कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

میں بابری ہوں ، اور میری چیخیں آج بھی گونج رہی ہیں

تحریر: رغیب الرحمٰن انعامدار (بیودہ)
معاون معلم
بلال اردو پرائمری اسکول، گیورائی، ضلع بیڑ
8766787156

6 دسمبر یعنی وہی تاریخ جب 1992 میں تاریخی بابری مسجد کو شدت پسند ہندوتوا طاقتوں کے ذریعہ شہید کردیا گیا تھا۔ اس واقعہ کو 32 سال گزر چکے ہیں، لیکن حساس مسلم طبقہ کے دِلوں میں اس کا زخم آج بھی تازہ ہے۔ بھلے ہی عدالتِ عظمیٰ نے منہدم بابری مسجد کی جگہ رام مندر بنانے کا فیصلہ صادر کردیا ہے اور اس مندر کا افتتاح بھی ہوچکا ہے، لیکن تاریخ کے صفحات میں 6 دسمبر 1992 ایک سیاہ داغ کی مانند درج ہو چکا ہے جو ہمیشہ آنکھوں میں کھٹکتا رہے گا۔ 6 دسمبر کو ایک طرف حساس مسلم طبقہ "یومِ سیاہ” کے طور پر مناتا ہے تو دوسری طرف انتہا پسند ہندوتوا طبقہ ” وجئے دیوس” (یومِ فتح) کی شکل میں۔ ظاہر ہے بابری مسجد کی شہادت نے مسلم اور ہندو طبقہ کے درمیان رشتوں میں ایسا شگاف پیدا کردیا ہے جو کبھی بھر نہیں سکے گا۔ بابری مسجد بھلے ہی منہدم ہوگئی ہو ، لیکن اس مسجد کا گنبد اور گنبد پر چڑھے شر پسندوں کی تصویر ہمارے ذہنوں میں بس چکی ہے اور ساتھ ہی بابری مسجد کو کبھی انصاف مل پائے گا! اس کی امید اب دم توڑ چکی ہے۔ کیوں کہ تمام حقائق کو تسلیم کرنے کے باوجود محض اکثریت کی آستھا کی بنیاد پر اس کی زمین تو مندر کی تعمیر کے لیے دے دی گئی تو اب کون ہے جو انصاف کرے گا ؟
لہٰذا بابری مسجد آج بھی فریاد کناں ہے۔ آئیے بابری مسجد کی بربادی کی درد بھری داستان اسی کی زبانی سنتے ہیں۔
اے زمین کے وارثو! کیا تم نے کبھی سوچا ہے کہ جب کسی عبادت گاہ کو مٹایا جاتا ہے، تو وہ دیواریں، وہ گنبد، وہ محرابیں کتنی چیخیں بلند کرتی ہیں؟ میرا معاملہ محض ایک عمارت کا انہدام نہیں تھا، یہ انسانیت کے ضمیر پر وہ زخم تھا جو کبھی نہیں بھر سکتا۔”
6 دسمبر کی تاریخ جب بھی آتی ہے تو میرے زخموں کی ٹیس بڑھ جاتی ہے۔ میرے وجود کو تو 32 سال پہلے ہی نیست و نابود کردیا گیا تھا۔ اب میری روح ریزہ ریزہ ہو کر بکھرنے لگی ہے۔ جب بھی میں آواز دیتی ہوں کہ ہے کوئی صاحبِ گوش جو میری فریاد سن سکے؟ ہے کوئی اہلِ دل جس کے سامنے میں اپنا دکھڑا رو سکوں؟ تو میں مایوس ہو کر اپنے آنسو سمیٹنے لگتی ہوں۔
مجھے آج بھی یاد ہے کہ وہ 22-23 دسمبر 1949 کی درمیانی شب تھی۔ ہر طرف خاموشی تھی۔ سردی کا موسم تھا۔ میرے چاہنے والے اپنا سر میرے دامن پر جھکا کر اپنی جبینوں کو منور کرکے واپس جا چکے تھے۔ میں بھی اپنے چاہنے والوں کے حق میں بارگاہِ خداوندی میں محوِ دعا تھی کہ اچانک کچھ لوگ رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھا کر اندرگھس آئے اور مورتیاں میرے منبر پر رکھ دیں۔ میں حیران تھی کہ یہ کیا ہو رہا ہے! میرے دامن میں آخر مورتیاں کیوں رکھی جا رہی ہیں! میں تمام رات پریشان رہی۔ صبح ہوئی تو بات صاف ہوگئی۔ جن لوگوں نے مورتیاں رکھی تھیں انھوں نے شور مچانا شروع کردیا کہ "رام للا پرکٹ ہوئے ہیں۔” میں حیران و ششدر تھی کہ یہ لوگ کتنے جھوٹے ہیں۔
مجھے یہ بعد میں اندازہ ہوا کہ ان لوگوں نے رام کو میرے مدمقابل لا کھڑا کردیا ہے۔ 1949 کی اس شب جب میرے منبر پر وہ ناپاک مورتی رکھی گئی ، دراصل ایک منظم منصوبہ کا حصہ تھی۔ یہ سازش صرف ایک عبادت گاہ کے خلاف نہیں، بلکہ ایک قوم کے ایمان، اس کے جذبات اور اس کی تاریخ کو مٹانے کی کوشش تھی۔
اس روز میری آنکھوں کے سامنے وہ دن آگیا جب شہنشاہ بابر کے حکم پر سپہ سالار میر باقی نے ٫1528 میں میری بنیاد رکھی ، جب میرے وجود کو محبت، امن اور بندگی کا ایک نشان بنایا گیا۔ میرے گنبدوں نے ان اذانوں کو سنا جو دلوں کو سکون اور روحوں کو تازگی بخشتی تھیں۔ میں نے ان نمازیوں کو بھی دیکھا جن کے ماتھے میرے فرش پر سجدوں سے روشن ہوتے تھے ۔ لیکن اس پر امن اور مقدس ماحول میں کچھ ایسے بھی لوگ پیدا ہوگئے جو مجھے اپنا دشمن تصور کرنے لگے۔جنھیں میرا وجود کھٹکنے لگا۔ انھوں نے میرے خلاف سازشیں شروع کردیں۔
میری تباہی کی داستان بہت طویل ہے۔ میرے وجود کو مٹائے 32 سال کا طویل عرصہ گزر چکا ہے۔ ان طویل برسوں میں مجھے کئی بار شہید کیا گیا۔ کئی بار مجھے منہدم کیا گیا۔لیکن جب بھی کوئی یہ جھوٹا دعویٰ کرتا ہے رام مندر کو توڑ کر مجھے وجود بخشا گیا تو میرے زخموں میں اور ایک زخم کا اضافہ ہو جاتا ہے۔میں خون کے آنسو رونے لگتی ہوں۔ میری بربادی کی داستان بہت دردناک ہے اسے سننے کی کسی میں تاب نہیں۔ اسی لیے میں اختصار سے بیان کرتی ہوں۔
مورتیاں رکھنے کے بعد اس وقت کی حکومت نے مورتیاں ہٹانے کا حکم دیا لیکن اس وقت کے کلکٹر نے حکومت کی خلاف ورزی کی اور مجھے مقفل کردیا گیا۔ باہر نگران مقرر کردیے گئے۔پولس کا پہرہ بٹھادیا گیا اور عدالت کا مقرر کردہ پجاری وہاں پوجا کرنے لگا۔منصف نے جس کا کام انصاف کرنا تھا اس نے مورتیاں ہٹوانے کی بجائے فساد کے اندیشے کی آڑ لیتے ہوئے میرے وجود کو سونا کردیا۔ اگلے کئی سالوں تک یہ سلسلہ چلتا رہا۔ میرا مقدمہ عدالتوں میں معلق رہا۔
اس کے بعد سنگھ اور دیگر ہندوتوا کے نظریات کی حامل شدت پسند جماعتیں طویل عرصہ سے ایسے ہی کسی مسئلے کی تلاش میں تھیں جس کے ذریعے ذات پات میں منقسم ہندو برادری کو یکجا کیا جا سکے۔ اسی مقصد کے تحت انھوں نے 1984 میں میرے وجود کو مٹانے کی تحریک شروع کردی۔ اسی مقصد کی تکمیل کے لیے بالآخر 1986 میں ایک اور منصف نے انصاف کے نام پر نا انصافی کرتے ہوئے میرے دروازے پوجا کے لیے کھول دیے۔ میرا وجود جو کبھی سجدوں سے آباد ہوتا تھا اب وہ بھجن کیرتن کرنے اور گھنٹی و ناقوس بجانے والوں کی آماجگاہ بن گیا۔ اس معاملے میں رفتہ رفتہ سیاست نے مداخلت شروع کر دی اور ملک کے اقتدار پر قبضے کا خواب دیکھنے والے سیاستدانوں نے دیکھتے ہی دیکھتے عام ہندو عوام کو میرا حریف بنا دیا۔ اور رام کے نام پر میرے خلاف ان کے ذہنوں میں نفرت بھری جانے لگی اس نفرت کو اور بڑھاوا دینے اور رام کے لیے عوام کو جذباتی کرنے کے لیے ٹی وی پر راماین سیریز کا آغاز کیا گیا۔
پُر عزم سیاست دانوں نے رام کو اس تنازعے میں گھسیٹ لیا۔ میرے نام پر سیاست کا گندا کھیل کھیلا جانے لگا، ہر طرف میرے مخالف زہریلے بیانات نشر کیے جانے لگے۔ زہریلے نعروں سے فضاء گونجنے لگی، کہا جانے لگا کہ یہ رام کی پوتر دھرتی ہے یہیں رام پیدا ہوا، بڑی ڈھٹائی سے یہ تک کہا گیا کہ جس منبر سے امامِ مسجد خطاب کیا کرتا تھا وہیں رام پیدا ہوا ،اب اسی مقام پر مندر تعمیر کیا جائے گا۔
میرے خلاف سازشیں کرنے والوں کی تعداد دن بہ دن بڑھتی اور رام مندر تحریک چلانے والے قافلے میں شامل ہوتی چلی گئی۔ دو بڑے فرقوں کے درمیان خلیج حائل ہوگئی۔ ایک جنونی کیفیت پیدا کر دی گئی پورے ملک میں خوف و دہشت کی فضا بنا دی گئی، جگہ جگہ فسادات ہوئے، جانے کتنے ہی بے گناہوں کو بے رحمی سے قتل کر دیا گیا۔
میرا معاملہ عدالتوں میں انصاف کی گہار لگاتا رہا۔ جب بھی سماعت ہوتی میرے حق میں فریاد کرنے والے عدالتوں کو بتاتے کہ کس طرح رات کی تاریکی میں میری عصمت کو تار تار کیا گیا، میرے دامن میں مورتیاں رکھ کر مجھے مندر میں تبدیل کر دیا گیا۔ لیکن میرے خلاف سازشیں کرنے والوں کی یہ جھوٹی کہانی کہ رام مندر توڑ کر مجھے وجود بخشا گیا رفتہ رفتہ حقیقت بنتی چلی گئی اور اسے سچ سمجھنے والوں کی تعداد بڑھتی گئی اور اسی ہجوم کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی انکھوں میں اقتدار کی ہوس لیے ہوئے ایک ظالم گجرات کے سب سے بڑے بت خانہ سومناتھ سے رتھ لے کر نکلا۔ لال کرشن اڈوانی نامی اس ظالم کی وہ رتھ یاترا جہاں جہاں سے بھی گزری اپنے پیچھے آگ اور خون کا ایک دریا اور لاشوں کے انبار چھوڑتی گئی اور اس رتھ یاترا نے سیاسی طوفان کھڑا کر دیا۔
مجھے آج بھی یاد ہے کہ وہ سال 1991 تھا جب نام نہاد سیکولر کانگریس ایک بار پھر برسر اقتدار آئی۔ اور پی وی نرسمہا راؤ وزیراعظم بنا۔ لیکن میرے وجود کو مٹانے کی تحریک کے طفیل اس ملک کی سب سے بڑی ریاست اتر پردیش میں پہلی بار کلیان سنگھ کی قیادت میں شدت پسند ہندوتوادی جماعت بی جے پی نے اپنی حکومت قائم کی۔
کلیان سنگھ نے عدالت عظمیٰ میں حلف نامہ داخل کیا کہ وہ میری حفاظت کرے گا میرے وجود پر آنچ نہیں آنے دے گا۔ جس کے بعد عدالت عظمیٰ نے کارسیوکوں کو پوجا کی اجازت دے دی۔ ملک بھر سے ظالموں کا ہجوم میرے ارد گرد جمع ہونے لگا۔ اچانک وہ ہزاروں شر پسند ایک ساتھ مجھ پر حملہ آور ہوئے۔ میں دہشت کے مارے چیخنے لگی، چلانے لگی، فریاد کرنے لگی۔ میں دیکھ رہی تھی کہ ہزاروں شر پسندوں میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو اس تنازع کی آڑ میں حکومت کرنے کا خواب دیکھ رہے تھے، وہ بھی تھے جنہوں نے رتھ یاترا نکالی تھی۔ قصّئہ مختصر یہ کہ 6 دسمبر 1992 کو میرا وجود مٹا دیا گیا اور اسی دن لکھنؤ میں بیٹھی حکومت نے عدالت، انصاف اور آئین و قوانین کو دن دہاڑے روندتے ہوئے میری بربادی کی داستان لکھ ڈالی۔ دہلی میں بیٹھی حکومت خاموشی سے میری بربادی کا تماشہ دیکھتی رہی۔ نرسمہا راؤ نے میری مکمل بربادی کے بعد اعلان کیا کہ "جہاں تخریب ہوئی ہے وہاں تعمیر ہوگی”۔ دراصل یہ ایک سفید جھوٹ تھا، ایک فریب تھا، ایک دھوکہ تھا۔ تعمیر سے مراد مسجد کی نہیں بلکہ مندر کی تعمیر تھی۔ ادھر میرے خلاف سازشیں کرنے والے کامیاب ہو گئے اور اب وہی لوگ برسر اقتدار ہیں۔
قصّئہ کوتاہ! جب اس ملک کی سب سے بڑی عدالت میں میرے معاملے پر سماعت ہو رہی تھی تو میرے چاہنے والوں نے میرے دفاع کے لیے بھر پور دلائل اور تاریخی حقائق پیش کیے۔ باہر یہ فضا بنائی جانے لگی کہ عدالت جو بھی فیصلہ دے گی ملک کے تمام لوگ اسے تسلیم کریں گے۔ سارے تاریخی حقائق میرے مظلوم ہونے کی گواہی دے رہے تھے۔ وہ چیخ چیخ کر میری بربادی کی داستان سنا رہے تھے۔ مجھے امید تھی کہ دیر سے ہی سہی لیکن اب میرے ساتھ انصاف ہو جائے گا۔ جب گواہیوں اور جرحوں کا عمل مکمل ہو گیا اور فیصلہ سنانے کا دن آیا تو میں بڑی خوش تھی کہ آج میرے ساتھ انصاف ہو کر رہے گا۔ پھر ایک بار میرے دامن میں سجدے کیے جائیں گے۔ اللہ اکبر! کی صداؤں سے میری زمین گونج اٹھے گی۔ مجھے ایک بار پھر مادی وجود بخشا جائے گا۔ میری نگاہیں نئی دہلی کی اس عمارت پر جسے انصاف کا سب سے بڑا ’’مندر‘‘ کہا جاتا ہے مرکوز ہو گئی اور میں یہ سوچتی رہی کہ دیکھیے اس بحر کی تہہ سے اچھلتا ہے کیا۔
منصف نے جب فیصلہ سنانا شروع کیا تو اس نے ایسی باتیں کہیں کہ میرا چہرہ کھل اٹھا۔ میں بہت مسرور تھی اور انصاف کی امید لگائے بیٹھی تھی۔ منصف نے میرے حق میں خوب دلائل دیے۔ مجھے مظلوم و مقہور قرار دیا اور کہا کہ میرے ساتھ انصاف ہونا چاہیے۔ اس نے کہا کہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ مندر توڑ کر مجھے وجود بخشا گیا ہے۔ اس نے یہ بھی کہا کہ میرے دامن میں نمازیں ادا ہوتی رہی ہیں اس نے یہ بھی تسلیم کیا کہ رات کی تاریکی میں مورتی رکھ دی گئی تھی۔ صرف اتنا ہی نہیں اس نے یہ حق گوئی بھی کی کہ بابری مسجد کا انہدام ایک غیر قانونی عمل تھا۔میری امید بندھ گئی کہ اب انصاف ہو کر رہے گا۔ یہ منصف مزاج شخص میرے ساتھ نہ انصافی نہیں کرے گا۔ لیکن اچانک سب کچھ منہدم ہو گیا۔ جج نے دستور کی ایک دفعہ کا سہارا لے کر میری روح کو ریزہ ریزہ بکھیر دیا۔ اس نے میرے خلاف فیصلہ سنا دیا۔ جہاں کبھی میں آباد تھی زمین کے اس قطعے کو مندر کی تعمیر کے لیے ہندوؤں کو دے دیا۔ اس نے دلیل دی کہ اگر اکثریت کی آستھا اور ان کی مرضی و منشا کے مطابق کام نہیں کیا گیا تو فساد پھیل جائے گا۔ اس طرح میرے ساتھ ناانصافی کی یہ داستان مکمل ہو گئی۔
میرے ساتھ ناانصافی کرنے کے بعد عدالت عظمیٰ نے بڑی فیاضی دکھاتے ہوئے میرے حقیقی وجود سے میلوں دور ایک زمین کا ٹکڑا دے کر کہا کہ اب وہاں مجھے تعمیر کرلیں۔ اس کے ذمہ داران تعمیر میں مصروف ہیں۔ لیکن میرا وجود تو مٹ چکا ہے میرا جسم تو نیست نابود ہو گیا ہے۔ صرف میری زخم خوردہ روح بچی ہے۔ وہ لمحہ بہ لمحہ ریزہ ریزہ ہوتی ہے۔ وہ نئی مسجد مجھے میرا حقیقی وجود نہیں لوٹا سکتی۔ ایک جسم سے روح نکال کر جسم کو فنا کر دیا گیا اور اب ایک نیا جسم بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ کیا ایک جسم میں روح بھی ڈالی جا سکے گی؟ نہیں!!! کبھی نہیں!!!! میں جانتی ہوں کہ مجھے اب انصاف نہیں مل پائے گا۔
اے مسلمانو! سنو! میری امید اب دم توڑ چکی ہے لیکن میرے وجود کو جن لوگوں نے تباہ کیا ہے مجھے ان سے کوئی گلہ نہیں، شکایت تو مجھے تم سے ہے۔ کیونکہ مجھے امید تھی کہ تم میرے حق کے لیے آخری سانس تک، خون کے آخری قطرے تک لڑتے رہوگے۔ لیکن جب میں یہ دیکھتی ہوں کہ میرے ساتھ جو ہوا، وہ دوسرے مقدس مقامات کے ساتھ بھی ہو رہا ہے، ہندوستان کی کئی مساجد کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ گجرات ، اتر پردیش ، دہلی اور دیگر ریاستوں میں گائے کے نام پر تم کو مارا جا رہا ہے، تمہارے گھروں کو جلایا جا رہا ہے، مدارس کو دہشت گردی کے اڈے قرار دیا جارہا، اولیاء اللہ کے آستانے بھی محفوظ نہیں رہے اور جن ظالموں نے میری عصمت کو روند ڈالا اور جنہوں نے میرے اعضاء کو بیت الخلا میں دفن کیا تم نے ان ہی سے قومی اتحاد کے نام پر میری عصمت اور اپنے ضمیر کا سودا کرلیا ہے تو میری روح کرچی کرچی ہو جاتی ہے۔
میری چیخیں آج بھی گونج رہی ہیں۔ کیا تم میری آہ و زاری سن سکتے ہو؟ کیا تم ان نمازیوں کے آنسو دیکھ سکتے ہو جو میرے ساتھ انصاف کے منتظر ہیں؟
میرے گرتے مینار چیخ چیخ کر سوال کر رہے ہیں: کب تک یہ زمین خون سے تر رہے گی؟ کب تک نفرت کے بیج بوئے جاتے رہیں گے؟ کب وہ وقت آئے گا جب انسانیت کے رشتے کو مذہب سے اوپر رکھا جائے گا؟
آج، میں یہ سوال لے کر کھڑی ہوں، شاید کوئی جواب دے، شاید کوئی ان زخموں کو بھرنے کی کوشش کرے جو نہ صرف میرے، بلکہ اس ملک کے ہر مظلوم مسلمان کے دل میں لگے ہیں۔ مگر کیا کوئی سن رہا ہے؟
آج میں تم سے فریاد کرتی ہوں کہ میں صرف ایک عمارت نہیں تھی، میں ایک عہد تھی، ایک تاریخ تھی۔ تم پر لازم ہے کہ میری داستان کو اپنی نسلوں تک پہنچاؤ۔ میری داستان سے ان کے دلوں میں وہ شعلہ جگاؤ جو حق کی راہ میں کبھی نہ بجھ سکے۔
اے مسلمانو! میری شہادت کو فراموش نہ کرنا۔ مجھے اپنے دلوں میں زندہ رکھنا۔ میری تباہی تمہارے لیے ایک سبق ہے کہ جب تک تم اپنے ایمان اور مقدسات کا دفاع نہیں کروگے تو دنیا تمہارے وجود کو مٹانے کی کوشش کرتی رہے گی۔
اللہ تمہیں اپنی عظمتوں کو پہچاننے، حق پر ڈٹے رہنے، اور ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے کی توفیق عطا فرمائے!
آمین۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے