कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

میں اس سے بہتر ہوں

تحریر: میر ذاکر علی محمدی پربھنی
بذریعہ ضلع نامہ نگار اعتبار نیوز محمد سرور شریف

جب اللہ نے شیطان کو آدم علیہ السلام کے لیے سجدہ ریز ہونے کا حکم دیا تو شیطان نے حکم عدولی کی اللہ نے پوچھا کون سی چیز آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے سے روک رہی ہے۔ اس نے جواب دیا۔ انا خیر منہ کہ میں اس سے بہتر ہوں۔ پھر اللہ نے اس جرم اور حکم عدولی کی پاداش میں جو سزا تجویز کی وہ دنیا کے لیے ایک نذیر ہے۔ جبکہ اللہ نے ارشاد فرمایا کہ تمہارے اکڑ کر چلنے سے نہ زمین پھٹیگی اور نہ کوئ پہاڑوں کو فرق پڑیگا۔ انا سے انسان اپنی عاقبت کو خراب کرتا ہے۔ اور عاجزی انسان کو بلندی پر لیجاتی ہے۔ اسی لیے حدیث شریف میں وارد ہے ۔ من عاجز للہ رفع اللہ جو اللہ کے لیے عاجزی اور تواضع اختیار کرتا یے۔ اللہ اس کو بلند کرتے ہیں۔ جس نے رجوع کیا وہ پاگیا۔انا میں جو رہا وہ رہ گیا۔ جو تنہا رہا وہ فنا ہوا۔نہ میں ریا نہ تو رہا۔ جو جھک گیا وہ پاگیا۔ بس عین شیطان نے آدم علیہ السلام کے سامنے نہ جھک نے کی غلطی کی۔ اور یہ غلطی اس کے جید علم کی وجہ بنی کہ میں اعلی و ارفع ہوں۔ اور یہی میں اس سے بہتر ہوں کی غلطی نے اس کو تا قیامت ذلیل و خوار کیا۔ آدمی اگر جھک کر چلے تو بآسانی پہاڑ کی چوٹی کو سر کرسکتا ہے۔ اور اگر اکڑ چلے تو ایک ٹیلہ بھی پار نہیں کرسکتا۔ جس چیز کا اللہ نے حکم دیا ہے اس کو بجا لانا چاہیے ۔ اور جس چیز سے منع فرمایا اس چیز سے پرہیز کرنا چاہیے۔ فخر اور کبریائ صرف اللہ کے لیے ہے۔ اور اللہ کا فرمان ہے الکبریاء ردائ کہ فخر اور بڑھائ صرف اللہ کو زیبا ہے۔ انسان کے لیے نہیں ۔ انسان خیر کے معاملے اور خیر پر رشک کر سکتا ہے۔ فخر نہیں۔ اللہ فخر کرنے والے اور زمین پر اکڑ کر چلنے والے کو پسند نہیں کرتا۔ چنانچہ آج کے دور میں خود رائ ظاہری چمک و دمک ego عام سی چیز ہو چکی ہے۔ جس سے اہل علم بھی محفوظ نہیں ہیں۔ علم ایک سمندر کے مانند ہے۔ اللہ نے پوری دنیا کو ایک قطرہ کے برابر علم عطا کیا ہے۔ چنانچہ اہل علم بھی اللہ کے پاس مسئول ہیں اس کے علم کے تئیں۔ بہادر اور اہل ثروت بھی اللہ کے پاس جواب دہ ہیں۔ اسی بناء پر بخاری شریف کی پہلی حدیث ہے۔ بے شک اعمال اور علم کا دارو مدار نیتوں پر منحصر ہے۔ اہل علم میں اگر انا کی آمیزش ہو تو وہ اوروں کو اپنے علم و فضل سے روشناس اور فائدہ نہیں پہنچا سکتے۔ اہل ثروت کبر اور تفاخر کی بناء پر لوگوں کے تئیں سود مند ثابت نہیں ہوسکتے۔ اور بہادر اپنی جاہ و جلال کی بناء پر کامیاب نہیں ہوسکتے۔ فرعون کے پاس سلطنت تھی جاہ و جلال تھا۔ انانیت اور کبر و سلطنت کی زد میں آکر کہا میں ہی رب ہوں انا ربکم الاعلی اللہ نے جب موسی علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام کو حکم دیا کہ فرعون کے پاس جاو وہ سرکش ہو چکا ہے اس کو نرم گفتار سے سمجھانا تاکہ وہ سمجھ پاے اور راہ راست پر گامزن ہو۔ لیکن فرعون کو اسکی سلطنت اور انا نے لے ڈوبا۔ جو دنیا کے لیے تا قیامت نذیر ہے۔ آپ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے انانیت اور تکبر حق کی سراسر مخالفت اور دوسروں کو حقیر سمجھنے کا نام ہے۔ جو تکبر کرتا ہے اللہ اس کو نیچ اور ذلیل کرتے ہیں۔ اور جو اللہ کے لیے عاجزی اختیار کرتا ہے اللہ اس کو بلند مرتبہ عطا کرتے ہیں۔ موسی علیہ السلام کو اللہ نے کہا ۔ جاو کائنات میں کوئ ادنی اور حقیر تو لیکر آنا۔ موسی علیہ السلام نے پوری کائنات میں ادنی اور حقیر تلاش کیا ، لیکن تلاش بسیار کے بعد جب اللہ کے حضور میں آے۔ اللہ نے کہا اے موسی کائنات میں کون سی چیز ادنی اور حقیر ہے۔ موسی علیہ السلام نے جواب دیا۔ پوری کائنات چھان مارا لیکن کسی کو ادنی اور کم درجہ کا نہیں پایا۔ تب اللہ نے کہا اے موسی اگر آپ کسی کو ادنی اور حقیر بتاتے تو میں تمہیں نبوت سے ہر گز سرفراز نہیں کرتا۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے