی کمیشن اور دیگر آئینی اداروں کی خاموشی کئی سوالات کو جنم دیتی ہے۔ کیا قانون واقعی سب کے لیے برابر ہے؟ یا اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے افراد کے لیے انصاف کے پیمانے بدل جاتے ہیں؟
اگر یہی حرکت کوئی عام شہری کرتا تو اس کے خلاف فوری کارروائی ہوتی، مقدمہ درج ہوتا اور سماجی سطح پر سخت ردِ عمل سامنے آتا۔ مگر جب ملزم خود اقتدار کا سرچشمہ ہو، تو قانون کی زبان گنگ اور ادارے مفلوج نظر آتے ہیں۔ یہی وہ لمحہ ہے جہاں جمہوریت کے چہرے پر دراڑیں نمایاں ہو جاتی ہیں۔
سیاسی جماعتوں کا ردِ عمل بھی اس موقع پر غور طلب ہے۔ راشٹریہ جنتا دل اور کانگریس نے واقعہ کی سخت مذمت کرتے ہوئے استعفیٰ کا مطالبہ کیا، مگر یہ سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ کیا ہندوستانی سیاست واقعی اخلاقی اصولوں پر کھڑی ہے یا محض اقتدار کی بساط پر چالیں چلنے کا نام بن چکی ہے؟ سیاست میں منافقت اس حد تک سرایت کر چکی ہے کہ اصول بھی پارٹی لائنوں کے اسیر ہو گئے ہیں۔
سوشل میڈیا پر عوامی ردِ عمل نے اس واقعہ کو محض ایک علاقائی مسئلہ نہیں رہنے دیا۔ نوجوانوں، خواتین اور دانشوروں نے اسے شخصی آزادی اور جمہوری اقدار پر حملہ قرار دیا۔ مگر ہمارے سماج کا المیہ یہ ہے کہ احتجاج اکثر وقتی ہوتا ہے۔ چند دنوں بعد نیا موضوع، نئی بحث اور پرانی ناانصافیاں فراموش کر دی جاتی ہیں۔
یہ وہ مقام ہے جہاں خاموشی بھی جرم بن جاتی ہے۔ اگر اس موقع پر اہلِ قلم، صحافی، اساتذہ، طلبہ اور سول سوسائٹی نے اجتماعی طور پر آواز بلند نہ کی تو یہ روایت مضبوط ہو جائے گی کہ اقتدار کے سامنے ہر حد پامال کی جا سکتی ہے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ وزیرِ اعلیٰ نتیش کمار محض رسمی بیان نہیں بلکہ آئینی اور اخلاقی ندامت کے ساتھ قوم سے معافی مانگیں۔ یہ معافی طاقت کی کمزوری نہیں بلکہ جمہوریت کی مضبوطی کی علامت ہوگی۔ ساتھ ہی حکومت کو واضح ہدایات اور پالیسی وضع کرنی چاہیے تاکہ مستقبل میں کسی بھی سرکاری تقریب میں خواتین کی شخصی آزادی یا مذہبی شناخت کے ساتھ مداخلت نہ ہو۔
جمہوریت کا اصل امتحان اقتدار میں نہیں بلکہ اخلاقیات میں ہوتا ہے۔ تاریخ ہمیں یہی سکھاتی ہے کہ قومیں ووٹوں کے انبار سے نہیں بلکہ انصاف، احترام اور قانون کی بالادستی سے زندہ رہتی ہیں۔ نتیش کمار کا یہ عمل بہار کے اجتماعی ضمیر پر ایک بدنما داغ ہے، اور یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جب سیاست اخلاقیات سے خالی ہو جائے تو اقتدار انصاف کو نگل لیتا ہے۔
اب سوال یہ نہیں کہ وزیرِ اعلیٰ نے کیا کیا، بلکہ سوال یہ ہے کہ ہم، بحیثیت شہری، صحافی اور اہلِ دانش، اس ناانصافی کے سامنے کیا رویہ اختیار کرتے ہیں۔ اگر ہم نے بھی خاموشی کو ترجیح دی تو آنے والی نسلیں شاید یہی کہیں گی کہ
وہ وقت جب طاقت نے عورت کے حجاب کو چھوا، اہلِ قلم خاموش تھے، اہلِ سیاست بے حس تھے، اور آئین تنہا کھڑا تھا۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے