कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

میزائلوں سے ڈرونز تک، ایران کی جنگ نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل ہونے کا خدشہ

تہران:8؍مارچ:ایران کے خلاف اسرائیل اور امریکہ کی جنگ دوسرے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے۔بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ یہ تنازع مزید طول پکڑ سکتا ہے اور اس کا دائرہ خطے کے دیگر ممالک تک بھی پھیل سکتا ہے۔ماہرین کے مطابق اگر حملوں اور جوابی کارروائیوں کا سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو جنگ ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل ہو سکتی ہے۔ایسی صورت میں نہ صرف فوجی محاذ بلکہ معاشی اور توانائی کے نظام پر بھی شدید دبا پڑنے کا اندیشہ ہے۔اسی تناظر میں بعض مبصرین نے خبردار کیا ہے کہ جنگ کا دوسرا مرحلہ پہلے سے زیادہ خطرناک ہو سکتا ہے۔مرکز برائے اسٹریٹجک و بین الاقوامی مطالعات (CSIS) کے محققین کا کہنا ہے کہ جنگ کا آئندہ مرحلہ میزائل حملوں سے ڈرون حملوں کی طرف منتقل ہو سکتا ہے کیونکہ ڈرون نسبتا کم لاگت والے ہوتے ہیں۔ان کے مطابق یہ مرحلہ موجودہ صورتحال سے زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ اس سے طویل عرصے تک جاری رہنے والے باہمی حملوں کا سلسلہ شروع ہو سکتا ہے اور انفراسٹرکچر جیسے توانائی کے مراکز، ہوائی اڈے اور بندرگاہیں زیادہ دبا کا شکار ہو سکتی ہیں۔ماہرین نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ اگر دیگر فریق اس تنازع میں شامل ہوئے تو جنگ کا جغرافیائی دائرہ بھی پھیل سکتا ہے، خاص طور پر اس کے بعد کہ ترکی اور آذربائیجان نے ایرانی ڈرونز کی جانب سے اپنی فضائی حدود کی خلاف ورزی پر احتجاج کیا ہے۔مزید برآں ماہرین کے مطابق امکان ہے کہ ایران وقت گزرنے کے ساتھ بیلسٹک میزائلوں کے استعمال میں کمی کرے گا، خاص طور پر اس لیے کہ حالیہ فضائی حملوں میں درجنوں میزائل لانچنگ پلیٹ فارمز کو نشانہ بنایا جا چکا ہے، جبکہ اس کے مقابلے میں کم لاگت والے خودکش ڈرونز کا استعمال بڑھایا جا سکتا ہے۔اس حکمت عملی کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ڈرونز کی تیاری نسبتا سستی ہوتی ہے اور انہیں مختلف مقامات سے آسانی سے لانچ کیا جا سکتا ہے۔کچھ ماہرین کا یہ بھی خیال ہے کہ تہران مستقبل میں بڑے پیمانے کے ایک ہی حملے کے بجائے وقفے وقفے سے حملوں کی حکمت عملی اختیار کر سکتا ہے، مثلا ایک حملے میں 20 سے 40 ڈرونز داغے جائیں اور ایسا ہفتے میں کئی مرتبہ کیا جائے۔
فضائی دفاعی نظام کو تھکانے کی حکمت عملی
ایران کا مقصد بظاہر دشمن کے فضائی دفاعی نظام کو تھکا دینا ہے۔ عام طور پر جنگوں میں ڈرونز استعمال کرنے والے ممالک اس لیے ایسے حملے کرتے ہیں تاکہ مخالف کو مہنگے انٹرسیپٹر میزائل استعمال کرنے پر مجبور کیا جائے، دفاعی نظام کو تھکا دیا جائے اور ریڈار کے کمزور مقامات کا پتا لگایا جا سکے۔یہ بات رینڈ کارپوریشن کے تجزیوں میں بھی سامنے آئی ہے۔ادھر امریکی تھنک ٹینک CSIS کے مطابق ابتدائی اندازوں کے تحت ایران نے اب تک تقریبا 2700 میزائل اور ڈرون داغے ہیں، جس پر اسے اربوں ڈالر کی لاگت برداشت کرنا پڑی۔دوسری جانب امریکی حکام کے مطابق امریکہ کو بھی تقریبا 6 ارب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ پینٹاگون کے حکام نے اس ہفتے کانگریس کو بتایا کہ جنگ کے پہلے ہفتے کی لاگت تقریبا 6 ارب ڈالر رہی۔نیویارک ٹائمز کے مطابق توقع ہے کہ امریکی انتظامیہ جنگ جاری رکھنے کے لیے کانگریس سے مزید فنڈنگ طلب کرے گی۔یہ خدشات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ ایران پر حملے اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک وہ غیر مشروط ہتھیار نہ ڈال دے۔دوسری طرف پاسدارانِ انقلاب ایران نے دعوی کیا ہے کہ وہ اس شدید جنگ میں چھ ماہ تک ڈٹے رہنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے