कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

میں پھر آ رہا ہوں

از قلم :ظفر ھاشمی ندوی
بذریعہ ضلع نامہ نگار اعتبار نیوز محمد سرور شریف پربھنی

میرا نام ڈاکٹر رمضان ہے۔سنہ ۲ ھجری میں مدینہ منورہ میں میری پیدائش ہوئی۔ وہ بھی اس طرح کہ جبرئیل علیہ السلام مجھے قرآن مجید کی آیتوں میں لے کر حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آئے اور نبی آخر الزماں نے میری آمد کا اعلان فرمادیا۔ مجھے پیٹ کی بیماریوں اور وزن کم کرنے کے لئے نہیں بھیجا گیا بلکہ روحانی بیماریوں کے علاج کے لئے تقویٰ جیسا معجون دے کر ہر زمانہ کے مسلمانوں کے علاج کرنے کے لئے اللہ تعالی نے حکم دیا ہے۔
اس دن سے میں تو ہر سال اپنا فرض ادا کر رہا ہوں مگر عہد نبوی سے لے کر تبع تابعین کے دور تک جسمانی اور روحانی بیمار مسلمانوں نے مجھ سے بڑا فائدہ اٹھایا۔ اس کے بعد تقریبا تمام مسلمانوں نے میرا بڑا ہی غلط استعمال شروع کر دیا۔ میں ہر سال آتا ہوں کہ مسمانوں کے دل سے دنیا کی محبت کم ہو اور آخرت کی محبت زیادہ ہو- مگر تقریبا تمام مسلمان میرے آتے ہی کھانا پینا زیادہ سونا اور نئے نئے کپڑے جوتے اور یہاں تک کہ گھریلو سامان اور نئی نئی کار تک میرے نام سے خریدنا شروع کر دیتے ہیں۔
مجھے اللہ تعالیٰ نے ہر سال دنیا کے تمام مسلمانوں کے لئے روحانی ڈاکٹر بنا کر بھیجا ہے۔ اور اس علاج کو کامیاب اور زیادہ سے زیادہ فائدہ مند بنانے کے لئے قرآن کریم کو نازل کرنے کے لئے میرا ہی انتخاب فرمایا۔ تم انسانوں اور جنوں کو ہر طرح کی جسمانی اور روحانی بیماری سے بچانے کے لئے دن میں روزہ ( یعنی دن میں نہ کھانا ( نہ کہ سحری کے نام سے نئی نئی ڈش بنانا اور کھانا اور افطاری کے نام سے ہر روز کئی کئی ڈشیں بنانا اور کھانا ) اور رات کو تراویح کی نماز پڑھنا اور مہینہ بھر میں کم از کم ایک دفعہ پورا قرآن پڑھنا مقرر فرمایا ۔مگر سارے انسان و جن روزہ کی روحانی طاقت کو زیادہ سے زیادہ کھانے کھا کر ختم کر دیتے ہیں۔اور قرآن کے روحانی علاج کو بھی ڈھنک سے استعمال نہیں کرتے۔ مثال کے طور پر ایک حکیم نے انتھائی وزن زیادہ رکھنے والے کو کچھ دواؤں کے نام لکھ کر دیئے ۔اب ور مریض رات دن ان دواؤں کے نام بار با پڑھتا رہتا ہے مگر خرید کر کھاتا ہی نہیں ہے تو کیا وہ ٹھیک ہو سکتا ہے؟ تم مسلمان میرے اور قرآن کے ساتھ ہر سال یہی تو کر رہے ہو۔ پہلی بات سال بھر قرآن پڑھتے ہی نہیں ہو۔ کچھ لوگ مسلسل پڑھتے ہیں تو ان کا حال یہ ہے کہ بچپن سے لیکر قبر میں جانے تک صرف قرآن کے الفاظ ہی پڑھتے رہتے ہیں۔ ترجمہ سے ایک دفعہ بھی نہیں پڑھتے ۔ جب سمجھتے ہی نہیں ہیں تو کیا عمل کریں گے ۔ کچھ مسلمان عمل بھی ما شاء اللہ کرتے ہیں مگر دین سے ناواقف مسلمانوں تک دین کی کوئی بات نہیں پہونچاتے ہیں نہ ہی غیر مسلموں تک قرآن کا پیغام پہونچاتے ہیں ۔
جو نہ ہونا تھا وہ سلوک ہر سال تم لوگ میرے ساتھ کر رہے ہو ۔ یاد رکھو اگر تم لوگوں نے زندگی بھر میری قدر نہیں کی تو اللہ تعالیٰ تمہیں باب ریان سے داخل ہونے نہیں دے گا۔
اب بتاؤ اس سال کیا ارادہ ہے؟ کیا ہر سال کی طرح اس رمضان میں مجھ سے اپنا علاج نہیں کراؤ گے؟
کیا ہر رمضان کی طرح اس رمضان میں بھی تمہاری عورتیں سحری اور افطاری بنانے میں مشغول رہیں گی اور تم بھی میرا نام لے کر طرح کی سحری اور بدل بدل کر افطاری کھا کھا کر گذار دو گے؟ میں بھی دیکھنا چاہوں گا کہ وہ کون مرد مجاھد ہے جو اس رمضان میں اپنے شیطان اور نفس کو ہرا کر آخرت میں باب ریان سے داخل ہوگا۔
چلتے چلتے ایک انتہائی کڑوا مگر سچا واقعہ سن لیجیئے۔
جاپان میں ایک مسلمان جس کمپنی میں کام کرتے تھے اسی کمپنی میں ان کی جاپانی ساتھی ( کلیگ) نے ان سے پوچھا: کیا میں تم سے ایک سوال کر سکتی ہوں؟ انھوں نے کہا کیوں نہیں۔ اس نے کہا تمہارے اللہ کو رمضان بھر سارے مسلمانوں کو دن بھر بھوکا رک کر کیا مل جاتا ہے؟ انھوں نے کہا ہم لوگ صرف بھوکے نہیں رہتے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ جھوٹ ، لڑائی ، جھگڑا ، گالی گلوچ، اور ہر غلط کام سے بھی بچتے ہیں ۔ اس جاپانی عورت نے کہا اوہ آپ لوگ صرف ایک مہینہ ایسا کرتے ہیں ، ہمیں تو ساری زندگی ایسے کاموں سے دور رہنا پڑتا ہے۔
اس رمضان سے آپ کا خود اپنے بارہ میں کیا ارادہ ہے ؟
چلیے اگلے سال بتائیے گا ۔ اللہ آپ سب کی عمر میں برکت عطا فرمائے اور سچی دینداری عطا فرمائے۔ آمین

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے