कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

ناندیڑ عیدگاہ کے قریب مبینہ خودکش دھماکہ معاملہ

مسلم ایڈوکیٹ فورم کی جانب سے اعلیٰ سطحی تحقیقات کا مطالبہ

ناندیڑ:28؍مارچ (نمائندہ اعتبار) عیدالفطر کے موقع پر 21 مارچ 2026ء کو ناندیڑ شہر میں پیش آئے مبینہ خودکش دھماکہ کے معاملہ نے سنسنی پھیلا دی ہے۔ اس واقعہ کے خلاف ناندیڑ ضلع و سیشن عدالت کے مسلم ایڈوکیٹ فورم نے مہاراشٹر کے گورنر، اسمبلی کے اسپیکر اور پولیس ڈائریکٹر جنرل کو ضلع کلکٹر کے توسط سے ایک تفصیلی عرضداشت پیش کرتے ہوئے اعلیٰ سطحی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔عرضداشت کے مطابق عیدالفطر کے دن صبح تقریباً 9:30 تا 10:00 بجے کے درمیان دیگلور ناکہ کی مرکزی عیدگاہ اور واجےگاؤں عیدگاہ کے درمیان دریائے گوداوری کے کنارے واقع سڑک پر ایک موٹر سائیکل سوار نامعلوم شخص نے اپنے جسم پر مبینہ طور پر دھماکہ خیز مواد، پیٹرول سے بھری بوتلیں، لوہے کی کیلیں اور سوتلی بم باندھ کر عیدگاہ کی جانب بڑھنے کی کوشش کی۔ بتایا گیا ہے کہ عید کی نماز میں شریک ہزاروں افراد کی جانب بڑھنے سے قبل ہی تقریباً 100 تا 150 فٹ کے فاصلے پر زور دار دھماکہ ہوا، جس میں موٹر سائیکل سوار بری طرح جھلس کر موقع پر ہی ہلاک ہوگیا۔عینی شاہدین کے مطابق دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ جائے وقوعہ سے دھوئیں کے غول اٹھتے رہے اور یکے بعد دیگرے چھوٹے دھماکوں کی آوازیں سنائی دیتی رہیں، جس سے نماز کے لیے جمع ہزاروں افراد میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ کچھ افراد نے اس واقعہ کی ویڈیو بھی بنائی۔ مقامی لوگوں نے انسانی ہمدردی کے تحت زخمی شخص کو بچانے کی کوشش بھی کی، تاہم پولیس اور فارینسک ٹیم نے فوری طور پر موقع پر پہنچ کر اپنے قبضہ میں لے لیا۔عرضداشت میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا ہے کہ پولیس نے جائے وقوعہ کو جلدی صاف کر دیا اور عوام کو تفصیلات سے آگاہ نہیں کیا، جس کی وجہ سے شہریوں میں بے چینی اور خوف کا ماحول پیدا ہو گیا ہے۔مسلم ایڈوکیٹ فورم نے اس واقعہ کو ایک سنگین اور منظم سازش قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ عین نماز کے وقت ہزاروں مسلمانوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔ فورم نے مطالبہ کیا ہے کہ اس پورے معاملہ کی تفتیش سی آئی ڈی، سی بی آئی اور اے ٹی ایس جیسی ایجنسیوں کے ذریعے کرائی جائے اور اس میں شامل تمام عناصر کو بے نقاب کیا جائے۔
اس کے علاوہ 2006ء میں ناندیڑ کے پاٹ بندھارے نگر میں ہوئے دھماکہ کیس (کرائم نمبر 99/2006) کے ان تمام ملزمین کی بھی دوبارہ تفتیش کی جائے جنہیں 2025ء میں عدالت نے بری کیا تھا، تاکہ کسی ممکنہ سازش کے پہلو کو نظرانداز نہ کیا جائے۔فورم نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ موجودہ ضلع سطحی تحقیقاتی افسران کو فوری طور پر تبدیل کیا جائے تاکہ غیر جانبدارانہ تحقیقات ممکن ہو سکے اور خاطیوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔اس عرضداشت پر مسلم ایڈوکیٹ فورم کے سرپرست ایڈوکیٹ ایم۔ زیڈ۔ صدیقی اور صدر ایڈوکیٹ ایوب الدین جاگیردار،نائب صدور ایڈوکیٹ محمد شاہد، ایڈوکیٹ سید ساجد، ایڈوکیٹ واحد احمد، خازن ایڈوکیٹ جاوید خان اور خاتون نمائندہ ایڈوکیٹ لبنیٰ فرحین و دیگر وکلاء کے دستخط ثبت ہیں، جنہوں نے حکومت سے فوری کارروائی کرتے ہوئے ریاست میں امن و امان برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے۔

 

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے