कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

میڈیا کا کام سماج کی نگہ بانی ہے اشتعال انگیزی نہیں

تحریر: عارف عزیز (بھوپال)

میڈیا کو جمہوریت کا چوتھا ستون کہا جاتا ہے کیونکہ اس کے ذریعہ عوام کی نمائندگی ہوتی ہے۔ حکومت اور عوام کے درمیان ایک پل کا کام ہوتا ہے۔ حکومت کی پالیسیوں اوراقدامات میں جو خامیاں اور نقائص پائی جاتی ہیں ان کو دور کرنے کیلئے میڈیا اپنی آواز بلند کرتا ہے۔ عوامی احساسات اور توقعات کی عکاسی کرتے ہوئے حکومتوں کو ان سے باخبر بھی کرتا ہے۔ میڈیا کے ذریعہ ہی حکومت کی ناکامیوں کو اجاگر کیا جاتا ہے اور حکومت کو اس کے وعدے یاد دلائے جاتے ہیں۔ اس کے کارنامے بھی اگر کچھ ہوں تو ان کی بھی تشہیر کی جاتی ہے۔ عوام کو ان کی اپنی ذمہ داریوں کا احساس دلایا جاتا ہے۔ ان میں جذبہ حب الوطنی کو فروغ دیا جاتا ہے۔ اسی لئے میڈیا کو جمہوریت کا چوتھا ستون کہا جاتا ہے۔ تاہم حالیہ کچھ عرصہ میں دیکھا گیا ہے کہ میڈیا نے اپنے فرائض کو بالائے طاق رکھ دیا ہے بلکہ انہیں یکسر فراموش کردیا ہے۔ میڈیا اب مذہبی منافرت پھیلانے میں ایک دوسرے پر بازی لیجانے کیلئے کوشاں ہے۔ایک چینل پر کسی مسئلہ کو مذہبی تعصب کی نظر سے پیش کیا جاتا ہے تو دوسرا چینل بھی اس سے سبقت لیجانے کی کوشش میں کوئی اور مسئلہ ڈھونڈ لاتا ہے۔ ہر مسئلہ کو ہندو۔ مسلم رنگ دیتے ہوئے سماج میں نفرت کو ہوا دی جا رہی ہے۔ اہم طبقات کے مابین دوریاں پیدا کی جا رہی ہیں۔ ایک دوسرے کے تعلق سے انہیں متنفر کیا جا رہا ہے۔ ایسی کوششوں پر میڈیا کو عدالتوں کی پھٹکار کا بھی سامنا کرنا پڑا ہے اس کے باوجود وہ اپنے طرز عمل میں کوئی تبدیلی نہیں لاتا اور پرانی روش کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔ جو مسائل عوام کو درپیش ہیں اور جنہیں حکومت کے ایوانوں تک پیش کرنا میڈیا کی ذمہ داری ہے انہیں نظر انداز کردیا گیا ہے۔ اگر کوئی مسئلہ پیش بھی کیا جاتاہے تو اس ڈھنگ سے کہ اصل مسئلہ کہیں پس منظر میں چلاجاتا ہے اور پھر ٹی وی چینلوں پر بیٹھنے والے ہندو۔ مسلم کے راگ الاپنے لگ جاتے ہیں۔ یہ میڈیا کی ایسی روش کی جس کو ترک کیا جانا بہت ضروری ہو گیا ہے۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے ملک میں میڈیا کے سامنے صرف ٹی آر پی کی اہمیت رہ گئی ہے۔ سماجی مسائل کی اور سماجی استحکام کی اس کے پاس کوئی قدر نہیں ہے۔ وہ محض اپنے ٹی آر پی اور اس کی بنیاد پر اشتہارات اور مالیہ کمانے کی چکر میں بنیادی مسائل سے اور اپنے فرائض سے تغافل برت رہا ہے۔ گذشتہ دنوں ایک قتل کا واقعہ پیش آیا۔ اس میں ایک جنونی عاشق نے اپنی ہی گرل فرینڈ کا بہیمانہ طور پر قتل کردیا۔ اس کی نعش کے ٹکڑے کرکے اسے فریج میں رکھا۔ دھیرے دھیرے ان اعضاء کو پھینکتا گیا۔ یہ انتہائی سنسنی خیز اور رونگٹے کھڑے کردینے والا واقعہ ہے۔ ایسے درندوں کی کوئی وکالت نہیں کی جاسکتی۔ ایسا کرنے والوں کا کوئی مذہب بھی نہیں ہوتا۔ تاہم چونکہ اس ملزم کا نام مسلمان نام سے ملتا جلتا تھا ایسے میں میڈیا کو یہ لگا کہ اسے چند دن کا چارہ مل گیا ہے۔ وہ اسی مسئلہ پر بحث و مباحثہ کرنے بیٹھ گیا۔ ملزم کے نام کو اور متوفی کے نام کو ضرورت سے زیادہ اچھالا گیا۔ اس کے ذریعہ بھی ایک الگ ہی تاثر دینے کی کوشش کی گئی۔ اس طرح کی کوششوں کا مقصد بھی مسلمانوں کو بدنام اور رسواء کرنا ہی تھا۔ جس ملزم کو گرفتار کیا گیا ہے اس کے تعلق سے کہا گیا ہے کہ وہ پارسی ہے۔ تاہم میڈیا نے اسے کچھ اور سمجھ کر اس کی منفی تشہیر شروع کردی۔ اصل سوال یہ نہیں ہے کہ ملزم کا مذہب کیا ہے۔ اس معاملے میں اصل مسئلہ یہ ہے کہ ملزم نے کتنی انسانیت سوز اور دل دہلادینے والی حرکت کی ہے۔ اس جرم کی سنگینی سے سماج کو باخبر کرنے اور شعور بیدار کرنے کی ضرورت تھی نہ کہ اشتعال پھیلانے کی۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے