कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

میں اور میرا رب ( دوسری قسط )

از: مولانا ظفر ھاشمی ندوی
بذریعہ ضلع نامہ نگار اعتبار نیوز محمد سرور شریف

پہلی رکعت کے لئے اللہ اکبر کہتے کہتے میرا جسم لرز گیا۔ دل نے پوچھا کیا کہا اللہ سب سے بڑا ہے۔ تو پھر تیرا اپنی ذات پر گھمنڈ، تیرا مال و دولت، دنیوی ماحول میں تیری حیثیت، دنیا میں نظر آنے والی کار موٹر سائیکل ، یہ اونچے اونچے مکانات ، چھوٹی بڑی حیثیتوں کے لوگ، ملکوں کے صدر اور دوسرے کروڑپتی ، دنیا میں اللہ کے بڑے بڑے باغی اور گھمنڈی ، یہ سب بڑے ہیں یا تیرا رب؟ اگر تیرا رب سب سے بڑا ہے اور یقینا وہی سب سے بڑا ہے تو مسجد کے باہر اس پر یقین رکھ کر ہر کام کر۔ دنیا اور دنیا والوں سے نہ ڈر۔ بہر حال عربی میں نماز نماز کی ابتدا کی دعا سبحانک اللہم والی دعا پڑھنا شروع کی( اے اللہ تو ہر عیب سے پاک ہے اور حمد وثنا کے لائق صرف تو ہے- تیرا نام بڑا با برکت ہے۔ اور تیری عظمت بہت اونچی ہےاور تیرے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ زبان عربی کے الفاظ ادا کر رہی تھی اور دماغ اسکے ترجمہ میں ڈوبا ہوا تھا ۔ بس کیا تھا مزا آگیا۔ دنیا کو بھول گیا۔آگے سورہ فاتحہ پڑھنی تھی۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں تھی۔ میرا خطرناک دشمن شیطان بھی تو تاک میں تھا۔میرا مسجد میں آنا ہی اسے بالکل پسند نہیں تھا۔ فورا رہنمائی ہوئی۔ تعوذ پڑھ اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم ، میں مردود شیطان کے مقابلے کے لئے اللہ کی پناہ اور حفاظت چاھتا ہوں۔ پڑھتے ہی اندھیرا چھٹ گیا ۔ پھر رہنمائی ہوئی: جس کے حکم پر مسجد میں آیا ہے اسکی تعریف کر۔ میں نے پڑھا بسم اللہ الرحمن الرحیم اس اللہ کے نام سے جو بے حد رحم کرنے والا اور بڑا مہربان ہے۔ اب کیا تھا۔زبان خود ہی چل پڑی۔ عربی میں سورہ فاتحہ کی آیتیں ایک کے بعد دوسری اور اس کے ساتھ دماغ اس کے ترجمہ کو دہرا رہا تھا: تمام تعریفیں اللہ کی ہے جو سارے جہانوں کا پالنے والا ہے۔ وہ بڑا مہربان اور بے حد رحم اولا ہے۔ وہی آخری فیصلہ کے دن کا مالک ہے۔ (اے اللہ) ہم صرف عبادت کرتے ہیں اور صرف تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں۔ (کونسی مدد چاھیے فانی چیزوں کا ڈھیر لگ جائے یا فیصلہ کے دن ہمیشہ ہمیشہ کی جنت مل جائے) ( کیا جنت مفت مل جائے گی؟)ہم سب کو سیدھے راستہ پر چلنے کی ہدایت و توفیق عطا فرما۔ وہ راستہ جس پر چلنے والوں پر تو نے انعام فرمایا نہ کہ وہ راستہ جس پر چلنے والوں پر تیرا غضب نازل ہوا اور وہ لوگ جو گمراہ ہو گئے۔ (آمین)۔
سورہ فاتحہ پڑھ لی تو میں نے فورا دوسری سورہ شروع کردی۔اور اس کے معنی و مطلب پر دل و دماغ میں توجہ دیتا رہا۔ جب دیکھا کہ مجرم سامنے ہوتے ہوئے بھی میرے رب نے کوئی سزا نہیں دے رہا ہے تو تھوڑی سی ہمت ہوئی اور میں فورا اپنے رب کے سامنے سامنے آدھا جھک گیا ۔ رکوع میں میری زبان پوری تعظیم اور احترام کے ساتھ سبحان دبی العظیم ( میرا عظیم رب ہر عیب سے پاک ہے) گنگنانے لگی۔ کوئی پانچ ساتھ دفعہ پڑھنے سے دل کو تسکین ہوئی تو کھڑے ہونے کی ہمت ہوئی۔ ادب سے کھڑا ہوا۔ بس ایک ہی بات ذہن میں آتی رہی کہ اپنے رب کی تعریف میں میں لگا رہوں۔ زبان پر مقدس الفاظ آئے: ربنا ولك الحمد حمدا كثيرا مباركا فيه( اے ہمارے رب صرف تیری ہی بہت تعریف کرتا ہوں جو بہت نا برکت ہے)۔ پانچ ساتھ دفعہ پڑھا پھر ہمت کرکے اس کے سامنے اپنی پیشانی ٹیک دی جس میں سجدہ کی تسبیح سبحان ربي الأعلى ( میرا عظیم رب سب سے اعلی و برتر ہے)۔ پانچ ساتھ دفعہ پڑھی۔ پہر ادب وسکون کے ساتھ بیٹھ گیا۔ بھلا ایک سجدہ کرنے سے کیا ہوتا ہے اس لیئے دوبارہ سجدہ کیا ۔خود بخود وہی محبت و عظمت بھری تسبیح پڑھی۔ ایسا لگا جیسے میرا رب مجہے رحم کی نظر سے دیکھ رہا ہے۔میں بھی محبت اور خوف کے جذبات کے ساتھ دوبارہ کھڑا ہو گیا۔اور جو اعمال پہلی رکعت میں کئے تھے اسی ترتیب سے ان کو زبان ودل کے شرکت کے ساتھ ادا کیا۔ اتنی دیر تک کائنات کے مالک کے سامنے رہنے سے تھوڑا سا خوف دور ہوا تو دو رکعت کے بعد مالک کے سامنے تشہد کی حالت میں بیٹھ گیا۔ ایسا لگا کہ جیسے اللہ تعالیٰ نے خوش ہو کر مجھے اپنے سامنے بٹھا لیا اب تو زبان اسکی تعظیم ہی تعظیم میں لگ گئی التحيات لله سے لیکر درود شریف اور اس کے بعد کی حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو سکھائی ہوئی دعا پڑھی ۔ لیجیے آپ بھی اس کا ترجمہ سنیے:

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے