कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

نابینا علمائے کرام

تحریر:ابو خالد

ستائش کنم ایزد پاک را ۔ کہ دانا و بینا کند خاک را
ستائش و حمد اُس پاک پروردگار کے لیے ہے جو نابینا مٹی کو آنکھ عطا کرتا ہے اور انسان کو نورِ بصیرت بخشتا ہے۔
دنیا میں اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتیں ہیں، مگر آنکھ ایک ایسی لطیف و عظیم نعمت ہے جس سے محروم ہو جانا زندگی کے ایک روشن چراغ کے گل ہو جانے کے مترادف ہے۔ عام لوگ نابینا کو عضوِ معطل سمجھ لیتے ہیں، یہاں تک کہ بعض نابینا خود بھی اپنے آپ کو بے کار تصور کرنے لگتے ہیں۔ حالانکہ یہ گمان حقیقت کی دنیا میں درست نہیں۔ آنکھ جسم کا ایک مخبر ہے، پورا دماغ یا پورا انسان نہیں۔
ایک مخبر کے خاموش ہو جانے سے سردار کی قوتیں ختم نہیں ہوتیں۔ انسان کے پاس قوتِ سمع، قوتِ لمس، قوتِ خیال، قوتِ فہم—سب موجود رہتی ہیں جن سے وہ اپنی زندگی کی راہیں تراش سکتا ہے۔
لیکن افسوس!
نابینا کو دیکھ کر لوگ رحم تو کھاتے ہیں، مگر کم ہی لوگ اپنی آنکھوں کی قدر کرنے کا سبق لیتے ہیں۔
ترقی یافتہ ممالک خصوصاً انگلستان میں نابیناؤں کی تعلیم اور تربیت نے جو منزلیں طے کی ہیں، وہ عبرت اور حیرت دونوں پیدا کرتی ہیں۔ سَیکس کالج وہاں کا ایک عظیم ادارہ ہے جہاں نابینا بچے اور بچیاں رہتے، پڑھتے، کھیلتے اور ہنر سیکھتے ہیں۔
اس ادارے میں داخل ہوتے ہی در و دیوار سے گویا ایک خاموش پکار سنائی دیتی ہے:
ہے عجب سیر اگر دیدۂ بینا دیکھے
دیکھنا ہو جسے عبرت کا تماشا دیکھے
اندر کا منظر زندگی اور امید سے لبریز ہوتا ہے۔ کسی طرف لڑکے کرکٹ کھیل رہے ہوتے ہیں، کسی طرف لڑکیاں دائرے میں بیٹھی استانی کی کہانی سن رہی ہوتی ہیں۔ ان کے قہقہے، مسکراہٹیں اور مباحثے دیکھیں تو ایسا لگے گا کہ زندگی نے ان سے روشنی تو لی ہے، خوشی نہیں چھینی۔ یہاں نابینا لڑکیاں سلائی، بُنائی، ڈورہ سازی، یہاں تک کہ کڑھائی تک سیکھتی ہیں۔
لڑکے ٹوکریاں، لکڑی کے بکس، اور دیگر دستکاری کا سامان بناتے ہیں۔ یوں یہ بچے اپنے بازوؤں کے زور پر معاش کمانے کے قابل ہو جاتے ہیں۔
مدرسے میں جگہ جگہ تختیاں لگی ہیں جن پر لکھا ہے کہ “اندھا“ یا “بے کس“ جیسے الفاظ ہرگز زبان سے نہ نکالے جائیں۔ تاکہ ان ننھے دلوں میں کوئی پژمردگی نہ آئے۔
نابینا کیسے پڑھتے ہیں؟
یہ سوال سب کے ذہن میں آتا ہے۔ اس کا جواب اس سے بھی زیادہ حیرت انگیز ہے کہ لکھنے پڑھنے کا مخصوص نقطوں والا ٹائپ (بریل) ایک فرانسیسی نابینا نے ایجاد کیا تھا۔
یہ حروف کاغذ پر ابھرے ہوتے ہیں اور انگلیوں سے محسوس کیے جاتے ہیں۔ اس طریقے سے
انجیل سمیت بے شمار کتابیں نابینا خود چھاپ چکے ہیں۔
بلکہ اس سے بھی آگے بڑھ کر ایک ماہانہ رسالہ بھی نکالتے ہیں، جس میں ایڈیٹر، مصنف، طباعت کرنے والے، اور قارئین سب کے سب نابینا ہوتے ہیں۔
اسلامی تاریخ میں بھی نابینا علماء کی مثالیں بے شمار ہیں، مگر یورپ کی اس منظم کارگزاری کو دیکھ کر انسان شکر کے ساتھ ساتھ عبرت بھی محسوس کرتا ہے۔
تصورِ اشیا نابینا کے ذہن میں کیسے آتا ہے؟
استاد کھریا مٹی سے چھوٹی پہاڑیاں بناتے ہیں اور شاگرد انہیں چھو کر محسوس کرتے ہیں۔ قوتِ لامسہ کے عمل سے پہاڑ، درخت، گھوڑے، مکان ان سب کا تصور ذہن میں بیٹھ جاتا ہے۔ کثرتِ مشق سے وہ خود بھی نقشے اور اشکال بنانے لگتے ہیں۔ پھر بھی یہ سوال باقی رہ جاتا ہے کہ: جس چیز کو کبھی دیکھا ہی نہیں، اس کا اتنا درست تصور کیسے قائم ہو جاتا ہے؟
یہاں اساتذہ بھی اعتراف کرتے ہیں کہ شاید اللہ تعالیٰ نے اس جماعت کو کوئی ایسی باطنی بصیرت عطا کی ہے جو کمزور آنکھوں کے بدلے انہیں زیادہ روشن ذہن عطا کرتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ان بچوں کے بنائے ہوئے سامان کی موزونیت اور خوبصورتی دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ یہ سب بینائی کے بغیر کیسے ممکن ہوا؟
یہ ترقی کوئی آج کی ایجاد نہیں۔ مسلمانوں کی علمی تاریخ ابن خلکان، ذہبی، ابن انباری گواہ ہے کہ نابینا علماء نے
تفسیر، حدیث، فقہ، حساب، ادب اور فلسفہ کے میدانوں میں وہ نام پیدا کیے جن کی مثال مشکل سے ملتی ہے۔
حضرت قتادہ، ابو العلاء معری، بشار بن برد یہ وہ نابینا ہیں جن کا مقام بیناؤں میں بھی مشکل سے ملتا ہے۔
ایک نابینا عالم نے بتایا کہ
ان کے استاد شکلیں سمجھانے کے لیے ان کی پشت کو سلیٹ بناتے، انگلی سے دائرہ اور مثلث بنا کر انہیں سمجھاتے۔
یہی مشقیں ان کے ذہن میں روشن تصورات میں بدل جاتی تھیں۔
الغرض نابینا بے بس مخلوق نہیں، بلکہ عظیم صلاحیتوں کا خزانہ بھی رکھتے ہیں۔ ہم بینا لوگ اپنی آنکھوں کی قدر نہیں کرتے، جبکہ نابینا اسے دل کی روشنی سے محسوس کرتے تھے۔
کاش، ان کے حالات پڑھ کر ہماری آنکھیں کھلیں، اپنی نعمتوں کی قدر ہو، اور ہم سمجھیں کہ نعمت کو ضائع کرنا کفرانِ نعمت ہے۔ کل حساب کے دن ہم کیا جواب دیں گے؟
اللہ کرے یہ تحریر دلوں میں جاگزیں ہو اور عبرت و بیداری کا ذریعہ بنے۔
والسلام على من اتبع الهدى۔
چند نابینا علمائے کرام کے اسماء :
١- حضرت عماره
.۲۔ شاعر مشهور بشار
۳۔ فقیه شافعی زبیر بصری
٤- ابو معاویه
۵ ۔ سهل ابن بگار
٦- محمد ابن منهال محدث
٧- ابو معشر
. ۸۔ مغیره ابن مقسم
.۹۔ حماد بن زید
.١٠- حافظ علامہ ابو عمر
.١١- ابو العينا
. ۱۲۔ ابو بکر نحوی
۱۳- ابو جعفر نحوی
.١٤- ابو العلا معزی
۱۵۔ ابوالحسن مصری فقیه شافعی
١٦- هشام نحوی
. ۱۷ ۔ ابو العباس رازی
. ۱۸۔ سعدان نحوی
. ۱۹۔ وراق نحوی
۲۰۔ شاعر مشہور علی قیروانی
۲۱۔ ابو القاسم عمر نحوی
۲۲۔ امام شاطبی
. ۲۳۔ محب الدین حنبلی
٢٤. ابن الدهان نحوی
۲۵۔ شاعر مشہور ابن منصور
. ٢٦. صائن الدین
۲۷۔ ناقداری محدث
. ۲۸۔ جمال الدین
۲۹۔ کمال الدین
. ۳۰ قاری جمال الدین
. ۳۱ ابو اسحق عراقی
۳۲۔ اسماعیل ابن احمد
ان شاء اللہ اگلی فرصت میں ان کے حالات زندگی ، حوالہ جات ، کن علوم میں مہارت تھی ، کیا مقام ومرتبہ تھا وغیرہ کی وضاحت کی جائے گی! فانتظروا ۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے